’’گُل مینہ‘‘ میں اصل مسئلہ کیا ہے؟ —- قاسم یعقوب

0

زیف سید کا ناول ’’گُل مینہ ‘‘ اپنے لوکیل اور موضوع کے اعتبار سے غالباًاردو میں پہلا اتنا طاقت ور ناول ہے جسے محض ناول سمجھ کر پڑھنا سنگین غلطی ہو سکتی ہے۔ زیف سید تاریخ کا بے پناہ مطالعہ رکھنے والے ادیب ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ناول اور تاریخ میں فرق کیا ہوتا ہے۔ ’’گُل مینہ‘‘ میں فکشن اور تاریخ کو ایک ساتھ اس طرح گوندھ دیا گیا ہے کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ ہم فکشن پڑھ رہے ہیں یا تاریخ۔ ناول میںفکشن کے اندر صرف تاریخ ہی نہیں بلکہ ایک خاص بیانیے کو اس طرح سمو دیا ہے کہ قاری اپنے اندر ایک مکالماتی فضا بنا لیتاہے۔ زیف نے کمال ہنرمندی سے ایک بیانیہ تشکیل دیا ہے جسے بڑے بڑے تاریخ نگار، صحافی اور فلسفی بھی نہیں سمجھا پائے تھے۔ یہ بیانیہ کیا ہے؟ اس پر تفصیل سے بات کرنے کی گنجائش ہے۔ زیف نے اس ناول میں چند بڑے سوال اٹھائے ہیں:

۱۔ گزشتہ چار دہائیوںسے افغان اور پاکستان کی سرحدی زمین پر جاری خون ریز جنگ کے خطے کے لوگوں کے ذہنوں اور زندگیوںپر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
۲۔ کیا پختون واقعی فدائی ہیں، جنھیں اس جنگ میںاستعمال کر لیا گیا؟
۳۔ کیا پختون روایات کے اس قدر اسیر ہیں کہ وہاں محبت جیسی چیز ناممکن ہے؟
۴۔ طالبان اس خطے میں کیسے مقبول ہوئے؟
۵۔ کیا طالبان کی حمایت رکھنے والے ان سوالوں کے جواب دیں گے کہ امریکہ سے جنگ کے دوران اس خطے کے عام لوگوں پر اور ان کے بچوں پر کیا بِیت رہی تھی؟
۶۔ پختون کیسے کمزور پڑ گیا؟کیوں در در کی بھیگ مانگنے لگا؟ اس کے فیصلے کوئی اور کیوں کرنے لگا؟اس کے کیا محرکات ہیں؟ اس نے تو انگریز جیسی طاقت کو بھی مار بھگایا تھا، اس جنگ میں کیوں ہار گیا؟
۷۔ کیا خود کش حملہ آور سب مذہبی جذبات سے مملو فدائی تھے؟ یا معاشی اور معاشرتی عوامل بھی شامل تھے؟
۸۔ کیا ان فدائیوں کی تاریخ حسن بن صباح کی مذہبی تاریخ سے ملتی ہے؟

ناول کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالات کے جواب ملتے جاتے ہیں۔ زیف نے بہے سے طے شدہ رویوں اور فکروں کو تہہ وبالا کر دیا ہے۔ احمد شاہ ابدالی کے کردار کو بھی ڈی کنسٹریکٹ کردیا ہے، جسے سرحد کے دونوں پار کے پختون اپنا بابا کہتے تھے۔

گُل مینہ میں اصل مسئلہ کیا ہے؟ یہ ناول جس اہم مسئلے کو بیان کر رہا ہے وہ نہ دہشت گردی اور فدائی حملے ہیں اور نہ ہی محض قبائلی علاقے کی گُل مینہ کی محبت بھری زندگی کی کہانی۔ اس ناول کا بنیادی ’تھیم‘ پختون قوم کی تاریخ کا نفسیاتی اور معاشرتی مطالعہ ہے۔ ایک تاریخ جڑی ہے ’’پائو جان‘‘ کے ساتھ، جس میں پختونوں کا ماضی زندہ جاوید نظر آتا ہے، جس میں پختون خطے میں کسی کو میلی آنکھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی اور ایک تاریخ جڑی ہے گُل مینہ اور اس کے بیٹے ’فتح خان‘کے ساتھ، جس میں پختون اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اس کی طاقت کو مذہبی بیانیوں کی مدد سے استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ بے بس ہے۔ گُل مینہ کا کردار ان دو تاریخوں کا درمیان متحرک ہے جس میں وہ اس قدر بے بس ہے کہ اس کی قمیض کو چاک کرکے سرراہ دیکھا جا رہا ہے کہ کیا اس نے بارود تو نہیں باندھا ہوا؟ پائو جان کا کردار اپنے نسلی فاخر اور انسانی کردار کے اعلیٰ اوصاف کو مرتے مرتے اپنے پوتی گُل مینہ تک منتقل کر دیتا ہے مگر زمانہ بدل چکا ہے۔ نوے کی دہائی میں پائو جان والا پختون کلچر دم توٹ چکا ہے۔ گُل مینہ آج کے ساتھ زندہ رہنا ہے، جس میں پائو جان والی محبت کی تاریخ بھی ناممکن ہے اور نہ ہی خطے کی معاشرتی و نفسیاتی قدریں زندہ ہیں جہاں وہ اپنے بچوں کو پروان چڑھا سکے۔ خطے میں طالبان آ چکے ہیں جو بیرونی قوتوں کے ساتھ لڑتے لڑتے مذہبی کی متشدد بیانیوں کو اپنے بچوں پر نافذ العمل کرنے کی کوشش میں جت جاتے ہیں۔ یہاں صرف ایک بیانیہ حاوی ہے؛ موت اور کمزوری کا مشترکہ بیانیہ، جسے پختونوں نے پائو جان والی اعلیٰ اخلاقی قدروں کے مقابل جنم لینے دیا ہے۔ پائو جان تو اپنی رائفل سے جہاز تک گرا لیتا تھا۔ اس خطے میں انگریز کو سنبھلنے کی مجال نہیں ہوتی تھی مگر آخر کیا ہوا کہ سارا جگ پختون پر انگلی اٹھانے لگا؟ یہ ہے وہ بنیادی سوال جسے ناول میں مختلف اطراف سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
بندوق اس پورے ناول میں سب سے اہم علامت بن کے سامنے آتی ہے جو ایک کلچر سے نکل کے دوسرے کلچر میں داخل ہونے کی کوشش میں بازار میں بِک جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اپنی موت آپ مر جاتی ہے:

’’اسے گُل مینہ کی تھری ناٹ تھری رائفل دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے آج تک کسی عورت کو رائفل لے کر پھرتے نہیں دیکھا تھا۔ گُل مینہ نے اسے بتایا کہ یہ رائفل اس کے دادا کی نشانی ہے اور وہ کسی صورت اسے خود سے جدا نہیں کر سکتی۔ ‘‘ ص ۵۸

گُل مینہ کے ہاں اپنے دادا پائو جان کی’بندوق‘ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ اس بندوق کو خاندانی ورثہ سمجھ کے سینت سینت کے رکھتی ہے۔ ہر حالت میں اس کی حفاظت کرتی ہے، اسے خود سے دا نہیں ہونے دیتی۔ یہ بندوق اصل میںوہ کلچر ہے جس نے غیرت، محبت اور اخوت کے تمام رشتوں کواس خطے میں اکٹھا کر رکھا تھا، جسے گُل مینہ (نئی نسل)تک بحفاظت تک پہنچایا گیا تھا۔ اسّی کی دہائی میں پختون جس طرح مذہبی بیانیوں کی بھینٹ چڑھے، اس کے ہاتھ سے یہ ’بندوق بھی چھنتی گئی اور بلاخر وہ وقت بھی آ گیا، جب یہی بندوق‘ گُل مینہ بازار میں کوڑیوں کے بھائو بیچ کے بیٹے کو بچانے کے لیے نکل پڑتی ہے۔ گُل مینہ کے کردار کو غیر متحرک یا کمزور سمجھنا اس ناول کی تفہیم میںسب سے بڑی نادانی ہے۔ گُل مینہ پختون قوم کی محبت کی علامت ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس کی طاقت ور محبت پہاڑوں کی سنگلاخ زمینوں کو پار کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ بارودی سرنگوں سے گزر کے اپنے ’حاصل‘ تک پہنچتی ہے۔ ’ارغنداب‘ محض شہر نہیں بلکہ محبت کہانی کا ایسا بہتا دریا ہے جس میں ابد کی مچھلیاں تیرتی ملتی ہے۔ اس سے پہلے گُل مینہ کا دادا بھی اسی طرح کی محبت کی شیرنی چکھ چکا تھا۔ زرمینہ گنگی خیل اور پائو جان طوری خیل کا ہونے کے باوجود محبت کی بہتی اس لازوال ندی میں خوطہ زن ہو جاتے ہیں۔ یہ وہی تسلسل ہے جو علامتی طور پر گُل مینہ کے زمانے تک منتقل ہوتا ہے۔ میں اس ناول کو پڑھتے ہوئے’ ارغنداب‘ کے ان گھروں میں گھومتا رہا جہاں گُل مینہ اپنے زرجانان کے ساتھ رہنا شروع کرتی ہے۔ محبت کا سفر کے آغاز کتنا پُر اثر اور زمانہ سازبنتا جاتا ہے، جسے کسی خوف یا طاقت سے ریخت نہیں کیا جا سکتا۔ فتح خان اس محبت کا وہ رُخ ہے جسے غیروں نے دھماکوں کی نذ ر کر کے اس لافانی محبت کی طاقت کو زوال آمادہ کر دیا۔ اس خطے سے جذبوں کی مٹھاس میں کڑوے ذائقوں کو شامل کر دیا۔ فتح خان کی موت کیا صرف خود کش دھاکہ کرنے والے کی موت ہے؟ کیا گُل مینہ کا اس کے سر کی تلاش میں نکلنا معمولی واقعہ ہے؟ وہ پختون جو اپنے سینے میں تاریخ کے اواق سنبھالے چلتا تو مٹی اس کی گواہ بنتی مگر اس کے بچوں کے، بہت چھوٹے اور معصوم بچوں کے سینوں پر بارود جیکٹوں کا بوجھ لاد دیا گیا۔

’’گُل مینہ‘‘ کا لوکیل ایک ایسا ڈاکومینٹ کھولتاہے، جس نے پہلی دفعہ اردو فکشن میں بطور موضوع جگہ بنائی ہے۔ انگریز اس خطے میں داخل ہوتے ہیں اور ان کو کس کس طرح کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ یہ سب پہلی دفعہ اردو ناول میں زیرِ بحث آیا ہے۔ زیف کا یہی کمال بہت ہے کہ اس نے ہمیں ان تاریخ کے گوشوں کی طرف رجوع کرنے کا سامان مہیا کر دیا ہے جو پچھلی دو دہائیوں میں محض سنی سنائی باتوں تک محدود تھا۔ قاری کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ ان قبائیلیوں نے کس طرح اس خطے میں اتنی بڑی طاقت کو ناگوں چنے چبوائے:

’’قبائلی کے پاس مشکل سے دس بیس کارتوس ہوتے ہیں اور وہ بھی اس نے نہ جانے کن کن مصیبتوں سے اور اکثر اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر حاصل کیے ہوتے ہیں۔ ‘‘ ص ۱۴۰

وزیرستان کا علاقہ جو آج کل ایک دفعہ پھر فوج کشی کے معرکہ کن واقعات سے بھرا ہوا ہے، اس وقت انگریز چھاونی میں منتقل تھا۔ افغانیوں نے اس علاقے پر چڑھائی کا فیصلہ کیا تو یہاں سے انگریز ملیشیا فورس بھاگنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ افغانی اس خطے میں انگریز کے خلاف لڑنے کے لیے پیغام لے کے آتے ہیں۔ اس علاقے میں کسی بیرونی قوت کو قبول نہیں کرتے۔ یہاں تک تو بالکل ٹھیک تھا۔ یہ خالصتاً اپنے خطے کا دفاع تھا۔ مذہبی بیانیوں کی جنگ نہیں تھی جو بعد میں جنت کے حصول کے لیے لڑی جانے لگی۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب یہ خبر پہنچی تھی کہ مقامی انگریز فوج پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں تو انگریز فوج کا حصہ ہوتے ہوئے بھی بہت سے ’خیل‘ انگریز مخالف ہوگئے تھے:

’’قافلے کے ساتھ جنوبی وزریستان ملیشیا کے سوا گیارہ سو جوانوں میں سے دو سو نوے باقی بچے تھے۔ صرف یوسف زئی اور خٹک پلٹنیں ایسی تھیں جس میں سے کسی بغاوت نہیں کی، ورنہ آفریدی اور وزیر تمام کے تمام فرار ہو گئے تھے۔ ‘‘ ص ۶۳

