ایک اور جھوٹ —- عتیق احمد کا افسانہ

0

آج کچھ معمول سے زیادہ ہی حبس تھا اور یونیورسٹی بس میں زیادہ رش کے باعث پسینے میں شرابور گھر پھنچتے ہی دروازے کو میں نے کچھ زیادہ ہی زور سے کھٹکھٹایا، ڈور بیل کی آواز باہر نہ آنے کا مطلب میں سمجھ چکا تھا کے بجلی حسب معمول غائب تھی – کچھ توقف کے بعد جب دروازہ کھلا تو میں والد صاحب کو سلام کر کے اوپر اپنے کمرے کی جانب جانے ہی لگا تھا کہ والد صاحب نے آواز دی “شرجیل وہاں بیٹھک میں تمہاری سیمی خالہ کب سے تمہارا انتظار کر رہیں ہیں، منہ ہاتھ دھو کر پہلے ان سے مل لو” ابّا جان آپ دیکھ تو رہے ہیں پسینے سے میرا کیا حال ہو رہا ہے میں نے جواب دیا – کوئی بات نہیں بیٹا ویسے ہی ابھی لائٹ نہیں ہے تو نہانے کا تمہیں کوئی خاص فائدہ ہونے نہیں والا جب تک تم خالہ سے بات کرو میں تندور سے تمھارے لئے روٹی لا دیتا ہوں تمہاری بہن پہلے ہی گرمی میں کھانا بنا کر نڈھال ہو رہی ہے – ابّا یہ کہہ کر باہر کی طرف چل دئے اور میں بادل نخواستہ بیٹھک کی جانب

سیمی خالہ ویسے تو ہمارے ہمسائے میں رہتی تھیں مگر میری ماں کے انتقال کے بعد انہوں نے میری چھوٹی بہن کا ماں کی طرح خیال رکھا تھا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ماں بن کر ہی اسکو پالا تھا تو کچھ غلط نا تھا – یہی وجہ تھی کہ ابّا جان انکی بہت عزت کرتے تھے – بچپن میں، میں خود بھی سیمی خالہ کا بہت لاڈلا تھا – خالہ کے شوہر ادریس صاحب کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا وہ میرے والد صاحب کے ساتھ انہی کے دفتر میں کام کرتے تھے اور ہماری ہی طرح ایک متوسط گھرانہ تھا انکا – ادریس صاحب کی وفات کے بعد امی جان اور ابّا نے خالہ کی فیملی کا بہت خیال رکھا اسی وجہ سے دونوں خاندانوں کا میل جول آپس میں مثالی تھا – اور یہ اسی مثالی تعلق کا نتیجہ تھا کہ میری والدہ کے انتقال کے بعد سیمی خالہ نے میری چھوٹی بہن کا نہ صرف خیال رکھا بلکہ اسکو امور خانہ داری میں بھی بالکل طاق کر دیا – سیمی خالہ کے اپنے بھی تین بچے تھے سب سے بڑی بیٹی نوشین باجی مگر افسوس کے شادی کے دو سال بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا – پھر ندیم بھائی اور سب سے چھوٹی افشین

ندیم بھائی نہایت باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ محنتی بھی خوب تھے مگر قسمت کے دھنی نہ تھے – ادریس انکل کی اچانک وفات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا مگر سیمی خالہ کی ہمت کی داد ہر کوئی دیتا تھا پہلے جوان بیٹی کی موت اور پھر شوہر کا اچانک چلے جانا کوئی اور ہوتا تو ہمّت ہار جاتا مگر خالہ نے نا صرف خود کو سنبھالا بلکہ اولاد کو بھی باہمّت رکھا – ادریس انکل کی پنشن سے ملنے والے پیسوں سے ندیم بھائی کو کینیڈا بھجوا دیا حالانکہ اس وقت ندیم بھائی ابھی زیر تعلیم تھے مگر چونکہ وہ ایک انجینئرنگ ڈپلومہ کر چکے تھے اسی بنا پر انکو ایک مناسب نوکری مل گئی – یہاں افشین بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوۓ تھی – افشین ایک کم گو مگر سمجھدار لڑکی تھی مگر پہ در پہ حادثات کے باعث اسکی خاموشی کچھ اور بڑھ چکی تھی

شرجیل بیٹا آ گئے تم میں کب سے تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی – سیمی خالہ کی آواز نے مجھے چونکا دیا جو ڈرائنگ روم کے دروازے پر کھڑی مجھے دیکھ رہی تھیں

