مجیدامجد: زمان و مکاں کی وسعتوں میں تنہا وجود

0

آسکر وائلڈ نے کہا تھا کہ اعلیٰ ترین شاعری کی پہچان یہ ہے کہ اس کی ایک ایک سطر میں زمان و مکاں کی طنابیں کھنچ جاتی ہے۔مجید امجد کی شاعری پر بھی آسکر وائلڈ کا یہ قول صادق آتا ہے۔مثلاً ان کی ایک نظم ’’امروز‘‘ دیکھیے۔یہاں زمان کے سارے ابعاد لمحہ ء موجود میں سمٹ آئے ہیںاور شاعر اسی لمحہ ء موجود کو وقت کے دیوتا کی حسیں رتھ کے پہیے تلے کچلے جانے کے تفکر میں مبتلا ہے۔ یہ ایک بحرانی لمحہ ہے جب بقول ولیم شیکسپئیر ہونے نہ ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔یہاں وجود کی معنویت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔وجود کی لا معنویت کا وہی سوال جو سارتر Being and Nothingness میں اٹھاتا ہے۔مجید امجد اسی لمحہ ء موجود،اسی امروز میں اپنی وجودی معنویت، اپنے ہونے کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ زمانے کی بیکراں وسعتوں،ازل سے ابد تک کے وقت کے خزانوں میں بس یہی اس کا حصہ ہے کیوں کہ ہیراقلیطس کی طرح وہ جانتا ہے کہ وہ وقت کے دریا میں دوسرا قدم نہیں رکھ پائے گا اوروہ ابد کے سمندر میں بس ایک کنول کی طرح تیر رہا ہے۔چناں چہ وہ ننھی چڑیوں کی چہک، ہوا کے اس جھونکے کو جو اس کے دیچے میں تلسی کی ٹہنی کو لرزا دیتی ہے اور پڑوسن کے آنگن میں پانی کے نلکے پہ چوڑیوں کی چھنک کو اپنی زندگی کا حاصل قرار دیتا ہے۔ اس کا شعورمظہری ماورائیت کا حامل ہے۔ وہ اشکوں سے شاداب دو چار صبحوں اور آہوں سے معمور دو چار شاموں کے ذریعے سے عالم حقیقت تک رسائی چاہتا ہے۔ اس کی شاعری گہرے محسوسات کی شاعری ہے۔سلویا پلاتھ کی نظم The Bee Meeting کی پہلی لائن دیکھیے :
Who are these people to meet me

مغائرت اور اجنبیت کا یہی احساس مجید امجد کی اس لائن میں بھی جھلکتا ہے:
یہ انجانا شہر، پرانے لوگ،اے دل تم یہاں کہاں
مجید امجد بھی سلویا پاتھ کی طرح ہجوم سے خائف اور گریزاں تھا۔ دراصل وہ زندگی کی میکانکی جبریت (Mechanistic Determinism) کو شدت سے محسوس کرتا ہے اور وہ سارتر کی No Exit سی کیفیت سے بھی دوچار ہو جاتا ہے۔اسے زندگی ایک Loop کی صورت نظر آتی ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں:
رواں ہے، رواں ہے
تپاں ہے ، تپاں ہے
یہ چکر یونہی جاوداں چل رہا ہے
کنواں چل رہا ہے
یہ وہی تصور ہے جسے نطشے نے تکرار ازل کہا ہے۔ولیم شیکسپئیر نے اپنی لازوال شاعری میں اس تصور کو یوں پیش کیا ہے :
Our dates are brief, and therefore we admire
What thou dost foist upon us that is old
And rather make them born to our desire
Than think that we before have heard that

چناں چہ مجید امجد سوچتا ہے کہ یہ کیسے رستے ہیں جن پر تکرار ازل نے وحشت کے نشاں چھوڑے ہیں۔وجود و عدم کا کھیل اسے گہرے کرب سے بھر دیتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے:
ایک پتنگا دیپک پر جل جائے،دوسرا آئے
مجید امجد کو رہ رہ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ انسان کا وجود ایک افتادہ وجود (Fallen Being) جس سے اس کی ازلی تنہائی چمٹ کر رہ گئی ہے۔اس کے نزدیک انسان کا اس مخمصے سے نکلنا محال ہے کہ زندگی خواب ِ مرگ ہے یا مرگ ِ خواب؟زمان و مکاں کی بیکراں وسعتوں میں اسے اپنی مغائرت (Estrangement)، معدومیت اور بے نشاں ہونے کا احساس قرار نہیں لینے دیتا۔اسے دل زار کی دھڑکنیں ٹوٹتے ہوئے تار کی صدائیں محسوس ہوتی ہیں۔مگر مجید امجد انسان کو اس مغائرت اور نراجیت سے نکلنے کے خواب بھی دیکھتا ہے۔ چناں چہ اس کے نزدیک زندگی اپنے تمام تر المیہ احوال کے باوجود بسر کرنے کے قابل ہے۔وہ ان دکھوں کی تقلیب ماہیت کر کے رجائیت کے نئے چراغ بھی روشن کرتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ انسان اگر چاہے تو ان تلخ و سیہ راہوں پر جو غم بکھرے پڑے ہیں انھیں اس کی حیات قوت یک شب کے تقدس میں سمو سکتی ہے۔ زندگی بہر حال مجید امجد کے لیے ایک انمول مظہر ہے۔ شیر افضل جعفری نے مجید امجد کو’کوی سدھارتھ ‘کہا تھا تو ٹھیک کہا تھا۔ مجید امجد بھی زندگی کے سارے الم کو محسوس کرتا ہے مگر اسے اپنے ہی تن نازک پر جھیلتا ہے مگر دوسروں کو اس سے بچاتا ہے۔ وہ دکھ کی گپھائوں میں آنند کے چراغ روشن کرتا ہے۔اس کا تفکر اگرچہ محزوں تفکرہے وہی محزوں تفکرجو میر اورایملی ڈکنسن کے ہاں نظر آتا ہے مگر یہ قنوطیت زدہ تفکر نہیں۔ مجیدامجد کے حزن میں بھی زیست کی محبت ہے۔ اس کی شاعری رومانی افسردگی کی حامل ہے جس کی زیریں سطح پر جمالیاتی حظ پایا جاتا ہے اور اکتسابِ لذت کی آرزوبھی۔ وہ زندگی کی ازلی تاریکی سے بھی نور کشید کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور نراج میںبھی نظم تلاش کرتا ہے۔وہ اپنے دکھ کو کائناتی شکل دے کر اس کا کتھارسس کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ ہمرہِ صد کارواں ہے۔ کارواں کا غم اس کا غم ہے اور اس کا غم غم ِ زمان و مکاں ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: