دبنگ فیصلہ ساز: سجاد علی شاہ ۔۔۔۔ فاروق عادل

0

وزیر اعظم نے اپنی تقریر ختم کی اور اپنی نشست کی طرف بڑھے۔ اسی دوران اُن کے ملٹری نے اُن کے کان میں کوئی بات کہی ۔ وزیر اعظم نےاپنے معاون کی بات سن کر لحظہ غور کیا، جسٹس سجاد علی شاہ کی طرف دیکھا جو اس دوران اپنی نشست سے اٹھ کر اُن کے قریب پہنچ چکےتھے۔ دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں تو ایک سنجیدہ سی مسکراہٹ وزیر اعظم کے چہرے پر نمودار ہوئی اور انہوں نےکہا: ” شاہ صاحب، اجازت! ” یہ عین اُن دنوں کی بات ہے جب چیف جسٹس آف پاکستان اور حکومت کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی اور چیف جسٹس آف پاکستان حزب اختلاف کے کسی رہنما کی طرح اخبارات کو بیان جاری کیا کر تے، حکومت کے فیصلوں پر حکم ہائے امتناع جاری کرتے یا کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کر دیتے جس سے حکومت مشکل میں پڑ جاتی۔ قومی تاریخ میں یہ ایک منفرد صورت حال تھی جس کے سبب پہلی بار یہ محسوس ہوا کہ وطن عزیز میں طاقت کے تین سے چار ہو رہے ہیں ۔ یہ بات اُن دنوں زبان زد عام تھی کہ اب کار سرکار صرف ٹرائیکا یعنی صدر مملکت ، وزیر اعظم اور آرمی چیف نہیں چلاتے بلکہ اب اس میں ایک اور ضلعے یعنی عدلیہ کا بھی اضافہ ہوچکا ہے۔اس پس منظر کے باوجود جوڈیشل کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے وزیر اعظم کا مدعو کیا جانا اور وزیر اعظم کی طرف سے اس دعوت کا قبول کیا جانا معمولی بات نہ تھی ، لہٰذا اس کانفرنس میں شریک ہر طاقت ور شخصیت کی حرکات و سکنات پر شرکائے کانفرنس خاص طور صحافیوں کی گہری نظر تھی۔ اس لیے وزیر اعظم اپنی تقریر کے ختم ہوتے ہی روانہ ہورہے تھے تو اس کا ایک مطلب تھا، اس کے جواب می چیف جسٹس اگر اپنی نشست نہ چھوڑتے تو ہمارے لیے اس میں حیرت کی کوئی بات نہ ہوتی لیکن کمال یہ ہوا کہ ازراہ مہمان نوازی وہ اپنی کرسی چھوڑ کر وزیر اعظم تک پہنچے اور وزیر اعظم ہوٹل کے بیرونی دروازے کی طرف روانہ ہوئے تو وہ اُن کے پہلو سے پہلو ملائے چل رہے تھے۔ وزیر اعظم گاڑی میں بیٹھے تو آگے بڑھ کر شاہ صاحب نے انھیں رخصت کیا اور بند ہوتے ہوئے دروازے پر اس طرح ہاتھ رکھا جیسے جنرل ضیاالحق کسی زمانے میں آرمی ہاؤس کے پورچ میں کھڑے ہو کر اپنے مہمان کو رخصت کیا کرتے تھے۔ جسٹس سجاد علی شاہ کی اس ادا نے دیکھنے والوں کے دل موہ لیے اور وہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ اتنے مرنجاں مرنج شخص کے بیانات اور فیصلوں میں یہ گھن گرج جگہ بنانے میں کس طرح کامیاب ہو جاتی ہے؟ اس واقعے ذرا ہی پہلے کی بات ہوگی، سندھ مسلم لا کالج کراچی میں میں ایک سیمینار ہوا جس کے کلیدی مقرر جناب ایس ایم ظفر اور میر مجلس جناب چیف جسٹس تھے۔ جسٹس سجاد علی شاہ جیسے ہی روسٹرم پر آئے، حاضرین سانس روک کر بیٹھ گئے۔ شاہ صاحب نے اپنے نہایت ہی میٹھے اور دھیمے لہجے میں فرمایا کہ یہ جوڈیشل ایکٹو ازم کا زمانہ ہے اور ہم اس رجحان کے بانی ہیں ، لہٰذا جو کوئی بھی اپنی طاقت کے نشے میں چور ہو کر ٹیڑھا چلنے کی کوشش کرے گا، ہم اسے سیدھا کردیں گے۔ ان دنوں ملک جس قسم کے حالات سے گزر رہا تھا، اُن کے پیش نظر اس بیان میں حیرت کی کوئی بات نہ تھی، شاہ صاحب اس تقریر کے ذریعے جن لوگوں تک جو پیغام پہنچانا چاہتے ہوں گے، یقیناً وہ پیغام ان تک پہنچ گیا ہوگا لیکن رائے عامہ کی سمجھ میں یہ آیا کہ اب حکومت کے لیے ایک پھندا کافی نہیں سمجھا جارہا بلکہ اُسے مشکل میں مبتلا کرنے کے لیے ایک اور جال کی ضرورت بھی محسوس کی جارہی ہے تاکہ اگر وہ اٹھاون ٹو بی کی گھاٹی عبور کر بھی لے تو شاہ صاحب کے ہاتھوں چت ہوجائے۔

اُس زمانے میں موجودہ دور کی طرح معاشرے میں اسی طرح کے دبنگ لوگوں کی قدر کی جاتی تھی، شاہ صاحب اس اعتبار سے دبنگ نہیں، دبنگ تر تھے، لہٰذا جب کبھی ان کے آنے کی سن گن ملتی، صحافی بھاگم بھاگ ان کی پیشوائی کو پہنچتے، الیکڑانک میڈیا اور اینکر کریسی کے عہد سے پہلے بھی ایسے معاملات میں صحافی برادری کا جوش و خروش دیدنی ہوا کرتا تھا۔ شاہ صاحب کی ایک اور خوبی بھی انھیں اپنے ہم عصروں اور ہم پیشہ ججوں میں ممتاز کرتی ہے۔ یوں، ان کی یہ خوبی ان کے پورے کیرئیر میں نظر آتی ہے لیکن سردار فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے خلاف پیپلز پارٹی کی پیٹیشن کی سماعت کے دوران اس کی ایک کلاسیک مثال سامنے آئی۔ اس مقدمے کی پیروی بیرسٹر اعتزاز احسن کررہے تھے اور فطری طور پر مقدمے کو طول دینے کے خواہش مند تھے۔ دوران سماعت شاہ صاحب نے ایک روز اعتزاز احسن کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دلائل اسی روز مکمل کر لیں جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ یور آنر میں اس مقدمے میں آج ایک اور متفرق درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ شاہ صاحب نے سوال کیا کہ کیا آپ نے یہ درخواست رجسٹرار آفس میں جمع کرا دی ہے؟ اعتزاز احسن نے بتایا کہ ابھی جمع نہیں کرائی لیکن عدالت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شاہ صاحب نے یہ جواب سن کر کچھ دیر خاموشی اختیار کی، پھر سوال کیا کہ وہ درخواست اس وقت کہاں ہے؟ انھوں نے بتایا کہ میری جیب میں ہے جس پر چیف جسٹس نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر فیصلہ سنا دیا کہ Rejected in the pocket ۔ اعتزاز احسن یہ فیصلہ سن سکتے کے عالم میں کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور عدالت میں موجود صحافیوں اور دیگر حاضرین نے دانتوں میں انگلیاں داب لیں۔ انصاف یقیناً فوراً ملنا چاہئے اور تیز رفتاری سے ملنا چاہئے لیکن انصاف کو یہ سپر سانک رفتار شاہ صاحب سے قبل کوئی اور جج عطا نہ کرسکا۔ ان کے فیصلے تیز رفتاری کے ساتھ سیاست کی “حکمت” سے بھی مالا مال ہوتے تھے جس کا اندازہ جیب میں پڑی ہوئی درخواست کو مسترد کردینے سے تو ہوتا ہی ہے لیکن اس کی بہت سی “روشن ” مثالیں پی ایل ڈی میں سنہری حروف میں لکھی گئیں جن آج بھی “استفادہ ” کیا جاسکتا ہے۔

