کورونا : مذہب، سائنس اور فلسفے کا مقدمہ —- ڈاکٹر غلام شبیر

0

ابن سینا اور دیگر مسلم حکما کے مطابق کائنات سے متعلق مذہب ، سائنس اور فلسفے کے بیانیہ جات یکساں نہیں تو متضاد بھی نہیں ہیں۔ یہ بیانیہ جات انتاج اور منہج کے اعتبار سے ناقابل رد متوازیت کے حامل ہیں۔ اگر مذہب، سائنس اور فلسفہ معروضیت کی سیف برہان سے مسلح رہیں تو پھر یہ تلواروں کی جنگ نہیں تلواروں کا رقص ہے۔ اگران کے ہاتھوں میں حقائق پرستی کا زاد رہ ہو تو یہ ایک دوسرے پراٹھنے کے بجائے سوہنی اور ماہیوال کے ہاتھ بن جاتے ہیں جو مرکربھی جدا نہ ہوئے تھے۔ اسی موقف کو آگے بڑھاتے ہوئے لیزلے ہزلٹن کہتی ہیں۔ محمدﷺ کے مذہبی پروگرام میں تاریخ اور الٰہیات اس قدر ساتھ ساتھ متوازی پیرائے میں چلتے ہیں جیسے ریل کے دو ٹریک ہوں اور بسا اوقات بعض مقامات پر الگ الگ بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ مسلم حکما کے مطابق روایتی علم الٰہیات اور فلسفے کی متوازیت کسی ایک مقام تک محدود نہیں ہر اس مقام کا خاصا ہے جہاں بھی فلسفہ اور مذہب دوبدو ہوں گے۔

کانٹ بڑی کاوش اور ردوکد کے بعداس نتیجے پر پہنچاتھا کہ عقل محض جو سائنس اور فلسفے کا ہتھیار صیقل ہے، ازلی اور ابدی سچائیوں کے ادراک اور تعین سے قاصر ہے کہ اس کے دامن میں جتنے دلائل خدا کا اثبات ہیں اتنے ہی نفی میں ہیں۔ تاہم زمانہ وسطیٰ کے مسلم حکما نے غزالی کی بروقت نشاندہی کے باوجود اور جدید عہد کے یورپی فلسفیوں نے کانٹ کا موقف سننے کے باوجود خرگوش کی تین ٹانگیں یا ڈھاک کے تین پات پر اڑے رہنے پر اکتفا کیا۔ نتیجتاً یا تو مذہب رخصت ہوگیا یا پھر جدید سائنس اور فلسفے کے وینٹیلیٹر پر دن پورے کر رہا ہے۔

دونوں قبیل کے حکما خواہ سینا وفارابی جیسے زمانہ وسطیٰ کے مسلم مفکرین ہوں یا جدید عہد کے ڈیکارٹ جیسے یورپی فلسفی ان کےنظریہ علم کا مرکز ثقل یہ ہے کہ اعلیٰ مذہبی اخلاقی تصورات اور دانش عام میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔ ان کے مطابق اخلاقی اصول اپنے فکری پہلو ئوں کے مطابق کسی ریاضیاتی فارمولے جیسی چیز ہوتی ہے۔ اس برہنہ حقیقت کا ادراک نہ کرسکے کہ مذہبی اخلاقی تجربہ جو خواہ فلسفیانہ اور فکری پہلوئوں کو بھی اپنی ذات میں سموئے ہوئے ہوتا ہے وہ دیگر فکریات سے یکسر مختلف ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اتھارٹی، سند، معنویت اور غیر نفوذ پذیری (علم وحی جس سے نہ کچھ حزف ہو سکتا ہے اورنہ ہی اضافہ ممکن ہوتا ہے) کے پیراہن لیکر طلوع ہوتا ہے۔ دانش عام یعنی سائنس اور فلسفے کی اقلیم پر جو کچھ ابھرتا ہے اسے ہم زائد از اطلاع کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جینوئن مذہبی تجربے سے ابھرنے والا عبد دیگر عبدہ چیزے دگر یعنی ٹرانسفارمڈ ہوتا ہے اور اقبال کے الفاظ میں اس کا اخلاقی ورلڈویو اس کے پیروکاروں میں بائیولوجیکل ٹرانسفارمیشن بپا کردیتا ہے۔ اپنے نظریہ علم میں اس باریک فرق کو نہ سمجھتے ہوئے ابن سینا اور فارابی نے مذہب ، سائنس اور فلسفے کی متوازیت پر کمان توڑ دی اور پیغمبر آخرالزماں کو غیر محسوس انداز میں فلاسفرزکی صف میں لا کھڑا کیا اور ان کے مذہبی تجربے اور وژن کو دانش عام سے مماثل قرار دیا۔ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ انبیا کا علم جو دوپہرکو روشنی عطا کرتاہے ، بادلوں کی پیاس بجھاتا ہے آخر تاریخ کو یکسر بدل دینے پر اتنا قادر کیوں ہوتاہے؟ کسی فلسفی کے ملفوظات میں ایسی توانائی، تموج حکمت و دانائی و رعنائی راہ پانے سے کیوں گریزاں رہتی ہے؟ معتزلی مکتبہ فکر جو یونانی فلسفے کے تندوتیز سوالات کا جواب دینے کیلئے اٹھا اور بلاشبہ فکر اسلامی کو بہت کچھ دینے میں کامیاب بھی ہوا حتمی طور پر رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی کی مثال بن گیا۔ یوں جب خدایونانی تصور میں ڈھلا تو وہ دنیا کو جہت دینے اور تاریخ میں سرگرم عمل خالق کے برعکس دنیا کا وضاحتی فارمولا بن کر رہ گیا۔ سانحہ ہوا کہ معتزلہ کی حد سے بڑھی عقلیت پرستی عالم اسلام کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حرف پرست طبقے کی آغوش میں ڈال کر قصہ پارینہ ہوگئی۔

 تمہید کا مقصدیہ ہے کہ کورونا وائرس جس نے صرف انسانی زندگی کو بیڑیاں ڈال دی ہیں، نیچر اور باقی حیات نکھرنے اور سنورنے لگی ہے۔ اوزون کے زخم بھر آئے ہیں۔ چڑیوں کی چہکار سنائی دینے لگی ہے۔ تتلی کا رقص بھنورے کا گشت کبوتر کی منقار مور کی پایل، بلبل کا ترنم اور کوئل کی کوکو سمیت فطرت کی خود کار مسلمانیت میں ذرہ بھر ٹھہرائو یا بگاڑ نہیں آیا، انسان محض انسان اس قدر پابند سلا سل ہے کہ اب جب بہار نے فرحت فزا سائباں بچھایا ہے تو کوئی فطرت کی جلوہ افروزیوں کا تماشا دیکھنے کہاں جائے، مارکسی شاعر پبلو نیروڈو کی طرح کوئی اپنے محبوب سے کیونکر کہے کہ آمجھے مل تو سہی میں تجھے وہ رنگ نہ دوں جو بہار چیری کو عطا کرتی ہے تو کہنا! دنیا بھرلاک ڈائون میں ہے۔ شہروں میں موئنجودڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسی خاموشی ہے۔ اسلام آباد میں گھرکی چھت سے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو ٹھٹھہ کے قدیم ترین قبرستان مکلی جیسا ساماں ہے جہاں بڑے برے سورمائوں کے مقبروں پر شاہی محلات کا گماں ہوتا ہے اور ان کی بالکونیوں سے باقی قبرستان کو تاحد نگاہ دیکھنے کی سہولت موجود ہے، مگر شہر خموشاں!

کورونا وائرس کو تاریخ انسانی کی فقیدالمثال وبا قرار دے کر کہا جارہا ہے کہ اب دنیا ویسی کبھی نہیں رہے گی جیسی کرونا سے پہلے تھی۔ یہ تماشا اہل مذہب ، فلسفی اور سائنسدان اپنے اپنے عدسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ زیر آسماں بلا کا بگاڑ ہے، مگر صورت حال انتہائی شاندار ہے۔ نوم چومسکی کورونا کو مارکیٹ فیلیور قرار دے رہے ہیں ان کے مطابق نیولبرل اکانومی کے بزرجمہروں کیلئے کورونا ویکسین سے زیادہ باڈی کریم بنانا نفع بخش ہے۔ سارس وائرس کے بعد ایسی وبا پھوٹنے کی پیشین گوئی تھی اس جانب حفاظتی اقدام کیوں نہ کیے گئے۔ بدقسمتی ہے ہم اپنی قسمت فارما انڈسٹری اور کارپوریشنز کو سونپ چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سماج دشمن مسخرہ قرار دیتے ہوئے نوم چومسکی نے کہا کہ کورونا پر قابو پا بھی لیا جائے تو ایٹمی ہتھیاروں اور گلوبل وارمنگ کی تلوار انسانی مسقتبل پر لٹک رہی ہے۔ چومسکی نے کورونا کی پشت پر ایک مثبت لہر کی پیشین گوئی کی ہے ، کہ ممکن ہےیہ آفت ہمیں نیولبرل ازم سے نجات حاصل کرکے جینے کا مثبت ڈھنگ سکھا دے۔ کیپٹلزم اور مارکسزم چونکہ ایک ہی سکے (مادی تصورحیات) کے دورخ ہیں اس لیے یہ مارکسی مفکر شکم کی مساوات سے آگےیعنی زمیں اور ہے آسماں اور بھی ہیں کی طرف نہ بڑھ سکا۔ ارون دھتی رائے مارکسی ہونے کے باوجود مشرقی ہونے کے باوصف اپنے جینز میں زندگی کا روحانی تصور لیے ہوئے کہتی ہے کہ کورونا وائرس شاید ہمیں کسی نئے تصورحیات پر مجبور کر رہا ہے کہ ہم سوچیں ہم نے اپنے گرد کیسی تباہ کن مشین تیار کی ہے۔ زندگی کا ازسرنو جائزہ لیکر ڈھنگ بدلنے کی منزل اب بھی نہیں پہنچی تو پھر کورونا سے واپس نارمل طرزحیات کی طرف لوٹ جانا خطرناک ترین عمل ہوگا۔ کروڑوں انسان اپنے ملکوں شہروں گائوں اور گھروں میں بند رہ کر ماضی کو مستقبل کیساتھ گانٹھ کر آگے برھنا چاہتے ہیں۔ حزر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!  ارون دھتی رائے کہتی ہیں تاریخی طور پرایسی وبائوں نے ہمیشہ انسانیت کو ماضی سے رشتہ توڑ کرنئے مستقبل کی تعمیر پر مجبور کیا ہے ، کورونا بھی اسثنا نہیں ہے۔ کورونا مختصرترین الفاظ میں ایک دنیا سے اگلی دنیا میں داخل ہونے کا پورٹل، گیٹ وے یا باب ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم تعصب نفرت، حرص و ہوس، ڈیٹا بینکس، مردہ تصورات، مردہ دریائوں اور دھوویں سے اٹے آسمانوں کے لاشے اپنی پیٹھ پراٹھائے اس گیٹ کو عبور کرتے ہیں یا پھر بہت ہلکے بار کیساتھ بہت کچھ تاریخ کے ڈسٹ بن میں دفنا کر تازہ جہان کی تعمیر کر سکتے ہیں۔

