کراچی، کرفیو، خواتین اور موچی شوہر —- اظہر عزمی

0

کراچی میں 77 کا کرفیو: محلے کی لیڈیز پالیٹکس اور ایک موچی شوہر

آج کل دنیا میں ہر طرف کورونا کا رونا چل رہا ہے۔ اس کے بارے میں بہت ساری سازشی کہانیاں سامنے آرہی ہیں۔ پہلے امریکا کو اس وائرس کو تیار کر کے ووھان (چین) میں چھوڑنے کا کہا گیا۔ جارجیا کی کسی لیبارٹری میں اس مصنوعی وائرس کی تیاری کا سننے میں آیا۔ غرض جتنے ماسک سے ڈھنپے منہ اتنی باتیں۔ جب چین نے کورونا کو چلتا کیا تو لوگ بڑی دور کی کوڑی لائے اور کہا کہ یہ تو چین نے خود بنایا تھا۔ اب پوری دنیا کی معیشت پیٹھ جائے گی اور اب ہر طرف چائنا کا مال ہی مال ہوگا۔ اس کورونا کی مصیبت نے سب کو عالمی معیشت کا تجزیہ کار بنا دیا۔ خواتین کی گفتگو سنیں تو اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔ واقعی جس مسئلہ میں خواتین کود جائیں وہاں پھر مسئلہ نہیں رہتا بلکہ وہاں مسئلے کے لاکھوں حلوں میں سے کسی ایک حل پر متفق ہونا مسئلہ کو جنم دیتا ہے۔ سب مستحقین تک راشن پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن جس طرح گھروں میں شوہروں پر راشن پانی لے کر چڑھا جارہا ہے۔ بس یہی کہنے کو دل چاہ رہا ہے:
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا گھر میں رہنا

ک سے اگر کورونا ہے تو پھر ک سے کرفیو بھی آتا ہے اور تو اور ک سے کراچی بھی آتا ہے۔ مجھے کورونا کے لاک ڈاون سے 1977 کا کراچی میں لگا کرفیو یاد آگیا۔ گو کہ میں اس زمانے میں اسکول کے آخری سالوں میں تھا لیکن میں نے بڑے نامی گرامی سرتاجوں کو بیوی کے سامنے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (چلیں خاموش پڑھ لیں) دیکھا ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں وہ کیا حالات تھے کہ جن کے سبب شوہر لب بست اور دست بدست رہا کرتے تھے۔

ہم نے زندگی میں پہلا کرفیو 1977 میں بھٹو مخالف تحریک کے دوران دیکھا جو ابتدا میں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تھا۔ پاکستان قومی اتحاد PNA نو جماعتوں کا اتحاد تھا جسے عرف عام میں اس وقت نو ستارے بھی کہا جاتا تھا۔ ہنگامے منہ زور ہوئے تو انہیں لگام دینے کے لئے کچھ شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ کراچی اس زمانے میں نو ستاروں کا گڑھ تھا اور کیوں نہ ہوتا اس شہر میں جماعت اسلامی،  جمعیت علمائے پاکستان اور پختون علاقوں ولی خان کی پارٹی کا اثر تھا جس کے سربراہ اس وقت سردار شیر باز خان مزاری ہوا کرتے تھے جن کے بھائی میر بلخ شیر مزاری ایک زمانے میں ملک کے نگراں وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔ اصغر خان کی تحریک استقلال کراچی میں بطور جماعت تو زیادہ اثر نہیں رکھتی تھی مگر بھٹو صاحب سے ان کے اٹک پر پھانسی دینے والے بیان نے انہیں کراچی میں مقبول بنا دیا تھا۔ جمعیت علمائے اسلام مولانا مفتی محمود کی قیادت میں شہر کے دینی حلقوں اور پختون علاقوں میں خاصا اثر رکھتی تھی۔

کراچی میں کرفیو لگا تو سختی ان علاقوں میں ہوئی کہ جو شورش زدہ تھے۔ چلیں ملکی سیاست سے دور ذرا اپنی خواتین کی محلاتی سیاست میں چلتے ہیں۔ ہمارا محلہ ہنگاموں سے محفوظ تھا اس لئے سختی میں شدت کم تھی۔ کبھی کبھار فوجی گاڑی آجاتی تو گلی کے کانوں پر کھڑے لوگ جلدی جلدی ادھر ادھر ہوجاتے۔ شام کو جب کرفیو ختم ہونے کا وقت ہوتا تو فوج کی گاڑی ضرور ایک چکر لگایا کرتی۔