سلام خالہ جی ابھی ابھی آیا ہوں بس اندر آپ ہی کی طرف آ رہا تھا

جیتے رہو بیٹا اللہ سلامت رکھے تمہیں

جی خالہ بتائیے خیریت سے آنا ہوا

جانتے تو ہو بیٹا شرجیل میرا ایک ہی تو کام ہوتا ہے تم سے ندیم کے نام خط لکھوانا ہے

خالہ آپ بھی حد کرتی ہیں آپ کیوں نہیں افشین سے خط لکھواتیں یا پھر اس ہما کی بچی سے لکھوا لیا کریں میں نے چھوٹی بہن کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا

شرجیل تم ہمیشہ ہی کیوں انکار کرتے ہو؟ جب کہ تم جانتے ہو کہ سیمی بہن نے صرف تم سے خط لکھوانا ہوتا ہے دروازے سے ابّا جان کی آواز آئی

وہ میں تو صرف…. یہ

جلدی سے خط لکھو اور پھر کھانا کھا لو ابّا جان نے بولا

جی اچھا میں نے حامی بھرنے میں ہی عافیت سمجھی

جی خالہ بولئے

نہیں پہلے تم کھانا کھا لو سیمی خالہ بولیں میں نے کونسا کہیں دور جانا ہے میں انتظار کر لیتی ہوں

نہیں خالہ آپ لکھوا یئے کھانا میں بعد میں کھا لوں گا

اچھا تو لکھو خالہ بولیں

بیٹے ندیم سلامت رہو”

تمھارے پچھلے مہینے کے پیسے بھی مل گئے مگر میری تاکید کے باوجود میرے خط کا تم نے کوئی جواب نہیں دیا – بیٹا کئی سال ہو گئے تمہیں دیکھے ہوۓ تمہیں اپنی ماں اور بہن کی یاد نہیں آتی – ماں کو تمہارے پیسوں سے زیادہ تمہاری ضرورت ہے – ہم دونوں ماں بیٹیاں کتنا خرچ کر لیں گی – اگر تم مجھے آنے کا کچھ بتاؤ تو میں تمھارے لئے لڑکی دیکھوں تاکہ تم اپنا گھر بساؤ اور میں بھی بیٹا – بیٹی کے فرض سے فارغ ہوں

تم لکھ رہے ہو نا شرجیل، سیمی خالہ مجھے مخاطب ہوئیں

ج ج جی خالہ

اچھا

اگر تم نے کچھ بچت کر رکھی ہے تو وہاں سے افشین کے لئے کچھ سامان لیتے آنا یہاں تو مہنگائی کی وجہ سے کچھ سمجھ نہیں آتا

ڈھیروں پیار

اس خط کا جواب ضرور دینا

“تمہاری ماں

 

بیٹا آج ہی یہ خط پوسٹ کر دینا مجھے بہت فکر ہوتی ہے

جی خالہ ابھی کھانا کھا کر جاتا ہوں

تمھارے پاس اڈریس تو ہے نا

خالہ ہمیشہ میں ہی تو بھجواتا ہوں

جیتا رہ میرا بچہ – خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے

خالہ دعائیں دیتی ہوئیں اپنے گھر روانہ ہو گئیں

 

بیٹا جلدی سے کھانا کھا کر میرے کمرے میں آ جاؤ – ابّا جان نے مجھے آواز دی

جی اچھا

کھانا کھاتے ہوۓ میں یہ سوچتا رہا کہ یہ خط پوسٹ کروں یا نا کروں

وجہ کچھ یوں تھی کہ خالہ نے جو اپنے خط میں افشین کی شادی کا سر راہ تذکرہ کیا تھا وہ مجھے معلوم تھا کہ خالہ اور ابّا جان میری شادی افشین سے کرنا چاھتے ہیں اور مجھے کچھ بتائے بنا آپس میں سب طے کر چکے ہیں اور اب صرف ندیم بھائی کا انتظار ہے

اور میں

میں ابھی افشین تو کیا کسی سے بھی شادی کے خیال میں نہیں تھا میرا ارادہ اگلے سال دنیا کی کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلے کا تھا اور یہی میرا ابھی کی زندگی کا مقصد تھا میں کسی بھی طرح مڈل کلاس زندگی کے ساتھ چپکے رہنے کا سوچتا بھی نہیں تھا چاہے اس کیلئے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے اور افشین سے شادی کا مطلب سیدھا سیدھا اپنے خواب کا قتل ہوتا

