” کہے بغیر اور کرونائی مصروفیت” —- شاہد شوقؔ

0

” خیبر، سندھ، پنجاب، بلوچستان میں رہتا ہوں
میں کشمیر ہوں سارے پاکستان میں رہتا ہوں ”

بچپن میں ہزارہ کے نامور گلوکار شکیل اعوان کی آواز میں بہت بار یہ غزل سننے کو ملی، مگر اندازہ نہیں تھا کہ اس خوبصورت غزل کا خالق کون ہے۔
کچھ عرصہ پہلے کشمیر کے ایک بذلہ سنج مصنف اور نابغہ روزگار شاعر عبدالبصیر تاجور کا مضمون فیسبک کی ورق گردانی کرتے ہوئے پڑھنے کو ملا جو کہ انہوں نے پروفیسر اعجاز نعمانی کی کتاب ” کہے بغیر ” کے متعلق تحریر کیا تھا۔ مضمون پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کی غزل ہے۔ دل میں خواہش جاگی کہ کتاب مانگ کر پرھنی چاہئیے، چنانچہ کمنٹ کیا کہ ” کہے بغیر اگر مانگے بغیر مل جائے تو ہمیں بھی پڑھنے کا موقع مل سکے۔ ” ساتھ ہی لکھا کہ ” صاحب مضمون اور صاحب کتاب سے ملنے کا شوق بڑھ گیا ہے ” جو کہ دسمبر ۲۰۱۹ میں صاحب مضمون سے ملاقات کی صورت میں آدھا تو پورا ہوا مگر تشنگی ہنوز برقرار ہے کہ نعمانی صاحب سے ملاقات اب تک نہ ہو سکی۔ تو میرے کتاب مانگنے والے ڈھیٹ انداز کے باوجود نعمانی صاحب نے انبکس میں پتہ مانگ لیا۔ ہم نے خوشدلی سے پتہ لکھوایا اور دڑھ وٹ گئے۔ کچھ دنوں بعد کتاب ہمیں مل چکی تھی مگر مکمل پڑھنے کا موقع ابھی تک نہ مل سکا تھا۔ “کرونائی” مصروفیت کے باعث مطالعہ شروع کیا تو ایک ایک مصرعے پر داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

نعمانی صاحب کے ہاں فکری اور فنی لوازمات سے بھر پور اشعار ملتے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی ایک گوجری غزل ” نیلا تہاری ” میں بھی پڑھ چکا تھا مگر اردو غزلیات میں ان کا شعری حسن فراوانی کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ” کہے بغیر” میں تخیل کی بلند پروازی بھی ہے، خوبصورت تشبیہات و استعارے بھی ہیں، خوش فہمیاں بھی ہیں، دھمکی آمیز رویہ بھی ہے، دھرتی ماں سے محبت اور اس کا غم بھی ہے تو ساتھ ساتھ اجتماعی شعور بھی ہے۔ اس کے علاوہ روایت اور جدت کا حسین امتزاج بھی ملتا ہے۔

نعمانی صاحب پیشے کے لحاظ سے معلم ہیں تو انہیں اس پیشہ ء پیغمبری پر فخر بھی ہے اور خاندانی روایات کا پاس بھی۔

مرے بزرگوں کا پیشہ پیمبرانہ تھا
خدا کا شکر ہے میں بھی پڑھانے والا ہوں

بہت ہی حیرت زدہ ہیں میرے قبیلے والے
میں ان کے وہم و گماں سے آگے نکل گیا ہوں

امت مسلمہ کا درد یوں سمیٹتے ہیں
‌‍
” کیوں نہ تڑپوں گا میں برما کے شہیدوں کے لیے
ان سے غم ملتا ہے، دل ملتا ہے، خوں ملتا ہے ”

انا پرستی اور خودداری اور یاروں کے یار والی کیفیات بھی ملتی ہیں۔

” فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے تم کو
خوش رہو یار مرے یار کہا نا ! میں ہوں ”

دھرتی کشمیر سے محبت اور ریاست پر ہونے والے ظلم و بربریت کا اظہار بھی ملتا ہے‌۔

” ظلم نے کھینچی تھی اک روز یہاں سرخ لکیر
جل اٹھے وصل کی حسرت میں ‘ چنارِ حیرت’ ”

“تب سے رائج ہوا دیوار اٹھانے کا نظام
جب سے رکھا گیا گھر بار کی بنیاد میں خوف”

” وہ جنہیں کھا گئے، دکھ درد، پریشانی، عذاب
آ گیا ترکے میں ان لوگوں کی اولاد میں خوف”

” نوکِ نیزہ پہ ہو گردن کہ سرِ دار سجے
ظلم کے آگے مگر خم تو نہیں ہو سکتی”

” کھا گئے بھیڑیے چن چن کے جو بْزغالوں کو
مل گئے ساتھ درندوں کے گوالے میرے ”

“میں اس دیارِ تحیّر کا رہنے والا ہوں
جہاں کی وادیِ لولاب میرے سامنے ہے”

“چمن ویران ہوتا جا رہا ہے
بہت نقصان ہوتا جا رہا ہے”

“جو گھر جنت نشاں ہوتا تھا پہلے
وہی زندان ہوتا جا رہا ہے”

“غمِ کشمیر ہے جو میرے خوں میں
مری پہچان ہوتا جا رہا ہے”