ہمارا بلاک ہنگاموں میں قطعا دلچسپی نہ رکھتا تھا بلکہ عمومی خیال یہ تھا کہ ہم بھٹو نواز ہیں یا ان کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ہمارے سامنے کے بلاک میں جماعت اسلامی کا زور تھا اور کچھ دور پختون آبادی بھی تحریک میں متحرک تھی۔ شروع شروع میں جب کرفیو لگا تو لگا مزے آگئے مگر یہ سارے مزے دو دن میں ہی ہوا ہو گئے جب فراغت کے عذاب کا اندازہ ہوا۔ ہم تو خیر لڑکوں میں آتے تھے اس لئے گلی میں جس کے گھر کے باہر سیڑھی بنی ہوتی یا تھوڑی سی بھی بیٹھنے کئ جگہ ہوتی تو ہم خود کو بھسار لیتے۔ اصل مسئلہ آفس کام کرنے والے شادی شدہ افراد کا تھا کہ جائیں تو جائیں کہاں۔ کنوارے ملازمین تو پرانے دوستوں سے جا ملے تھے۔ ابتدائی ہفتہ تو بڑا اچھا گذرا۔ یہ لوگ کسی ایک گھر میں صبح ناشتے کے بعد بیٹھ جاتے اور دوپہر کے کھانے پر گھر کی راہ لیتے۔ جس گھر جاتے وہاں چائے بھی آتی اور صاحب خانہ بھی ذرا نئے نئے گھر میں بیٹھے تھے اس لئے کمرے میں کچھ منگانا ہو تو اونچی آواز میں منگا لیا کرتے۔ شروع شروع میں تو شوہر صاحب کا اثر رہا لیکن روز روز بیٹھک کا جمنا، بیوی کو ایک آنکھ نہ بھاتا۔ آئیں آپ کو ایک محلے دار ریاض صاجب پر جو گذری ہے وہ سناتے ہیں۔

(اب یہاں سے جو کچھ تحریر کیا جا رہا ہے اس کی تیاری میں ہماری کھوجی اور تفریح پسند طبیعت کے ساتھ نسریں باجی اور اس وقت ریاض صاحب کے اوپری منزل پر کرائے دار کے لڑکے منیر کی رپورٹنگ کا بڑا عمل دخل ہے۔ میں ان دونوں کا انتہائی شکر گذار ہوں۔ منیر محلہ اور نسرین باجی دنیا چھوڑ کر اوپر جا چکی ہیں )

ریاض صاحب ایک معزز و متمول شوہر تھے جس کی معترف پوری گلی تھی۔ آمدن اچھی تھی اس لئے گھر میں ضرورت سے زیادہ چیزیں تھیں۔ گھر پر کار،  ٹی وی،  فریج،  ٹیپ ریکارڈر سب تھا۔ ہفتے کے ہفتے گھر پر وی سی آر کرائے پر لیکر انڈین فلمیں بھی چلا کرتی تھیں۔ کرفیو لگا تو لوگوں نے یہ جانتے ہوئے کہ ان کی گھر پر چلتی ہے اس لئے ان ہی کے گھر چلتے ہیں۔ کب تک چلتا یہ سلسلہ ؟ بالآخر روز روز کی بیٹھک سے اہلیہ رضیہ عاجز آگئی اور ایک دن پھٹ پڑی:

آپ تو بیوقوف ہیں۔ یہ سب آپ کو “وہ” بناتے ہیں۔

ریاض صاحب نے “وہ” کا وہ مطلب نکال لیا یکن پھر بھی صفائی میں بولے:
ارے ایسی کوئی بات نہیں رضیہ۔ دن میں ایک بار بیٹھک جمتی ہے۔ کرفیو نہ لگتا تو کون یہاں آتا۔

اب رضیہ نے ہلکا سا پینترا بدلا اور بولیں:
اچھا۔ ۔ ۔ یہ کرفیو صرف ہمارے لئے لگا ہے۔ برابر والے سرفراز بھائی کے ہاں تو آپ کبھی نہیں گئے۔ وہ تو ہمارے ہاں روز ہی موجود ہوتے ہیں

شوہر نے سرفراز صاحب کی مجبوری کا ذکر کیا:
ارے تم کو تو معلوم یے ان کی وائف کو جوڑوں کا مسئلہ یے۔ گٹھیا ہے۔

رضیہ تنک کر بولیں :
بس اسی بات پر میری جان جاتی ہے۔ پورے محلے میں۔ ۔ ۔ اور وہ جو عالیہ رہتی ہے دوسری منزل پر۔ اس کے ہاں تو نسرین روز پہنچ جاتی ہے۔ بس کوئی ان کے گھر نہ جائے،  گھٹیا جو ہے ان کو،  گھٹیا حرکتیں نہیں چھوڑے گی۔