برصغیر میںانگریز سامراجی پلٹنوں کے ساتھ کام کرنے والے مقامی باشندوں کے ہاں ایسے کتنے واقعے یاد کروائے جا سکتے ہیں؟ یہ پختون قوم ہی تھی جو انگریز کا حصہ ہونے کے باوجود بھی انگریز کو چھوڑ گئی تھی۔ جب بھی انگریز کے خلاف لڑنے کا موقع آیا یہ سب اکٹھے ہو گئے۔ پائو جان کے بقول انگریز کے خلاف سب مکھن ملائی بن جاتے تھے۔ نیاز بین جو انگریز فوج کا نمک حلالی ہے، وہ بھی جب موسیٰ نیکہ پر چڑھائی کا موقع آتا ہے تو انگریز کرنل رسل سے درخواست کرتا ہے کہ اُس کے محلے کو مت گرایا جائے۔ اس نے ان گھروں، گلیوں میں بچپن گزارا ہے۔ ناول نگار نے ہمیں یہی پیغام دیا ہے کہ افسوس پختونوں کی وہ نسل جو اسّی کی دہائی کے بعد پروان چڑھی، اپنے ہی لوگوں کو خود کش دھماکوں میں استعمال کرنے لگی۔

ناول میں ’ارغنداب‘ میں گُل مینہ اور زرجانان کی زندگی کے ساتھ ساتھ اُس تبدیلی کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں، جب طالبان اس خطے میں سرگرم ہونے لگے تھے۔ یہ نوے کی دہائی کا وسطی دور ہے جب طالبانی فکر اس خطے میں زور پکڑنے لگتی ہے۔ گولیاں چلنا، بم دھماکے اور آئے روز قتل و غارت کے واقعات زرجانان اور گُل مینہ کے مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ چوں کہ یہ علاقہ افغانستان کے مرکزی علاقہ قندھار کا نواحی علاقہ تھا، اس لیے یہاں شورش زیادہ تھی۔ یاد رہے کہ مصنف زیف سید ناول میںاس طرز کی طالبانی انتظامی فکر کی کہیں بھی مخالفت نہیں کرتے۔ بلکہ ان کے پیش کردہ مناظر کی رُو سے ارغنداب میں طالبان کا ظہور کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ طالبان نے پورے خطے میں نئے انتظامی قوانین متعارف کروا دیے تھے جس سے علاقے کے مکین خوش تھے۔ ناول میں ایک جگہ طالبان گُل مینہ کے خاوند زرجانان کی گاڑی کو اپنے ایک مشن کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ علاقے کے سب سے بدکردار شخص موسیٰ خان (جس کی گواہی زرجانان بھی دیتا ہے) کو اٹھا لاتے ہیں اور اسے بغاوت کے جرم کے علاوہ متعدد سماجی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے موت کی ایک انوکھی سزا دیتے ہیں:

’’یہ موسیٰ خان ہے۔ تمھارے ارغنداب کا جنگی غنڈہ۔ یہی ہے وہ شخص جس نے بقول تمھارے بس چلتا تو پہاڑوں اور ٹیلوں سے بھی خون بچوڑنے سے باز نہ آتا۔ ڈاکہ، چوری، دوسروں کی بہو بیٹیاں اٹھانا اس کا روز کا معمول تھا حتیٰ کہ یہ تخم حرام لڑکوں تک کو نہیں بخشتا۔ ‘‘ ص ۱۶۱

یہی طالبان گُل مینہ اور زرجانان کی محبت کے دشمن ملک عطا، جسے گُل مینہ شادی کے نام پر اس کے بھائیوں نے فروخت کر دی تھی، کو بھی نہیں چھوڑتے اور ہلاک کر دیتے ہیں۔ اسی طرح جب ملا عمر خرقہ کی زیارت سے ہیضے جیسی مہلک بیماری کی نجات کی دعا کرواتا ہے، تب بھی مقامی لوگ ہچکیوں سے روتے ہوئے ملا عمر کو اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں۔ گویا ناول میں نوے کی دہائی کے طالبان کے خلاف کسی بھی طرح کا سماجی دبائو نہیں دکھایا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ناول نگاران علاقوں میں طالبان کے وجود کو جسٹی فائی کر رہا ہے۔ مگر نائن الیون کے بعد طالبانی فکر نے ایک اور زاویہ بدلا اورمذہب کے راستے شاہ بغدادی کی فدائی حملوں کی روایت کو منفی انداز سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

کہانی کا انجام براہِ راست بے نظیر کے واقعے سے جوڑنا نہیں اور نہ ہی خودکش حملوں کی وجوہات کا کوئی سراغ لگانا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بے نظیر بھٹو کا واقعہ محض ضمناً آیا تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اصل میں اس واقعے تک کہانی کو لانا اُس تبدیلی(Cultural Shifting)کی سنگینی کا بیان کرنا تھا جس نے پائو جان سے چلنے والی روایات کو کس طرح فتح خان کی شکل میں تہس نہس کر دیا۔ فتح جان کی معصومیت بتا رہی ہے کہ اس ساری جنگی تبدیلی میں پختون ایک ’غیر‘ تھا مگر اُسے مرکزی حوالہ بنایا جا رہا ہے۔ کیا اب اُس کے شہید سروں کو بھی نہیں واپس کر و گے؟

ناول میں زیف سید کا مشاہدہ، مطالعہ اور پختون کلچر کے لوکیل کو جاننے کی مہارت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ رائفلوں کے نام، گولوں کی اقسام، بارودی سرنگوں کا استعمال، پہاڑی علاقوں کی مشکلات، وزیرستان کے جغرافیے پر دسترس اور سب سے بڑھ کر پختون کلچر پر بے پناہ عبور بتا رہا ہے کہ وہ ناول کی تخلیق کے دوران کس قدر ان مشاہدات کو ذات کا حصہ بناتے رہے ہیں۔ یوں یہ معمولی ناول نہیں جسے محض ایک کہانی سمجھ کر پڑھ لیا جائے۔ چپل کباب کی دکانیں اور جیپ کی سواریوں اوربازار کے مناظرایک ایک کرکے منظر بناتے جاتے ہیں۔ ذرا نسوار کی تیاری کے نسخہ ملاحظہ کیجیے:
’’کچھ دنوں کے بعد وہ نسوار بنانے کا سامان لے آیا، تمباکو، چونا، انجیر کے تنے کی راکھ اور دکان کے کچے فرش میں پتھر کی اوکھلی دبا کر اور چھت سے تانت کی مدد سے بھاری موسل لٹکا کر دھما دھم تمباکو کو نسوار کوٹنے لگا۔ ‘‘ ص ۳۶۵
اسی طرح نسوار کی ڈبیا کے پیچھے بنی تصور میں شفیق کا اپنی بڑھی داڑھی کو دیکھنا بھی اس کلچر کا منفرد حوالہ ہے۔

اب ہم اس ناول کی چند خامیوں کی طرف آتے ہیں؛ناول میں پختون محاورے کا استعمال بہت کم ملتا ہے۔ بلکہ کئی جگہوں پر نامناسب لگتا ہے۔ جیسے:

۱۔ ’’قندھار کا نقشہ دیکھ کر میں دل ہی دل میں ہنس دیا۔ چور کہیں کا بڑا آیا سکندر کا نقشِ قدم پر چلنے والا۔ ‘‘
۲۔ ’’بیل نے گردن گھما کے دیکھا اور پھر بئزاری سے سر دوسری طرف موڑ دیا، جیسے کہہ رہا ہو، یار جو کام ہے، اس کے لیے کل صبح آ جانا، کم از کم رات کے اس پہر تو سکھ کا سانس لینے دو۔ ‘‘
۳۔ ’’آخر یہ انگریز اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں، وہ پچھلی پون صدی سے ان پہاڑوں سے سر ٹکررہے ہیں لیکن ہمیں زیر نہیں کر پائے۔ ‘‘
۴۔ ’’تمھیں انگریز چاہیے نا؟ اسی کے لیے تم اپنا ایمان بیچ رہے ہو؟ لو میں اسی کواڑا دیتا ہوں، نہ رہے گا بانس، نہ بجے کی بانسری۔ ‘‘

’’یار__آخرسمجھتا کیا ہے__نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری__چور کہیں کا‘‘یہ اور اس طرح کے درجنوں جگہوں پر اردو محاورے کا اندازِ تخاطب ملتا ہے جو کولیل سے لگا نہیں کھاتا۔ میرے خیال میں اس طرح کا اندازِ گفتگو پختون زبان کا نہیں یہ خالصتاً اردو زبان کا اسلوب ہے جو اردو ناول ہونے کی وجہ سے در آیاہے۔ اس سے زبان کی گرفت کمزور ہوئی ہے۔ اگر پختون محاورے کا استعمال ہوتا تو زیادہ جاندار پیرایے سامنے آتے۔ ایک جگہ تو پورا خط اردو محاورے میں لکھا گیا ہے۔ پائو جان اور یار محمد وانہ چھائونی سے بیلوں کو چرا کے انگریز کو خط لکھتے ہیں۔ یہ خط کسی طرح بھی ایک سو سال پہلے کا اندازِ تخاطب نہیں اور نہ اس کا اسلوب خطوں کا والا ہے۔ یہ ایک مذاق سا لگتا ہے۔

ناول میں کہانی کا عنصر غالب ہے، بیانیہ (Description) کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ناول نگار بیان کنندہ کی کمنٹری کو بہت کم شامل کرتا ہے۔ البتہ ناول کے پہلے حصے میں یہ شکایت کم ہے مگر آخری حصے میں محض واقعہ رہ جاتاہے۔
طالبان جب اس خطے میں آ گئے تھے تو ان کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اس علاقے میں بھتہ خور اور اغوا کرنے والے ڈاکو کمزور ہو کے بھاگ گئے تھے۔ خاص طور پر افغان بارڈر کے آس پاس ان کی عمل داری بہت زیادہ ہو چکی تھی۔ افغانستان میں تو پتا بھی ان کی مرضی کے بغیر توڑنا ممکن نہیں تھا، جیسا کہ ناول میں وہ مناظر پیش بھی کیے گئے ہیں، مگر پینٹر شفیق کو اغوا ہی بھتے کے چکر میں کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ درجنوں لوگوں کو کس طرح ان علاقوں میں اغوا کیا جا رہا تھا۔ خاص طور پر ایسے اغوا کرنے والے جب خطیب صیب جیسے لوگوں کی نظر میں بھی ہوں۔ یہ کہانی کا اضافی پہلو تھا، اسے نظر انداز بھی کیا جاسکتا تھا۔

ناول کے اندر ایک بہت جاندار کہانی فدائی حملوں کے بانی حسن بن صباح کے کردار اور اس کی مصنوعی جنت کے اردگرد گھومتی ہے۔ ناول نگار نے اس کہانی کوتاریخ کے ایک کردار رکن الدین کی اولاد ’’شاہ بغدادی‘‘کے ساتھ جوڑا ہے، جس کا بیٹاشمس الدین اب فدائی حملے کے لیے نکلتا ہے اور احمد شاہ ابدالی کے خیمے تک جا پہنچتا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ شاہ بغدادی جو اپنے بیٹے کو اپنے جد امجد رکن الدین کے فدائی حملے کی پیروی پر اکسا رہا ہے، اس کی وجہ وہ ’خرقہ‘تھا مگر یہ خرقہ تو انھیں المسترشد کو قتل کرکے نہیں غلامی کرکے ملاتھا۔ رکن الدین کو تو احساس ہواگیا تھاکہ فدائی حملہ کرنے کا اُس کا اقدام غلط تھا:

’’رکن الدین قصیدہ ختم نہیں کر سکے لیکن خلیفہ ان سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے انھیں اپنے دربار میں رہنے کی پیش کش کر دی۔ رکن الدین المسترشد کے درباری شاعر بن گئے۔ تاہم جنت والا معاملہ ان کے اعصاب پر آسیب پر چھایا ہوا تھا۔ وہ اب جان گئے تھے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور انھیں جنت نہیں بلکہ’ الموت‘ کے آس پاس کسی پہاڑ پر واقع کسی باغ میں لے جایا گیا تھا جہاں وہ محلات اور باغات تعمیر کیے گئے تھے۔ ‘‘ ص ۲۷۶