“لہو سے لکھ گیا برہان وانی
پرندوں کو رہا کرنا پڑے گا ”

اعجاز نعمانی نے محاورے کا بھی زبردست استعمال کیا ہے۔

” وہ آئے سات بسم اللّہ کہ ہم نے
یہ دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے ”

” پتھر پہ کھینچی جائے ہے جیسے کوئی لکیر
وہ ہو گیا جو میری زباں سے نکل گیا ”

” یہ آسمان سر پہ اٹھایا تھا ایک دن
رو رو کے ہم نے اس کو منایا تھا ایک دن ”

” پھر میں کسی کے ہاتھ میں آیا نہ عمر بھر
وہ ہاتھ میرے ہاتھ میں آیا تھا ایک دن ”

پروفیسر اعجاز نعمانی کے ہاں انسانی رویوں کا گہرا مشاہدہ اور اجمتاعی شعور کی خاصی جانکاری ملتی ہے۔

” عین ممکن ہے یہ عیاری سمجھ آ جائے
ہم کو آئینِ جہاں داری سمجھ آ جائے”

“مری سرشت میں شامل رہا بدل جانا
کہ ایک ہست میں رہنا مجھے روا تو نہیں”

“کوئی بھی لگتا نہیں ہم کو برا
جب سے ہم نے دل کو دریا کر دیا”

“مجھے وہ رکھتا ہے مصروف کار دنیا میں
کوئی نہ کوئی ضرورت نکال رکھتا ہے ”

“دنیا پھر اک یزید کے نرغے میں آ گئی
اک اور کربلا ہے مرے روبرو حسینؓ ”

“مرے اندر وہی جذبات ہیں بچوں جیسے
بس بڑا آدمی ہونے کا بھرم رکھتا ہوں ”

” بڑا بننا کوئی مشکل نہیں ہے
ذرا سا دل بڑا کرنا پڑے گا ”

” مشکلوں میں مسکرانا سیکھ لو
زندگی بدلے گی آسانی کے ساتھ ”

” بظاہر جس میں ہے نقصان میرا
اسی میں فائدہ رکھا ہوا ہے ”

” لوگوں سے مت جھگڑا کرنا
لوگ سیانے ہو جاتے ہیں ”

” بہت مشکل ہے اب پہچان کرنا
بہت سے روپ دھارے جا چکے ہیں ”

بربادیِ چمن کا سبب ایک یہ بھی ہے
کردار اپنا اپنا نبھایا نہیں گیا ”

اس کے علاوہ حسن کی دلکشی اور حسن و عشق کی روایتی کشمکش بھی بیشتر مقامات پر کہے بغیر میں ملتی ہے۔

” میں اس ادا سے خلدِ محبت میں آ گیا
وہ بے مثال حسن بھی حیرت میں آ گیا ”

” حسن اور اتنی فراوانی کے ساتھ
دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ ”

” حسن اور عشق میں ہے عدل کا معیار یہی
یعنی دونوں کو برابر نہیں ہونے دینا ”

” اگرچہ حسن مصیبت میں ڈال رکھتا ہے
مگر یہ عشق طبیعت بحال رکھتا ہے ”

” ہاتھ میں وہ جب حنائی ہاتھ آیا ایک پل
یوں لگا جیسے کہ ہے ساری خدائی ہاتھ میں ”

” اور پھر فوراً گل و لالہ تروتازہ ہوئے
میں نے لی گجروں بھری گوری کلائی ہاتھ میں ”

“کہیں تو شوخیاں کہیں حیا پسند آئی
ہے اپنا اپنا ذوق جو ادا پسند آئی ”

” مثال کوئی نہیں ہے مثیل کوئی نہیں
تمہارے حسن کے آگے دلیل کوئی نہیں ”

اس کے علاوہ کچھ اشعار ایسے بھی ہیں جنہوں نے تا دیر میرے دماغ کو روشن کیے رکھا۔

” رات کو خواب میں مرشد کی زیارت ہوئی ہے
صحبتِ خاص میں رہنے کی ہدایت ہوئی ہے ”

” یہ وہی دن تھے کہ جب جی نہیں لگتا تھا کہیں
بعد میں علم ہوا مجھ کو محبت ہوئی ہے ”

” جو دیکھتا نہیں پتھر میں پھول کھلتے ہوئے
یقین جانیے اس سا بخیل کوئی نہیں ”

” مرے خدا کی خموشی سے وہ نہیں واقف
جو مجھ سے کہتا ہے تیرا وکیل کوئی نہیں ”

” ہم اپنی مرضی کا مطلب نکال لیتے ہیں
کہ بات کرتا ہے وہ مختصر زیادہ تر ”

” میں کیسے زندہ و مردہ میں امتیاز کروں
بنے ہیں قبروں پہ اعجازؔ گھر زیادہ تر ”

ہم وہ فقیر لوگ ہیں اللّہ کے حکم سے
دیوار سے کہیں تو یہ دیوار چل پڑے ”

” دیکھا پلٹ پلٹ کے ہر اپنے پرائے کو
روکا نہ جب کسی نے تو ناچار چل پڑے ”

المختصر پروفیسر اعجاز نعمانی کے شعری محاسن کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ مجھ ناقص عقل اور کم فہم شخص سے اگر کہیں شعر شناسی میں غلطی سرزد ہوئی ہو تو صاحب کتاب اور جملہ قارئین سے معافی کا خواستگار ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20