سائنسدان کورونا کیخلاف ویکسین کیلئے کوشاں ہیں۔ ان کے نزدیک کائنات وہاں تک ہے جہاں تک علت و معلول کا سلسلہ ہے۔ مذہب کے مطابق یہ عظیم الجثہ کائناتی مشین اور مظاہر فطرت ایک علت العلل، علت اولیٰ یعنی رب کائنات اور اخلاقی تصور حیات کا سندیسہ دیتے ہیں۔ معاملہ ادق ہے اس لیے چنیدہ شخصیات مشیت الٰہیہ کے تحت بحرحیات میں غوطہ زن ہوکر خدا، انسان اور کائنات کے باہمی تعلق کے موتی خودی کے سیپ سے چن چن کرلاتی رہئ ہیں تاآنکہ انسان اس بیساکھی سے بے نیاز ہوکر اپنے پائوں پر بھروسے کے قابل ہوا تو دفتر نبوت بند ہو گیا۔ قرآن کائنات کی ابتدا سے متعلق مختصراً بیان کرتا ہے کہ یہ ایک رتق یعنی گول بال کی طرح تھی، ایک دھماکا ہوا، زمین و آسماں الگ الگ ہوگئے پھر ہم نے کہا طوعاً و کرھاً آئو ادھرکسی میں نافرمانی کا گمان تک نہ تھا۔ خدا کائنات کا جس قدر ایبسولیوٹ پوزیسر ہے اسی قدر مرسی فل سسٹینر ہے۔ ان ربک لبالمرصاد وہ واچ ٹاورمیں بیٹھا ایسا نگہباں اور ایڈمنسٹریٹر ہے کہ ایک ذرے کو بھی اوجھل ہونے کی مجال نہیں ہے۔

نوم چومسکی کے مطابق نیولبرل اکانومی کے بزرجمہروں کیلئے کورونا ویکسین سے زیادہ باڈی کریم بنانا نفع بخش ہے۔ چومسکی نے کورونا کی پشت پر ایک مثبت لہر کی پیشین گوئی کی ہے، کہ ممکن ہے یہ آفت ہمیں نیولبرل ازم سے نجات حاصل کرکے جینے کا مثبت ڈھنگ سکھا دے۔
 قرآن الامرلللہ کا داعی ہے یعنی مشین کائنات میں کارفرما قوانین ہوں یا افراد و ملل کے عروج و زوال کا معاملہ یہ اللہ کے طے شدہ قوانین سے عبارت ہے اور وہ خود ان قوانین کا پابند ہے ولن تجد لسنتۃاللہ تبدیلا ۔ تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں جب حکمائے اسلام نے قرآن وسنت سے علم الٰہیات کی کشید شروع کی اس تحریک کا مورث اول معتزلہ مکتبہ فکر ٹھہرا۔ کہا گیا قرآن کے مطابق سلسلہ تخلیق دومراحل یعنی عالم امر اور عالم خلق پر مشتمل ہے۔ عالم امر میں رولز آف گیم طے ہوئے دوسرے مرحلے میں عالم امر کے مطابق کائنات تخلیق ہوئی۔ یعنی عالم امر میں تعین کردیا گیا کہ جب ہائیڈروجن کے دو ایٹم آکسیجن کے ایک ایٹم سے ملیں گے تو پانی بنے گا۔ اگر آکسیجن کے دو ایٹم ہائیڈروجن کے دو ایٹموں سے بانڈ بنائیں تو پانی کے برعکس ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بن جائے گی۔ معتزلہ چونکہ یونانی الٰہیات کے مطابق خدا کو کائنات کا وضاحتی فارمولا سمجھ بیٹھے تھے جو نپے تلے قوانین طے کرنے کے فوراً بعد ہی تاریخ کے افق سے غروب ہوگیا۔ عالم امر میں قوانین طے ہونے کے بعد تخلیق سے فارغ ہوتے ہی وہ خاموش تما شائی بن کر پردے کے پیچھے بیٹھ گیا۔ ان کے نزدیک مشین کائنات ایک آٹو رن سوفٹویئر، ایپ یا آٹومیٹک مشین سے سوا کچھ نہ ٹھہری۔ یونانی فلسفہ اپنے ساتھ الحاد کے اجزائے ترکیبی بھی لایا تھا، اس لیے معتزلی الٰہیات آگے چل کر کائنات کو آٹومیٹک مشین سے آگے ایک آٹو کریٹک مظہر کہنے پر منتج ہوئی۔

