جس روز قضا آئے گی : احفاظ الرحمٰن —- احمد اقبال

0

“یہ چاہتا ہوں کہ جب مروں تو میرا چہرہ سورج کی طرف ہو”۔ صحافت کی سب سے بڑی جنگ کے کمان کرنے والے احفاظ الرحمان نے ایسا کہا۔

اس نے یہ نہیں کہا کہ میرے بعد جنگ جاری رکھنا کیونکہ یہ بالکل ضروری نہیں تھا۔ ختم ہونے والی جنگ تیر، تلوار، گولہ بارود، میزایل اور ایٹم بم وغیرہ سے لڑی جاتی ہے۔ جس جنگ میں نصف صدی پہلے احفاظ اترا تھا وہ اصول و نظریات، صداقت اور اقدار کی جنگ اس وقت بھی جاری ہی تھی۔ تاریخ کے صفحات میں ارسطو سے حسین اور حسن ناصر تک بہت نام تھے جو اس میں سرخروئی کی سند رکھتے تھے۔

اس وقت روزنامہ “مساوات” کے خلاف پر تشدد اقدامات کیلئے سرکار کی سپاہ کو سات خون معاف تھے اور چھ فٹ کی لاٹھی سے چھ انچ کے قلم کی طاقت آزمائےکا ایک اور میدان سجا تھا۔ مساوات کے مدیر ابراہیم جلیس تھے جن کے قلم کی کاٹ “پبلک سییفٹی ریزر” جیسی کالموں کی کتاب بن جاتی تھی۔ کارکن قید و بند سے زیادہ سرعام درے مارے جانے کے تماشائے رسوائی کے خوف سے روپوشی میں تھے۔ فیض صاحب بہت بڑے آدمی تھے۔ ان کی جلا وطنی کی بات “مرے دل مرے مسافر۔ ۔ ۔ ہوا ہے پھر سے حکم صادر۔ ۔ کہ وطن بدر ہوں ہم تم” قریہ قریہ پھیلی لیکن اور بہت تھے جو لیلائے وطن سے دور شب ہجراں کے عذاب سے گزرے۔

میرے احباب میں احفاظ کے علاوہ شاہد ندیم تھے۔ ایک دوپہر میں نے “عالمی ڈائجسٹ” کے گارڈن ایسٹ والے آفس میں جون ایلیا اور زاہدہ حنا کے ساتھ اپنی ہی عمر کے دبلے پتلے خوش شکل روشن آنکھوں کے ساتھ خفیف سی مسکراہٹ والے نوجوان کو دیکھا۔ زاہدہ نے کہا بھئی یہ احفاظ ہیں اور یہ احمد اقبال۔ اگلے دن میں نے اسے ایک خالی میز پرکچھ لکھتے یا بس قلم تھامے سوچ میں سرگرداں دیکھا اوراس نے دیکھا کہ میں بھی وہاں ہوں تو وہ بولا۔ پھر میں بولا اور ہم نے شایدایک ہی بات کی جو نظریات اور اصولوں کی آفاقی صداقت کی بات تھی۔ شعر و ادب کی تخلیقی اقدار کے حوالے تھے۔ انقلابی نظریات میں اشتراک نے ہم دونوں کو ساحر لدھیانوی اور علی سردار جعفری جیسے شاعروں کا ہم خیال و ہمنوا بنا رکھا تھا۔ اس کی طرح میں بھی کرشن چندر پر فریفتہ تھا (قرۃالعین حیدر پر بعد میں ہوا)۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی سوچ میں شاید میں اس سے زیادہ شریک تھا لیکن میں ایک عام، مصلحت اور مصالحت کو بقا کی ضرورت سمجھنے والا اور ڈرنے والا آدمی تھا مگر اس سے میں نے خود کو نہیں چھپایا۔ میں نے چایؑے بنائی اور پھر بنائی تو اس کی مسکراہٹ روشن اور مہربان ہوتی گئی۔ اس کے بعد والے دنوں میں اس نےبڑی آسانی سے اپنا سارا سچ بولا کیونکہ وہ سچ ہی بول سکتا تھا۔ میں نے بھی سچ بولنے کی آسانی کو محسوس کیا۔ اور ہم اس تعلق کی سطح پر آگئے جس میں فکر و نظر کی ہم آہنگی کا ایک سا اعتماد تھا۔ کچھ عرصہ وہ عالمی ڈایجسٹ کیلئےکہانیاں بھی لکھتا رہا، وہ تعلق آنے والی صدی سے بھی آگے تک گیا لیکن عالمی ڈائجسٹ کے آفس سے وہ نہ جانے کہاں گیا۔ کبھی نظر آیا بھی تو پھر نظر نہ انے کیلئے۔ میں سمجھتا تھا کہ ضیا دور کے خلاف اس کیلئے روپوشی ضروری ہے۔ پھر پتا چلا وہ گرفتاری دینے لاہور گیا تھا۔ ایک رات مجھے ملا تو سخت خفا تھا کہ اس کا پنجاب میں داخلہ بند کردیا گیا ہے۔ اس پرتمام اخبارات میں معاش کے راستے بند ہوگئے تو وہ شدید مالی مسایل کا شکار ہوا۔ پھر ملک چین کو چلا گیا اور مجھے اس کی سلامتی کی ہر خبر زبانی طیور کی ملتی رہی۔ مہناز کے جنگ میں شایع ہونے والے “مکتوب بیجنگ” میں تواتر رہا۔

پھر سالوں کی طویل مسافت طے کر کے وہ لوٹا تو یوں جیسے کہیں گیا ہی نہیں تھا۔ اس نے اپنی ذہنی توانائی کو چینی زبان اور ادب پر ایسا عبور حاصل کیا کہ کہ بچوں کی کہانیوں سے لے کر چینی ادب کے نمایندہ افسانے اور ناول ترجمہ کر ڈالے۔ لیکن رہین ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود اپنی نظریاتی جنگ کے خیال سے غافل ہونا اس کیلئےممکن ہی نہ تھا۔ ایک بار اس نے پھر صحافت کے میدان کارزار میں نئی توانائی کے ساتھ قدم رکھا۔ جنگ میگزین سے پہلے وہ کچھ عرصہ “امن” میں رہا۔ جنگ کے میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے اس نےاپنی سپاہ میں ایک احساس جگایا کہ سچ کے دو چہرے نہیں ہوسکتے اور ضمیر برائے فروخت نہیں ہوتا۔ جب وہ چار سال پی ایف یو جے کا صدرتھا تو منہاج برنا اور ضمیر صدیقی جیسے صحافیوں کے نقوش قدم پر چلنے کی روایت بھی زندہ تھی۔ چنانچہ “دی نیوز” کے ایک صحافی عمران شیروانی کے واجبات کی اداییگی کے معاملے پراس نے میر شکیل الرحمان کے سامنے جو موقف اختیار کیا اس کے نتیجے میں احفاظ کو “جنگ” چھوڑنا پڑا۔ وہ سال بھر بے روزگار رہا اور پھر “ایکسپریس” میں تھا۔ جب حکومت نے “جیو” پر پابندی لگائی تو اصولی موقف کی تائید میں وہ “جیو ” کے لئے احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوا اور گرفتاری کے بعد حوالات پہنچ گیا۔ اس کی رہائی ہوگئی تو خود میر شکیل الرحمن کی عالی شان گاڑی اسے لینے پہنچی مگر اس نے انکار کر دیا اور اسی عمران شیروانی کی چھوٹی سی پرانی گاڑی میں بیٹھ گیا جس کی خاطر وہ “جنگ” سے نکلا تھا۔ اس اصول پرستی کے نتیجے میں از خود اس کا قد بلند ہوتا چلا گیا۔

1992 کے بعد ہر صبح وہ گلشن اقبال میں اپنی رہایش کے قریب سے چلنے والی اسٹار کوچ میں سوار ہوتا تو کسی کونے کی سیٹ پر بیٹھ کے کوئی کتاب کھول لیتا۔ روز کے مسافر جو اسے کتاب بند کرکے جنگ آفس کے اسٹاپ پر اترتا دیکھنے کے عادی تھے کیسے جان سکتے تھے کہ وہ کون ہے اور کیا ہے۔ بعد میں کچھ عرصہ وہ گلشن معمارسے موٹر سایکل پر آنے والے میرے بیٹے اور اپنے ماتحت آفتاب اقبال کی موٹر ساییکل پر بیٹھ کے بھی جاتا رہا۔ پریس کلب کے سامنے اس کی پولیس کےلاٹھی چارج کی زد میں لی جانے والی تصویر اس وقت کی ہے جب جنرل مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اس وقت احفاظ شاید 65 سال کا تھا۔

اس کی جرات رندانہ کا ایک نمونہ اس نظم میں دیکھئے جو اس نے معاہدہ شکنی پر صدر مملکت آصف زرداری کے خلاف لکھی:

یو ٹرن۔۔۔۔

کوئلے کی کان سے کالک کا تحفہ پاوگے
کتنے ہی چولے بدل ڈالو چھپا نہ پاوگے
آئینہ تو آئینہ ہے اس سے کیا شکوہ گلہ
آئینہ میں ہر دفعہ اپنا ہی حلیہ پاو گے
گرد اچھالے جاوگے تو گرد منہ میں آئے گی
طفل مکتب تو نہیں ہو کون مانے گا یہ بات
گنتیاں سب بھول کرسادہ صفحہ بن جاو گے
عدلیہ کو تانگنے کا شوق بھی کیا خوب ہے
اس جنوں میں خود نشان گردراہ بن جاو گے
راجہ اندر سے کرو چوری چھپے بوس و کنار
پھر بھلا پرجا میں کیسے باوفا کہلاو گے

