بیوی ہے جس کا نام… اسی کے نام —- اظہر عزمی

0

عقد مسنونہ کے بعد جو منکوحہ آپ کے پلے بندھ جاتی ہیں انہیں بیوی کے علاوہ زوجہ، جورو، اہلیہ، گھر والی، لگائی، کد بانو، رفیقہ حیات، شریک حیات، گھرنئ وغیرہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔  مجھ جیسے کچھ کج فہم بیوی کی عدم موجودگی میں اسے وجہ مشکلات بھی کہتے ہیں۔  یہ سب نام ایک طرف مگر ہندی بھاشا میں استری کا نام سن کر بے ساختہ دل داد دینے کو چاھا۔  استری جیسا با معنی نام سن کر جیسے دکھے دل کو قرار آگیا۔ یہ استری شوہر کے سارے کس بل نکال کر سیدھا کر دیتی ہے اور شوہر ساری زندگی کے لئے flat ہوجاتا ہے۔  شادی سے پہلے بد دماغی کے باعث شوہر کے ماتھے پر بات بہ بات پڑنے والی قابل فخر شکنوں کو چشم زدن میں ایک پھیرے میں ہی دور کر دیتی ہے۔  کہتے ہیں استری جتنی بھاری الوزن اور گرم المزاج ہو اتنا ہی بے شکن کام کرتی ہے۔

برسوں پہلے کلیم عاجز کی ایک غزل سنی تھی۔  اللہ جانے مجھ عاجز کو اس کا ایک مصرعہ ثانی ایک لفظ کی تبدیلی کے ساتھ کیوں یاد آرہا ہے۔

تم “استری” کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

میں سمجھ رہا تھا کہ مصرعہ ثانی میں “قتل” کی جگہ “استری” لگا کر میرا کام چل جائے گا مگر جب غزل دیکھی تو شوہر کئ آپ بیتی لگی۔

Related imageمیرے ہی لہو پر گذر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کئ طرح بات کرو ہو

دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم بات کرو ہو

یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو یو

بکنے بھی دو عاجز کو جو بولے ہے بکے
دیوانہ ہے دیوانے سے کیا بات کرو ہو

کلیم عاجز کے نام تک میں عاجز آتا ہے لیکن ذرا سقراط کا سوچیں اور بیوی کے ہاتھوں اس کے ساتھ کیا ہوا۔  ایک دن شاگردوں کو لئے بیٹھا تھا۔  علم و حکمت کے دریا بہا رہا تھا۔  شاگرد ہمہ تن گوش تھے۔  کیا دیکھتے ہیں کہ سقراط کی بیوی پانی کا گھڑا لئے چلی آرہی ہے۔  آتے ہی اس نے پہلے تو سقراط کو جلی کٹی سنائیں اور گھڑے کا پورا پانی اس پر بہا ڈالا جب اس سے بھی طبیعت سیر نہ ہوئی تو پورا گھڑا سقراط کے سر ہر دے مارا۔  ممکن ہے سقراط پر گھڑوں پانی پڑ گیا ہو۔  کوئی دوسرا ہوتا تو بیوی بتاتا کہ تو نے جتنا پانی انڈیلنا تھا انڈیل دیا۔  اب میں بتاتا ہوں کہ میں کتنے پانی میں ہوں۔

شاگرد سمجھے کہ اب سقراط کے صبر کا پیمانہ جواب دے جائے گا۔  سقراط جہاں بیٹھا تھا، ٹس سے مس نہ ہوا۔  سر گیلا تھا۔ پانی چہرے سے ٹبک رہا تھا۔ خدا ہی جانے کہ اس میں اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو بھی تھے کہ نہیں۔  سقراط نے واقعہ کو ابر رحمت سے تعبیر کرتے ہوئے شاگردوں سے کہا : پیارے بچو ! فکر نہ کرو، بادل آیا، گرجا، برسا اور چلا گیا

کہتے ہیں کہ سقراط نے جان بوجھ کر سب سے بد مزاج اور بد زبان عورت کو شرف زوجیت بخشا تھا۔  کسی نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا ؟ تو جواب یہی ملا کہ صبر و ہمت کی دولت حاصل کرنے کے لئے۔  سقراط نے زہر کا پیالہ یوں ہی نہیں پی لیا تھا۔  اس نے زہر پینے کے لئے پہلے ریاضت کی تھی کیونکہ جو زہر اسے روزانہ کانوں سے پینا پڑتا تھا اس سے کہیں آسان زہر کا پیالہ پینا تھا اور ویسے بھی سقراط جتنا بیوی گزیدہ تھا اس پر زہر تو اس کے لئے امرت تھا۔  بے کار ہم سقراط کے قتل کو مذہب کے ٹھیکیداروں اور حکومت کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔  بلاشبہ اس کی ان مذہبی ٹھیکیداروں اور حکومت سے ان بن تھی مگر یہ بھی تو غور کریں کہ گھر پر اس کا کیا حال تھا ایسے میں تو بندہ باہر مرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔

اس معاملے میں ارسطو خاصا ہوشیار رہا۔  اس نے بیوی کے ساتھ بڑی آسودہ اور مزے کی زندگی گذاری لیکن ایک جگہ کہہ گیا : قدرت جب کسی کو مرد بنانے میں ناکام ہو جاتی ہے تو اسے عورت بنا دیتی ہے۔  الامان، الحفیظ یہ بیان وہ بیوی کی زندگی میں تو نہیں دے سکتا تھا ورنہ بہت “آنسودہ” اور “مرنے کی زندگی” گذارتا۔  اس بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ارسطو بیوی کے بعد پیوند خاک ہوا ورنہ بیوی ورنہ وہ اس کا خاکینہ بنا دیتی۔

کرشن چندر نے کہا تھا ک عورتوں نے ہمیشہ گدھوں سے عشق کیا ہے، عقل مند آدمی کو تو وہ پسند ہی نہیں کرتی ہیں۔  شیکسپیئر نے کہا تھا کہ عورت کمزوری کا نام ہے۔  آب یہ وہ کمزوری تو نہیں جس کے معالج دیواروں کو کالا کر کے نوید مسرت سناتے ہیں۔  مشہور مصنف بیکن نے کہا تھا کہ جو شادی کر لیتے ہیں ان کی قسمت یرغمال ہو جاتی ہے۔  بیکن نے ذاتی تجربے کو کلیہ بنا کر پیش کیا یے۔ اسے پتہ ہی نہیں ہمارے یہاں قسمت نہیں پورا کا پورا بندہ تا وقت سانس آخر یرغمال رہتا ہے ویسے کچھ بیویاں شوہر کو مال مفت دل بے رحم کے “کھانے” میں رکھتی ہیں۔

بیوی کی عظمت و جلالت اور ھیبت و دھشت کی گواہی ایسے ایسے شوہروں نے دی ہے کہ جن کا طوطی جگہ جگہ بولتا تھا لیکن گھر آکر طوطے کی اپنی آواز نہ نکلتی تھی۔  کہتے ہیں سانپ اپنے بل میں سیدھا ہو کر جاتا ہے تو صاحبو اس میں کمال سانپ کا نہیں اس بل کا ہے ورنہ سانپ کے مزاج میں سیدھا چلنا ہی کہاں ہے۔  اسی طرح شیر کی دھاڑ سارے چنگل کو خوف زدہ کر دیتی ہے مگر یہ بات بھی سب جانتے ہیں شیرنی شیر کو صرف گھور کر دیکھتی ہے اور وہ بھیگی بلی بن جاتا ہے۔

تو صاحبو ! جب جنگل کے بادشاہ کا یہ حال ہے تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔  ہمارے ایک دوست نے آج تک شادی نہیں کی۔  جب بھئ کہا کہ یار یہ بھی کر لو تو کہتا ہے کہ کنوارے رہنے کے اتنے فائدے ہیں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے ویسے بھی اب تم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہو۔  میں نے کہا کہ بھائی شوہر کو سرتاج کہتے ہیں،  قہقہہ مار کر بولا: تو مجھے محتاج ہی رہنے دے۔  یہ ایک محتاجی بڑی سے بڑی بادشاہت سے بہتر ہے۔  پھر اس نے اپنا چمچماتا موبائل فون دکھاتے ہوئے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: موبائل ہے۔  اس نے نفی میں سر ہلایا: میرے لئے موبائل اور تمھارے لئے پولیس موبائل۔ ابھی گھر سے کال آئے گی اور تم بغیر بریک کے دوڑ پڑو گے۔ ۔ ۔  اور سنو یہ جو موبائل ہے ناں اس سے میں کبھی کوئی میسج ڈیلیٹ نہیں کرتا اور نہ ہی نجمہ کو نجم کے نام سے save کرتا ہوں۔  میں اس کی باتیں سن کر بور ہوگیا تو بولا تجھے پتہ ہے ایک سیانے سے کسی نے پوچھا کہ لمبی عمر کے لئے کیا کرنا چاھیئے؟

Related imageسیانے نے کہا : شادی !

پوچھنے والا جل گیا : عقل کے ناخن لو بھائی۔ ۔ ۔  شادی کے بعد کس کی زندگی لمبی ہوئی ہے؟
سیانے نے مسکرا کر کہا : زندگی لمبی نہیں ہوتی۔  لمبی محسوس ہونے لگتی ہے

لطیفوں کے معاملے میں ہمارے پٹھان اور سکھ حضرات سب سے زیادہ لطف دیتے ہیں لیکن یہ میرا یقین ہے کہ جتنے لطیفے ایک اکیلی بیوی کے ہیں۔ سب مل کر بھی معیار تو دور کی بات گنتی بھی پوری نہیں کر سکتے۔

ہمارے ایک دوست بیوی کے سامنے ذرا بول لیتے ہیں۔  ایک دن صبح کے وقت اخبار کا فلمی صفحہ پڑھ رہے تھے۔  بیوی نے چائے لاتے ہوئے شوہر کی اس دیدہ دلیری اور دریدہ ذہنی کو شدید ناپسند کیا۔  چائے رکھتے ہی اخبار پر جھپٹا مارا اور بولیں: کاش میں بھی صبح کا اخبار ہوتی۔ آپ کی نظروں کے سامنے دیر تک رہتی۔  آپ مجھے دیکھتے رہتے۔

شوہر نے تیزی سے دوبارہ اخبار کو اپنے قبضے میں لیتے ہوئے کہا : سوچ لو، اخبار روز نیا آتا ہے اور تصویریں بھی نئی ہوتی ہیں۔

اگلے دن بیوی نے حساب چکتا کر دیا۔  اول تو سالن میں نمک ہی نہیں ڈالا اوپر سے اس کو جلا بھی دیا۔ ایک دو لقموں کے بعد شوہر کا حوصلہ جواب دے گیا اور بولا: ایک تو تم نے سالن جلا دیا۔  شوہر سے نمک بھی نہیں ڈالا۔  بیوی مسکراتے ہوئے کہا: سالن کا تو مجھے معلوم ہے کہ جل گیا مگر میں جلے پر نمک نہیں ڈالتی۔

بیوی کو یہ برداشت ہی نہیں کہ اس کا شوہر زندہ عورت تو درکنار کسی عورت کی تصویر کو بھی زیادہ دیر تک دیکھے۔  ایک مرتبہ میاں بیوی کسی بڑے مصور کی تصاویر کی نمائش دیکھنے گئے۔  شوہر پتوں سے ڈھکی ایک لڑکی کی تصویر دیکھنے میں محو ہو گیا۔  بیوی سے برداشت نہ ہوا، بولی: اب چلو بھی۔ ۔ ۔  کیا آندھی چلنے کا انتظار کر رہے ہو؟

اچھا اب ایسا نہیں کہ تمام شوہر رونا گانا ہی کرتے رہتے ہیں۔  اس ظلم کے باوجود کچھ کی حس مزاح قیامت کی ہوتی ہے۔  ہمارے ایک نکتہ ور، جہاندیدہ اور اہلیہ شناس دوست بیوی کے شک ہرستانہ مزاج کو اپنی جوانی کی کنجی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرما تے ہیں کہ جب تک آپ کی بیوی آپ پر شک کر رہی ہے۔  آپ یقین رکھیں کہ آپ جوان ہیں۔  اسی طرح ان کا ایک فرمان ہر قبرستان کے میں گیٹ پر جلی حرفوں سے لکھنے کے قابل ہے۔  آپ کہتے ہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ مرتے وقت کم از کم ایک بیوہ چھوڑ کر جائیں چاھے اس کے لئے زندگی میں کتنا ہی کشت کیوں نہ جھیلنا پڑے۔  وہ کہتے ہیں مجھے خوشی ہے کہ شوہر حضرات اس سلسلے میں اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں بیوہ عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ حوالے اور دلیل کے طور پر کہتے ہیں کہ آپ کسی خاندان کی تقریب میں چلے جائیں، بیوائیں تو چہکتی، مہکتی نظر آئیں گی مگر رنڈوا ڈھونڈے سے نہ ملے گا اور اگر مل بھی گیا تو زندگی بیزار۔

Related imageہمارے انہی دوست نے ایک اور پتے کی بات بتائی، بولے جس سے شادی ہو اس سے آپ کا خونی رشتہ نہیں ہونا چاھیئے ورنہ شادی کے بعد وہ آپ کا خون کیسے پیئے گی۔  خون کے معاملے میں ان کی ایک اور دلچسپ تحقیق بھی سامنے آئی ہے جو کہ چشم کشا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو شادی بظاہر کامیاب نظر آتی ہے اس میں شوہر کا بلڈ گروپ بی پازیٹیو اور بیوی کا آو نیگیٹیو نکلتا ہے۔  میرا خیال ہے کہ ماہرین نفسیات اور حیاتیات (Entomologist) باہم اس موضوع پر کام کریں تاکہ آئندہ طویل عرصے تک چلنے والی شادیوں کے لئے تھلیسیمیا کے ساتھ اس طرف بھی توجہ دی جا سکے۔  ایک دن یہ جہاندیدہ دوست بس میں مل گئے۔ تپاک سے ملے، گھڑی دیکھی، رات کے آٹھ بج رہے تھے، بولے: کیا روز کا یہی روٹین ہے؟ میں نے کہا: ہاں روز روز دس سے بارہ گھنٹے گھر سے دور رہنا پڑتا ہے۔  بولے : زندگی سے قریب رہنے کا اس سے آسان اور سستا نسخہ کوئی نہیں۔  میں نے کہا: کیسی باتیں کرتے ہیں؟ بولے: تم جیسے جذباتی شوہر اپنے پیروں پر خود کلھاڑی مارتے ہیں۔  بیوی سے روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے دور رہنا زندگی کے لئے ضروری ہے۔  حکما کہتے ہیں کہ بیوی اسی وقت قابل برداشت ہوتی ہے جب اسے آٹھ سے دس گھنٹے بعد دیکھا جائے۔

بات میں وزن ہے تو دل خود بخود سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔  بس سے اتر کر گھر جانے لگا تو سوچا صحیح بات ہے۔ ابھی گھر جاوں گا اور دو سوال ایسے پوچھیں گی کہ” آثار لڑا دید” ہویدا ہو جائیں گے۔  کھانے کا پہلا نوالہ لوں گا اور بوچھ بیٹھیں گی کہ کھانا کیسا پکا ہے ؟ آب آپ بتائیں یہ لڑائی شروع کرنے والی باتی نہیب تو کیا ہے۔  تھوڑی دیر بعد پھر ایک اور سوال “سنیں امی کے چلیں گے ؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی والدہ کے ہاں جانے کو ہر وقت تیار اور اگر ہمارے خاندان میں کسی قریبی عزیز کی فوتگی بھی ہو جائے تو اول تو نہ جانے کے سو بہانے اور اگر راضی بھی ہو جائیں تو کم از کم دو شرائط۔ ۔ ۔ ۔  زیادہ دیر رکنا نہیں اور آپ بھی قبرستان نہیں جائیں گے۔  ایک مرتبہ میں نے کہہ ہی دیا میت گاڑی میں لیٹ کر نہیں بیٹھ کر جاوں گا۔ واپسی ہو جائے گی۔  جواب میں مسکرا کر بولیں : آپ کی مذاق کی عادت جائے گی نہیں۔  جنازے میں جائیں۔  نماز جنازہ پڑھ کر فارغ ہوں تو موبائل کی گھنٹی بج جاتی ہے جو کی ایک بیل کے بعد کال کاٹ دی ہے جس کا واضح مطلب تھا کہ جو گیا سو گیا تم گھر چلو۔

بیوی کی باتیں کبھی نہ ختم ہونے والی ہیں۔  اکثر شوہر بیوی کی خاموشی کو دل سے لگا لیتے ہیں۔ اگر بیوی خاموش ہے تو کسی طبیب کو دکھانے کی چنداں ضرورت نہیں، اسے ایک نعمت تصور کرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھیئے، شکر ادا کیجئے کیونکہ اوپر والا سب کی سنتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20