معتزلہ کا زور یہ تھا کہ انسان خود مختارہے تاہم اپنے عمل کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔ یوں معتزلہ نے ایک انتہائی پوزیشن لیتے ہوئے خدا کو اپنی پاورز ، ول اور میجسٹی سے یکسر محروم کیا تو ردعمل میں امام ابولحسن الاشعری کا الاشاعرہ مکتبہ فکر وجود میں آیا ، اس نے انسان کی خودمختاری کا خراج لیتے ہوئے خدا کو آل پاورفل بنانے کی کوشش میں انسان کو مجبور محض بنا دیا۔ یوں اسلامی الٰہیات انسان خودمختار ہے، یا انسان مجبورمحض ہے کی دوانتہائوں کے درمیان پنڈولم بن کر رہ گئی۔ معتزلہ نے قوانین خداوندی کو علت ومعلول کا ایسا پابند کیا کہ خدا سے اس کی صفت عفو و درگزر بھی سلب کرلی۔ یعنی اگرکوئی گناہ یا غلط کام کرتا ہے تو خدازائداز جزا و سزا کسی امر پر قادر نہیں ہے۔ دوسری طرف اشاعرہ اس قدر آگے بڑھ گئے کہ خدا کوئی ایسا بادشاہ ہے جو چاہے تو کسی کو بلاوجہ نواز دے چاہے تو کسی کو بلاوجہ نشان عبرت بنا دے۔ یاد رہے قرآن کو انسان کی خودمختاری یعنی فری ول یا انسان کو مجبور محض قرار دینے یعنی پری ڈیٹرمنزم سے زیادہ اس امر میں دلچسپی ہے کہ انسان کی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے کس طرح اس کی زیادہ سے زیادہ اخلاقی توانائیوں کی کشید سے تاریخ کو خدائی سرگرمی کا اکھاڑہ بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے جب جبر وقدر پر بحث نے زور پکڑا تو ایک اموی خلیفہ نے امام حسن بصری سے خط کے ذریعے پوچھا ہماری قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ جبریہ اور قدریہ دونوں کے نزاع میں کس کا بیانیہ درست ہے۔ امام حسن بصری نے لکھا اگرچہ قرآن و سنت سے واضح موقف نہیں مل سکتا تاہم اسوہ رسول سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آپ فری ول یعنی انسانی خودمختاری پر یقین رکھتے تھے۔

تاہم شاہ ولی اللہ یمحواللہ مایشا ویثبت (یعنی اللہ جن اسباب کے اثر کو مٹانا چاہتاہے مٹا دیتا ہے، جن اثرات کو چاہے استحکام بخشتا ہے) سے ایک ایسی وسط پوزیشن اختیار کرتے ہیں جس سے معتزلہ اور اشاعرہ کی دوانتہائوں کو سکیڑ کرمڈل آف دا روڈ پوزیشن حا صل ہوجاتی ہے۔ شاہ صاحب کے مطابق خداوند عظیم اگرچہ اپنے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتا تاہم اپنی مشیت کے مطابق ان قوانین پر قبض، بسط، احالہ اور الہام کے ذریعے تصرف فرماتا ہے۔ قبض کے معنی سمیٹنایا اسباب موثرہ کو غیر موثربنا دینا ہے مثلاً ابراہیم ؑ پر آگ کو گلزار بنادیا۔ بسط کا مطلب کشادہ کرنا ہے جیسے غزوہ بدر میں مجاہدین اسلام کی کمزوری اور بے سروسامانی کو کفار پر دہشت، رعب، اورٹیرر میں بدل دیا۔ حالہ کا مطلب کسی چیز کے اثرات کو متضاد کیفیت عطا کردینا ہے جیسے یا نار کونی برداً علیٰ ابراہیم سے عیاں ہے۔ الہام بھی قوانین کارہائے ہستی میں تصرف سے عبارت ہے۔ موسیٰ کی مصاحبت میں خضرؑ کا نابالغ لڑکے کو قتل کرنا ، کشتی کا تختہ توڑ کر بے کار کرنا یا پھرگرتی ہوئی دیوار کو ازسرنو تعمیرکرنے کا معاملہ ہو یہ الہام کا معاملہ تھا کیونکہ خضرنے کہا ما فعلتۃ عن امری میں کوئی اپنی رائے سے ایسا تھوڑی کرتا ہوں۔

