چترال کے جنگلات اور صوبائی حکومت — ظفراللہ

0

“رُتوں پہ بس نہ چلےورنہ یہ جہاں والے”

خیبرپختوانخوہ میں جب پاکستان تحریک انصاف اور ان کے اتحادی حکومت بنانے جارہے تھے ۔تو ایک امید پیدا ہوچلی تھی کہ صوبے میں اداروں کا قبلہ درست کیا جائے گا اور اصلاحات لانے میں کسی بھی طرح کی سیاسی مصلحت سے احتراز برتا جائے گا مگرحقیقت یہ ہے کہ ان تین سالہ ادوار میں صرف لیپاپوتی سے کام لیاگیااور حقیقی تبدیلی بنی گالہ سے نکلنے کے موڈ میں نہیں ۔ صوبائی حکومت نے شجر کاری مہم میں اربوں کے حساب سے رقم جھونک دئیے اور ماحصل کچھ بھی نہیں ۔قارئیں بہتر جانتے ہیں کہ ملاکنڈایجنسی اپنی قدرتی خوبصورتی کے لئے مشہور ہے مگر اس کی دوسری وجہہ شہرت یہاں کے ٹمبرمافیا بھی ہیں جن کے دست برد سے ملاکنڈ ایجنسی کا کوئی جنگل محفوظ نہیں وہ یہاں کی خوبصورتی کو نوچنے میں جہاں بخیل نہیں وہاں متعلقہ ادارہ اس سارے معاملے سے صرف نظر کرکے ٹمبرمافیا کے ساتھ خوب تعاون کررہے ہیں۔ان کی منہ زوری کا اندازہ آپ اس طرح سے لگاسکتے ہیں کہ سیاست میں ان کی حیثیت بادشاہ گر کی ہے ماضی قریب میں اپنے من پسند عوامی نمائیندوں کو جیتوانے میں جو کام ٹھیکدار طبقہ سرانجام دیا کرتا تھا وہ اب ٹمبرمافیا کر رہاہے، مزے کی بات یہ ہے کہ سیاست دان بھی ان کے ہاتھوں میں خوب کھیل رہے ہیں۔چترال میں جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ ہر دور میں اپنے عروج پررہی ہے مگر پچھلے سال دو ایسے واقعات ہوئے جس سے اس مسئلے کی شدت اور بھی نمایاں ہوگئی۔نیب نے اس کاروبار میں ملوث دو اشخاص کو گرفتار کئے ایک کا تعلق محکمہ جنگلات چترال سے تھا اور دوسرا ایک سیاسی خانوادہ ہے جس کے والد مختلف حیثیتوں میں چترال کی نمائیندگی کرچکے ہیں ۔اب اسی جناب کو ن لیگ کے ٹکٹ پہ سیاسی اکھاڑے میں اتارنے کا فیصلہ سننے میں آرہاہے۔

اس مسئلہ سے جڑا دوسرا واقعہ عدالتی فیصلہ کا ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مقامی لیڈر کو بھاری جرمانہ کی سزا سنائی گئی تھی اور شنید ہے کہ اگلے الیکشن میں ٹکٹ اسی کو دیا جائے گا۔صوبائی حکومت کی پھرتی ملاحظہ کریں کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے صوبائی حکومت کو اس مسئلہ پر قابو پانے کیلئے ایک لیٹر لکھا گیا مگر صوبے کے وزیراعلی تبدیلی لانے میں اس قدر دوڑدھوپ میں مصروف ہیں کہ راست اقدام اتھانے کیلئے ان کے پاس فرصت نہیں۔ چترال کی خوب صورتی کو یہ لوگ دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اوپر سے لیکر نیچے تک سب تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ ارندو کے جنگلات ،وادی کیلاش کے جنگلات ،چترال گول نیشنل پارک غرض جس کی جہاں تک رسائی ہے وہ  وہاں اس دھندے کو فروغ دے رہا ہے۔سماجی سطح پر ا س پر بات کرنے کو ہی وقت کا ضیاع سمجھا جاتاہے اس بے حسی کا نتیجہ ہے کہ چترال کی سرزمین جنگلات سے محروم ہوتی جارہی ہے

اہل مغرب درختوں اور پرندوں سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ مشہور ناول نگار عبداللہ حسین سے کسی نے سوا ل کیا کہ تمھیں انگریز کی کونسی چیز نے متاثر کیا؟ عبداللہ حسین نے کہا: جب کوئی پرانا درخت ختم ہو جاتاہے اور وہ گرنے کو ہوتاہے تو اسے کاٹنے کیلئے آجاتے ہیں ۔تب وہاں لوگ ماتم کرنے کیلئے اکھٹے ہوجاتے ہیں بچے، بوڑھے، جوان سب۔ اور وہ درخت جب کٹتا اور گرتا ہے تو وہ روتے ہیں ۔وہ ایک درخت کی موت پر روتے ہیں۔ عبداللہ حسین کہتاہے کہ میں نے ایک بڑھیا سے پوچھا کہ آخر ایک درخت میں وہ کونسی ایسی بات ہے کہ اسے کٹنے پر وہ روئے جارہی ہے، وہ کہنے لگی!!! یہ درخت میری عمر سے ذیادہ کا ہے میں جب پیدا ہوئی یہ موجود تھا۔ اسے میں نے بچپن میں جوانی میں اور اب بڑھاپے میں دیکھا اور اسے نے مجھے دیکھا اور اب یہ رخصت ہورہا ہے۔ بس مجھے انگریزوں کی یہ ادا پسبدآئی؛ چونکہ یہ مغرب کی روایت ہے اس لئے اس چلن کا ہمارے ہاں تصور کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتاہے۔ اس لئے ثواب سمجھ کر درختوں کی بے تحاشہ کٹائی کی جارہی ہے۔ ہم یہاں کے ارباب حل و عقد سے صرف یہی گزارش کرتے ہیں کہ اس کے ازالے کے لئے حقیقی معنوں میں شجرکاری کی مہم چلانے کی ضرورت ہے اور ان تمام عناصر کو نکیل ڈالنے کی اشد ضرورت ہے جو جنگلات کو مال مفت سمجھ کر بے رحمی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔نیب نے اس کے حوالے سے جو گرفتاریاں کی ہیں ان سے بازپرس کرکے مزید لوگوں کو قانونی شکنجے میں لائی جائے تو اس کی روک تھام ممکن ہوسکے گی۔ اور لگے ہاتھوں یہ بھی تفتیش کی جائے کہ عدالت نے جن افراد کا جرمانہ کیا تھا کیا اس عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا؟ کیا قومی خزانے کو جو نقصان پنچایا گیاتھا، وصولی کرکے اس کا ازالہ کیاگیا؟.. میرے خیال میں ابھی تک اس پر ایسی کوئی پیشرفت دیکھنے کو نہیں ملی ہے یہ جہاں عدلیہ کی توہین ہے وہاں باسیانِ چترال کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف بھی…عدلیہ اور مقتدر اداروں کو اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کےلئے ایسے عناصر کو مان مانی کرکے سماجی اور قانونی اصولوں کی پامالی کرنے کی دوبارہ ہمت نہ ہوسکے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: