پاکستان میں بچوں سے بدسلوکی اور کرونا —- ڈاکٹر کشور انعام

0

دنیا  کوماضی میں بھی وبائی بیماریوں اورعالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔  تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس طرح کے ادوار میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور نظرانداز کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔  پوری دنیا میں اموات اور بیماری میں اضافے کے علاوہ، کرونا -19  سے کچھ بچوں میں دماغی صحت کی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے ساتھ زیادتی کے سخت اثرات پڑنے کا بھی امکان ہے۔  یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس طرح کے واقعات کی وجہ سے جب معمول کی زندگی متاثر ہوجا تی ہے، تو بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں میں جذباتی پریشانی کے آثار زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ ۔  ہر بچے کا ردعمل مختلف ہوتا ہے۔  کچھ میں خوف اور اضطراب کی واضح علامتیں نظر آتی ہیں اور کچھ ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے کچھ نہیں ہورہا ہے۔  تناؤ  ا ن میں جارحیت یا دنیا سے کنارا کشی کے طور پر ظاہر ہوسکتا ہے۔  ان کے جذبات کو سمجھنا اور اس کی توثیق کرنا ضروری ہے۔  بڑوں کی حیثیت سے، ہم بعض اوقات اس حقیقت کو بھی نظرانداز کرتے ہیں کہ ہمارے بچے ہمارے جیسے ماحول میں جی رہے ہیں اور حالات کی شدت کو جتنا ممکن ہو سکے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بچے مشاہدہ کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پریشانی یا تناؤ کی کیفیت میں وہ آپ کے رد عمل سے حالات کا اندازہ کرلیتے ہیں۔  جب مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ہوتی ہے تو بالغ افراد میں پریشانی اور تناؤ پیدا ہونا معمول کی بات ہے، لیکن یہ غیر معمولی اس وقت ہوجاتا ہے، جب کوئی اس پر قابو نہیں پاسکتا ہے۔  اس کی وجہ سے بچوں پرتشدد کے واقعات جنم لیتے ہیں۔  جو عام طور پر سب سے زیادہ آسان اور حساس ہدف ہوتے ہیں۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جنسی استحصال کے مرتکب افراد میں سے 80 فیصد وہ ہوتے ہیں، جو بچوں کے لیے اجنبی نہیں ہوتے۔  لاک ڈاؤن کے دوران، بچے دن میں چوبیس گھنٹے گھر میں رہتے ہیں یا والدین کی بیماری میں مبتلا ہو نے کی صورت میں، انھیں رشتہ داروں اور جاننےوالوں کے پاس بھیجا جاسکتا ہے۔  جہاں ان کے جنسی استحصال کا شکار ہونے کا بھی امکان ہوسکتا ہے۔  خاص طور پر یہ خطرہ ان بچوں کو ہوتا ہے۔  جو ماضی میں ایسے صدمے سے دوچار ہوچکے ہوں۔ یا وہ دماغی یا جسمانی صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوں۔  یا ان کے والدین کوذہنی صحت کے مسائل ہوں،  یا انہیں موجودہ طبی، مالی اور معاشرتی حالات کی وجہ سے جذباتی پریشانی کا زیادہ خطرہ ہو۔

جب تک کہ ہم اس کی تیاری نہیں کریں گے اور اسی سطح پر آگاہی نہیں پھیلائیں گے جیسا کہ ہم ہاتھ دھونے، معاشرتی فاصلے اور تنہائی کے لئے کررہے ہیں۔ یہ وبائی مرض ملک میں بچوں کی حفاظت کو نمایاں طور پر متاثر کرے گا۔ بچوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے علاوہ، ہم یہ کیسے یقینی بنائیں کہ ہمارے بچوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر محفوظ کیا جائے؟ ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرنی چاہیئے  کہ مستحکم معاون ماحول کی فراہمی سے زیادہ تر بچے ٹھیک رہتے ہیں۔  سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو محفوظ اورخطرے سے پاک محسوس کریں۔  یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب والدین یا نگہداشت کرنے والا بھی خود کو محفوظ محسوس کرے۔  یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا میں ہر شخص وبائی مرض سے متاثر ہے۔  ممکن ہے کہ ہم میں سے کچھ دوسروں کے مقابلے میں سخت حالات کا شکار ہوں۔  لیکن اس وقت غیر یقینی احساس عالمگیر ہے۔  لہذا، سب سے بہتر حل یہ ہے کہ جو ہمارے اختیارمیں ہے اس پر توجہ دی جائے۔  اپنی ذہنی تندرستی کا خیال رکھ کروالدین اپنے بچے کو بہترین تحفہ دے سکتے ہیں۔

والدین کو چاہیئے کہ بچوں کو خود سے موجودہ حالات کوسمجھنے کے بجائے، ان کی عمر کے لحاظ سے، ان کے آس پاس ہونے والے واقعات کی وضاحت کریں۔  ان کے سوالات کرنے کا انتظار نہ کریں۔  ان کے ساتھ بیٹھنے اور موجودہ ماحول کے بارے میں ان کی رائے اور ان کے تحفظات کے بارے میں پوچھنے میں سرگرمی کا مظاہرہ کریں۔  معلوم کریں کہ آیا وہ اپنی یا اپنے خاندان کی حفاظت سے پریشان ہیں اور اگر وہ خوفزدہ، ناراض یا غمگین محسوس کرتے ہیں۔  تو انھیں یہ یقین دہانی کرائیں کہ آپ ان کی حفاظت کے لئے موجود ہیں۔ کرونا-19 کے بارے میں انھیں دوستانہ انداز میں سمجھائیں، صفائی کی آسان سرگرمیوں، جیسے ہاتھ صاف کرنے کی مناسب تکنیک اور دیگر اقدامات یا چھینک آنے پر اپنی کہنی کے استعمال کے بارے میں بتائیں۔  اس سے نہ صرف انھیں یہ لگے گا کہ وہ مثبت کام میں اپناہاتھ بٹا رہےہیں بلکہ انہیں یہ بھی محسوس ہوگا کہ صورت حال قابو میں ہے۔  یہ بھی اہم ہے کہ انھیں خبروں، سوشل میڈیا اور وبائی امراض کے بارے میں بہت زیادہ معلومات سے دور رکھیں، کیونکہ ایک بچے کے لئے ان کی تفہیم اکثر مشکل ہوتی ہے۔

بچے کی زندگی کومعمول پر لانا،  باہر کے انتشار سے پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔  اگرچہ پاکستان میں اسکولوں کی ایک قلیل تعداد بچوں کو ورچوئل کلاسوں کے ذریعے مصروف رکھنے کا ایک بہت بڑا کام کررہی ہے، لیکن زیادہ تر اسکول مدد اور وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے طلباء سے رابطہ قائم رکھنے سے قاصر ہیں۔  بچوں کو سیکھنے، محفوظ سرگرمیوں اور پلے ٹائم کے ساتھ مشغول رکھنا والدین کی ذمہ داری اور نگہداشت کرنے والوں کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔  ان کو مصروف رکھنے کے کچھ آئیڈیاز میں نئی ​​زبانیں سیکھنا، نئے آلات سے کھیلنا سیکھنا یا کھانا پکاناسیکھا جاسکتا ہے۔  انٹرنیٹ کی دستیابی کے لحاظ سے، معروف بین الاقوامی اداروں کے فراہم کردہ مفت آن لائن کورسز میں داخلہ لینا بھی ایک آپشن ہے۔  مزید یہ کہ، معاشرتی دوری نے کچھ بچوں کو اپنی جذباتی مدد کے واحد ذریعہ جو کوئی بھی دوست یا رشتہ دار ہوسکتا ہےسے الگ کردیا ہے۔  ان سے خطوط، ٹیلیفون یا ویڈیو چیٹ کے ذریعہ ان کا رابطہ قائم رہنا ضروری ہے۔

،  آپ کو یہ جاننا ضروری ہےکہ آپ کا بچہ گھر کے اندر یا باہر کہاں ہے۔  آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ دن کے 24 گھنٹوں میں بچہ کس کے ساتھ ہے۔  انہیں کسی ایسے فرد کے ساتھ مت چھوڑیں، جس پر آپ کا مکمل اعتماد نہیں ہے۔  یہ جسم کی حفاظت اور محفوظ اور غیر محفوظ لمس میں فرق سکھانے کے لیے اچھا وقت ہے۔  انٹرنیٹ تک رسائی کے حامل بچوں کو انٹرنیٹ سیفٹی قوانین کے بارے میں آگاہی ہونی چاہئے اور یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ ان ہدایات پر عمل پیرا ہو رہا ہے یا نہیں۔  اگر بچےکسی جذباتی مشکلات سے گزر رہے ہی تو پیشہ ورانہ مددیا ڈاکٹر یا سائیکولوجسٹ کو دکھانا چاہئے۔

ایسے ممالک جو بچوں کی حفاظت سے متعلق خدمات میں آگے ہیں، وہ اپنے بچوں کو ایسے سانحات سے بچانے کے لئے تیار ہیں۔  جس سے دنیا گزر رہی ہے۔  پاکستان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اپنے بچوں کے تحفظ کو اہمیت نہیں دی ہے۔  ہمارے نظام پولیس، بچوں کی حفاظت کرنے والی ایجنسیوں اور عدالتوں کے مابین کوئی رابطہ نہیں رکھتے ہیں۔  ہیلپ لائنیں اچھے کام کرنے والے نظام کا آرائشی اورکھوکھلا حصہ ہیں اور خود کوئی مدد اور معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔  آبادی میں غیر معمولی اضافے، غربت اور بدعنوانی نے پاکستان کو، جو اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق میں شامل ہے۔  اپنے بچوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنے سے قاصر کردیا ہے۔

اس غیر متوقع صورت حال میں،  مجھے اس بچے کی فکرھےجس کے والدین اسے جسمانی زیادتی کا شکار بناتے ہیں۔  میں اس بچے کی فکر میں ہوں جسے والدین کی ذہنی صحت کی وجہ سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔  میں اس بچے کی فکر میں ہوں جو اپنے والدین، ​​رشتہ داروں، اساتذہ یا مذہبی اساتذہ کے ذریعہ جنسی طور پر زیادتی کا نشان بن رہا ہے۔  میں اس نوجوان کی فکر میں ہوں جو پیسے یا کھانے کے لالچ میں جنسی استحصال کا شکار ہو رہا ہے۔  مجھے اپنے بھکاری بچوں کی فکر ہے۔  مجھے ان بچون کی فکر ھے جو گھریلو یا دوسری جگہ مزدوری کر رہے ہوں۔

آئیے متحد ہوکر نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پاکستان کے ہر بچے کی حفاظت کریں۔ آگاہی پھیلائیں اور ان لوگوں کو تعلیم دیں جو جہالت کا شکار ہیں اور ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ہماری امید کا یہ دیا روشن ہے کہ ایک بار جب یہ وبائی بیماری ختم ہوگی تو ہمارے ملک کے رہنما، اس سنگین خطرے سے دوچار بچوں کے معاملے  پربھی توجہ دیں گے۔

ڈاکٹر کشور انعام آغا خان اسپتال میں ماہر اطفال ہیں اور ایک سماجی ادارے، ، قصور ہمارا ہے، ، سے منسلک ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20