وہ بہت بڑا شاعر بھی تھا لیکن کبھی مجھے اس نے ایک شعر نہیں سنایا۔ میں اوقات کار میں نہ کبھی اس احفاظ سے ملا جو میگزین ایڈیٹر تھا نہ اپنے چھوٹے بھائی اخلاق احمد سے جو اخبار جہاں کا ایڈیٹر تھا۔ ذات کے رشتے کا منصب سے کیسا رشتہ چنانچہ مجھے پتا نہیں چلا کہ اخلاق کس قامت کا افسانہ نگار ہے اور احفاظ کیسا سخت گیر رویہ رکھنے والا استاد اور باس۔ میں نے سنا کہ وہ صحافتی تربیت میں کوئی خامی برداشت نہیں کرتا تھا اور شاگرد اس کے عتاب سے کتنا ڈرتے تھے وہ میرے لئے اپنائیت اور ملایمت کی روشن مسکراہٹ دینے والا احفاظ ہی رہا۔

Atif Tauqeer - آج صبح دفتر پہنچا تو احفاظ الرحمان صاحب کی ...اس نے پریس کلب کے سامنے پولیس کی لاٹھیاں اتنی ہی استقامت سےجھیلیں جیسے اس سے دس سال قبل شریک حیات کے برین ٹیومر کی سرجری کا اعصاب شکن مرحلہ بڑی پرسکون خاموشی سے جھیلا تھا۔ بلکہ عین اسی زمانے میں اس نے بالکل برائے نام چارجز پر میری بیٹی کی شادی کے لئے ایک شادی ہال بک کروایا تھا مگر مجھ سے یہ بھی کہ دیا تھا کہ شکریہ کا لفظ مت بولنا۔ مجھے تو سرجری کا اس روز پتا چلا جب وہ میری بیٹی کی شادی میں شرکت کیلئے پہنچا تو مہناز کے سر پر پٹی بندھی ہوئی نظر آئی۔ میری ایسی بے بسی کہ اس سے لڑ بھی نہ سکا کہ یہ کیا قربت اور کیسی دوری کا تضاد ہے۔ اس کی ناقابل شکست خود اعتمادی سے زیادہ سحر اس کی اپنائیت کی قوت میں تھا۔ اس کے بر عکس دوسرے موقعے پر جب میں نے کہا یار میرے ایک ہم پیشہ کینسر میں مبتلا ہیں اور چینی طریقہ علاج ایکو پنکچر کے کسی ماہر سے علاج کرانا چاہتے ہیں تو احفاظ نے کلفٹن میں ایک ڈاکٹر کا نام بتایا اور اس کے نام تعارفی خط لکھنے لگا لیکن وہ اتنا مضطرب تھا کہ چند سطور لکھ کے اس نے خط پھاڑ دیا اور میرا ہاتھ پکڑ کے بولا یار چلو ہم ان کو ابھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ بعد میں وہ ان کے بارے میں مسلسل پوچھتا رہا اور جب پتا چلا کہ ان کا انتقال ہوگیا تو وہ صدمے میں آگیا۔

پھر میں اسلام آباد آگیا اورطویل وقفے کے بعد کراچی گیا تو عالمی اردو کانفرنس میں وہ اپنے پسندیدہ لباس۔ بلیک شرٹ کے ساتھ آف وایٹ سوٹ میں تھا۔ پیچھے سے آ کے مجھے دبوچ لیا۔ ۔ پھر کینسر نے اسے دبوچ لیا۔ ۔ سال بھر بعد بھائی کی بیٹی کی شادی میں آیا تو وہی لباس وہی مسکراہٹ مگر بات کرنا مشکل ہو رہا تھا، گلے لگا تو پہلی بار میں نے اس کی آنکھوں سے بہتے پانی کو دیکھا۔ وہ بالکل بیٹھی آواز میں بات کرتا رہا اور میں بس اسے دیکھتا رہا۔ ۔ اس کے بعد میں نے اسے نہیں دیکھا۔ مجھے معلوم ہوتا رہا کہ کینسراس کو شکست دے رہا ہے مگر مجھ میں ہمت نہ تھی کہ ایک خوبصورت تعمیر کا گرتا کھنڈر دیکھوں۔ اس کے سامنے رونے لگوں جس کی مسکراہٹ کو قریب آتی موت آخری سانس تک شکست نہیں دے سکی تھی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20