خیر کھانا کھانے کے بعد میں ابّا جان کے کمرے میں گیا تو وہ میرا ہی انتظار کر رہے تھے

مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے آؤ شرجیل بیٹا بیٹھو

میں انکے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا تو وہ گویا ہوۓ

شرجیل ابھی ابھی تمہاری سیمی خالہ نے خط میں افشین کی شادی کا تذکرہ کیا ہے

میں نے بولا جی

تم جانتے ہو کہ ہم لوگ تمہارا اور افشین کا رشتہ طے کر چکے ہیں

میں جانتے ہوۓ بھی انجان بن گیا ابّا جان آپ کو مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا

بیٹا تم ہم دونوں خاندانوں کا تعلق جانتے ہو ادریس میرا اچھا دوست تو تھا ہی تمہاری خالہ نے تمہاری ماں کے انتقال کے بعد جس طرح ہما کی پرورش میں ہماری مدد کی ہے ہم انکا احسان کبھی نہیں چکا سکیں گے – کیا تمہیں افشین پسند نہیں ؟

ابّا جان بات افشین کے پسند یا ناپسند ہونے کی نہیں – میں شادی ہی نہیں کرنا چاہتا یا یوں کہہ لیں کہ ابھی چند سال نہیں کرنا چاہتا – آپ خالہ کو بولیں کہ افشین کا رشتہ کہیں اور کر دیں

شرجیل

ابّا جان

دیکھو بیٹا عورت دل کی مانند ہے جو دھڑکن کو توازن میں رکھتا ہے۔   جس طرح دل پورے جسم میں زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہے عورت کا وجود بھی زندگی کی شرط بن جاتا ہے۔  پھر اسی طرح جیسے دل کو تندرست و توانا رکھنے کے لیۓ خیال رکھنا پڑتا ہے ایسے ہی عورت کا ساتھ بناۓ رکھنے کے لیۓ اسکو سینچنا پڑتا ہے۔   اور پھر اسکے پنپنے سے مرد اپنے آپ میں خوشی محسوس کرتا ہے – بے شک عورت ایک مرد کی زندگی سنوار سکتی ہے اور یہ سب میں تمھیں اپنی زندگی کے تجربے کی بنیاد پر بتا رہا ہوں

ابّا جان آپ بجا فرما رہے ہونگے مگر میرے خواب کچھ اور ہیں اور انکی تکمیل کی خاطر میں ابھی شادی کے بندھن میں نہیں بندھ سکتا – میں نے جواب دیا

بیٹا میں وعدہ کر چکا ہوں – مجھے بس یہی کہنا تھا

ابّا جان کے کمرے سے نکل کر میں باہر نکل گیا اور ادھر ادھر گھومتا رہا اور شام ڈھلنے کے بعد واپس گھر آیا اور آتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا کچھ دیر پڑھنے کے بعد مجھے کب نیند نے آ گھیرا مجھے پتا ہی نہیں چلا

اگلے دن یونیورسٹی سے واپسی پر خالہ مجھے باہر گیٹ پر ہی مل گئیں اور میرے سلام کا جواب دیے بغیر ہی پوچھنے لگیں شرجیل بیٹا خط پوسٹ کر دیا تھا نا اور میں نے ہچکچاتے ہوۓ بول دیا جی خالہ کل ہی کر دیا تھا

دو دن بعد میرے امتحانات شروع ہو گئے اور میں خاصا مصروف رہا

جس دن آخری پیپر دے کر گھر آیا تو سیمی خالہ پہلے سے موجود تھیں اور چھوٹتے ہی پوچھنے لگیں شرجیل ندیم کے خط کا جواب نہیں آیا تم ایک اور خط لکھو اور اسکو ڈانٹ کر بولو کہ خط ملتے ہی پاکستان آ جائے

ہاں شرجیل ہم نے اگلے مہینے کے آغاز میں ہی تمہاری اور افشین کی شادی کی تاریخ طے کر دی ہے – ابّا جان بولے

