امام صاحبان سے ایک سوال —- خرم شہزاد

0

پاکستان بھر کے نامور علماء اور مولوی صاحبان نے ایک بار پھر حکومت وقت کے فیصلوں اور اقدامات کے خلاف جاتے ہوئے مساجد کھولنے کے معاملے پر نہ صرف اجلاس منعقد کیا بلکہ اس میں مساجد کھولنے کا فیصلہ بھی کیا۔ سوال یہ نہیں ہے کہ مساجد بند کرنے کے لیے حکومت کو یہودیوں نے کتنے پیسے دیے ہیں اور اس یہودی سازش میں کون لوگ کس کس طرح سے ملوث ہیں اور انہوںنے اس یہود نواز اقدام سے کس قدر تجوریوں کو بھرا ہو گا؟ سوال تو یہ بھی نہیں ہے کہ مساجد کی بندش سے اسلام کس قدر خطرے کا شکار ہو گیا ہے اور اگر مساجد کھولنے میں ذرا بھی تاخیر کی گئی تو اس سے خطے میں اسلام کو کون کون سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ سوال تو یہ بھی نہیں ہے کہ آذان پر توپہلے بھی کوئی پابندی نہیں تھی، موذن اور مسجد کا متعلقہ عملہ پہلے بھی مسجد میں نماز ادا کر رہا تھا تو پھر اب یکا یک اس اجلاس کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ سوال تو ویسے یہ بھی نہیں ہے کہ تاجروں کا رمضان سیزن یعنی منافع کے نام پر حرام کمانے اور کھانے کا سیزن شروع ہوا چاہتا ہے اس لیے وہ بازار میں آن بیٹھے ہیں تو کیا مسجدوں کا بھی سیزن شروع ہونے والا ہے جس کے لیے اسے کھولنا ضروری ہو گیا ہے؟ سوال تو ہم نے یہ بھی نہیں پوچھنا کہ شریعت حکومت وقت کو کتنے اختیارات دیتی ہے اور کتنے نہیں کہ وہ مساجد کے بارے فیصلے کر سکتے ہیں ؟ سوال ویسے یہ بھی پوچھنے والا نہیں ہے کہ کیا مساجدعلما ء اور مولوی صاحبان کو ٹھیکے پر دے دی گئی ہیں کہ صرف وہی ان کے بارے بات اور فیصلے کر سکتے ہیں،  باقی کسی کو کوئی اختیار نہیں کہ ان کی ٹھیکیداری میں آئے؟دل تو کر رہا ہے کہ آج یہ سوال بھی پوچھ ہی لوںلیکن جانے دیتے ہیں کہ داڑھی میں کتنا اسلام ہوتا ہے کہ مولوی صاحبان بغیر داڑھی والوں کی اسلام کے بارے بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے ؟لیکن آج سب باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے مجھے مسئلہ امامت سمجھنا ہے اور اسی وجہ سے میرا آج مصلے پر کھڑے امام صاحب سے صرف ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ امام کون ہوتا ہے اور مقتدی کے کیا فرائض ہوتے ہیں؟

کوئی بات شروع کرنے سے پہلے مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی ہرج نہیں کہ ہم دنیا دار لوگ ہیں اور ہمارا دین سے اتنا مضبوط اور بہتر تعلق قائم نہیں جتنا ہونا چاہیے تھا لیکن یہ بھی بہرحال ایک سچ ہی ہے کہ وقتا فوقتا علماء، مشائخ اور مولوی صاحبان کی تقاریر اور باتیں کانوں میں پڑتی رہتی ہیں اور بہت زیادہ نہ سہی لیکن تھوڑا بہت اسلام اور اس کے احکام ذہن میں اپنی جگہ بناتے رہتے ہیں۔ اپنی ناکافی دینی پڑھائی اور مولوی صاحب کی باتوں کے بعد ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں امام کے انتخاب کے لیے شرائط موجود ہیں جن کی رو سے کسی بھی امام کا تقرر کیا جا سکتا ہے۔ کسی مسجدمیں نماز کی امامت ہو یا پھر سفر میں کہیں نماز کا وقت آ جائے تو چند نقطات کو دھیان میں رکھتے ہوئے امام کا انتخاب کیا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انتخاب ہو جانے، نماز کھڑی ہونے اور پہلی رکعت شروع ہو جانے کے بعد امام کو بدلا جا سکتا ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی بہت ہی بزرگ شخصیت، کوئی بہت بڑا مفتی یا عالم آ جائے اور امام کو کہا جائے کہ آپ نماز توڑ اور چھوڑ کر پیچھے ہو جائیں کیونکہ آپ سے بڑا علم والا آ گیا ہے؟ اسلام میں تو خیر اس کی اجازت نہیں البتہ فرقوں اور مسلکوں میں بہت سے اگر مگر چونکہ چنانچہ لیکن ویکن کے ساتھ اجازت قائم کر لی ہو تو الگ بات ہے۔ اسی طرح کبھی یہ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا کہ امام سے زیادہ بڑا عالم نماز میں شامل ہوا ہو اور اس نے امام کے رکوع میں جانے کو رد کرتے ہوئے کچھ دیر اور قیام کا فیصلہ کر لیا ہو کہ بھئی میں زیادہ بڑا عالم ہوں اور میں بہتر جانتا ہوں کہ فلاں حدیث میں کتنے لمبے قیام یا سجدے کا حکم ہے۔ میں مولوی صاحبان سے ہی سوال کرتا ہوں کہ امام صاحب چوتھی رکعت پڑھا کر تشہد میں بیٹھا ہو جبکہ مقتدی ابھی دوسری رکعت کے سجدے میں ہے تو ایسے مقتدی کی نماز کے بارے کیا حکم ہو گا؟ یقینا اور یقینا آپ سب کا جواب یہی ہو گا کہ جس امام کے پیچھے تکبیر کہہ لی تو پھر اس کے پیچھے ہی چلنا ہو گا، نہ اس سے آگے جانے کا حکم ہے اور نہ اس سے پیچھے رہ جانے سے نماز باقی ہو گی، تو جناب والا آپ مولوی صاحبان خود اس بات کو کب سمجھیں گے کہ حکمران وقت بھی اسی امام کے زمرے میں آتے ہیں جس کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی امام کے انتخاب سے پہلے اس کی خوبیوں اور خامیوں کو لے کر بحث ہو سکتی ہے لیکن انتخاب ہو جانے کے بعد، اس کی اقتدا میں کھڑے ہو جانے کے بعد صرف اطاعت کا ہی حکم ہے۔ عین اسی طرح کسی بھی حکمران کے انتخاب سے پہلے آپ نامزد شخص کی خوبیوں اور خامیوں پر بات کرتے ہوئے اس کا انتخاب کر سکتے ہیں یا اسے مکمل طور پر رد کر سکتے ہیں لیکن انتخاب ہو جانے کے بعد اسلام صرف اطاعت کا ہی حکم دیتا ہے۔  اطاعت کرنے والوں کو بھی اسلام کلی طور پر نہیں باندھ دیتا کہ وہ غلطی کو دیکھ کر بھی چپ رہیں، امام نماز پڑھاتے ہوئے کوئی غلطی کرئے تو مقتدی لقمہ دے سکتا ہے لیکن یہ امام پر ہے کہ وہ اس کو قبول کرتا ہے کہ نہیں۔  اسلامی احکام کے مطابق کسی بھی غلطی پر سزا اور جزا کا معاملہ امام کے ساتھ ہے لیکن مقتدی کو یہ حق نہیں کہ وہ لقمہ قبول نہ کرنے پر نماز میں کھڑا بھی رہے لیکن اطاعت بھی نہ کرئے اور اپنی نماز پڑھنے لگ جائے۔  بالکل ایسے ہی مولوی صاحبان کسی بھی معاملے پر حکمران وقت کو غلطی پر دیکھیں تو بہتر ی کے لیے مشورہ دینا ان کا فرض ہے، اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا حکمران پر ہے لیکن مولوی صاحبان کسی طور بغاوت نہیں کر سکتے کہ ہمارے مشورے کو قبول نہیں کیا گیا تو اب ہم پر اس حکمران کا حکم ماننا فرض نہیں رہا۔

مولوی صاحبان اگر اپنے آپ کودرست ثابت کرنے کے لیے یہ کہیں کہ دینی معاملات میں وہ خود حکمران وقت سے بہتر جانتے ہیں اور خود اپنا حکم دے سکتے ہیں تو معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ معاشرے نے آپ کی اسی روش کو اپنایا ہوا ہے اور جس مولوی کا ہاتھ ایک شخص مسجد کی سیڑھیوں تک چومتا ہے اسی مولوی کو اپنی دکان پر ناجائز منافع کمانے سے منع کرنے پر وہ ٹوک بھی دیتا ہے کہ مولوی صاحب یہ مسجد نہیں کاروبار ہے جس کے بارے آپ کو نہیں پتہ، آپ آذانیں دو، نماز پڑھاو اور آخرت کی فکر کرو، دنیا کیسے چلنی ہے یہ آپ کو نہیں پتہ اس لیے آپ مداخلت نہ کرو۔  اسی لیے مولوی صاحبان سے سوال ہے کہ کیا امام صرف مصلہ پر کھڑا شخص ہوتا ہے یا عام زندگی میں بھی لیڈر، رہنما اور حکمران سبھی امام کے زمرے میں آتے ہیں ؟ کیا امام کی اطاعت صرف چار رکعات تک ہے یا عام زندگی میں بھی اس کی بات ماننا ضروری ہے؟ سوال بہت سے ہیں لیکن بنیادی سوال ایک ہی ہے کہ امام کون ہوتا ہے اور مقتدی کے فرائض کیا ہیں؟اور ضمنی سوال یہ کہ اگر آپ نے حکمران وقت کی بات نہیں ماننی تو ایک عام آدمی آپ کی باتیں کیوں اور کس لیے مانے؟ جواب عنایت کیجئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20