وبا کے دنوں میں سرگوشیاں : دوسرا خط —– دعا عظیمی/ شہنیلہ آصف

0

پیاری شہنیلہ
دعا کے جامنی پھول!
تمہارے خط سے یک گونہ مسرت کی لہر پھوٹی اور مجھے جامنی پھولوں کے کنج تک لے آئی، جہاں “شازیہ ظفر” پہلے سے خوشہ چینی کر رہی تھیں۔

مجھے معلوم ہے کہ اب تم پوچھو گی کہ “جامنی” ہی کیوں تو پتہ ہے نا رنگ بھی اپنے اندر گہری توانائی رکھتے ہیں۔ ان کی اپنی نفسیات ہوتی ہے بلکہ روحانی کتب کے مطالعے کے دوران یہ بات مجھ پر واضح ہوئی تھی کہ رنگوں کے تناسب میں کمی بیشی سے نہ صرف ہمارے اطراف بلکہ ہماری ذات اور جسمانی صحت پر بھی مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں تو کلر تھراپی اور اروما تھراپی پر کافی کام ہو رہا ہے۔

پتہ ہے ہر انسان کے جسم سے ایک فٹ کے اندر اندر اس کی روشنی کا ہالہ یا جسم موجود ہوتا ہے، وہ “اورا” کہلاتا ہے تو وہ بھی رنگ بدلتا ہے۔۔۔ ایسے کیمرے موجود ہیں جو ان کا عکس لے سکتے ہیں۔

خوشی، غمی اور بیماری میں ہمارے “اورا” یعنی روشنیوں کے جسم کا رنگ بدل جاتا ہے۔۔ جب ہم تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں تو خود ہمارے اورا کا رنگ جامنی ہو جاتا ہے۔

چھوڑو رنگ کی باتیں، احساس کی بات کرتے ہیں تم نے کس قدر درست کہا کہ یہ احساس ہے جو انسانوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔
مجھے حیرت ہوئی جب میں نے تمہارے ادبی محبت نامے میں ان الفاظ کو پایا میں نے جانا گویا میرے دل میں تھا،

“محبت بلاوجہ ہی فاتح عالم تو نہیں ٹھہری نا۔

Little deeds of kindness،
Little words of love،
Make our earth happy۔
Like the Heaven above”

جنت کا تصور خوشی سے، اور ابدی خوشی کا تصور کس قدر اپنائیت اور انسانیت سے جڑا ہوا ہے۔۔ یہ وقت ہے کہ ہم مسیحاؤں ان کے مددگاروں اور سماجی کارکنوں کا حوصلہ بڑھائیں اور ان کو سراہیں جیسےماضی میں دوران جنگ جوانوں کا حوصلہ ملی نغموں کے ذریعے بڑھایا جاتا رہا۔یقیناً وہ وبا کے دنوں کے مجاہد ہیں۔
اس کے ساتھ اپنے ضرورتمند بہن بھائیوں کی مدد یعنی کار خیر میں عملی شراکت ازحد ضروری ہے خواہ وہ مٹھی بھر کھجور ہی کیوں نہ ہو۔ چلیں اس بارے فون پہ بات کریں گے۔

آپ کو یہ جملہ کیسا لگا۔۔۔ سید مہدی بخاری کا ایک جملہ ہے

“لمبی سردیوں کے بعد شجر بادام پر پھول کھلا ہے”۔ مجھے تو سید مہدی بخاری مستنصر حسین تارڑ صاحب کا تازہ ورژن لگتا ہے۔ لیکن ان کی ایک اچھی بات ان کی تصاویر اور غضب کی عکاسی ہے۔ میرے جیسے لوگ جو بہت سیر نہیں کر سکتے ان کی تصاویر سے روحانی اور تصوراتی سیر کا مزہ لے سکتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ کہ کچھ کام ہم اس لیے نہیں کرتے کہ پڑتی ہے ان میں محنت زیادہ۔ لیکن بذریعہ تحاریر و تصاویر سیر کے دوران محنت بھی نہیں لگتی نہ سرمایہ یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی تے رنگ چوکھا آوے۔۔

سب سیر کرنے والوں کے لیے یہ موسم قیامت ہے۔۔۔۔ انہیں وادیاں اور جھرنے اپنی جانب بلاتے ہیں، سرو و ثمن آواز دیتے ہیں اور بادام کے شگوفے ان کی آہٹوں کے منتظر ہیں۔ چیری بلاسم کے گلابی پھول ان کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
غزالاں تم تو واقف ہو، کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری

دعا ہے کہ یہ نظر بندی اور ایام جو شعب ابی طالب کی گھاٹی کی یاد دلا رہے ہیں جلد اختتام کو پہنچیں اور اسیری سے رہائی کا پروانہ ملے۔ کوئی نوید لائے کہ کعبے میں لٹکی دستاویز کرم خورد ہوئی جب وہ “کن” کہے تو کیوں “فیکن” نہ ہو ساری دنیا “ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم” پر لگی ہے۔ اور ہم ادبی محبت ناموں کے سحر میں شب و روز کی تسبیح دانہ دانہ پرو رہے ہیں۔
سناؤ شب و روز کیسے گزر رہے ہیں اور کون سی کتاب زیر مطالعہ ہے آجکل یا ڈرامہ دیکھ کے روح کو بالیدگی عطا کر رہی ہو۔ کچھ ہمیں بھی عطا ہو۔
میرے بھانجے کو خالہ کی طرف سے پیار اور باقی سب کو سلام
اپنا خیال رکھنا اور جلد نامہ بھیجنا۔
دعا گو
طالب دعا
تمہاری دعا
16 اپریل 2020، لاہور


شہنیلہ آصف کا جوابی خط

پیاری دعا
محبت بھرا سلام

آج عابدہ پروین کی خوبصورت آواز میں شاہ نیاز بریلوی کے اس کلام نے تو گویا مجھ پر سحر ہی طاری کر دیا۔

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

کہیں وہ بادشاہِ تخت نشین
کہیں کاسہ لیے گدا دیکھا

کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا

میری درویش سہیلی!

یہ کلام تم نے بھی یقینا سنا ہو گا۔۔ عالم وجد میں مست ہو کر عابدہ پروین جب یہ صوفیانہ کلام پڑھتی ہیں تو کیا سماں باندھ دیتی ہیں۔ خلقت جھوم جھوم جاتی ہے۔ عجیب بے خودی طاری ہو جاتی ہے۔ گویا سب کسی ٹرانس میں آ گئے ہوں۔ جذب سے لکھا اور گایا گیا صوفیانہ کلام واقعی دل کے بند کواڑوں پر نہ صرف دستک دیتا ہے بلکہ اس پر جمی میل کچیل بھی دھو ڈالتا ہے ایسے جیسے بارش برسوں کی جمی گرد دھو ڈالے۔

دعا! محب اور محبوب کا تعلق اپنے اندر کیسی مقناطیسیت رکھتا ہے کہ محب محبوب کے گرد دیوانہ وار محو طواف رہنا چاہتا ہے۔ محبت کی یہ انتہا اسے عشق کی اس معراج تک لے جاتی ہے جب وہ اپنے محبوب کے رنگ میں یوں ڈھلتا ہے جیسے برف پانی میں گھل جاتی ہے۔۔۔ من و تو کا فاصلہ مٹ جاتا ہے۔
محبت کی اس اوج پر بس یک رنگی رہ جاتی ہے۔ ہر طرف محبوب کا رنگ ہی نظر آتا ہے۔ اس کے جلوے بکھرے نظر آتے ہیں۔ کیا انس، کیا شجر سب اسی کا پرتو معلوم ہوتے ہیں۔

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

محبت میں کتنی پازیٹیو انرجی ہوتی ہے نا۔ سب کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔۔۔ ماں کی آغوش کی طرح۔

لیکن دعا! جانتی ہو نا کہ محبت کا یہ پودا سخت زمین پر نہیں اگتا۔ اپنے نمو کے لیے اسے نرم زرخیز مٹی چاہیے، تبھی اس پر محبت کے معطر گلاب کھلتے ہیں۔۔۔ سنگلاخ اور بنجر زمینوں پر تو ویرانیاں بسیرا کرتی ہیں وہاں محبت کی نرم و نازک کونپلیں سر نہیں اٹھاتیں۔

مجھے لگتا ہے صوفیانہ کلام اور اس میں رچی بسی موسیقی دل کے ان تاروں کو چھیڑتے ہیں جہاں سے محبت کی دھنیں بجتی ہیں اور پیار کے نغمے بکھرتے ہیں۔

دعا! کیا تم پر بھی یہ موسیقی ایسا جادو کرتی ہے۔۔۔ دل کو نرم کرنے والا جادو۔۔۔ احساس کو لطیف کرنے والا جادو۔۔۔۔
اور پھر شاعری۔۔۔ اس کا ردھم، حسنِ خیال،۔۔۔ سب کتنا لطیف اور تسکین بخش ہوتا ہے نا۔ ہاں تبھی تو انہیں فنون لطیفہ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