مظاہر فطرت اور اقوام و افرادکی کار کردگی میں کارفرما قوانین کو قرآن مذہبی اور سائنسی دونوں پیرائے میں بیان کرتا ہے۔ سائنسی پیرایہ علت و معلول کی کڑیاں بیان کرتاہے جہاں سلسلہ ہائے علل دم توڑتا ہے ، مذہبی پیرایہ در آتاہے۔ یوں مذہبی بیانیہ سائنسی بیانئے کا متضاد یانعم البدل ہونے کے برعکس سائنسی بیانئے کو اپنے اندر ملفوف کیے ہوئے نظر آتاہے۔ ہوا اور بادل بارش برساتے ہیں مگر ان طبعی سلسلہ ہائے علل کو کون چلا رہا ہے۔ یہ مذہبی بیانیہ حتمیت بیان کرتا ہے علت و معلول جس کا وضاحتی فارمولا ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ لا شعوری طورپر ہی سہی پیغمبر اسلام نے اپنے اندر نبوت کی مقتضیات کو پورا کرلیا تھا، ایک تو احوال زمانہ سے متعلق حساسیت اورپھر یتیمی ومسکینی کا کرب، اور دیگر عوامل کی یکجائی سے نبوت کا میرٹ پورا ہوگیا تھا۔ جب قریش مکہ نے پوچھا کہ آپ ہی کو نبی کیوں منتخب کیا گیا ، اور یہ قرآن مکہ اور طائف کے دوشہروں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا۔ دونوں سوالوں کا قرآن جواب دیتاہے۔ کیا تیرے رب کی رحمت بانٹنے والے یہ لوگ ہیں؟(۴۳:۳۲) یہ مذہبی بیانیہ ہے، کہہ دیا جاتاہے کہ تیرا رب بہتر جانتا ہے کہ کسے نبوت سے سرفراز کرنا ہے(۶:۱۲۴) یہ سائنسی بیانیہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مشین فطرت جہاں ودیعت کیے گئے قوانین کے مطابق اپنی کار کردگی میں خود مختار ہے خود کار نہں ہے کیونکہ یہ اپنی ذات میں غایت اولیٰ یا وجوہ کار کو بطور جزولاینفک نہیں رکھتی، اس کی سند جوازکا درجہ رحیم رزاق ذات کوہے جس نے کتب علیٰ نفسہ الرحمہ کا دعوی کر رکھا ہے ہردم اس دعوے پر پورا اترنے والی ذات ہے۔

برصغیرکی مسلم فکری روایت میں معتزلہ اور اشاعرہ دونوں اپنا اپنا حلقہ اثر رکھتے ہیں۔ قدامت پسند طبقہ (دیوبند بریلوی، اہل حدیث) نے اشاعرہ کے علم الکلام کو دانتوں سے پکڑ رکھا ہے، سرسید مکتبہ فکرجو چراغ علی ، غلام جیلانی برق اور غلام احمد پرویز سے عبارت ہے معتزلی روایت کا پاسباں ہے اس لیے ڈارون ازم کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرنے پرمجبور ہوا۔ المیہ یہ ہے کہ کارہائے فطرت میں ہلکی سی چھینک بھی محسوس ہو تو قدامت پسند طبقہ ہور چوپو گنے کا بیانیہ لے کر اسے عذاب الٰہی قراردینے پر تلہ بیٹھا ہوتا ہے دوسری جانب نیچری علما تباہ کن سونامیوں زلزلوں اور سیلابوں کو بھی فطرت کا خود کار سسٹم قرار دے کرانسان کو اپنی اخلاقی کارکردگی کا از سر نو جائزہ لینے کا وارننگ سسٹم نہیں سمجھتے یہ ہماری روایت میں ہیلی نائزڈ خدا کا تصورہے جو کائنات کا وضاحتی فارمولا تھا، عالم امر میں تکوین کائنات کے رولز طے کرتے ہی تاریخ کے افق سے غروب ہوگیا۔ قرآن کا خدا فل بلڈڈ خدا ہے، تاریخ کو سسٹین کرنے اور جہت بخشنے والا دما دم کن فیکون کا مظہر ہے۔ وہ کائنات میں یوں ہے جیسے بدن میں روح یا جان جسے نہ داخلی کہا جاسکے نہ خارجی مگر پھر بھی وہ ایک خلیہ تو کیا اس کے اندر مائیٹوکاندریا تک کو سسٹین کرتی ہے۔ تاریخ سے جدا خاموش تماشائی خدا قرآن اور محمد کا خدا نہیں ہوسکتا۔ اشاعرہ کے علم الکلام نے حرف پرستی کی انتہا کردی جہاں قرآن عہد رفتہ کی قوموں کی ضلالت و گمراہی کو استعاروں سے بیان کرتا ہے کہ ہم نے انہیں خنازیر بنا دیا، وہ بندر بنادیے گئے تو انہیں حتمی مفہوم سے ماورا متن پرستی میں لیتا ہے۔ ڈاکٹر محمد اسد لکھتے ہیں کہ سور یا خنزیرچونکہ حرص وہوس اور شہوت پرستی کا استعارہ ہے تو یہ اس قوم کی اخلاقی حالت کا بیان ہے نہ کہ انہیں خنزیر بالذات بنانے کا بیان ہے۔ جب اہل یہود کو مچھلی کے شکار سے یوم السبت کو پرہیز کا حکم دیا گیا تو پھر بھی بہتات سے کناروں پرآنے والی مچھلیوں کو پکرنے سے وہ گریز نہ کرسکے تو قرآن نے بندر کا استعارہ بیان کیا ہے کہ جس طرح وہ اپنی فطرت اور شرارت سے باز نہیں رہ سکتا یہی حال اس قوم کا ہوا۔ دوسری طرف معتزلی روایت کا یہ حال ہے کہ اس نے جنت و دوزخ کو بھی طبعی حقائق کے برعکس کیفیات کا نام دےدیا۔ سورۃ اعراف میں بنی اسرائیل پر آنیوالے عذابوں کا بیان ہے۔ عادوثمود کی ہلاکتوں کا بیان ہے۔ قوم لوط کی بستی الٹنے کا بیان ہے۔ قرآن مظاہر فطرت میں بکھری سب نشانیوں کو اپنے جملوں کی طرح آیات قرار دیتا ہے ، فقط قوم لوط کی بستی الٹنے اور قوم موسیٰ پر آنیوالے عذاب کو بینات قرار دیتا ہے۔

سوال اٹھتا ہے کہ کورونا کو فطرت کے خودکارسسٹم کا مظہر سمجھا جائے یا خداوند عظیم کیطرف سے انسانی ضمیر کیلئے ایک جھٹکا تصور کیا جائے۔ غربت کے بحر اوقیانوس میں کہیں کہیں تمول کے جزیرے یتیم ومسکین ریاستوں کے خوان نعمت پر چودھری ریاستوں کے تابڑ توڑ حملے، کراچی شہرمیں جامشورو اور گردو نواح سے جنگلی کتوں کی ٹرالیاں بھر بھر کے کتے کے کاٹنے کی ویکسین بیچتی فارما کمپنیاں، ڈیووس میں ممالک کی تقدیرکا فیصلہ کرنیوالی کارپوریشنیں بھول نہیں چکیں کہ خدا بھی ہے۔ آدم اسمٹھ کی فری مارکیت اکانومی نے یہاں تک نہیں پہنچا دیا کہ حکومتیں کارپوریشنوں کے پاس گروی نظر آتی ہیں۔ امریکا کی فیس بک سمیت دوتین کمپنیوں کا بجٹ برطانیہ کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے اور نیولبرل ازم کے ساہوکار ہمہ دم ھل من مذید پر مصرہیں، دنیا کے چھو سو ارب پتی امریکی ہیں۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں تہذیبوں کی فصل جب پک کر کٹنے کیلئے تیار ہوتی ہے تو وہ اپنے زمانہ عروج سے گزر رہی ہوتی ہیں۔ پتھروں کو کاٹ کر گھر بنانیوالے کیا ہوئے۔ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا زمیں کا بوجھ اٹھانیوالے کیا ہوئے۔ قرآن کہتا ہے جب وہ قومیں تباہ ہوئیں تو ان پرنہ آسماں اشک بار تھا نہ زمیں روئی تھی۔ جب اجل مسمیٰ پہنچی تو نہ ساعت بھر تاخیر ہوئی نہ جلدی۔ ہم نے انہیں کیا کیا یہ تباہی ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی تھی۔ نوم چومسکی کہتا ہے کہ ہر مخلوق نے اپنے ارتقا میں اپنی بقا کو محفوظ بنایا ایک انسان ہے جس نے ارتقائی سفر میں ایٹم بم کی تعمیر اور گلوبل وارمنگ سے اپنی بقا کو خطرے میں ڈال دیا یہ کم بخت ارتقائی غلطی کے سوا بھی کچھ کہلانے کا مستحق ہے۔ کان ظلوماً جھولاً۔

ہر عہد کی ایک خاص قوت محرکہ ہوتی ہے جسے اس عہد کا غالب تھیم کہا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کیمطابق روایتی مذہب زرعی معاشرت یعنی زمانہ وسطیٰ کا غالب عنصر تھا۔ پندرھویں اور سولہویں صدی کو انسانی ضمیرکی بیداری کا عہد کہا جاسکتا ہے کہ روایتی مذہب کیخلاف بغاوت ہوئی۔ ستر ھویں صدی آزاد فکری اور علم و دانش کی صدی تھی۔ اٹھارہویں صدی آزادی اور ہیومن ازم کی صدی کہی جا سکتی ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق پر زور رہا۔ انیسویں صدی نظریات کی صدی تھی۔ کیپٹلزم مارکسزم اور مذہبی نظریاتی تحریکوں کو بام عروج ملا۔ ڈاکٹڑ شریعتی کے مطابق بیسویں صدی ایک بڑے زوال کی صدی تھی کہ اس عہد میں اہل ثروت و حشمت نے سائنسی نابغہ روزگار ہستیوں اور دیگر آزاد مفکرین کو پے رول پرلے لیا۔ علم جس کا وظیفہ تلاش حق چلا آیا تھا اب طاقت اور دولت بنانے کا اوزار بنا لیا گیا۔ اب جب اکیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا ہے تو مذید شہ انگیز معیشتوں کے مقابلے کا عہد ہے۔ چین کے دامن میں مشترکہ خوشحالی کا پیکیج ہے۔ ہرطرف ٹریڈوار کا سماں ہے۔ کشمیر، فلسطین، شام لیبیا یمن افغانستان عراق میانمار کافی ثبوت ہیں کہ تہذیب جدیدکا چہرہ بارود سے پیلا ہوچکاہے، اڑنے سے پیشتر بھی میرا رنگ زرد تھا، کہیں ایسا نہ ہوکہ اس بارود رنگی پیلاہٹ پر فصل کے پک چکنے کا گماں لے کر موت اس فصل کو کاٹ لینے پر کمر کس لے۔ کیونکہ عالمی طاقتوں میں معیشت کا شوق عناں گسیختہ دریا کہیں جسے، اقدار کو بہا لے جانا چاہتا ہے۔

الا مرقرآن کی بہت ثقیل اصطلاح ہےجسے قرآن گاہے ام الکتاب، گہے لوح محفوظ اور گہے کتاب المکنون قرار دیتا ہے یہ تخلیق کائنات سے قبل کا طے شدہ آئین ہے جس کے تحت امور کائنات کا نظم و نسق چل رہاہے۔ جس طرح مظاہر فطرت اٹل قوانین کے پابند ہیں افراد اور قوموں کی تقدیر بھی ایک اٹل قانون کی پابند ہے۔ خدا ممکنات کا رب ہے۔ جب انسانی معاشرے باہم اتفاق ومحبت اور یگانگت پر گامزن ہوتے ہیں وہ مظاہر فطرت کے بہترین ممکنات انسان کے مقدر کردیتا ہے ، اوپر نیچے سے رزق کی فراوانی کے مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔ اور جب انسانی معاشرے حرص و ہوس کا شکار ہوتے ہیں چلتے پھرتے خوب چہرہ لوگ سور کی ہوسناکی اور شہوت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں انہیں بار بارپیغام خدا کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے وہ بندر کی طرح اپنی شریر فطرت سے باز نہیں رہ پاتے۔ پھر زلزلے سیلاب سونامی طوفان، آسمانی بجلیاں وبائیں اور دیگر عذاب عین قوانین فطرت کے مطابق اجل مسمیٰ ثابت ہوتی ہیں۔ اہل مکہ نے جب جب معجزوں کی خواہش کی قرآن نے ان کی توجہ مظاہر فطرت یعنی رات دن کے بدلنے ، سورج چاندتارے ، ہوا بادل سمندراوردیگر مظاہرکی طرف متوجہ کرائی۔ اورکہا جس طرح کتاب فطرت کا مصنف تضادات سے پاک ہے، اسی طرح وہ بیان حق یعنی قرآن کو بھی تضادات سے پاک رکھے ہوئے ہے۔ بحسن وخوبی مرتب ومنظم کائنات تمہیں معجزہ نظر نہیں آتی؟۔ مرتب ومنظم تفاوت وتضاد سے پاک کائنات آسمان پر ستاروں کے چراغ ہماری نظریں بار بار اٹھتی دیکھتی ہیں تھک جاتی ہیں مگرکہیں کمی، خلیج اور تضاد ڈھونڈنے سے قاصر رہتی ہیں۔ کائنات معمول کے مطابق چلتی رہے تو انسان کیلئے روزمرہ کا معمول معمولی چیز لگتا ہے۔ مظاہر فطرت معمول کی روش سے ہٹ جائیں، انسان کی چیخیں آسمان تک پہنچنے لگتی ہیں۔ جب تم کشتی پر دریا میں ہوتے ہو، لہریں تمہارے سفرکے رخ کے مطابق ہوتی ہیں تم خوشی سے پھولے نہیں سماتے، پھر اچانک جب طوفان آلیتاہے اور کشتی غضبناک موجوں کے تھپیڑوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے تو تم کس کو پکارتے ہو، یقینا خدا سے مناجات کرتے ہو، تمہارا خدا جب تمہیں بحفاظت ساحل سے ہمکنار کرتا ہے تم پھر رب کو بھول جاتے ہو۔

