اقبال کا تصور مجدد کامل —- شہباز بیابانی

0

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتداء میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَرَاحِيلَ بْنِ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،  ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا۔
(سنن ابوداود،  حدیث نمبر 4291, حدیث صحیح)

اس سلسلے میں ہر صدی میں مجدد آئے ہیں جیسے شاہ ولی اللہ، مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اسی طرح آخر میں بھی آئے گا لیکن وہ مجدد کامل ہوگا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،  ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فِطْرٍ،  ‏‏‏‏‏‏الْمَعْنَى وَاحِدٌ كُلُّهُمْ،  ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ،  ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّفَقُوا:‏‏‏‏ حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا،  ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ:‏‏‏‏ لَا تَذْهَبُ أَوْ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ لَفْظُ عُمَرَ،  ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرٍ بِمَعْنَى سُفْيَانَ.
(سنن ابوداود 4282،  سنن ترمذی2230،  مسند احمد376377430,448))
ترجمہ:
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا،  یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر،  اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا،  وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے۔ سفیان کی روایت میں ہے: دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تاآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر اور ابوبکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔

تو آخر میں جو مجدد آئے گا اس کا نام نبی کریم ﷺ کے نام پر محمد ہوگا،  جس کو مہدی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔ جیسا کہ دوسری احادیث میں وارد ہوا ہے۔ اس مجدد کامل مہدی کے بارے میں احادیث حد تواتر کو پہنچے ہوئے ہیں۔ اس پر امت کا اجماع ہے۔ سوائے ابن خلدون کے سب اس مجدد مہدی کے آنے پر متفق ہیں۔

بعض سکالرز ابن خلدون کے اس تفرد کو جواز بنا کر اس مجدد کامل کا انکار کر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ نظریہ قران سے متصادم ہے اور یہ نظریہ مسیحیت اور مجوسیت کے اثر سے اسلام میں سرایت کرگیا ہے۔ تو بعض اس کو روافض کے اختراعات کہتے ہیں۔ روافض تو بارہ اماموں کے انتظار میں ہیں جو ان کا اپنا عقیدہ ہے۔
اس بارے میں وہ لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جو منکرین حدیثِ رسول ﷺ ہیں۔ خاص کر منکر حدیث غلام احمد پرویز صاحب کے پیروکار۔
اہل باطل کا ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ جب ان کو کسی اہم اور ضروری عقیدے کے ابطال کا کام سونپا جاتا ہے تو یہ لوگ اس عقیدے کے خلاف کوئی کتاب لکھ دیتے ہیں اور خود کو سکالر ثابت کرکے اس عقیدے کو اختلافی بنا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ جب ایک سکالر نے اس سے اختلاف کیا ہے تو یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ہمیں اس پر اتنا زور نہیں دینا چاہئے۔
اس کا آسان حل یہ ہے کہ اس نام نہاد سکالر ہی کو رد کردیں بجائے اس کے کہ ہم اس عقیدے کو رد کردیں جس پر امت کا اجماع ہوا ہو اور محکم ہو۔

اسی طرح بعض لوگ جو خود کو اقبالیات کے ماہرین کہتے ہیں وہ اقبال کے خطبات سے اقتباسات پیش کرکے کہہ دیتے ہیں کہ اقبال بھی مجدد کامل مہدی کے قائل نہیں تھے۔ تو جب اقبال شیخ احمد سرہندی رح کو مجدد مانتے ہیں:

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مجدد کامل مہدی کو مجدد نہیں مانیں گے.

