عجیب سی بے ترتیب دنیا —- اے وسیم خٹک

0

زندگی نے سب کو ایک عجیب دوراہے پر لاکھڑا کردیا ہے۔ صبح گھر سے نکلا تو سمجھا تھا کہ جمعرات ہے مگر بازار جاکر معلوم ہوا کہ آج جمعہ ہے اس لئے بازار میں ہو کی کیفیت ہے۔ یعنی اب دن رات کا پتہ نہیں چل رہا ہے کہ ہفتہ کب ہے اتوار کب ہے اور منگل اور سوموار کب کا گزر چکا ہے۔ دن کب ہوا شام اور رات کب ہوگئی۔ صبح حکومتی ہدایات پر سب گھر والوں نے ماسک پہنے تو پالتو کتے فلوکی نے گھر سر پر اُٹھالیا۔ جیسے کوئی دوسرے جہاں کی مخلوق گھر میں آگئی ہے۔ جب ماسک ہٹایا تو ٹھیک ہوگیا۔ اب جب ماسک لگاتے ہیں وہ بھونکنے لگتا ہے۔ ایک تبدیلی سی ہر چیز میں آگئی ہے ہر چیز میں ایک بے ترتیبی سی ہوگئی ہے۔ یہ حال صرف میرا نہیں بلکہ اس کائنات میں رہنے والے ساری اشرف المخلوقات کا ہوگیا ہے یہ کیفیت چونکہ پہلی دفعہ ہی پیدا ہوئی ہے اس لئے سب ایک عجیب مخمصے کا شکار ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کیا ہوگیا۔ میری زندگی بھی بے ترتیب ہوگئی ہے۔ میں اپنی زندگی میں پہلی دفعہ ایک عجیب صورتحال سے دوچار ہوگیا ہوں۔ جس کا میں نے تصور بھی نہیں کیا تھااور یہ میری طرح بہت سو نے نہیں سوچا ہوگا۔ لوگوں کی خواہش تھی کہ گھر میں رہا جائے اب جب اُن کو موقع ملا ہے تو وہ گھر میں بور ہوگئے ہیں۔ جن اداروں کے باس کہا کرتے تھے کہ ڈاؤن سائزنگ کرلیتے ہیں اُن کے دفاتر میں جب ملازمین کی تعداد کم ہوگئی ہے تو وہ پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ کم ملازمین سے کام نہیں ہورہا۔ طلباءوطالبات جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہر کلاس سے غائب ہوتے تھے وہ دوستوں کے ساتھ موج مستیوں میں مصروف ہوتے تھے جب وہ گھر میں محصور ہوگئے ہیں تو اُن کے چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں۔ جو لڑکیاں یونیورسٹیوں یا کالجوں میں پڑھنے یا پڑھانے جاتی تھیں انہیں گھر کے کاموں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا جب یونیورسٹیوں اور کالجوں کی چھٹیاں ہوگئیں۔ تو انہیں بھی معلوم ہوگیا۔ کہ گھر کے کام کاج کیا ہوتے ہیں۔ انہیں اب یونیورسٹیوں اور کالجوں کی یاد آنے لگی ہے۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ جو سکولوں کے اساتذہ کو دیکھ کر منہ سا بنا لیتے تھے کہ اُن کے مزے ہیں اب وہ یونیورسٹیوں کے وہ اساتذہ جب گھروں میں بیٹھ گئے ہیں تو اُنہیں تکلیف ہورہی ہے کیونکہ گھر سے باہر جایا نہیں جاسکتا اور انتظامیہ نے انہیں آن لائن کلاسز کی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ اور گھر کے دوسرے جھمیلے بھی ہیں۔ اس دور میں جو والدین اپنے بچوں کو سائنس کے مضامین پڑھانے پر بضد تھے اب انہوں نے بھی سائنس کو برا بھلا کہنا شروع کردیا ہے اوراب پوری دنیا سائنس کے مضامین والوں کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی ہے کہ انہوں نے اس کا کوئی قلع قمع نہیں کیا۔ سائنس کیا ٹیکنالوجی کیا دعائیں کارگر نہیں ہورہی ہیں۔ خواتین جو ہمارے معاشرے میں شروع ہی سے آئسولیشن کا شکار ہیںچونکہ وہ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتی۔ وہ بھی پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ اُن کے خاندانوں کے مرد حضرات گھر میں ہی ہوتے ہیں۔ جو باتوں باتوں میں کیڑے نکالتے ہیں۔ توُتُو میں میں اور تو تکار میں اضافہ ہوا ہے۔ مگر ایک دوسرے کو جھیلا جارہا ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چار ہ نہیں۔ شاید اس کے مضمرات وباءکے خاتمے کے بعد نکلے۔ خواتین کی سہلیوں سے لمبی گفتگو، اور ٹی وی شوز کے آگے بیٹھنا محال ہوگیا ہے تو دوسری جانب بچوں نے بھی اُن کی زندگیاںاجیرن کردی ہیں۔ گھروں میں مردوں اور خواتین دونوں نے ہرقسم کے کھانے بنائے۔ کبھی بریانی کو کراچی بریانی کا نام دیا تو کبھی چکن کو بلوچی سجی اور پشاوری تکہ سے گوشت کو منسوب کردیا۔ اور آخر کار تھک کر بیٹھ گئے۔ ہر قسم کے انڈور گیمز کھیلے گئے۔ فٹبال سے شیشے توڑے گئے تو کرکٹ سے بلب ٹوٹ گئے۔ لڑتے لڑتے لڈو بھی پھاڑے گئے تو کیرم بورڈ توڑنے کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ بازار جائیں تو دکانیں بند ہیں۔ دکاندار جو مہنگے داموں آشیاء بیچا کرتے تھے انہوں نے حکومت کے ڈر سے مارکیٹیں بند کرلیں ہیں۔ حالانکہ یہ انہیں بند کرنے ہی تھے کیونکہ گاہک ہیں تو دکاندار ہونگے۔ جو ڈرائیور ہر ہفتے کرایہ بڑھا تے تھے اب انہوں نے گاڑیوں کو گھر میں کھڑا کردیا ہے۔ بہت سے لوگ نیند کے آرمان میں تھے اب انہوں نے صبح کی نیند، نماز اورناشتے کے بعد کی نیند، قیلولہ اور شام کی نیند کے ساتھ رات کی نیند غرض ہر قسم کی نیند پر ہاتھ صاف کیا اور اب سب نیندسے بھی تھک گئے ہیں۔ سوشل میڈیا سے بھی بور گئے تو نیٹ فلیکس سے بھی دور ہوگئے۔ گھر کے اندر بچوں سے کھیلاگیا، کتوں، بلیوں اور پرندوں سے وقت گزاری کرلی، پودوں کو پانی بھی دے ڈالا۔ ہر کسی کو گھر میں وقت دیا جو وقت نہ دینے پر گلے شکوے کرتے تھے وہ بھی خاموش ہوگئے۔ مردوں نے خواتین کی باتوں میں بھی دخل اندازی کی۔ تو خواتین نے مردوں کی باتوں میں انٹریا ں دیں۔ بچوں کے ساتھ بچے بنے تو بوڑھوں کے ساتھ بوڑھا بن کر دیکھا گیا۔ جس شعبے کی جانب بھی دیکھیں ہر بندہ ایک عجیب گومگو کیفیت کا شکار ہے اگر رائیٹر ہے تو وہ بھی دیگر موضوعات کو چھوڑ کر اسی ایک موضو ع کو زیر بحث لارہا ہے۔ ایک دوست سے رابطہ ہوا وہ اس پر ناول لکھنے لگا ہے اور جب یہ مسئلہ حل ہوگا اُ س کا ناول بھی مارکیٹ میں آچکا ہوگا۔ ویب سائٹس والے بھی دھڑا دھڑ یہی کچھ چھاپ رہے ہیں۔ دنیا بھر کے رائیٹر اسی پر لکھ رہے ہیں۔ شاعروں کی شاعری میں بھی یہ موضوع شامل ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بس یہی ایک موضوع ہے۔ میڈیا کے سارے ٹاک شوز میں اسی پر سازشی تھیوریاں پیش ہورہی ہیں۔ نیوز میں یہی ہے۔ اخبار اٹھا کر دیکھا ملک بھر میں کرائم کا نام ونشان نہیں۔ کوئی قتل مقاتلہ، ریپ کا واقعہ، غیرت کے نام پر قتل، خواتین کے نام پر نہ ہی کوئی مظاہرہ ہورہا ہے۔ اشتہارات میں بھی وہی کچھ ہے۔ صرف ملکی نہیں بین الاقوامی طور پر سب کچھ تتر بتر ہوگیا ہے۔ ڈراموں کی مارکیٹنگ فلاپ ہوگئی ہے۔ کسی کو بھی ڈرامہ اور میوزک میں دلچسپی نہیں۔ اس وقت جو ڈارمے، فلمیں ریلیز ہوئی ہیں وہ فلاپ ترین شکار ہونگی۔ سوشل میڈیا کے دلدادہ اور نیٹ فلیکس کے شوقین لوگ بھی اکتاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ سیاست دانوں کے پاس بھی یہی ایک ٹاپک ہے جس پر وہ بول رہے ہیں۔ کیونکہ میڈیا دوسرے موضوع کو جگہ نہیں دے رہے ہیں۔ تو دوسری جانب دنیا بھر میں غریبوںکی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوا ہے وہ قابل دید ہے۔ اس سے پہلے یہ جذبہ بہت کم دیکھنے کو ملا ہے۔ پاکستان میں 2005کے زلزلے کے بعد جو جذبہ آج نوجوانوں میں موجزن ہے اس کی تاریخ ملنی مشکل ہے۔ مگر پھر بھی لوگ ایک عجیب صورتحال سے دوچار ہیں۔ اور سب کی ایک ہی خواہش ہے کہ دنیا پھر سے پرانے ڈگر پر آجائے کیونکہ یہ دنیا کچھ عجیب سی ہوگئی ہے۔ جس میں ایک بے چینی، پریشانی، بے ترتیبی اور تناؤ کی کیفیت ہے بندہ گھر میں رہ کر بھی بے گھر سا ہے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20