خلیل جبران کا سحر —- رضا شاہ جیلانی

0

میری قبر کے کتبے پر یہ الفاظ لکھے جائیں۔ ۔

” سنو میں تمہاری طرح زندہ ہوں اور تمہارے آس پاس ہی موجود ہوں۔

اپنی آنکھیں بند کرو اور مجھے اپنے آس پاس محسوس کرو،

تم مجھے اپنے ساتھ پاؤ گے۔ ۔

خلیل جبران کی خواہش کے مطابق انکی قبر کے کتبے پر انکے لکھے یہ الفاظ کنندہ کئیے گئے،

خلیل جبران نے بہت ہی مختصر زندگی پائی۔

وہ 48 برس کی عمر میں 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں ٹی بی جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوکر وفات پا گئے۔ ۔ ۔ ۔

خلیل جبران کہتے ہیں کہ انہوں نے خاموشی کی زبان باتونی لوگوں سے سیکھی، برداشت کا حوصلہ تنگ نظر لوگوں سے سیکھا اور مہربانی کرنے کا عمل نامہربان لوگوں سے حاصل کیا۔ ۔ ۔

لیکن عجیب بات یہ ہے کہ میں پھر بھی اپنے اِن استاتذہ کا شکر گزار نہیں ہوں جنہوں نے مجھے مندرجہ بالا علم سے روشناس کروایا۔ ۔ ۔

میرا خیال ہے کہ خلیل جبران مافوق الفطرت ادیب تھا اسکا قلم مجھے ان چند لوگوں کے قلم سا لگتا ہے جنہوں نے اپنی مختصر حیات میں بہت ہی کم سیاہی کا استعمال کیا بہت ہی کم کاغذ رنگین کئیے۔  مگر وہ سو سال زندہ رہنے والے کسی بھی شاعر ادیب سے کہیں زیادہ عوامی شہرت حاصل کر گئے۔

انکی وجہ شہرت یہ تھی کہ خاموشی کا شاعر تھا وہ عاجزی کی انتہا پر جا کر لکھتا تھا، وہ چند لوگوں کے درمیان بھی اگر بند کمرے میں گفتگو کرتا تو سننے والے یہ ہی ہمیشہ کہتے کہ اس کے الفاظ ہم پر سحر طاری کر دیتے ہیں گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی بند کمرے میں نہیں بلکہ کھلی فضا میں بیٹھے اسے سن رہے ہیں۔ ۔ ۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ خلیل جبران نے مایہ ناز فن پارے بھی تخلیق کئیے۔

اسکے لکھے کو پڑھنے والے ہمیشہ یہ ہی کہتے ملیں گے کہ خلیل جبران ہمارے سامنے موجود ہے اور اسکے الفاظ منظر سازی کر رہے ہیں۔ ۔

خلیل جبران کی زندگی نہایت مختصر رہی اس نے بہت ہی کم لکھا، اس سے بہت ہی کم بولا گیا یہاں تک کہ انہوں نے زندگی کی مختصر بہاریں دیکھیں مگر جتنا انہوں نے لکھا، بولا اور زندگی کو چند برسوں میں زندہ دلی کیساتھ جینے کا انداز اپنایا شاید رہتی دنیا تک ایسی زندگی بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہو۔ ۔

میرے الفاظ ایسے انسانوں کے بارے لکھتے ہوئے کبھی ساتھ نہیں دیتے جن کے قلم سے ابھرے الفاظ کی گونج تاقیامت قائم رہے گی۔  جن کی سوچ سے ایک جہاں کا سلسلہ آباد ہوا ہے۔  جنہوں نے اپنی انگلیوں میں سمٹے ایک معمولی قلم سے نظریات کو جنم دیا ہو۔

ایک انسان جس پر خدا مہربان ہو ان کے بارے لکھنے کا حوصلہ کرنا بھی میرے نزدیک ہمت کا کام ہے۔

ایک جگہ خلیل جبران اپنی سوچ کی گہرائی کو ہم عامی لوگوں کے لیے کس قدر مختصر بیانئیے کیساتھ پیش کر رہے ہیں۔

خلیل جبران لکھتے ہیں کہ۔ ۔

” ہم اپنی مسرتوں اور دکھوں کا انتخاب ان کے رونما ہونے سے بہت پہلے کرلیتے ہیں۔ ۔ ۔ ”

اندازہ کیجئیے کیا اس سے قبل اس سوچ کے بارے کسی نے اندازہ لگایا ہوگا ؟

اور اگر بالفرض اندازہ ہو بھی تو کیا ہم نے اس قدر غور و فکر کیساتھ اس جملے پر کبھی توجہ دی ؟

کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں خلیل جبران کا شمار مقبول ترین لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔

مگر میرا ماننا ذرا مختلف ہے۔

میرا ماننا یہ ہے کہ خلیل جبران کا شمار ان چند مقبول ترین افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے بند دماغوں پر سوچ کے در وا کئیے انہیں سوچنے کی صلاحیت سے روشناس کیا۔

خلیل جبران کے کئی افکار ایسے ہیں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

جیسا کہ جبران کہتا ہے کہ ” خود محبت بھی اپنی گہرائی کا احساس نہیں کر پاتی جب تک وہ جدائی کا دکھ نہیں سہتی”

دوسری جگہ وہ لکھتے ہیں کہ

بے شک وہ ہاتھ جو کانٹوں کے تاج بناتے ہیں، ان ہاتھوں سے بہتر ہیں جو کچھ نہیں کرتے۔ ۔ ۔

ایک اور جگہ انکا قلم لکھتا ہے کہ۔ ۔

” تم جہاں سے چاہو زمین کھود لو، خزانہ تمہیں ضرور مل جائے گا۔  مگر شرط یہ ہے کہ زمین کامیابی کے یقین کے ساتھ کھودو ”

میرا یہ ماننا ہے کہ۔ ۔

جب انسان لکھنے سے زیادہ اپنے لکھے ہوئے الفاظ کے زریعے عام انسانوں کو سوچنے کا پیغام دے تو وہ پھر ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔

مغربی ادیب شیکسپیئر کی کتب دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہوئیں کیونکہ اس نے اپنے دور اور اپنے دور کے بعد کے افراد کو سوچ کی ایک نئی جہت دی۔ ۔

اس ہی طرح خلیل جبران ہے جس کی سوچ کو شیکسپئیر کے بعد سب سے زیادہ خریدا گیا۔

دنیا کے سب سے زیادہ بکنے والے ادیب شیکسپئیر کے بعد دوسرے نمبر پر آج بھی خلیل جبران کی کتب فروخت ہوتی ہیں اور یہ اعزاز شاید مزید کئی صدیوں تک برقرار رہے۔

خلیل جبران کی ایک کتاب پیغمبر 1923میں شائع ہوئی تھی۔  یہ کتاب کافی وقت تک متنازعہ رہی مگر کچھ عرصے بعد مقبولیت کی انتہا کو پہنچی۔  جس نے چھپنے کے فوراً بعد ہی ایسی کوئی غیر معمولی مقبولیت حاصل کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے تمام براعظموں تک یہ ہر زبان میں شائع ہونے لگی۔

مغربی ممالک میں خاص طور پر خلیل جبران کو شہرت حاصل ہوئی۔

خلیل جبران آج ہم میں نہیں مگر اسکا لکھا ہمارے درمیان موجود ہے۔

ہم بھی آج ہیں اور کل نہیں ہوں گے ایسے ہی خلیل جبران آج ہم میں نہیں مگر اسکا لکھا ایک ایک لفظ ہمارے درمیان موجود ہے۔

خلیل جبران بسترِ مرگ پر اپنی کانپتی انگلیوں کیساتھ بھی لکھتا رہا۔ ۔

ایک روز جب اسکے ہاتھوں نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا تب وہ زور لگا کر بولتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار مسکراتے ہوئے کر رہا تھا۔

اسپتال کے اُس کمرے میں ایک نرس داخل ہوئی اس نے مسکراتے ہوئے خلیل جبران کو دیکھا اور کمرے کی کھڑکی کھولتے ہوئے اُس پر سے پردہ ہٹایا۔ ۔ ۔

باہر کھلی فضا میں پرندے چہک رہے تھے سمندر میں پانی کے جہاز خاموشی سے تیرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔ ۔ ۔

اُس نرس کو جانے کیا خیال آیا خلیل جبران کا تکیہ اس کے سر کے نیچے درست کرتے ہوئے اس سے پوچھ بیٹھی۔ ۔

” اے زندہ دل شاعر تم موت کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ ۔ ۔ ؟

خلیل جبران نے کھڑکی کے باہر سے کمرے میں جھانکتی ہوئی چمکتی دھوپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔

میں نے بارہا اس موضوع پر غور کیا کہ ” موت ” کیا ہے۔ ۔ ؟

اس کا زندگی سے رشتہ کیا ہے۔ ۔ ؟

سنو، میں نے ایک دفعہ ایک سمندری جہاز دیکھا تھا، جب وہ ساحل سے دور ہوا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا تو لوگوں نے کہا کہ دیکھو وہ ” چلا گیا “۔ ۔ ۔ ۔

وہیں میں نے سوچا دور ایک بندر گاہ ہو گی، وہاں یہی جہاز آتا ہوا دیکھ کر لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ دیکھو دیکھو وہ ” آ گیا “۔ ۔

شاید اسی کا نام موت ہے،
ایک پرانی زندگی کا خاتمہ اور نئی زندگی کی ابتداء۔ ۔ ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20