شاہ صاحب کی ذات علاقائی اور لسانی تعصبات سے بہت بلند تھی عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر وہ کبھی یہ نہیں دیکھتے تھے کہ سائل کا تعلق سندھ سے ہے یا پنجاب سے، اس لیے سردار لغاری نے بے نظیر کی حکومت کا خاتمہ کیا تو انھوں نے ” میرٹ” کے عین مطابق اس فیصلے کو درست قرار دیا لیکن جب چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے پنجاب کے وزیر اعظم یعنی نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کو غلط قرار دیا تو وہ اپنی بساط کے مطابق ان کی ” علاقہ پروری” کی راہ میں آکھڑے ہوئے اور انھوں نے اختلافی نوٹ لکھ کر حکومت کی بحالی کی مخالفت کی، اندھے انصاف کی ایسی روشن مثال شاید ڈھونڈے سے بھی نہ مل سکے۔ ہمارے ججوں نے انصاف کی کرسی اور جج کی شخصیت کسی زاہد خشک کی طرح غیر دلچسپ بنا رکھی تھی، شاہ صاحب کی باغ و بہار طبیعت نے اس میں ایسی رنگا رنگی پیدا کی، خوش ذوق جس سے آج بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ وہ باتوں ہی باتوں میں کوئی نہ کوئی ایسا جملہ کہہ گزرتے تھے جس پر بڑے مزاح نگار قلم توڑ دیں۔ ان کے عہد ” انصاف” میں برادر جج شاہ صاحب کے گونا گوں ” انقلابی” اقدامات کی تاب نہ لاکر بغاوت پر اتر آئے اور ایک وقت میں دو چیف جسٹس اور دو سپریم کورٹ وجود میں آ گئیں ، “اصولوں” پر ایسی استقامت کا مظاہرہ بھی صرف شاہ ہی دکھا سکتے تھے۔ اسی زمانے کی بات ہے، وہ عمرے کے کیے سعودی عرب تشریف لے گئے، ان کی عدم موجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس جسٹس اجمل میاں نے کچھ “عاجلانہ” اقدامات کر ڈالے تو انھوں عبادت پر ذمے داری کو ترجیح دیتے ہوئے عمرہ درمیان میں ہی چھوڑ کر وطن واپسی کو مناسب جانا اور ایئر پورٹ پر کسی سیاست داں کی طرح صحافیوں کو طلب کر کے بیان جاری کیا: ” جسٹس اجمل میاں کی ایکٹنگ آج ختم ہوگئی”۔ بھارت کے چیف جسٹس ان کے اس بیان کی لطافت سے محظوظ ہونے کے بجائے بھنا اٹھے اور کہا: ” جج نہیں ، ان کے فیصلے بولا کرتے ہیں “۔ کاش ان کے بھارتی ہم منصب حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے شاہ صاحب کے جملے کی ٹائمنگ اور مزاح کی شگفتگی کو محسوس کر لیتے تو کبھی ایسی بات نہ کہتے۔ شاہ صاحب کے قول و فعل اور ماضی و حال میں کوئی فرق نہ تھا، انھوں اپنے ایک طویل سوانحی انٹرویو میں اپنے بارے میں بتایا تھا کہ بچپن میں ماسک پہن کر وہ دوسروں کو ڈرایآ کرتے، اسکول کی گھنٹی وقت سے پہلے بجا کر بچوں کو چونکا دیا کرتے، مخالف پر ہمیشہ پہلے حملہ کرتے اور اپنے یا غیر ہر ایک سے اپنی بات منوا کر دم لیتے۔ بچپن سے بڑھاپے تک مستقل مزاجی کی اس معراج پر خوش قسمت ہی پہنچ پاتے ہیں۔ شاہ صاحب میں ضبط نفس بھی کمال کا تھا۔ اپنا منصب چھوڑ چھاڑ کر وہ کراچی پلٹے تو کچھ سوالات نے میرے ذہن پر یلغار کی۔ وہ ان دنوں سپریم کورٹ کے گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھے، انھوں نے میرا خوش دلی سے خیر مقدم کیا اور خندہ پیشانی سے سوالوں کے جواب دیے، دوران گفتگو جب مخالفین کا ذکر آتا تو فرد جذبات سے ان کے ہاتھ کانپنے لگتے اور وہ دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر اسے لرزنے سے روکتے۔ یہ دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں میں ان کی ہمت کی داد دی کہ وہ غیر موافق حالات کے باوجود کس بہادری سے انصاف کے تقاضے پورے کرتے رہے، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے، وہ اپنی وضع کے خاص جج تھے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: