سوشل سائنسز سے سوشل میڈیا تک —– محمد شاہجہان اقبال

0

عمرانیات کے باب میں ایک اور اضافہ آنے والا مورخ رقم کرے گا۔ وہ جب جب بھی عمرانیات کے بارے میں رقم طراز ہو گا سوشل میڈیا کو کبھی فراموش نہ کرسکے گا۔ دنیا کا وہ  تصور جو بحرِ بے کنارہ سے منسلک رہا سوشل میڈیا نے اس کی کایا پلٹ دی اور اب دنیا گلوبل ولیج بن کر رہ گئی۔

The Kathmandu Post-Can the internet be policed?کہنے کو تو سوشل تعلقات مگر اپنی ماہیت میں لاتعلقی کا شاخسانہ سوسائٹی کی جس تعریف اور ماہیت سے قبل از میڈیا اور سوشل میڈیا ہم واقف تھے یکسر بدلتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ہمارا عمرانی فلسفہ جو اپنی ماہیت میں فرد سے خاندان،  خاندان سے معاشرہ اور معاشروں سے بڑی بڑی تہذیبوں کو جنم دیتا تھا آج ایسا بانچھ پن کا شکار ہوا ہے جس کے تصور سے روح کانپ جاتی ہے۔  اس بات کو کسی طور جھٹلایا  نہیں جا سکتا کہ ہر شے کے دو پہلو ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں مگر اس کا اغلب پہلو اس کا چہرہ اور پہچان بن کر ابھرتا ہے۔ ہیومن ازم کی شرازہ بندی میں میڈیا، سوشل میڈیا نے جہاں کچھ  کردار ادا کیا وہاں اس کو ورق ورق کرنے کا بھی فریضہ سرانجام دیا اور انتہائی پیچیدگی سے سرانجام دیا۔ ڈی ہیومینزم کی اور کیا آخری حد ہو سکتی ہے؟

کہنے کو تو سوشل میڈیا ایک سوشل میڈیم، مگر حقیقت میں تنہائی اور تنہا کرنے کا آلہ۔ اس کے دو خطرناک ہتھیار، ٹولز یا آلات میں سے 1- سوسائئی کے ان افراد سے منقطع کرنا جو بڑے اہم ہیں۔ 2- خفیہ میڈیم، ذریعہ فراہم کرنا۔  شاید ہم اس کو پڑھی لکھی زبان میں پرائیوسی کہیں یا کچھ اور مگر تنہائی اور تنہا کر دینا دوسرا مخفی راہ فراہم کر دینا بہت سنگین عوامل کو جنم دیتا ہے جو انسانیت کا قلع قمع کرنے کے لیے کافی ہیں۔

اختلاف رائے حسنِ ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر اختلاف رائے کے پیچھے جب صرف ذاتی رائے جو حقائق چھپا دینے کے لیے کافی ہو تو نقصان دوچند ہو جاتا ہے انسانی علوم (ہیومن سائنس) ہو یا نفسیاتی علوم (سائکلوجیکل سائنس) ان کا بڑا گہرا اثر سوشل میڈیا کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کے محرکات کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چونکہ نفسیات کا تعلق فطرتِ انسانی کی جن جن جہتوں سے جڑا ہوتا ہے ان میں سے 1- نصب العین  2- تصورِ حسن 3-تصورِ خیر یا تصورِ نیکی 4- مادیت 5- جبلتیں (جنسیات، تفوق، حصول طاقت) ان تمام تصورات سے نظریات کے تارو پود بنتے ہیں۔یہ نظریات قوت محرکہ اور فعلیت کے لیے بنیادی اکائی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ تہذیبوں کے پس منظر میں نظریات کار فرما ہوتے ہیں۔ بس اس وقت تہذیبوں کے درمیان یہی نظریات وجہ نزاع بنے ہوئے ہیں۔

Related imageاس وقت مادی نظریات کی بساط پر بچھائے گئے عقلی مہرے بڑی سوچ سمجھ کے چلنے کی ضرورت ہے کیونکہ عقل کو جبلتوں کے گھر کی لونڈی بنادیا گیا ہے۔ عقل ہر صورت مادیت کی وکالت کے لیے مستعد ہے۔ اور وہ میڈیم کے طور پہ جن آلات کا استعمال کر رہی ہے ان میں سوشل میڈیا سرفہرست ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا کی ڈور اہل مغرب کے ہاتھ میں ہے  جو نظریہ ارتقاء سے خدا کے تصور کو منہا کرنا چاہتے ہیں۔ میکڈوگل کی تصور (قوت محرکہ) کو جبلت کے تحت قرار دیتے ہیں۔ مارکس کے تصور مادیت سے اقتصادیات کی راہبداری بناتے ہیں۔ فرائیڈ کے تصورِ لاشعور سے جنسیت کا پروانہ اخذ کرتے ہیں اور ایڈلر سے حب تفوق اور طاقت جیسے تصور کو لے کر دنیا پر یلغار کیے ہوئے ہیں۔

اللہ کرے کہ ہم میڈیم سے ہتھیار بننے کی مکمل سائنس کو سمجھ جائیں تاکہ اپنی آنے والی نسلوں کو اس کا مکمل ادراک اور احساس فراہم کرکے ایک بڑی تباہی سے بچا سکیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20