جو ہم پہ گزری: ایک سفارت کارکے روزوشب —- نعیم الرحمٰن

0

ہمارے ملک میں سفارت کار، بیوروکریٹ اورفوجی جنرلزنے بہت زیادہ آپ بیتیاں لکھی ہیں۔ جواگرانگلش میں بھی تحریرہوئیں تواس کااردو ترجمہ بھی سامنے آیا۔ سب سے معروف آپ بیتی معروف بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب کی ’’شہاب نامہ ‘‘ ہے۔ جسے کم ازکم میں آپ بیتی تسلیم نہیں کرتا۔ شہاب نامہ حقیقی واقعات اورشخصیات سے مزین ایک دلچسپ ناول ضرور ہے لیکن آپ بیتی نہیں۔ اس لیے ایسی بیشترآپ بیتیاں جھوٹے یااپنے نقطہ نظرکودرست ثابت کرنے والے خودساختہ واقعات سے بھری ہوتی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان آپ بیتیوں سے طاقت کے ایوانوں کی بہت سے کہی ان کہی عام قاری کے سامنے آجاتی ہیں۔ ان کتب کے اقتباسات دے کران کا تجزیہ کیا جائے تواس کے لیے پورا مضمون درکارہے۔ سفارت کاروں کی معروف خودنوشتوں میں فدایونس کی ’’تھانے سے سفارت تک‘‘ ڈاکٹرسمیع اللہ قریشی کی ’’سفیر اورسفارت کاری‘‘ سلطان محمدخان کی ’’چمن پہ کیاگزری‘‘قطب الدین عزیز کی ’’سفارتی معرکے‘‘سیدمظہرحسین کی ’’ سفارت کارکی سرگزشت‘‘ ارشدسمیع خان کی ’’تین صدورکاایڈی کانگ‘‘شامل ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں کرامت اللہ غوری نے جن سربراہان مملکت کے ساتھ کام کیاتھا۔ ان کی یادوں پرمبنی’’ بارِشناشائی‘‘ اورپھرضخیم آپ بیتی ’’روزگارِ سفیر‘‘ تحریرکی۔

راشداشرف نے زندہ کتابیں کے تحت سابق سفیر پاکستان سیدسبطِ یحیٰی نقوی کی آپ بیتی ’’جوہم پہ گزری‘‘ شائع کی ہے۔ سیدسبطِ یحییٰ نقوی 1947ء میں بھارت میں پیداہوئے۔ وہی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور1962ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے اوریہاں بی ایس سی میں داخلہ لیا۔ ایک سال قبل شہریت ملنی بند ہونے کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کاسامناکرناپڑا۔ یحییٰ نقوی بہت قابل طالب علم تھے اس لیے ہمیشہ امتیازی پوزیشن کے ساتھ کامیاب ہوئے۔ ماسٹرزکرنے کے بعدسی ایس ایس کی ڈگری بھی نمایاں پوزیشن سے حاصل کی۔ 1972ء میں وہ فارن سروس میں آگئے۔ جہاںتعیناتی کے دوران انہیں سربراہانِ مملکت اورسینئروزراء کوقریب سے دیکھنے کاموقع ملا۔ اوربہت اہم چشم دید واقعات کے گواہ بھی بنے۔ نقوی صاحب جیسے شریف النفس انسان کے لیے فارن سروس آسان نہیں۔ انہوں نے دمشق میں اسکول بنانے کی کوشش کی جس میں نائب وزیراعظم اوروزراء کے بچے پڑھتے تھے۔ لیکن ان کی اپنی وزارتِ خارجہ اورفارن سیکریٹری نے انہیں بہت پریشان کیا۔ اِن کاتبادلہ کیاگیا اورترقی میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔

’’جوہم پہ گزری‘‘ آپ بیتی کی روایتی خامیوں سے مبراہے اورنقوی صاحب نے سیدھے سادھے اسلوب میں بہت کچھ بلاکم وکاست لکھ دیا ہے۔ ’’عرض داشت ‘‘کے عنوان سے لکھتے ہیں۔ ’’ بطورسفارت کاراپنی ذمہ داریوں کے دوران جومشاہدات میرے سامنے آئے۔ میں نے ان کواسی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں کوئی مبالغہ، تبصرہ یاتجزیہ شامل نہیں کیانہ ہی ان پراپنی کوئی رائے دی ہے بلکہ پڑھنے والے پرچھوڑدیاہے کہ وہ خوداپنی رائے قائم کرے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ میری زیادہ ترتقرریاں ایسے ممالک میں ہوئیں جہاں آمرانہ حکومتیں تھیں۔ پہلی پوسٹنگ لیبیاکی تھی جہاں کرنل قذافی نے آمرانہ نظام قائم کیاتھا اس کے بعد رومانیہ جہاں چاؤسسکومطلق العنان حکمران تھے۔ پرتگال میں جمہوریت آگئی تھی لیکن چالیس سال حکومت کرنے والے حکمران انتونیوسالازارکی باقیات نظرآتی تھیں۔ پھر انڈونیشیامیں سوہارتوایک ڈکٹیٹر تھے اورسیریاجہاں حافظ الاسد اورپھربشارالاسدجابرحکمران تھے۔ نیدرلینڈ میں بادشاہت تھی لیکن یہ ایک جمہوری ملک ہے۔ پاکستان میں میری نوکری کے دوران ذوالفقارعلی بھٹو اورجنرل ضیاء الحق کسی ڈکٹیٹرسے کم نہیں تھے۔ بینظیراورنواز شریف کے دور میں بس نام کی جمہوریت تھی۔ جنرل مشرف بھی ایک ڈکٹیٹرتھے۔ ڈکٹیٹروں کوقریب سے دیکھنے کاموقع ملا۔ یہ بات صحیح ہے کہ ڈکٹیٹروں کواپنی ذات کے علاوہ کسی سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگروہ ہیں توملک وقوم ہے اوروہ نہیں رہیں گے توملک وقوم بھی ختم ہوجائے گی۔ ان کے چاروں طرف مطلب پرست خوشامدی جمع ہوجاتے ہیں جوان کوعوام سے دورکردیتے ہیں۔ آمرانہ نظام میں ملک معاشی اورسیاسی طور پرپیچھے چلاجاتاہے۔ ملک میں مصنوعی ترقی کے چرچے توہوتے ہیں مگرحقیقت میں معاشی اورسیاسی ترقی نہیں ہوتی۔ ڈکٹیٹروں کے جانے کے بعدملک وقوم معاشی بدحالی کااورسیاسی بحران کاشکارہوجاتے ہیں۔ ‘‘

کتاب کادیباچہ معروف دانشوراورماہرِجوش ملیح آبادی ڈاکٹرہلال نقوی نے لکھاہے۔ ’’اردویاکسی بھی زبان میں جونثری اصناف ہیں، اُن میں دوصنف ایسی ہیں جو ہمارے ذہن، ہماری فکراورہماری شخصیت کی سب سے زیادہ آئینہ دارہوتی ہیں۔ ایک خطوط نویسی اوردوسرے سوانح حیات۔ ان دونوں کایہ وصف مشترکہ ہے کہ ان میں تصنع اورمصنوعی رکھ رکھاؤ کے امکانات ذراکم ہوتے ہیں۔ لکھنے والا اگرمصلحت اور زمانہ سازی کی وجہ سے دروغ گوئی سے کام لینا بھی چاہے تواُس کی چوری پکڑی جاتی ہے۔ یہ ہمارے خطوط ہی ہوتے ہیں اوریہ ہمارے سوانحی حالات کاایک سفرہی ہوتاہے جس میں پیوندکاری اوربخیہ گری سے بات نہیں بنتی۔ اسی لیے کسی کایہ کہناغلط نہیں ہے کہ ہماری شخصیت کے خدوخال یاتوسوانحی حالات کے شیشوں سے جھانکتے ہیں یاخطوط کے آئینے میں وہ باتیں کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اپنی زندگی کی رودادفلم بندکرنے کاکام لبادہ اوڑھ کرنہیں کیاجاسکتا۔ پاکستان کے سابق سفیرسیدسبطِ یحییٰ نقوی کی کتاب ’’جوہم پہ گزری‘‘ اس سوال کا انتہا ئی جامع جواب ہے کہ سرکارکی بندشوں میں رہ کرایک شفاف زندگی کے روزوشب کیوں کربسرکیے جاسکتے ہیں۔ ‘‘

