کرونا لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات —- عابد اقبال

0

خدا اپنی حکمت کے تحت خیر میں سے شر اور شر میں سے بھی خیر نکال دیتا ہے۔ کرو نا ایک وبا ہے لیکن اس کے نتیجے میں جہاں ہلاکتیں ہوئیں اور دنیا بھر کا کاروبار زندگی درہم برہم اور بے تحاشہ نقصان ہوا وہیں اس کے کچھ مثبت اثرات بھی سامنے آئے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ کرونا کے پازیٹو ہونے سے اللہ بچائے لیکن یہ کرونا کے آنے کا پازیٹو پہلو ہے۔۔۔۔۔ ممکن ہے خدا ہم سے یہ چاہتا ہو کہ وبا کے دنوں اور لاک ڈاؤن کے دنوں میں جو اچھے کام ہم نے شروع کیے وہ ہم جاری رکھیں اور اپنی عادات کو بہتر کریں۔

کرونا وبا پھوٹنے کا سب سے بڑا فائدہ اور مثبت اثر ماحول پر ہوا۔ شہروں کی زندگی نے ماحول کو بہت آلودہ کر دیا تھا۔۔۔۔۔ کرونا کے باعث جب کاروبار زندگی رک گیا تو ماحول صاف ہونا شروع ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممتاز صحافی اۤصف محمود کے مطابق مقبوضہ کشمیر کا پہاڑ گلمرک اسلام آباد سے نظر اۤنا بند ہوگیا تھا اب پھر نظر اۤنے لگ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد میں عرصے بعد یہ ہوا ہے کہ چیتے مارگلہ پہاڑیوں سے نکل کر فیصل مسجد کے آس پاس اور ایف سکس کی شاہراہ اقبال پر دیکھے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ایک دوست نے خوبصورت بات بتائی کہ چیتوں کے آنے پر بات ہو رہی تھی تو ان کے دوست نے کہا وی شڈ بی کیئرفل۔۔۔۔۔۔ یہ دوست بولے کہ جانور بھی یہی کہہ رہے ہوں گے کہ وی شڈ بی کیئرفل۔۔۔۔۔۔۔۔ جینے کا جتنا حق انسانوں کو ہے اتنا ہی دوسری مخلوق کو بھی ہے۔

ماہرماحولیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہونے والی انسانوں اور جانوروں کی ہلاکتوں میں کرونا وبا کے دنوں میں غیرمعمولی کمی آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔ سڑکوں پر گاڑیاں بند، فضا میں جہاز بند، اور دنیا بھر کے کارخانے بند ہونے سے ماحول بہتر ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گردوغبار دھوئیں اور شور و غل کی پولوشن کم ہونے سے چرندپرند، جانوروں اور خود انسانوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالیہ دنوں میں اوزون کی تہہ بھر رہی ہے، ندیاں صاف ہوگئی ہیں، آکسیجن کی مقدار بڑھ گئی ہے اور موسم بھی تبدیل ہوگیا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ پنجاب میں ابھی تک اے سی نہیں چلے۔۔۔۔۔۔۔۔

اۤئیے عہد کریں کہ اب ہم ہمیشہ ماحول کا خیال رکھیں گے۔۔۔۔۔ کرونا وبا کے نتیجے میں ہونے والے لاک ڈاؤن کا ایک اثر ہماری گھریلو زندگی پر بھی ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ ہمیں لگا کہ ہم سادہ زندگی بھی جی سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ پیزا، برگر اور جنک فوڈ کے بغیر بھی رہا جا سکتا ہے ہے بلکہ ان سے بچنا بہتر ہے۔۔۔۔۔ کرونا کے ذریعے قدرت نے پیغام دیا ہے اۤجاؤ اورگینک فوڈ کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں لگا ہمارا گھر میں رہنا، ایک دوسرے سے گپ شپ کرنا، مل کر کھانا اور ایک دوسرے کو جاننا بھی کتنا اچھا تجربہ ہے۔۔۔۔۔۔ ہمیں لگا کہ چار دن اۤوٹنگ یا آؤٹ ڈائننگ نہ بھی کریں تو قیامت نہیں آنے والی۔۔۔۔۔۔۔۔ مردوں نے گھر کے کاموں میں کچھ انٹرسٹ لینا شروع کیا تو خواتین نے بھی کھانے پکانے کی مکمل ذمہ داری لے کر اس تاثر کو زائل کیا کہ انہیں کچن میں گھسے رہنا پسند نہیں۔۔۔۔۔۔

