تخلیق آدم و حوا : قرآنی مطالعہ اور سوچنے کے زاویے —- طیب عثمانی

0

سماوی ادیان میں انسان اول کی شخصیت سے مراد قطعی طور پر جناب آدم علیہ السلام ہی مراد ہیں…. جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِی خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسࣲ وَ ٰ⁠حِدَةࣲ وَخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالࣰا كَثِیرࣰا وَنِسَاۤءࣰۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِی تَسَاۤءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَیۡكُمۡ رَقِیبࣰا﴾ [النساء ١] 

ترجمہ:لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے.

“خلق منھا زوجھا “سے دینی فکریات کا ملخص یہ ہے کہ جناب آدم علیہ السلام اکیلے رہ رہے تھے، اس وجہ سے وحشت ہونے لگی، . کوئی ساتھ رہنے والا نہیں تھا سو آدم علیہ السلام کو نیند آئی، اسی دورانیے میں اللہ تعالیٰ نے اماں حواء کو ان کی پسلی سے پیدا کیا، اٹھے تو پاس حوا بیٹھی تھیں، سو انہوں نے سوال کیا کہ تم کیا ہو، اس نے جواب دیا : عورت پھر پوچھا :کیوں پیدا کی گئی تو عورت نے جواب دیا کہ…. میری پیدائش اس لیے ہوئی تاکہ تم میرے ساتھ رہو. … یہی روایت تفسیر طبری میں بھی منقول ہے:

حدثني موسى بن هارون قال، أخبرنا عمرو بن حماد قال، حدثنا أسباط، عن السدي قال: أسكن آدمَ الجنة، فكان يمشي فيها وَحْشًا ليس له زوج يسكن إليها. فنام نومةً، فاستيقظ، فإذا عند رأسه امرأة قاعدة، خلقها الله من ضلعه، فسألها ما أنت؟ قالت: امرأة. قال: ولم خلقت؟ قالت: لتسكن إليّ.

عورت کے پسلی سے پیدائش کے بارے میں صحاح ستہ کے علاوہ سند احمد بن حنبل، سنن دارمی وغیرہ کی روایات موجود ہے… جیسا کہ صحیح بخاری، حدیث نمبر:3331 میں منقول ہے:

” حدثنا ابو كريب وموسى بن حزام، قالا: حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن ميسرة الاشجعي، عن ابي حازم، عن ابي هريرةرضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” استوصوا بالنساء فإن المراة خلقت من ضلع وإن اعوج شيء في الضلع اعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل اعوج فاستوصوا بالنساء”.

ہم سے ابوکریب اور موسیٰ بن حزام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، ان سے زائدہ نے، ان سے میسرہ اشجعی نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔  پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔  اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی۔  پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔ ”

تفسیر طبری اور صحاح کی روایت میں منقول بیانیہ جسے جسے آج تک مفسر، محدثین، واعظین بیان کرتے چلے آ رہے ہیں کہ عورت کی پیدائش پسلی سے پیدا ہوئی ہے، اس تناظر میں چند اہم پہلوؤں سوچنے کی ضرورت ہے……

  1. کیا واقعی عورت کی پیدائش پسلی سے ہوئی یا ان بیانات میں الفاظ مجازی ہیں؟
  2. کیا عورت پر مرد کی فوقیت اسی وجہ سے ہے کہ عورت کا وجود ہی مرد کی وجہ سے ہے؟
  3. عورت کا ٹیڑھ پن کس پہلو سے ہے…. ؟
  4. من نفس واحدۃ سے کیا کروموسومک پراسس کا ابتدائیہ مراد لیا جا سکتا ہے؟
  5. من زوجھا سے یہ مراد لیا جا سکتا ہے کہ نفس واحدۃ عورت تھی پھر اس سے ان کا زوج یعنی آدم علیہ السلام کو بعد میں پیدا کیا؟
  6. کیا ممکن ہے کہ نفس سے مستقل کوئی شے مراد یعنی ابتدائی شکل ہو پھر اس سے ایک مرد و عورت کو پیدا کیا؟
  7. کیا ٹیڑھ پن کی وجہ سے ناقص العقل ہے؟
  8. کیا معاصر علم بشریات و جنیات کے تناظر میں اس کی تفسیر ممکن ہے؟
  9. کیا عورت کی پیدائش کا مقصد مرد کو سکون فراہم کرنا ہے؟
  10. کیا یہ روایات پدرسری ہرارکی کو پیدا کرنے والی ہیں اور کیا دین اسلام کی اساس میں پدرسرانہ ہرارکی موجود ہے؟
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20