سیدسبطِ یحییٰ کاکہناہے کہ یہ کتاب کچھ ان کی سرگزشت ہے کچھ حکمرانوں کی رُودادہے۔ کتاب میں اس سے بڑھ کربھی کچھ پہلونظرآتے ہیں۔ جواس سرگزشت کوتاریخ بھی بناتی ہے اوراپنے دیس اورپردیس کے رسم ورواج، موسم، جغرافیائی حالات، آب وطعام کے آداب، زبان کے تہذیبی اثرات، مقامی زندگی کی مشکلات اوران کوبرتنے کاہنر، یہ سب رنگ اس کتاب میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ قاری کے سامنے یہ بات بھی رہنا چاہیے کہ سبطِ یحییٰ نے جن ادوارمیں سفارتی ذمہ داریاں نبھائیںوہ بیشترڈکٹیٹروں کادوررہا۔ ان کی معاملہ فہمی نے بڑے پروقار طریقے سے یہ سخت مراحل طے کرلیے۔

کتاب کی ایک اورخوبی معلومات کاخزانہ ہوناہے۔ واقعات اورشخصیات کااس میں تسلسل سے جوتذکرہ ہے وہ اسے تاریخی دستاویز بھی بنا دیتاہے۔ وہ جس ملک میں رہے۔ وہاں کے طرزِحیات وہاں کی معیشت، نشست وبرخواست، تعلیمی رحجانات سے تفریحی مقامات اورپھر تجارتی منڈیوں تک کااحوال کتاب میں مل جاتاہے۔ بقول ڈاکٹرہلال نقوی۔ ’’اپنی اس کتاب میں اہم منصب پرفائزحضرات سے اپنی گفتگوکاکوئی ذکرکیاہے تووہاں کسی بھی نکتے پران کی سوچ اورافہام وتفہیم کی روش سے ان کے ذہن کوپڑھنے میں ہمیں بہت مدد ملتی ہے۔ میرے خیال میں تواس کتاب میں مضامین کاجوتنوع ہے وہ تقاضاکرتاہے کہ ایسی سوانحی کتب کونصاب کاحصہ ضرورہوناچاہیے۔ ہمیں اس طرز کی کتب کاخیرمقدم یوں بھی کرناچاہیے کہ یہ سکہ بند، ادیب وقلم کاروں کی طرف سے نہیں بلکہ ایک ایسے بیوروکریٹ کی طرف سے معلومات کی ایک دستاویز ہے جواپنی گوشہ نشینی اورسنجیدگی طبع کے سبب خاموشی سے اپنے تجربات پاکستان کی آنے والی نسلوں کومنتقل کررہے ہوں۔ ‘‘

کتاب کاپیش لفظ سبطِ یحییٰ کے ہم عصرسفارت کارکرامت اللہ غوری نے لکھاہے۔ غوری صاحب نے پیش لفظ کے آغازمیں بڑی دلچسپ بات تحریرکی ہے۔ ’’سفارت کاری کے بارے میں یہ عام کہاجاتاہے کہ یہ دنیاکے قدیم ترین پیشوں میں سے ایک ہے، اوریہ کہناکوئی غلط بھی نہیں ہے۔ کچھ ستم ظریف تویہاں تک کہتے ہیں کہ عصمت فروشی ورسفارت کاری دنیا کے دوسب سے پرانے پیشے ہیں اوردونوں میں قدریں مشترک ہیں۔ ایک میں بدن بیچاجاتاہے تودوسرے میں ضمیراورفرق یہ ہے کہ ایک کی کمائی تومحنت کی ہے جبکہ دوسری مفافقت کی روزی ہے۔ یہ بیانیہ تفنن طبع کی حدتک توشاید گوارا ہولیکن حقیقت سے اس کاکوئی تعلق دوردورتک نہیں۔ وہ جوکہاوت ہے کہ قبرکاحال تومردہ ہی جانے تواصل میں سفارت کاماجرا اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتاجب تک سمندرمیں اترکریہ نہ دیکھاجائے کہ گہرائی کتنی ہے اورپانی ٹھنڈا ہے یاگرم؟ سفارت کاری بڑی حد تک ضمیر کاامتحان توہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ قدم قدم پرعزم وہمت اوراخلاقی قدروں کو کسوٹی پرپرکھنے کابھی کام ہے اوریہ کام سفارت کارخود توکرتاہی ہے لیکن اس کے علاوہ وہ سب بھی کرتے ہیںجوسفارت کارکی سفارت کو دیکھتے ہیں اوراس سے رابطے رکھتے ہیں۔ ‘‘