دعا!
نجانے کیوں ہم لوگ ہمیشہ خوف اور تضادات کا شکار رہتے ہیں۔ ہم کھل کر اپنی پسندیدگی کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ہم گھٹن زدہ منافق لوگ ہیں۔ میں بھی ان میں شامل ہوں۔۔۔۔۔ سنو! ایک بات بتاؤں۔۔مجھے وہ ترکوں کا خاص رقص جسے رقصِ درویشاں کہتے ہیں بہت بھاتا ہے۔۔۔۔ اور کلاسیکی رقص دیکھنا بھی مجھے بہت پسند ہے۔۔

رقاص جب کمال خوبصورتی سے تال سے ہم آہنگ ہو کر اپنے ہاتھوں، پیروں اور انگلیوں کو حرکت میں لاتا ہے اور اپنے چہرے کے تاثرات اور حرکات و سکنات سے کسی خیال یا جذبے کو بیان کرتا ہے تو مانو دل چھو لیتا ہے۔

دعا! فنون لطیفہ نہ صرف ہمیں محظوظ کرتے ہیں بلکہ ہمارا کتھارسس بھی کرتے ہیں۔ ہمیں بالیدگی بھی عطا کرتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔
ویسے یہ تمام فنون لطیفہ جنہیں ہم اپناتے بھی ہیں اور اپناتے ہوئے شرماتے بھی ہیں ہم نے فطرت سے ہی تو چرائے ہیں۔ مور کا رقص ہو یا کوئل کی کُو کُو یا فطرت کے حسین نظارے سب اپنے خالق کے حُسن ذوق کے آئینہ دار ہیں۔۔ انسان تو محض نقال ہے۔

کہیں رقاص اور کہیں مطرب
کہیں وہ ساز باجتا دیکھا

دعا! تم نے اپنے خط میں مختلف رنگوں کا انسانی مزاج پر اثر کا ذکر کیا تو مجھے بھی لگتا ہے کہ رنگ مزاج پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور رکھتے ہیں چاہے وقتی ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم انسانی مزاج اور شخصیت پر خارجی اور باطنی سطح پر بہت سے عوامل مل کر ہی کوئی گہرا نقش چھوڑ پاتے ہیں۔ ویسے یہ کافی دلچسپ موضوع ہے۔ یہ اورا یا انسانی ہالہ کے متعلق یو ٹیوب پر بھی کافی وڈیوز موجود ہیں۔ عجیب بات ہے نا کہ کچھ لوگوں کو ہمارا دل پہلی نظر میں ہی رد کر دیتا ہے اور کچھ دوسرے فوراً دوستی کے مرتبے پر پہنچ جاتے ہیں شاید یہ ہمارے اجسام سے نکلنے والی ان ارتعاشی لہروں (vibes) کی بدولت ہی ہوتا ہے۔ جسے عام بول چال میں ہم کہتے ہیں کہ فلاں سے ہماری فریکوئنسی میچ ہو گئی یا نہیں۔ طالبعلمی کے دور میں مجھے ان موضوعات سے خاصی دلچسپی رہی۔۔۔ ٹیلی پیتھی، ہپناٹزم، دست شناسی وغیرہ وغیرہ۔ اس سے متعلق کچھ مزے کی باتیں بھی یاد آرہی ہیں لیکن طوالت کے ڈر سے ابھی نہیں لکھ رہی لیکن اپنے اگلے خط میں کچھ مزے کی یادیں ضرور تازہ کروں گی۔

اب جبکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ اس وبا کے کارن حاصل فرصت ہمیں مراقبے اور غور و فکر کا اچھا موقع فراہم کر رہی ہے۔ دعاگو ہوں کہ ہم رمضان المبارک کی تمام رحمتوں اور برکتوں سے بہرہ مند ہوں اور خود شناسی اور خدا شناسی کے سفر پر بھی نکلیں اور پھر جیسے کہ آپ نے کہا کہ نظر بندی کے یہ ایام جو گاہے شعب ابی طالب کی گھاٹی کی یاد دلاتے ہیں جلد اختتام پذیر ہوں تاکہ لمبی سردیوں کے بعد شجر بادام پر جو پھول کھلا ہے ہم سب مل کر اس کا استقبال کریں۔
ہم سب نئی امیدوں اور تمناؤں کے ساتھ وبا کے بعد کی دنیا کا سواگت کریں۔

بیٹے نے خالہ کی خدمت میں سلام پیش کیا ہے۔ میری جانب سے بھی آپ سب اہل خانہ کو سلام و دعا۔
آپ کی اپنی
شہنیلہ آصف
20 اپریل 2020

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20