سنگاپورکی صدر حلیمہ اور فرانس کی نجات للود ابن قاسم —– عابد اقبال

0

موجودہ دور کی دو مسلم خواتین ایسی ہیں جو بچپن میں بہت غریب تھیں لیکن پھر بھی انہوں نے دو بہت اہم غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے بھی عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہیں سنگاپور کی صدر محترمہ حلیمہ یعقوب صاحبہ اور دوسری ہیں فرانس کی محترمہ نجات وللود بن قاسم جو فرانس کی وفاقی وزیر تعلیم رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے سنگاپور کی حلیمہ صاحبہ کی بات کرتے ہیں۔ ان کے والد یعقوب عبداللہ کا تعلق ہندوستانی ریاست تامل ناڈو سے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ انگریزوں کو جب سنگاپور میں افرادی قوت کی ضرورت پڑی تھی تو انہوں نے ہندوستان سے کئی ہندو اور مسلمان کارکن بلوائے تھے۔۔۔۔۔۔۔ انہیں میں یعقوب عبداللہ بھی شامل تھے۔۔۔۔۔۔ وہ کئی ملازمتیں کرنے کے بعد بالآخر ایک سرکاری ادارے میں چوکیدار بھرتی ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب حلیمہ آٹھ سال کی تھی تو اس کے والد کا انتقال ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ ان کے گھر کمانے والا کوئی اور نہیں تھا اور اوپر سے حکومت نے سرکاری گھر بھی خالی کرا لیا تو اس کی ماں نے حلیمہ اور دیگر چار بچوں کو پالنے کے لئے دال چاول و دیگر کھانا بیچنے کا ٹھیلہ لگا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ شروع کی رقم بھی ادھار لی گئی تھی اور ٹھیلا بھی کرائے کا تھا۔۔۔۔۔۔۔ حلیمہ اسکول بھی جاتی اور ٹھیلے پر ماں کا ہاتھ بھی بٹا تی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ٹھیلے کی صفائی کرتی، کھانا پکانے میں ماں کی مدد کرتی، گاہکوں کو کھانا پکڑاتی اور گندی پلیٹیں بھی دھوتی۔۔۔۔۔ اسی طرح کٹھن حالات اور بے شمار مشکلات کا سامنا کرتے کرتے سنگاپور یونیورسٹی سے ایل ایل بی کرکے وہ وکیل بن گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے سنگاپور میں مزدوروں کی اکلوتی تنظیم نیشنل ٹریڈرز یونین کانگریس میں بطور مددگار وکیل نوکری کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ یاد کیا کرتی ہیں کہ ٹریڈ یونین کے دفتر میں سگریٹیں پھونکتے بیس مردوں نے میرا انٹرویو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے ہی مشکل ماحول اور سخت حالات میں انہوں نے نوکری کی اور تعلیم پھر بھی نہیں چھوڑی اور 2001 میں ماسٹر آف لا بھی کرلیا۔ اسی دوران جب ان کی شادی ہوئی تو ان کے فلیٹ میں بیٹھنے کے لئے صوفہ نہیں تھا جسے میاں بیوی نے آٹھ ماہ تک رقم جمع کرکے خریدا۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد ازاں وہ یونین کی جنرل سیکرٹری بنیں۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر حکمران سیاسی جماعت پیپلز ایکشن پارٹی میں شامل ہوگئیں اور قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔۔۔۔۔ 2011 میں وہ وزیر بنیں۔۔۔۔۔۔۔۔ 2013 میں انھیں سنگاپور کی قومی اسمبلی میں پہلی خاتون سپیکر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ اگست 2017 میں سنگاپور کے صدر ٹونی تان کے عرصہء اقتدار ختم ہونے پر حکمران جماعت نے حلیمہ یعقوب کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا اور یوں ایک چوکیدار باپ اور ٹھیلا لگانے والی بے سہارا ماں کی بیٹی کو خدا نے یہ عزت بخشی کہ وہ صدر منتخب ہو گئیں اور انہیں عالم اسلام میں دو منفرد اعزاز حاصل ہوئے اول یہ کہ وہ پہلی مسلم خاتون ہیں جو ایک غیر مسلم مملکت کی صدر منتخب ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ دوم یہ اعزاز کہ وہ کسی بھی ملک کی پہلی با حجاب صدر ہیں۔ حجاب کو وہ اپنے لباس کا ناگزیر حصہ قرار دیتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ پانچ وقت کی نمازی ہیں اور ہر دم رب کی شکر گزار رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔

عزم و ہمت کی دوسری کہانی فرانس کی وفاقی وزیر بننے والی محترمہ نجات و للود بن قاسم کی ہے اس کا تعلق مراکش کے انتہائی غریب دیہاتی خاندان سے تھا۔۔۔۔۔۔ وہ بچپن میں بکریاں چرایا کرتی تھی اور کنویں سے پانی بھر کر لایا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ان کا خاندان ہجرت کر کے فرانس چلااۤیا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں اسکول کے بچے اس پر اور اس کے کپڑوں پر ہنسا کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے لیکن نجات پر ان واقعات کا ایک مثبت اثر یہ ہوا کہ اس نے محنت کرکے آگے بڑھنے اور اس طرح کے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کرنے کا تہیہ کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم مکمل کرتے ہی وہ سیاست میں آگئی اور خوب محنت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ برابری کے حقوق کے لئے لڑتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں بھی اسے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا اور اسے سیاستدانوں کے نسلی تفریق سے بھرے جملے سننے پڑتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہاجر ہونے، غریب ہونے اور مسلمان ہونے کی بنا پر اسے ملک کے لیے خطرہ بھی قرار دیا جاتا رہا لیکن عزم و ہمت کی حامل اس لڑکی نے ہارنہ مانی اور اپنی جدوجہد جاری رکھی اور بالآخر حکومتی ترجمان، منسٹر آف وومن رائٹس، منسٹر آف یوتھ افیئرز اینڈ سپورٹس اور منسٹر آف نیشنل ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ بنیں۔ انہیں فرانس کی سب سےزیادہ تنخواہ لینے والی سیاستدان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر شاخ سے یہ نکتہ پیچیدہ ہے پیدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پودوں کو بھی احساس ہے پہنائے فضا کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درختوں کو دیکھو اور قدرت کے اصول کو سمجھو کہ کبھی یہ بڑے بڑے درخت بھی ایک چھوٹا سا بیج تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلمت کدہ خاک پہ شاکر نہیں رہتا، ہر لحظہ ہے دانے کو جنوں نشوونما کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیج اندھیرے میں پڑا ہوتا ہے لیکن وہ ہمت کرتا ہے اور زمین کا سینہ چیر کے باہر نکلتا ہے کیونکہ اس میں اۤگے بڑھ کے دنیا میں ایک مقام پیدا کرنے کی تڑپ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہ عمل بند، مقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رضا کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقدیر پر شاکر رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تو جدوجہد اور کوشش کی راہ ترک کردے، مایوس ہو یا ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جرات ہے نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے، اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرے اندر اگر جرات ہے نا، ہمت ہے نا، جذبہ ہے نا، آرزو ہے نا، کوئی تڑپ ہے نا، کوئی آگ لگی ہے نا تو پھر یہ فضا تیری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کامیابیاں تیرا مقدر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ عروج تیرا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔ اٹھ اور اۤگے بڑھ کر دنیا میں اپنا مقام پیدا کر۔۔۔۔۔۔۔ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20