سیدسبطِ یحییٰ نقوی 1972ء میں سفارت کاری سے وابستہ ہوئے اورپینتیس سال بعددوہزارآٹھ میں ریٹائرہوگئے۔ اس طویل سفارت کاری کے دور میں انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹو، ضیاء الحق، بے نظیربھٹو، نوازشریف اورپرویز مشرف کے دورِحکمرانی کامشاہدہ کیا۔ ان کے علاوہ غلام مصطفیٰ جتوئی، معین قریشی، بلخ شیرمزاری اوردیگرکیئرٹیکروزرائے اعظم کے ادواربھی دیکھے۔ اس دوران پیش آنے والے چیدہ چیدہ واقعات سے ان شخصیات کی سوچ، کرداراورحب الوطنی کاقاری کوبخوبی اندازہ ہوجاتاہے۔

سبط ِ یحییٰ نے 1971ء میں سی ایس ایس کاامتحان امتیازی پوزیشن سے پاس کیا۔ اورانہیں پولیس میں نوکری کی پیش کش ہوئی جوانہیں پسند نہیں تھی۔ لہٰذاانہوں نے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کوجوائن کرلیا۔ وہ دراصل سول سروس آف پاکستان میں آناچاہتے تھے۔ جس کے لیے دوبارہ 1972ء میں امتحان دیااورسندھ بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی اوران کی سی ایس پی کی خواہش پوری ہوگئی۔ اسی سال بھٹو نے سروس سروس کودیے آئینی تحفظ کی شق ختم کردی اوراعلیٰ ملازمتوں کے کیڈربھی ختم کردیے۔ ان ملازمتوں کے لیے گروپ بنادیے گئے۔ سول سروس آف پاکستان کانام ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کردیاگیا۔ اب سول سروس کی پہلے والی شان وشوکت نہیں رہی تھی۔ آئینی تحفظ ختم ہونے سے ترقیاں اورتقرریاں بھی سیاسی مصلحت اورروابط کی بنیاد پرہونے لگیں۔

1976ء میں سبطِ یحییٰ کی پہلی سفارتی تقرری بطورسیکنڈ سیکریٹری لیبیامیں ہوئی۔ جب وہ طرابلس پہنچے توپاکستان اورلیبیاکے تعلقات نہایت خوشگوارتھے۔ دوسال قبل کرنل قذافی دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔ پاکستانی عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیاتھااورانہیں عالم ِ اسلام کاہیروقرار دیاتھاجس نے ان کادل جیت لیا۔ قذافی کے دل میں بھٹواورپاکستانی عوام کے لیے خیر سگالی کاجذبہ گھرکرگیاتھا۔ وہ بھٹوصاحب کی شخصیت اوراسلامی کانفرنس کی کامیابی سے بہت متاثرتھے۔ بھٹو اورقذافی میں نظریاتی ہم آہنگی اورایک دوسرے کے لیے پسندیدگی پیداہوگئی تھی۔ قذافی کے دورہ پاکستان کے بعددونوں ملکوں میں مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدے ہوئے۔ جس میں سب سے اہم پاکستان سے افرادی قوت کی فراہمی تھی۔ جس سے ملک کی معیشت کوبہتربنانے میں مددملی۔

جون 1977ء میں پی این اے سے مذاکرات کے دوران ذوالفقارعلی بھٹونے اچانک چھ ملکوں سعودی عرب، لیبیا، ابوظہبی، کویت، ایران اورترکی کادورہ کیا۔ ان کے وفد میں وزیرخارجہ عزیزاحمد، سیکریٹری خارجہ آغاشاہی، دووفاقی وزیر، سیکریٹری اوردیگراعلیٰ حکام سمیت پچاس ساتھ افراد شامل تھے۔ طرابلس میں صرف دوہی اچھے ہوٹل تھے، جن میں جگہ نہیں تھی۔ بڑی مشکل سے پیلس ہوٹل میں بیس کمرے بک ہوئے۔ ایک کمرے میں دو، دوآدمی ٹھہرائے گئے اورکچھ کولابی میں بھی سوناپڑا۔ جس سے وفد کے لوگ بہت ناراض ہوئے۔ بھٹوصاحب کو قصرضیافہ میں ٹھہرایاگیا۔ وہیں عزیزاحمد اورآغاشاہی کے بھی کمرے رکھے گئے۔ مگربھٹوصاحب نے آغاشاہی کے لیے ہوٹل میں انتظام کا کہا۔ ان کے ہوٹل کاکمرہ بہت اچھانہیں تھا۔ جس پروہ بہت برہم تھے۔ ان کاغصہ سفارت خانے کے عملے خصوصاً ان کی دیکھ بھال کے لیے تعینات سبطِ یحییٰ پرہی نکلاکہ یہ بھی سفارت کارکی ڈیوٹی کاحصہ ہے۔