لاک ڈاون کے دنوں میں کہیں کہیں سے کتابوں کے مطالعے کی عادت شروع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔۔۔۔۔ اللہ کرے فکری موسم بہتر ہونے کی یہ اطلاعات درست ہوں۔۔۔۔۔ ورنہ مشینی زندگی تو ہمارا کتاب سے رشتہ توڑنے کے درپے تھی۔۔۔۔۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی استاد کے بقول ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ دنیا کچھ زیادہ ہی تیز ہوگئی تھی۔۔۔ ہر طرف جیسے افراتفری تھی۔۔۔۔۔ خدا نے کچھ بریک لگائی ہے کہ ذرا ٹھہر جاؤ بھائی۔۔۔۔۔ ادھر میری طرف بھی دیکھو۔۔۔۔۔ دنیا کو اپنے اوپر اتنا سوار نہ کرو۔۔۔۔۔ چار دن آرام سے بھی بیٹھ کر دیکھو۔۔۔۔۔۔ پھر وہ بتاتی ہیں کہ پہلے ہمیشہ اپنی فکر رہتی۔۔۔۔۔۔ اچھے بھلے کپڑوں کے ہوتے ہوئے فکر ہوتی کہ کچھ مزید خرید لیں اور ضرورت نہیں بھی تو اگلے سیزن کے لیے لے کر رکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔ سارا کام گھرکی ملازماؤں نے کرنا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر کوئی اپنے کمرے ہی سے اس کو کام کہہ دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ان کی چھٹی ہونے پر ہم گھر کا کام مل کر کرتے ہیں تو ایک تو جسمانی ورزش ہو جاتی ہے اور دوسرا ہم خواتین کا آپس میں میل جول بہتر ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملکر کام کرنے سے برکت پڑ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

مغربی دنیا کے مقابلے میں بھی ہمارے معاشرے کی بہت سی خوبیاں سامنے آئی ہیں۔۔۔۔۔ ہمارے لوگ جنازوں میں شریک ہو رہے ہیں اور ادھر یہ عالم ہے کہ گلوکارجواد نے نیویارک سے ایک ویڈیو اپلوڈ کی اور پوسٹ بھی کہ یہاں کوئی جنازہ میں شرکت کے لیے تیار نہیں۔۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے ایک فوتگی کا بتایا کہ ایک بیٹا بھی باپ کے جنازے میں نہیں آیا اور دوسرے کی موت پر اس کے لواحقین نے کہہ دیا کہ ہمیں تدفین کی ویڈیو بھیج دیں ہم جنازہ میں نہیں آ سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لاک ڈاؤن سے پہلے، اسلحہ بیچنے والی دکانوں پر بھی لائن لگ گئی تاکہ اگر لاک ڈاؤن میں ضروری سامان زندگی کی کمی ہوئی تو لوٹ مار شروع ہونے کے خدشات تھے۔۔۔۔۔۔ اس لیے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اسلحہ خرید لیا گیا۔ شاپنگ سٹورز پر عام ضرورت کی چیزوں جیسے ٹشو رول تک کے لئے چھینا جھپٹی کے مناظر دیکھے گئے۔۔۔

ایک افسوسناک خبر یہ بھی سنی گئی کہ کرونا کے کچھ مریضوں نے جگہ جگہ اپنا تھوک لگانا شروع کر دیا کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔۔۔۔۔ یعنی نہ جیئیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نہ ہی جینے دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ مغربی معاشرے کی مثالوں کے مقابلے میں الحمدللہ ہمارے معاشرے میں پوری قوم کم ازکم غریب لوگوں کی امداد کے معاملے پر یکسو رہی۔۔۔۔۔ حکومت سمیت تمام شہریوں کی کوشش رہی اور ہے کہ کسی طرح دیہاڑی دار طبقے کو فاقوں سے بچایا جائے۔۔۔۔۔۔

ہمارے ڈاکٹرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے، کرونا کے پھیلاؤ کے خلاف جدوجہد میں جو مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں اس کا اعتراف اور اس کی تعریف نہ کرنا بخل اور تھرڈ دلی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔ نوجواںوں کو میرا مشورہ ہے۔۔۔۔۔۔ کہ وہ فوری طور پر ڈیجیٹل سکلز کی طرف آئیں اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، فری لانسنگ جیسے کام کو سمجھیں، اپنی پسند کی اسکلز سیکھیں اور گھر بیٹھے اپنا کاروبار چلانے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔۔۔

ارباب اقتدار کو چاہیےکہ سماجی ڈھانچے کی بہتری کی طرف توجہ دیں۔ عام لوگوں کو صحت کی سہولیات ہی نہیں بلکہ صفائی کی تعلیم دینے کی بھی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔۔ آخری ایک سوال تمام پاکستانیوں بالخصوص حکومتی ذمہ داران سے کہ فرض کریں کہ کرونا وائرس ایک بیالوجیکل وارفیئر کا شاخسانہ ہے اور اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو لیکن اگر ہے تو ہم کہاں کھڑے ہیں اور بالفرض آئندہ اگر ایسی کوئی جنگ برپا ہوتی ہے تو کیا ہم یہ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20