کرونا کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟ —- سہیل بلخی

0

کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ بہتری صحت کے میدان اور ہسپتالوں میں آئے گی اسکے بعد نوکریوں اور کاروبار میں نئے انداز اور نئے طریقے نظر آنے لگیں گے- سب کا صبح نو بجے سڑکوں پر آنا ضروری نہیں ہو گا… سب کو ایک جگہ پر جمع ہو کر ہی کام کرنا وقت اور وسائل کی بربادی سمجھا جائے گا… دور دور رہکر گھروں سے یا گھر کے قریب چھوٹے دفاتر سے اور گاڑیوں میں یا کسی چائے کے ہوٹل میں بیٹھے یا کسی پارک میں بیٹھ کر بھی کام کرنا اور میٹنگز میں شریک ہونا ایک عام سی بات ہوگی…. کچھ ممالک میں دیر سے اور کچھ میں جلد یہ کلچر رائج ہوجائے گا…

ہاتھ ملانا، جلسے جلوس اور بھیڑ لگانا ایک غیر صحتمند رویہ اور عمل جانا جائے گا- بات بات پر دھرنے، جلسے کی کال اور اجتماع کے احکامات جاری کرنے کو لوگ انسان دشمن اور صحت دشمن رویہ سمجھنے لگیں گے…

جہاں ایک طرف موبائل فون، لیپ ٹاپ، اسکاپیپ اور زوم جیسی سہولیات کو استعمال کر کے اداروں کے سربراہان اداروں کی پیداواریت دگنی اور تین گنی کر دینگے، وہیں روایتی طریقوں کو سینوں سے لگانے والے اور کسی تبدیلی پر جلد آمادہ نہ ہونے والے لوگ اپنے اداروں کو پیچھے لے جانے کا سبب بنیں گے…

جی ہاں ! کرونا کی بعد کی دنیا میں وہ لوگ جو بہت پیچھے ہونگے، ایک طرف اسمارٹ طریقوں اور جلد تبدیلیاں لاکر بہت سے ادارے اور افراد آگے نکل جائینگے تو وہیں بہت سے ہاتھی جیسے بھاری بھرکم، روڈ رولر جیسے ادارے اپنی سستی اور پرانی سوچ کے ساتھ اسکریپ یارڈ کی طرف جاتے دکھائی دینگے…

خدمات اور ادائیگیوں کے لیے کسی انسانی ملاقات اور کسی کو چھونے کی ضرورت نہیں ہوگی… روپے نوٹ اور چیک بک ماضی کا قصہ بنیں گے…

ترقی یافتہ ممالک میں اسٹورز پر کیش رجسٹر اور کاؤنٹر ختم ہوجائیں گے اور انسانی آواز کو پہچان کر اور کیمروں میں اسکی شکل اسکین کر کے داخلی دروازے کھلیں گے، جہاں خریدار کیو آر کوڈ وغیرہ سے سامان اسکین کر کے، اٹھا کر باسکٹ میں ڈالے گا اور چلتا ہوا باہر آجائے گا.. سسٹم بل اسکے موبائل کھاتے سے منہا کر لے گا…. واضح رہے کہ یہ سسٹم کچھ ممالک میں پہلے ہی سے کام کر رہا ہے..

خواہ مخواہ کے فضائی اور زمینی سفر کا رجحان ختم ہو جائے گا اور سفر کم ہونگے تو ایئر لائنز اور ہوٹلوں کا مستقبل بھی سوالیہ نشان کے ساتھ نظر آئے گا … کہیں جائے بغیر بھی پیانو سے لیکر یوگا اور اکاؤنٹنگ سے لیکر ڈیزائننگ سب کچھ سیکھا اور سیکھایا جانا شروع ہو چکا ہے … روایتی اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بڑی بڑی عمارات، ٹرانسپورٹ اور کینٹین کی ضرورت نہیں رہے گی….

ڈیٹا کی طاقت کا استعمال بہت بڑھ جائے گا .. آپ جانتے ہیں نا کہ کرونا کو قابو ڈیٹا دیکھ کر مانیٹرنگ کر کے کیا گیا ہے، کتنے لوگ ؟ کہاں سے؟ اور کب اور کیسے؟ ڈیٹا کی طاقت بہتر استعمال کر کے دنیا کو جرائم اور مزید بیماریوں سے پاک کیا جاسکتا ہے….

آرٹیفیشل انٹلیجنس AI کے استعمال پر تیزی آئے گی… آنے والے وقت میں کرونا جیسی اور دیگر بیماریوں کے ویکسین کی تیاری میں AI کا بھرپور استمال ہوگا اور کم وقت میں دوائیں تیار کی سکیں گی…

ٹیلی میڈیسن کو عروج ہوگا … موبائل ایپس اور لیپ ٹاپ سے لوگ ڈاکٹروں سے مشاورت کرینگے اور گھر بیٹھے ٹیسٹ سیمپل بھیج کر، دوائیں منگواکر علاج کروانے کو ترجیج دینگے ….

آن لائن خریداری تیزی سے بڑھے گی… کورونا کے بعد ہم سے ایسے لوگوں نے بھی اپنے اسٹور کو آن لائن لانے کے لیے مشاورت لی ہے اور کنٹرکٹ کرنا چاہ رہے ہیں جو پہلے یہ سننا بھی نہیں چاہتے تھے…

روبوٹس خرید کر انہیں جگہ جگہ استعمال کرنے کا رجحان بڑھے گا.. روبوٹس کو نہ وائرس لگتا ہے، نہ یہ تھکتے ہیں، نہ بار بار واشروم اور سگریٹ پینے جاتے ہیں، نہ انکی بیگمات اور دوستوں کے فون آتے ہیں اور نہ انکے پیٹ میں درد ہوتا ہے نہ سر میں….😂 کھیتوں میں کٹائی کرنے والے یا بیج بونے والے روبوٹس سو سو ڈالرز میں بک رہے ہونگے، ہوٹل میں آرڈر لینے والے ویٹر روبوٹس سے لیکر زندگی کے ہر شعبے میں انکا استعمال بہت بڑھ جائے گا، حتی کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہسپتالوں میں جب آپ آپریشن کروانے جائیں گے تو پوچھا جائے گا کہ انسان سے کروائیں گے کہ روبوٹ ڈاکٹر سے ؟ مزے کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ روبوٹس سے آپریشن کروانا پسند کرینگے کہ وہ پیٹ میں قینچی نہیں بھولے گا، واش روم نہیں جائے گا..😂

اور بے روزگاری کے ایک بہت بڑا سونامی، کرونا سے زیادہ خطرناک دور بھی انسانی زندگی میں آنے والا ہے… اس بے روزگاری کے سیلاب کی وجہ دیگر عوامل، معدوم ہوتے پیشے کے ساتھ ساتھ، روبوٹس اور مصنوئی ذھانت کا بہت زیادہ استعمال بھی ہوگا-

بات بے روزگاری کی شروع ہو گئی تو ذکر کردوں کہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ کم سے کم دو ارب لوگ آئندہ کچھ سالوں میں ایسے ہونگے کہ بے وہ بے روزگار نہیں “irrelevant” ہو جائینگے…. یعنی “غیر متعلق”، وہ ہوں نہ ہوں کسی کو فرق نہیں پڑے گا، کھائیں گے، پیئیں گے اور ٹی وی دیکھیں گے، سوشل میڈیا پر اودھم مچائیں گے مگر کوئی ان سے کچھ امید نہیں رکھے گا، کوئی کام ہوا تو کوئی انکی طرف نہیں دیکھے گا….

بد قسمتی سے پاکستان میں بھی کچھ مخلص ترین سیاستدان اپنے آپکو بدلتے وقت کے لحاظ سے نہ بدلنے کی وجہ سے irrelevant ہوتے جا رہے ہیں……….. .. وہ ہیں؟…… نہیں ہیں؟ …….کہاں ہیں؟ لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں…..

جہاں جلسے جلوس، بھیڑ بھڑکے اور دھکم پیل کا زمانہ ختم وہیں ڈیجیٹل ایونٹس، آن لائن سیمنار، webinar، لائیو ایونٹس کی بھر مار ہوگی.. میں اپنے مزاج اور شعبے کے لحاظ سے جب چاہوں دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والے کسی ایونٹ میں فیس دیکر یا مفت شریک ہوسکتا ہوں اور آج بھی ہوتا ہوں… کچھ دنوں میں آپ بھی اپنے اسکل اپ گریڈ کرنے، سیکھنے، سمجھنے کے لیے کہیں سفر کرنے کی بجائے کسی بھی آن لائن ایونٹ سے استفادہ کرتے نظر آئیں گے—–

سفر اور ٹرانسپورٹ سے فراغت ملنے پر لوگ ورزش کرنے، اپنی ہابیز کی طرف جاتے نظر آئیں گے، کھیلوں اور اسپورٹس کو اور فروغ حاصل ہوگا.. مگر لوگ مقابلے آن لائن زیادہ دیکھیں اور بہت سارے مقابلے اور کھیل آن لائن رکھے جائینگے…. ماسک عام دنوں میں بھی پہنا جائے گا اور ہاتھ دھونے کے لیے صابن اور سینیٹایزر کا استعمال لازمی تصور ہوگا..

کرونا کے لاک ڈاون کے بعد لوگوں نے فیملی اور بچوں کے ساتھ وقت گذارنے کا مزہ چکھ لیا اب لوگ پہلے کی نسبت زیادہ وقت اپنے والدین اور خاندان کے ساتھ لگا رہے ہیں – نیو یارک کا گورنر کل کہہ رہا تھا کہ پہلے کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ اب میرے بچے دس گیارہ سال کے نہیں بیس پچیس سال کے ہوگئے ہیں … کبھی بیٹھ کر گپ شپ کا وقت ہی نہیں ملا، زندگی بہت مصروف تھی… اور والدہ بھی اکثر فون کر کے کہتی تھیں کہ آؤ بیٹھ کر کافی پیتے ہیں تو مصروفیت کے سبب کہتا تھا کہ کسی اور دن پر رکھیں مگر کرونا کا احسان ہے کہ ہم ماں بیٹے کو پھر سے بیٹھ کر باتیں کرنا سیکھا گیا….

کرونا دنیا بھر میں تباہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ اسے بدل بھی رہا ہے …لوگوں کو بہت کچھ سکھاگیا- ایک پاکستانی کے طور پر میں پیشن گوئی کر سکتا ہوں کہ پاکستانی قوم دیگر دنیا سے زیادہ تیزی سے خود کو بدلے گی اور بہت آگے جائے گی….. دنیا میں اسکا مقام بہت بہتر اور اہم ہو جائے گا انشا الله – مگر اسکے لیے ضروری ہوگا کہ ہر پاکستانی اپنا جائزہ لے کہ آپ نے کرونا سے کیا سیکھا اور آپ اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں… بدلتی دنیا کے بڑھتے ہوئے چیلجز سے نمٹنے کے لیے خود کو کیسے اپ گریڈ کر رہے ہیں…

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20