خالہ نے مجھے پیار سے دیکھتے ہوۓ خط لکھنے کی تلقین کی اور روانہ ہو گئیں

میں خط لکھنے کا بول کر اپنے کمرے میں چلا آیا اور پھر کچھ ہی دیر میں ابّا جان کو یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا کہ خط پوسٹ کرنے جا رہا ہوں اور اپنے کلاس فیلوز سے ملنے یونیورسٹی ہوسٹل چلا گیا وہیں ہمارا پروگرام بنا کہ چند دن ناردرن ایریاز گھومنے چلتے ہیں پروگرام بناتے ہوۓ پتا ہی نہیں چلا اور رات ہو گئی دوستوں کے اصرار پر میں نے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا اور ابّا جان کو فون کر کے اطلاع کر دی

اگلی صبح جب میں گھر پہنچا تو فورأ ابّا جان میرے کمرے میں چلے آئے

میں پوچھا خیریت ہے ابّا جان

کہنے لگے کل رات تمہاری سیمی خالہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی

او ہو آپ مجھے تو اطلاع کر دیتے

نہیں بیٹا میں نے ڈاکٹر شمس کو گھر بلوا لیا تھا انہوں نے دوائیں دے دی تھیں ابھی میں تمہاری خالہ کو لے کر ہسپتال ہی جا رہا ہوں ڈاکٹر صاحب نے کچھ ٹیسٹ کروانے کو بولا ہے

میں بھی چلوں آپ کے ساتھ

نہیں بیٹا تمہاری خالہ بضد ہیں کہ ندیم کو ٹیلیگرام کے ذریعے اطلاع کر دو

اچھا جی اور میں فوری طور پر ٹیلیگرام دینے چلا گیا

شام میں آ کر میں نے ابّا جان سے خالہ کی طبعیت کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے دو دن تک رپورٹس ملیں گی

میں نے اپنے ناردرن ایریاز کے پروگرام کا بتایا کہ ہم کل صبح روانہ ہو رہے ہیں

ابّا جان خاموش رہے

ہمارا پروگرام چار دن کا تھا

پانچویں دن جب میں واپس پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ خالہ کے گھر کے باہر جھمگھٹا ہے اور تمام محلّے دار اکٹھے ہیں میں گھبرا کر گھر کے اندر داخل ہوا تو ابّا جان کہنے لگے شرجیل تمہاری خالہ آخری وقت میں تمہیں اور ندیم کو یاد کر رہی تھیں

میں نے روہانسا ہو کر پوچھا ہوا کیا تھا

ابّا جان نے ایک خط میری طرف بڑھا دیا

اس میں لکھا تھا

ماں جی

ہم لوگ آپ کو مزید اندھیرے میں نہیں رکھ سکتے دراصل ندیم پچھلے سال ایک پراجیکٹ پر کام کے سلسلے میں جاتے ہوۓ حادثے کا شکار ہو گیا تھا کچھ عرصہ ہسپتال میں زیرعلاج رہا مگر سر کی چوٹ کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکا – مگر انتقال سے پہلے اسنے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ ہم آپ کو اطلاع نہیں دیں گے اسکی انشورنس کی رقم ہم آپکو باقاعدگی سے بھیجتے رہے مگر حال ہی میں آپ کی بیماری کا ٹیلیگرام ملنے کے بعد ہم مجبور ہو گئے کہ آپکو سچ بتا دیا جائے

ہمیں معاف فرما دیجیۓ گا

فقط

ندیم کے دوست

خط پڑھتے ہی مجھے سیمی خالہ کی اچانک موت کا سبب معلوم ہو گیا

اسی شب سیمی خالہ کو سپرد خاک کر دیا گیا

رات زیادہ ہو گئی ہے – میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں – نیند مجھ سے کوسوں دور ہے میرے خیالات اندھیروں میں بھٹکے ہوۓ مسافر کی طرح ڈرے ہوۓ ہیں کچھ سوچ رہا ہوں کوئی حل تلاش کر رہا ہوں – لیکن میں ناکام ہوں – میرے ہاتھ میں پوسٹ نہ کئے جانے والے خط ہیں

میں نے ٹیلیگرام کیوں بھیجھا

سیمی خالہ کاش آپ خط پڑھوانے کیلئے میرا انتظار کرتیں – کاش میں نے یہ خط آپ کو پڑھ کر سنایا ہوتا تو آج پھر جھوٹ بول دیتا کہ ندیم مصروف ہے نہیں آ سکتا اور آپ کا ندیم بن کر آپ کی زندگی کا سہارا بن جاتا – میرے خدا ایک اور جھوٹ کا موقع تو دے دیتا    ا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20