لیبیاقیام کے دوران نقوی صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ تین ہفتے کی چھٹی پرسوئزرلینڈگئے۔ سوئس آئین کے بارے بتاتے ہیں۔ ’’ سوئیز دستورکے مطابق سوئزرلینڈ کاصدرسال میں صرف ایک بارغیرملکی دورے پرجاسکتاہے وہ بھی پارلیمنٹ کی اجازت سے۔ ہلے پارلیمنٹ میں یہ بحث ہوتی ہے کہ صدرکامجوزہ غیرملکی دورہ ملک وقوم کے لیے کتناسودمند ہے۔ اگرپارلیمنٹ کی رائے میں صدرکادورہ سودمند نہیں تو دورے کی اجازت نہیں ملتی۔ ‘‘

پاکستانی عوام کے لیے دستورکی یہ شق کتنی حیران کن ہے۔ جہاں وزرائے اعظم اوردیگروزراء اکثرغیرملکی ٹورز پر ہی رہتے ہیں۔ ہمارے حکمران کس طرح غیرملکی دوروں پراصرافِ بیجاکرتے ہیں۔ اس کی مثال 1982ء صدرضیاء الحق کابخارسٹ رومانیہ کادورہ تھا۔ سبطِ یحییٰ کے مطابق۔ ’’صدرضیاء الحق کاوفد ایک سودس افرادپرمشتمل تھا۔ ان کے ساتھ آٹھ وزراء تھے۔ ان کے علاوہ خارجہ، انفارمیشن، کامرس، انڈسٹریزکی وزاتوں کی اعلیٰ افسران، پریس، ریڈیواورٹیلیویژن کے بیس افراد، صدرکے ذاتی عملے کے لوگ تھے۔ اتنے بڑے وفد کی ضیافت رومانیہ کے پروٹوکول والوں کے لیے مشکل ہوگئی۔ وفد کے لیے دوہوٹل مختص کیے گئے۔ لیکن رومانیہ کی حکومت نے صدرکے خاندان، ہمارے وزراء اور وزارتِ خارجہ کے آٹھ افراد کواپنے خرچ پرٹھہرایا۔ باقی لوگ حکومتِ پاکستان کے خرچ پرٹھہرے۔ ‘‘

انڈونیشیامیں تقرری کے دوران وزیراعظم میاں نوازشریف غیرجانبدارممالک کی کانفرنس میں شرکت کیلیے جکارتہ آئے۔ وزیراعظم کی آمد سے چنددن پہلے نقوی صاحب کو چیف پروٹوکول افسرکرنل ٹریسلرکا فون آیا۔ ’’ میاں صاحب بیگم اوربچوں کے ساتھ آرہے ہیں۔ ان کی فیملی کے چھ افراد ہیں ان کے کھانے کاکیاانتظام ہے۔ میں نے کہامیاں صاحب اوراہل خانہ ہوٹل ہلٹن میں ٹھہریں گے وہاں ہرقسم کے انٹر نیشنل کھانوں کاانتظام ہے۔ کرنل صاحب نے کہامیاں صاحب صرف پاکستانی کھانے کھاتے ہیں۔ ان کاانتظام کیاجائے۔ میں نے کہا کہ جکارتہ میں نہ پاکستانی مسالہ جات ملتے ہیں، نہ دالیں، نہ باسمتی چاول ملتے ہیں۔ کرنل ٹریسلر نے کہاکسی بھی طرح انتظام کریں۔ میں نے اپنی بیگم آسیہ سے کہامیاں صاحب چاردن جکارتہ میں رہیں گے۔ ان کے لیے لنچ اورڈنربھیجناہوگا۔ میں نے اورآسیہ نے مل کرمینوبنایا۔ میں نے کہاکہ وزیراعظم کاکھانا ہے اس لیے کافی مقدرمیں ڈشیں ہوناچاہیے۔ آسیہ کھانا لے جانے کے لیے دوبڑے کنستروں کے برابر ناشتہ دان لے آئی۔ شام کوبریانی، مغلئی قورمہ، پالک گوشت، چکن روسٹ ارچپاتیاں دوناشتے دانوں میں وزیراعظم کے لیے بھجوادیں۔ کئی قسم کے سلاد اورمیٹھے کی ڈشیں ہوٹل سے آرڈرکردیں۔ ان کے ملٹری سیکریٹری کافون آیامیاں صاحب نے کھانے کی بہت تعریف کی ہے۔ ساتھ ہی خالی ناشتہ دان واپس آگئے۔ رات کوگیارہ بجے کرنل ٹریسلر نے کہاکہ گاڑیاں لگواؤ۔ میاں صاحب کومیکڈونلڈبہت پسند ہے۔ وہ میکڈونلڈ کھانے جائیں گے۔ میں حیران ہواکہ نوبجے تواچھاخاصہ بھاری ڈنرہواتھااوراب میکڈونلڈ کی گنجائش ہوگی۔ میکڈونلڈ میں کرنل صاحب نے فیملی کے لیے ایک ایک برگر اورمیاں صاحب کے لیے بڑامیک برگرکاآرڈردیا۔ ساتھ ہی آئس کریم بھی کھائی گئی۔ ‘‘