اقبال کے پانچویں خطبے سے ایسا لگتا ہےکہ وہ نہ تو مسیح علیہ السلام کے آنے کے خلاف تھے اور نہ مجدد کامل مہدی کے ظہور کے:

To this doctrine there attached itself the hope of a Messiah, very clear in Isaiah, but also bursting out everywhere during the next centuries, under pressure of an inner necessity. It is the basic idea of Magian religion, for it contains implicitly the conception of the world-historical struggle between Good and Evil, with the power of Evil prevailing in the middle period, and the Good finally triumphant on the Day of Judgement. If this view of the prophetic teaching is meant to apply to Islam it is obviously a misrepresentation.
(The Spirit of Muslim Culture)

اس پانچویں خطبے کے آخر میں اقبال اسپنگلر Spengler کے ان اعتراضات کا جواب دے رہے ہیں جو اس نے اسلام پر کئے ہیں۔ اقبال نے یہاں messiah کا لفظ استعمال کیا ہے اس سے مراد یہودیوں کا مشیحا یا اہل تشیع کے مہدی ہے۔ کیونکہ messiah کا ایک مطلب
The awaited king of the Jews; the promised and expected deliverer of the Jewish people
بھی ہے۔
اقبال کے نزدیک یہ اصطلاح مجوسی مذہب سے اسلام میں آئی ہے،  یہاں اسلام سے مراد اہل تشیع کا اسلام ہے۔ یا ان الفاظ سے اقبال کا مقصد جماعت احمدیہ کی تردید کرنا تھا۔ اسی طرح اقبال اصل مہدی کے آنے کے انتظار میں بیٹھنے اور کچھ عمل نہ کرنے کے خلاف تھے نہ کہ اصل مہدی کے ورنہ ان کے اقوال میں ہے کہ وہ احادیث کی کتب صحاح ستہ کو مانتے ہیں۔ اقبال نے سید سلیمان ندوی سے جو خط و کتابت کی ہے ان میں اکثر مسائل کے پوچھتے وقت یہ پوچھا ہے کہ کیا یہ حدیث صحاح ستہ میں ہے یا نہیں۔

اقبال چوھدری محمد احسن کے خط کے جواب میں لکھتے ہیں(یہ خط اقبال نامہ ۲،  ص پر۲۳۱ موجود ہے):

“ہاں یہ ٹھیک ہے کہ آپ کو کسی عالم سے یہ سوالات کرنے چاہیئں، جو آپ نے مجھ سے کیے ہیں۔ میں زیادہ سے زیادہ آپ کو اپنا عقیدہ بتا سکتا ہوں، اور بس میرے نزدیک مہدی، مسیحیت اور مجددیت کے متعلق جو احادیث ہیں وہ ایرانی ا ور عجمی تخیلات کا نتیجہ ہیں۔ عربی تخیلات اور قرآن کی صحیح سپرٹ سے ان کو کوئی سروکار نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ مسلمانوں نے بعض علماء یا دیگر قائدین ملت کو مجدد یا مہدی کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ مثلا محمد ثانی فاتح قسطنطنیہ کو مورخین نے مہدی لکھا ہے۔ بعض علمائے امت کو امام اور مجدد کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں،  زمانہ حال میں میرے نزدیک اگر کوئی شخص مجدد کہلانے کا مستحق ہے۔ تو وہ صرف جمال الدین افغانیؒ ہے۔ مصر ویران، ترکی وہند کے مسلمانوں کی تاریخ جب کوئی لکھے گا تو اسے سب سے پہلے عبد الوہاب نجدی اور بعد میں جمال الدین افغانی کا ذکر کرنا ہوگا۔ موخر الذکر ہی اصل میں موسس ہے۔ زمانہ حال کے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا،  اگر قوم نے ان کو عام طور پر مجدد نہیں کہا یا انہوں نے خود اس کا دعویٰ نہیں کیا، تو اس سے ان کے کام کی اہمیت میں کوئی فرق اہل بصیرت کے نزدیک نہیں آتا۔”

اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ مکتوب الیہ کے بڑے بھائی حافظ محمد حسن صاحب کا تعلق جماعت احمدیہ لاہور سے ہے۔ اور اس نے اپنے چھوٹے بھائی یعنی مکتوب الیہ کو بھی اس جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ تو مکتوب الیہ اقبال سے اس جماعت کے بارے میں سوالات پوچھ رہے ہیں۔ جیسا کے اقبال نامہ میں اس خط سے پہلے اس کی تصریح کی گئی ہے۔
اقبال نے جو کچھ اس کے خط کے جواب میں لکھا ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ:

پہلے تو اقبال نے مہدیت و مجددیت سے اپنی کم علمی ظاہر کی ہے اور کہا کہ آپ کو کسی عالم سے یہ سوالات کرنے چاہئے۔
دوسری بات یہ اخذ ہوتی ہے کہ اقبال نے مہدیت و مجددیت کو ایرانی اور عجمی خیالات کا نتیجہ کہ کر اصل میں احمدیت و قادیانیت کی تردید کی ہے۔

اقبال اس مہدی برحق،  مجدد کامل کو مانتے ہیں جس کی نگاہ عالم افکار میں زلزلہ برپا کرے:

مہدی برحق
سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت گفتار ہے،  نے جدت کردار
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار

(ضرب کلیم)

اسی طرح نظم “مہدی” کو دیکھئے:

مہدی

قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغ چمن کو

مجذوب فرنگی نے بہ انداز فرنگی
مہدی کے تخیل سے کیا زندہ وطن کو

اے وہ کہ تو مہدی کے تخیل سے ہے بیزار
نومید نہ کر آہوئے مشکیں سے ختن کو

ہو زندہ کفن پوش تو میت اسے سمجھیں
یا چاک کریں مردک ناداں کے کفن کو؟

اس نظم میں مجذوب فرنگی سے مراد نٹشے ہے جس نے جرمن قوم میں ایک فوق البشر Super Man کے ظہور کی پیش گوئی کی تھی۔ نٹشے کا مقصد یہ تھا کہ ہر کوئی فوق البشر بننے کی کوشش کرے۔
اقبال بھی کہتے ہیں کہ مہدی کے تخیل سے بیزار ہونے کی ضرورت نہیں وہ ائے گا۔ لیکن یہ بھی صحیح نہیں کہ مہدی کے انتظار میں بیٹھ کر یہ آس لگائے کہ مہدی آکر سب کچھ ٹھیک کرے گا اور خود کچھ نہ کیا جائے۔ نہیں بلکہ خود آزادی اور ترقی کی جدوجہد کرنا چاہئے۔

بعض لوگ اس روباعی سے استدلال کرکے کہتے ہیں کہ اقبال مسیح ع،  مہدی اور احادیث کے قائل نہیں تھے:

کھلے جاتے ہیں اسرار نہانی
گیا دور حدیث ‘لن ترانی’
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی،  وہی آخر زمانی

اس رباعی میں ایسی کوئی بات نہیں کہ اس میں انکار حدیث یا انکار مجدد کامل مہدی ہو۔ اس میں تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اب موسیٰ ع یا ان کی شریعت کا دور نہیں ہے۔ جس میں اللہ نے اسرار حیات کو بہ مصلحت خاص واضح نہیں کیا تھا۔ بلکہ اب نبی کریم ﷺ کی فرمانروائی ہے۔ آپ ﷺ کے فیضان کی بدولت اسرار کائنات اور رموز حیات روز بروز کھلتے جاتے ہیں۔ اس لیے نبی کریم ﷺ کی غلامی میں جو شخص اپنی خودی مرتبہ کمال تک پہنچا دے اور اپنی خودی کی قوتوں کو اہل عالم پر آشکار کردے گا۔ وہی مہدی بر حق ہوگا وہ عالم افکار میں انقلاب برپا کردے گا اور انسانوں کو حاضر و موجود سے بیزار کردے گا۔ گویا اقبال کی نظر میں بھی مجدد کامل مہدی برحق کی خودی انتہائی کامل ہوگی۔ اور وہ اسلام کے تمام شعبہ ہائے حیات کی تجدید کرے گا اور اقامت دین کرے گا۔
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے۔

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20