نصوص کی تعبیراتِ نو: رجحانات و سوالات —- طیب عثمانی

1

زمانے کی تبدیلی اور انسانی احتیاجات کی وجہ سے نصوص کی تعبیرات ازمنہ سابقہ میں ہوتی رہیں ہیں اور یہ یقینا روایت میں ہمیشہ سے تسلسل رہا، معاصر زمانے میں انسانی ضروریات اور رجحانات کی تبدیلی سے عرف یعنی سماج و تمدن کی تبدیلی تیز تر ہوئی… مسلم اقوام میں سماجی تبدیلی کی رفتار تیز نہیں بلکہ سست رو ہے اور فکریات میں تبدیلی کا رجحان عہد سرسید و اقبال سے ہو چکا ہے. جبکہ دیگر اقوام میں سماجی و فکری تبدیلی تیز رفتار ہوئی…. وہاں کے مسلمان بھی اس تیزی کے بعد اس بات کے متقاضی نظر آئے کہ شریعہ و معاصر علوم کی روشنی میں ان کی احتیاجات کے بارے میں کوئی حل دیا جائے….. اس کیفیت سے نبردآزما ہونے کے لیے ہمارے علمی حلقات میں چار قسم کے رجحانات پیدا ہوئے:

1. انکاری رجحان:
نصوص کی تعبیر نو کی آڑ میں نصوص سے فرار اختیار کیا جا رہا ہے، تعبیرات نو کا تصور مسلمانوں میں استشراقی اثرات کے پیش منظر کی وجہ سے ہے، لہذا روایت پر کاربندی ہی یہی ہے کہ تعبیرات کو رد کر دیجیے….

2. انتظاری رجحان:
اس کا مطلب ہے کہ وہ کچھ نصوص میں تعبیر نو کے قائل ہوتے ہوئے پہلے زمانوں کی واپسی کا رجحان رکھتے ہیں، “واعدوالھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل ” میں الخیل کے معاصر مدلول یا گھوڑے کی بحث کے بارے میں ایسے ہی ایک صاحب کے بقول :
“کل کلاں کو ہو سکتا ہے یہ مراد پھر سابقہ معنی پر لوٹ آئے۔ ہو سکتا ہے کہ انسانی ترقی کے یہ سب مظاہر کسی وجہ سے آئندہ زمانے میں ختم ہو جائیں اور پھر سے گھوڑے اور تلواریں ہی استعمال ہونا شروع ہو جائیں۔ کون جانتا ہے کیا ہو گا۔ اس لئے مدلول کو نہیں چھیڑنا چاہئے۔ وقتی طور پر جو مراد و مفہوم ہے وہ امکانی انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ تاہم میرے خیال میں احوط طریقہ یہی ہے کہ قطعی طور پر ان الفاظ کو عصری مفہوم عطا کر دینے کی بجائے ان کے مدلول کو اسی طرح رہنے دینا چاہئے، البتہ امکانی انداز میں نہ کہ قطعی انداز میں، عصری مفاہیم جو سمجھ میں آ رہے ہوں ان کو بیان کر دیا جائے۔ تاہم اس بیان میں قطیعت نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔ ”

3. روایت سے انحرافی رجحان :
اس رجحان کے قائلین انسانی احتیاجات کی روشنی میں روایت میں موجود تمام تعبیرات سے انحراف کا رویہ رکھتے ہوئے عصر حاضر میں نئی روایت کی تشکیل کے قائل ہیں. ان کے ہاں تاریخیت موجود ہے یعنی اس رجحان کے حاملین کے ہاں شریعت خود کوئی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ صرف اپنے دور کے رائج اخلاقی تصورات یا سماجی مصالح کو قانون کی صورت میں تشکیل دیتی رہی ہے۔

4. روایت میں تسلسل کارجحان :
اس رجحان کے قائلین کے بقول زمان و مکان کی تبدیلی اور انسانی تمدنی ارتقاء کی روشنی میں تعبیرات نو ہوں. روایت میں اسلاف کا طرز عمل تجدید و ارتقاء، تعبیر نو و تشکیل نو کا ہے……. اس فکر سے جڑے افراد روایت میں تاریخیت اور اس کے ارتقاء و تشکیل کے حاملین ہیں. اس رجحان میں بھی تاریخیت موجود ہے، لیکن یہ تاریخیت تیسرے رجحان والی بالکل نہیں ہے، مولانا عمار ناصر اس تاریخیت کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں :

“تاریخیت کا ایک مفہوم وہ ہے جس کی رو سے شریعت خود کوئی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ صرف اپنے دور کے رائج اخلاقی تصورات یا سماجی مصالح کو قانون کی صورت میں متشکل کر دیتی ہے۔ یہ تصور ہمارے نزدیک گمراہی ہے۔ ہم جو بات سمجھانا چاہ رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ
1.نصوص میں جہاں بہت سی چیزوں کی پابندی حکم الٰہی کے طور پر لازم کی گئی ہے، وہاں کئی چیزوں میں اس زمانے کے معروف کو یا معاشرتی ضروریات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ ان دو طرح کے امور میں امتیاز کرنا مجتہدین کا وظیفہ ہے۔
2. کون سی چیز کس دائرے کی ہے، اس کی تعیین میں ایک ہی تاریخی تناظر میں اجتہاد کرنے والے اہل علم کا بھی اختلاف ہو سکتا ہے جیسا کہ اسلامی روایت میں ہوا، اور واقعاتی وتاریخی تناظر کے بدل جانے سے بھی زاویہ نظر کا اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کی مثالیں بھی اسلامی روایت میں موجود ہیں۔
3. نصوص پر غور کرنے والے اہل علم واقعاتی تناظر اور درپیش سوالات سے مجرد ہو کر نصوص پر غور نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں۔ مجتہدین کا، مذہبی متن کو دیکھنے کا زاویہ نظر جن بہت سے عوامل سے تشکیل پاتا ہے، ان میں ایک بہت اہم عامل وہ milieu بھی ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہے ہوتے ہیں۔ متن کی کوئی بھی تعبیر، یک طرفہ اور مجرد طور پر صرف متن پر غور کرنے سے نہیں، بلکہ ایک خاص تاریخی وسماجی تناظر میں متن پر غور کرنے سے وجود میں آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تعبیر متن ۱۔ سماجی تناظر، ۲۔ مجتہد کے انفرادی رجحان اور ۳۔ متن کے داخلی مدلولات، ان تین عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے۔

ہمارے نزدیک معاصر روایتی مذہبی طبقوں میں مقبول یہ دو نکاتی فارمولا انتہائی simplistic ہے کہ
1. ہر وہ چیز جو ’’منصوص’’ ہے، وہ اجتہاد سے ماورا ہے.
2. اورہر وہ تعبیر جس پر ماضی میں ’’اجماع’’ ہو چکا ہے، وہ unquestionable ہے۔
ہم اس باب میں اقبال کی اس حریت فکر کو درست سمجھتے ہیں کہ ہر دور کے اہل اجتہاد کو سلف کے کام سے استفادہ کرتے ہوئے، لیکن انھیں رکاوٹ بنائے بغیر، اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرنا چاہیے. ”

مذکورہ رجحانات کی کشمکش کیفیت میں نصوص کی تعبیر نو کے حوالے سے چند اہم سوال ذہن میں پیدا ہوئے . جن کے مدلل اور مآخذ کی اساسی مستفاد عبارات کی روشنی میں جوابات درکار ہیں…..
1. کن نصوص کی تعبیر نو ہو سکتی ہے اور کن میں نہیں؟
2. جن میں تعبیر نو ہو سکتی ہیں اس میں عرف اور انسانی احتیاجات کس قدر موثر ہونگی؟
3. جن نصوص میں تعبیر ہوئی کیا ابتداء سے آج تک تبدل عرف و احتیاج ایک ہی رجحان رہا یا بدلتا رہا…؟
4. وہ کون سی نصوص جن کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تعبیر نو ہوئی اور یہ نصوص سے فرار ہے؟
5. نصوص کی تعبیر قطعیت و ظنیت کے کس دائرے میں کب کیسے ہوگی؟
6. کیا تعبیر نو جس زمانے میں بھی ہوئی، کیا اسے عمومی طور پر قبول کیا گیا یا اس کی مخالفت ہوئی؟
7. ہر علمی زمانے میں کی گئی تعبیرات نو سیاسی طور پر نافذ ہوتی رہیں یا ان کے لیے علمی ماحول رہا، اگر علمی قبولیت بغیر سیاسی رہی تو اس کا شماریاتی بنیادوں پر فیصدی شرح کیا رہی؟
8. کسی زمانے کی رد کی گئی تعبیر کو بعد میں قبول کیا گیا یا ہمیشہ رد ہی کیا جاتا رہا؟
9. نصوص کی تعبیر کی تبدیلی کے بنیادی محرکات کیا بنتے رہے اور کیا ان میں تبدیلی ممکن ہے، اگر محرکات کی تبدیلی ممکن ہے تو اس کے اس تبدیلی کی معیاریت کیسے طے ہوگی؟
10. تعبیرات چونکہ غیر ملہم ہیں تو اگر وہ غیر معقول ہوں تو ان کے بارے میں تبدیلی کے امکانات کی حیثیت و درجہ کیا ہوگا؟
تلک عشرۃ کاملہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20