میاں نوازشریف کی خوش خوراکی کے کئی قصے سب نے سنے ہوں گے۔ ان میں یہ ایک منفرد واقعہ ہے۔ کانفرنس کے دوران بوسنیاہرزیگووینا میں مسلمانوں کے قتل عام اورسربین فون کی مذمت کے لیے میٹنگ شروع ہوئی۔ جس میں اقوام متحدہ کی امن فوج بھیجنے کی اپیل بھی کی گئی۔ کچھ ممالک مخالفت بھی کررہے تھے۔ اس بحث میں رات کے گیارہ بج گئے۔ پرنس نورڈوم سہانوک پرزورتقریرکررہے تھے کہ یکایک میاں صاحب ناک سے گہرے سانس لینے لگے جیسے کچھ سونگھنے کی کوشش کررہے ہوں۔ پھرسفیرصاحب سے کہنے لگے مونگ کے پاپڑکی خوشبو آ رہی ہے۔ سفیرصاحب میری طرف دیکھ کرمسکرادیے۔ اب مہاتیرمحمدتقریر کررہے تھے اورکانفرنس کی طرف سے قرارداد کے منظورپراصرار کر رہے تھے۔ میاں صاحب مونگ کے پاپڑکے بارے میں سوچ رہے تھے۔ آخران سے نہ رہاگیااورسفیرصاحب سے کہاکہ میٹنگ کے بعد مونگ کے پاپڑ کاانتظام کیاجائے۔ سفیرنے مجھ سے بندوبست کے لیے کہا۔ رات گیارہ بجے کے بعدکہاں مونگ کے پاپڑ ملیں گے۔ خیر میں نے ملٹری سیکریٹری کرنل غلام نبی جوانڈونیشی زبان بول لیتے تھے، سے مونگ کے پاپڑ کاانتظام کرنے کوکہا۔ انہوں نے واکی ٹاکی پرہلٹن ہوٹل کوآرڈردیامیاں صاحب کمیٹی روم سے باہرآئے توانہیں بتایاگیاکہ پاپڑتیارہیں۔ ہ بہت خوش ہوئے۔ مونگ کے پاپڑ کاایک بڑا ٹوکراروم سروس والے ان کے سوئٹ میں دے آئے۔ تھوڑی دیربعد ٹوکراخالی ہوکرواپس آگیا۔

’’جوہم پہ گزری‘‘پاکستانی اشرافیہ کے ایسے بے شماردلچسپ واقعات، ملکوں ملکوں کی تہذیب، ثقافت، رہن سہن کے بارے میں معلومات کا خزینہ ہے۔ سیدسبطِ یحییٰ نقوی کااسلوب تحریرسادہ اورپرکارہے۔ کتاب انتہائی دلچسپ اورایک ہی نشست میں پڑھنے پرمجبورکردیتی ہے۔ اورآج کے لاک ڈاؤن کے لیے توبہترین کتاب ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20