سوشل میڈیا! کیا دوری ناگزیر ہوچکی —- اظہار احمد باچہ

0

کہتے ہیں کہ انسانی فطرت کے لیے سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اسے انسانی معاشرے سے دور کیا جائے اور اسی امر نے ہی ہر جرم کی سزا “قید و بند” تجویز کر ڈالی تھی گویا اس تَصّور کی بنیاد پر ہی انسانی فطرت کی مینار کھڑی ہے! خُدائے بزرگ و برتر نے جب کائنات کے پہلے انسانوں حضرت آدم و حوا علیہ السلام کو اُنکی خطا پر سزا دی تو کائنات میں کسی بھی خطا پر پہلی سزا ہی یہ تھی کہ اول تو الله تعالیٰ نے ان دونوں کو خود سے جدا کرکے آسمانوں سے نیچے زمین پر اتارا اور دوئم ان دو نفوس کو دنیا میں بھی ایک دوسرے سے جدا کئے رکھا، گویا انسانی فطرت کے لیے یہ متعین کردہ سب سے بڑی سزا تھی!

دنیا میں سوچ کی جدیدیت اور ترقی پسندانہ رویئے نے معاشرتی نظام کے ان تمام بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا جو انسانوں کی اس دنیا میں آنے کے پہلے دنوں میں کھڑے کئے گئے تھے اور ہزاروں سال کے ارتقاء کے بعد یہ معاشرتی نظام انہی بنیادوں کے اوپر ایک عظیم الشان عمارت کی صورت میں کھڑی تھی وقتاً فوقتاً اس نظام میں شگاف آتے گئے قبائلی طرز زندگی سے لے کر ریاستی تصور اور سرحدات تک، خاندانی نظام کے تصورات کی ازسرنو تشکیل سے لے کر دو معتبر اجناس کے درمیان برتری کے تحاریک تک اور آخری حد یہ کہ اب معاشرے کا ہر گروہ اپنی اپنی الگ پہچان اور ریکگنیشن (Recognition) کے جدو جہد میں ہے اور ماضی کے سو کالڈ فرسودہ نظام معاشرت سے نالاں ہیں!

تو کیا موجودہ نظام، اس پرانے فرسودہ نظام سے بہتر ہے؟ چلے یہ تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں مشہور انتھراپالوجسٹ مارگریٹ مییڈ سے جب پوچھا گیا کہ انسانوں میں تہذیب کی سب سے پہلی نشانی کیا تصور کی جائے؟ تو مارگریٹ مییڈ نے کچھ یوں جواب دیا

“انسانوں میں تہذیب کی سب سے پہلی نشانی یہ ہے کہ جب کسی بھی انسان کی تھائی بون(پاؤں کی اوپری ہڈی، جسکے ٹوٹنے سے انسان ہلنے کے قابل نہیں رہتا) ٹوٹ کر صحت یاب ہوئی تھی” مارگریٹ کے بقول تھائی بون کا ٹوٹ کر صحت یاب ہونا اس بات کی قوی علامت ہے کہ اس انسان کو کسی دوسرے انسان نے اُٹھا کر کسی محفوظ جگہ منتقل کیا تھا اور وہ کسی زہریلے جانور، شدید موسم یا درندے کے ہاتھ نہیں لگا تھا اسکے بعد اسکی ٹوٹی ہڈی کے گرد پٹی باندھی تھی اسکے بعد کئی دنوں تک اس انسان کی دیکھ بھال کی تھی حتیٰ کہ وہ انسان صحت یاب ہوکر پھر سے چلنے پھرنے لگا تھا! گویا مارگریٹ کے تصور کے مطابق انسانوں میں تہذیب کی ابتدا اس دن ہوئی تھی جب ایک انسان نے دوسرے کا درد بانٹ کر تکلیف میں اسکا ساتھ دیا تھا

جس انسانی تہذیب کی بات مارگریٹ مییڈ نے کی تھی وہ ارتقائی مراحل سے گزر کر جب انتہائی عروج تک گئی تو جدیدیت کا دور آپہنچا اور اس تہذیب پر وقتاً فوقتاً کلہاڑی کے وار شروع ہوگئے حتی کہ اکیسویں صدی آئی اور انسانی تہذیب کی تباہی کے لئے اپنے ساتھ سوشل میڈیا بھی لے آئی