میرا احساس ہے کہ مظاہر فطرت کے بگاڑ یا ہلچل یعنی زلزلوں، سیلابوں وبائوں اور دیگر آفات کواگر فطرت کے باطن میں نصب خدا کا وارننگ سسٹم سمجھ لیا جائے تو اس میں سائنس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ تاہم متن پرست جب قرآن کے اسلوب کی چاشنی اور معجز بیانی کو لفظی اور لغوی معنویت کا کفن پہناتے ہیں تو یہ بھی آیات کریمہ سے جوہرحیات نوچ لیتے ہیں جس پر بقول اقبال خود خدا و جبرائیل و مصطفےٰ دانتوں میں انگلیاں دبائے ورطہ حیرت میں چلے جاتے ہیں۔ سلسلہ انبیا اور کتب سماویہ کے ذریعے خداوند عظیم انسانی شعور پر نازل ہونے کی جدوجہد میں سراپا مصروف دکھائی دیتے ہیں مگراشاعرہ کے کلام میں سراپا غرق آرتھو ڈوکسی ہے کہ وہ انسانی شعورکی سمجھ میں آنیوالے واقعات و حادثات کو مافوق الفطرت پہناوے پہبنا کر اپنے تیئیں خدا کا قد بڑھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی۔ لیس کمثل شی اور دیگر آیات سے واضح ہے کہ جہاں ہرچیز محدود ہے خدا لامحدود ہونے کے ناتے فہم انسانی میں سما نہیں سکتا ، مگر اسی کی عطاکردہ انسان کی کسبی ادراکی صلاحیتوں کا انکار بھی تو اس کے سلسلہ عطا کا انکار ہے۔ قرآن قوم لوط کی بستی کے الٹنے کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل منضود۔ اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ لغت کےکچھ ماہرین کا کہنا ہے یہاں سجیل فارسی لفظ سنگ گل عربی میں سجیل بن گیا گویا سجیل کا مطلب سنگ گل یعنی پکا پتھریعنی برم اسٹون ہے امام رازی ، زمخشری اور دیگر واقدی، ابن اسحاق اور ابن ہشام کا حوالہ دیتے ہوئے لفظ سجیل کو باعتبار شجرہ نسب عربی الاصل قراردیتے ہوئے اس کا مطلب امر جو لکھا جاچکا سمجھتے ہیں۔ یعنی عالم امر میں جو اعمال کی سزا طے کی جاچکی ہے۔ لہٰذا قوم لوط کی بستی الٹنے کا مطلب پتھروں کی بارش سے قرین قیاس نہیں لگتا اگر سجیل فارسی لفظ سنگ گل کی عربی شکل ہو تب بھی پتھروں کی بارش سے مراد زمینی زلزلہ اور لاوا ابلنے سے برم اسٹون مراد لیا جاسکتا ہے۔ محمد اسد کے مطابق ترجمہ ہم نے ان پر لکھے جا چکے (قانون امر) کے پتھر برسائے بنتاہے۔ کعبتہ اللہ پر ہاتھیوں کی فوج لیکر چڑھائی کرنے والے ابرہہ کے باب میں ارسل علیھم طیراً ابابیل کا بیان بھی ابن اسحاق ، واقدی اور ابن ہشام کے مطابق حملہ آوروں پر ایسی وبا پھوٹ پڑی جسے جدید میدیکل سائنس میں اسمال پاکس کہا جاتاہے۔ عربی میں اس وقت اس وبا کو حسبہ کہا گیا جس کا مطلب حسن اتفاق سےپتھر پھینکنا یعنی اسٹون پیلٹنگ ہے۔ یعنی فضا میں یہ جرثومہ یا وائرس جس پر حملہ کرتا لگتا اسے زور سے پتھرلگا ہے۔ اسی طرح یہ وائرس ہاتھیوں پربھی اثرانداز ہورہا تھا۔ اسی وبا ، تکلیف یا عذاب کو ترمیھم بحجارۃ من سجیل کہہ دیا گیا یہ ان پرخدا کے قانون امر کے پتھروں کی بارش تھی کہ انہیں دکھائی تک نہ دینے مگر پتھرکی طرح محسوس ہونے والے وائرس سے سزا کا مزہ چکھایا گیا۔ دیکھیں لا یرمون المحصنٰت، یعنی پاک عورتوں پر بہتان کے سنگ مت برسائو!یہ بھی تو قرآن کا حسن بیان ہے کہ نیک عورتوں پر بہتان تراشنا سنگ زنی کے مترادف ہے۔ اسی طرح قوم لوط یا ابرہہ کی تباہی کے بیان میں ایک سائنسی حقیقت کو ادبی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے تو خواہ مخوا لٹرل ازم سے آیت الٰہیہ سے کھلواڑ کوئی سود مند سودا بہرحال نہیں ہے۔ اب کورونا کی سائنسی، مذہبی اور فلسفیانہ تو جیہہ آپ کے حسن نیت کی خواستگا رہے۔

آخر میں صاحبان فکرو نظر سے یہی گوش گزار کروں گا جو مریخ کا حکیم جاوید نامہ میں اقبال سے کہہ رہا ہے۔ می شناسی طبع دراک از کجاست؟۔ ۔ حور اندر بنگلہ خاک از کجاست؟ قوت فکر حکیماں از کجاست؟۔ ۔ طاقت ذکر کلیماں از کجاست؟ ایں دل و ایں واردات او زکیست؟۔ ۔ ۔ ایں فنون و معجزات او زکیست؟۔ ۔ گرمی گفتار داری؟ از تو نیست۔ ۔ شعلہ کردار داری ؟ از تو نیست ایں ہمہ فیض از بہار فطرت است۔ ۔ فطرت از پروردگار فطرت است۔ ۔ زندگانی چیست؟ کان گوہر است۔ ۔ تو امینی صاحب او دیگر است! طبع روشن مرد حق را آبروست۔ ۔ خدمت خلق خدا مقصود اوست! خدمت از رسم ورہ پیغمبری است مزد خدمت خواستن سوداگری است۔
اے کہ تو سمجھتا ہے کہ تجلی فہم کہاں سے آئی ہے، یہ تجلی ادراک کی حور جو تیرے بنگلہ خاک یعنی جسم میں سکونت پزیرہے کہاں سے آئی ہے۔ فلسفیوں کی قوت فکر کہاں سے ہے؟ کلیموں کی طاقت ذکر کہاں سے ہے۔ دل اور اس کی واردات کا تعلق کہاں سے ہے؟ فن اور اس کے معجزات کا سلسلہ کہاں سے جڑا ہوا ہے۔ اگر تمہارے اند گرمی گفتار ہے تو وجہ تم نہیں ہو اگر شعلہ کردار رکھتے ہو تو وہ بھی محض تمہارا کسب نہیں ہے۔ یہ سارے فیض فطرت کی بہار سے ہیں اور فطرت خود فطرت پروردگار ہے۔ زندگی کیا ہے ؟ گواہر کی کان ہے ، تجھے بطور امانت سونپی گئی ہے اس کا مالک کوئی اور ہے۔ روشن طبع مرد حق کی آبرو ہے ، اس کا مقصود خدمت خلق خدا ہے۔ خدمت بجالانے میں پیغمبری راہ ورسم اختیار کی جائے۔ خدمت کی مزدوری مانگنا سوداگری ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20