یہ خرقہ جس کو احمد شاہ ابدالی نے چرا لیا ہے اور شاہ بغدادی اسے واپس لانے کے لیے اپنے جد رکن الدین کو فدائی بتا رہے ہیں، وہ تو فدائی بن کے ملا ہی نہیں تھا۔ اپنے بیٹے کووہ اپنے جد کی کون سی تعلیم دے رہے ہیں؟شاہ بغدادی، حسن بن صباح کی کس ’سند ‘کواپنے بیٹے کو تھمانے کا کہتے ہیں؟ وہی ’سند‘ جس کا جھوٹ کھل گیا تھا اور رکن الدین جھوٹی جنت کے بارے میں سب کچھ جان گیا تھا؟وہ حسن بن صباح کے خاص دفائی کیسے ہو گئے؟ وہ اس کی عنایت کے نہیں وہ تو المسترشد کی مہربانیوں کے مقروض بنے تھے جنھوں نے رکن الدین کی شادی ایک درباری کی بیٹی سے کروا کے ان کی ہمیشہ کے لیے مصنوعی جنت کی ’’امیرہ ‘‘سے جان چھڑوا دی تھی۔ رکن الدین کی سنت تو کہتی ہے کہ حسن بن صباح کی پیروی نہیں کرنی جب کہ ناول میں اس کی اولاد (شاہ بغدادی) حسن بن صباح کی پیروی کرنے کے لیے اپنے بیٹے کو فدائی بناتی ہے۔ لہٰذا ناول میں یہ ایک تضاد ہے جسے ناول نگار نے زبردستی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

ایک اور بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ ناول آخر میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعے کے تناظر میں ہماری مدد نہیں کرتا کہ آخر طالبان بے نظیر بھٹو کے کیوں مخالف تھے جس کی بنا پر انھوں نے فتح خان جیسے معصوم کو استعمال کیا اور بھٹوبی بی کو منظر سے ہٹوا دیا۔ بے نظیر تو اس آمرانہ طاقت کے خلاف لڑنے ملک واپس آئی تھی، جو طالبان اور طالبانی فکر کے خلاف سب سے زیادہ مہلک ہو چکی تھی۔ پرویز مشرف کے (’’غیر اسلامی‘‘ اور اپرو امریکی) کردار کو مٹانا تو طالبانی ردعمل ہو سکتا تھا (جو ناول میں بتدریج آگے بڑھتا نظر بھی آتا ہے) مگر بے نظیر کو مارنا ناول میں جسٹی فائی ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو ناول وہیں ختم ہو گیا تھا، جب گُل مینہ کو خبر ملتی ہے کہ فتح خان کسی خود کش حملے کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں اس کے آگے کی تفصیل غیر ضروری اور اضافی ہے۔ ہوٹلوں میں ٹھہرنااور خود کش جیکٹ کے ساتھ دلہنوں کی طرح نیچے اترنا ناول کا بہت غیر ضروری حصہ لگتا ہے۔ ایک حوالے سے یہ ان قارئین کے لیے درست ہو سکتا ہے جو اس طرح کے کسی بھی بیانیے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کو ایک پورا تشکیلی بیانیہ بنا کے دکھا دیا گیا ہے مگر ایسا قاری جسے پتہ ہو کے خود کش کیسے کام کرتے ہیں، ان کے لیے یہ نہایت غیر ضروری بھی ہے اور ناول کو بوجھل کرنے کے مترادف بھی۔ ناول کااختتامیہ بہت تیز ہے۔ وہاں کہانی زیادہ سپاٹ ہو جاتی اور تیز بھاگنے لگتی ہے۔ مصنف آخری لائن تک کچھ نہ کچھ غائب سے باہر نکالتا جاتا ہے جس کی وجہ سے قاری کی دلچسپی کم نہیں ہوتی۔ جس نے آخری صفحہ نہیں پڑھا وہ بھی نہیں بتا سکتا کہ پھر آخر میں کیا ہوا تھا۔

ان چند خامیوں کے باجود ناول اس قدرجاندار ہے کہ جس کی مثال اردو میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہم شکر گزار ہیں کہ زیف سید نے اس اہم ایشو کو فکشن کی صورت میں ہمارے سامنے بحث کے لیے کھولا۔ کہتے ہیں کہ فکشن متبادل بیانیہ تشکیل دیتا ہے اور تاریخ کی مصدقہ حقیقتوں کو ڈی کنسٹریکٹ کرتا ہے۔ زیف نے تاریخ کے بطن سے ایسا بیانیہ تشکیل دیا ہے کہ ہمیں اپنے نظریات کو ازسرنَو دیکھنے پر مجبورکرتا ہے۔ اپنے فکری رویوں میں تبدیلی لانے کا پیغام دیتا ہے۔ اگر اس ناول کا انگریزی ترجمہ ہو جائے تو یہ دنیا بھر کے لیے ان دو دہائیوں کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے بنیادی ڈاکومینٹ بن جائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20