مشہور زمانہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک نے کچھ عرصہ پہلے ایک نیا فیچر متعارف کروایا جسکے ذریعے کوئی صارف اپنے دوست دوسرے صارف کی کسی بھی تصویر، تحریر یا ویڈیو کے اوپر تخیلاتی طور پر اپنے احساسات کا اظہار کرسکتا ہے پسندیدگی، زیادہ پسندیدگی، مذاق، دُکھ اور غُصے کا اظہار عرض تقریباً تمام احساسات کے لیے ایک کارٹون متعین ہے بات یہاں ختم نہیں ہوتی، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جب صارف اول کے کسی احساس کا نوٹیفکیشن صارف دوم کے پاس جاتا ہے اور وہ اسے دیکھتا ہے تو اسکو کارٹون کے بجائے مکمل طور پر انہیں جذبات کا احساس ہوتا ہے جو صارف اول نے اسکے پاس بھیجیں ہیں گویا وہ شخص عملی طور پر غیر موجودگی کے باوجود بھی فون کے دوسرے کنارے دکھ درد بانٹ لیتا ہے اور خوشی میں شریک ہو جاتا ہے کیا یہ ایک مکمل فطری عمل ہے؟ یقیناً نہیں! کیا آپ نے کبھی ڈوپیمین(Dopamine) کا نام سنا ہے؟ جب ہم سوشل میڈیا اور سمارٹ فون کا استعمال کرتے ہیں تو دماغ کے اندر ایک کیمیکل یا ہارمون کا اخراج ہوتا ہے جسکو ڈوپیمین کہتے ہیں یہی ڈوپیمین ان چیزوں کے استعمال کے دوران ہمیں خوشی کا احساس دیتے ہیں لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی, سائنسی تحقیق کے مطابق یہی ڈوپیمین دماغ کے اندر تب بھی خارج ہوتا ہے جب ہم سگریٹ نوشی کرتے ہیں یا شراب نوشی کرتے ہیں گویا سمارٹ فون، سوشل میڈیا، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی میں قدرے مشترک صرف یہ نہیں ہے کہ یہ تمام چیزیں ایڈکشن پیدا کرتی ہیں بلکہ انکی خوشی کا احساس اور وجود بھی یکساں ہی ہے!

بات جہاں سے شروع ہوئی تھی وہی دوبارہ چلی آئی کہ جدیدیت نے انسانی تہذیب کو کیا سے کیا بنا دیا ہے یاد رہے کہ مارگریٹ مییڈ کی بیان کردہ تہذیب میں انسانوں کا باہم میل ملاپ اور عملی طور پر دُکھ درد بانٹنا بنیادی عوامل تھے اور جسکی بنیاد پر ہی مارگریٹ نے یہ نظریہ قائم کیا تھا کہ انسانی تہذیب کی ابتدا وہاں سے ہوئی تھی! مارگریٹ تو اب ہم میں نہیں رہی لیکن سوشل سائنسز کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے اگر کہیں مجھ سے پوچھا جائے کہ اُس انسانی تہذیب کی جسکی بات مارگریٹ مییڈ نے کی تھی کہ جسکی ابتدا کسی بھی پہلے انسانی تھائی بون کے ٹوٹ کر صحت یاب ہونے سے ہوئی تھی، کا کیا بنا تو میرا جواب کچھ یوں ہوگا

“جس انسانی تہذیب کی بات مارگریٹ مییڈ نے کی تھی وہ تہذیب اپنے موت اُس دن مر گئی تھی جب دنیا کا پہلا انسان ڈوبتے ہوئے مدد کے لئے پکار رہا تھا اور ارد گرد کے تمام انسان فیس بُک، وٹس ایپ، انسٹا گرام اور ٹوئیٹر وغیرہ کے سٹیٹس اپڈیٹ کرنے کے لیے ویڈیو بنانے میں مصروف تھے، یعنی یہ انسانی تہذیب کے خاتمے کی پہلی نشانی تصور ہونی چاہیے”

اب بھی وقت ہے، موجودہ نسل تو تقریباً تقریباً ہتھیار ڈال چکی ہے لیکن اپنے بچوں کے ہاتھ سے موبائل کھینچے اور اسمیں سے سوشل میڈیا کی تمام بدتہذیبی فوراً ان انسٹال کریں انہیں انسانی تہذیب کا وہ ماڈل سکھائیں اور اس ماڈل سے متاثر کروائیں جو مارگریٹ مییڈ نے متعین کیا تھا اور جس میں عملی طور پر ایک دوسرے کا دُکھ درد بانٹنے اور ایک مظبوط معاشرتی نظام تشکیل کرنے کا راز مضمر تھا نا کہ سوشل میڈیا کی جدید تہذیب جس نے پورے معاشرے کو افاہج بنا دیا ہے اور پوری کی پوری نسل انسانی کو دماغی مریض بنانے کے راستے پر لگا چکی ہے!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20