ریاض صاحب کو صورت حال کا اندازہ ہوگیا تھا اور ویسے بھی گھر میں لگاتار ایک ہفتے دن رات رہنے کے بعد شوہر کو عقل آچکی ہوتی ہے کہ اگر عزت کرانی ہے تو دن میں آٹھ دس گھنٹے ملازمت پر رہنا ضروری ہے ورنہ ملازمت کے بیچ میں سے “ز” نکال کر ملامت ہی رہ جاتی یے۔ بیوی کے تھیکے تیور دیکھ کر بڑے پھیلے انداز میں کہتا:
ارے کچھ دن کی تو بات ہے۔ بس کرفیو ہٹا تو پھر وہی جاب پر چلے جائیں گے۔ کیوں؟

بیوی تو آج کسی اور پروگرام سے بیٹھی تھیں :
سنیں ! یہ کرفیو ابھی نہیں اٹھنے کا۔ یہ جو سب آٹھ بجے بی بی سی کی خبریں سنتے ہیں ناں آپ۔ اس کی آواز میرے کانوں میں صاف آتی ہے۔ یہ کم بخت مارا مارک ٹیلی تو دن بدن آگ ہی لگا رہا ہے۔

ریاض صاحب نے یوی کی معلومات دیکھیں تو مارک ٹیلی کو رگید دیا :
ارے مارک ٹیلی کو چھوڑو۔ آدھی تحریک تو وہ اکیلا چلا رہا ہے ۔ وہ تو بس یونہی پھینکتا ہے

بیوی کے تو گویا آگ ہی لگ گئ :
اچھا وہ پھینکتا ہے اور سب ریڈیو کے گرد باراتی بن کر اسی لئے بیٹھتے ہیں کہ جو وہ پھینکے آپ لوگ آٹھ لیں اور پھر اس کے بعد آپ لوگ جو سیاست بھگارتے ہیں۔ جس کو دیکھو مارک ٹیلی سے بھی آگے کی کہانی سنا رہا ہوتا ہے

ریاض صاحب نے سمجھایا چاھا : ارے تم سکون سے بیٹھو تمھارا کیا لینا دینا اس سے

رضیہ کا جواب شوہر کو لاجواب کر گیا :
اچھا میں چین سے بیٹھی رہوں اور تم (اب آپ سے تم تک سفر شروع ہوچکا ہوتا) روز پانچ دس محلے والے لے کر ڈرائنگ روم میں بیٹھے رہو۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ جو صغیر صاحب ہیں پورے کمرے کو سگریٹ سے دھواں دھواں کر جاتے ہیں۔

اب ریاض صاحب نے خاموشی کو بہتر جاننا اور رضیہ نے اپنا آخری تیر ترکش سے چلا ہی دیا :
بس اب کل سے ہمارے ہاں کوئی نہیں آئے گا۔

ریاض صاحب نے ہلکے سے کہا :
ہلکے بولو کہیں بچے نہ سن لیں حالانکہ بچے سب سن رہے ہوتے بلکہ برابر والی نسرین جو پیچھے گلی میں کوڑا رکھنے باہر آئی تھی وہ تو شروع سے ہی خاموشی سے کان لگائے سب کچھ سن رہی تھی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اگر کسی کی بات چپکے سے سنو اور کوئی بات سننے سے رہ جائے تو گناہ ملتا ہے۔

ریاض صاحب نے پہلی بار گھر میں اپنی بے چارگی اور نام نہاد رعب کی کشتی ڈولتے دیکھ کر صرف اتنا کہتا :
تم سمجھ نہیں رہی ہو۔ وہ۔ ۔ ۔ وہ لوگ !!!

رضیہ فیصلہ لے چکی تھیں۔ ویسے آپس کی بات یہ ہے کہ شوہر کے اتنی جلدی پیچھے ہٹنے کا اسے خود بھی یقین نہ ہوتا۔ بیوی یہ جانتی ہے کہ جب تک شوہر ڈر رہا ہے آپ شیر بنی رہیں۔ رضیہ نے فیصلہ سنا دیا :
کرفیو ہٹے یا لگا رہے۔ میں بتائے دے رہی ہوں۔ اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ غضب خدا کا وہ جو تمھارے شیر بھائی ہیں۔ گھر میں تو آواز نکلتی نہیں۔ یہاں آکر خوب قہقہے مارتے ہیں۔ اچھے خاصے چھچھورے ہیں۔ اچھا کیا جو آمنہ بھابھی نے ان کے منہ پر ٹیپ لگایا ہوا ہے۔ کہیں بیٹھنے کے قابل نہیں تمھارے شیر بھائی۔

اب ذرا سنیں ریاض صاحب تو چپ کے چاپ رہ گئے مگر وہ جو نسرین کان لگائے کھڑی تھی تو کیا وہ اس کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑانے کے لئے اتنا کشت جھیل رہی تھی۔ وہ موقع ملتے ہی آمنہ باجی کے ہاں پہنچی اور چنگاری لگا کر آگئی۔ شروع بھی اس طرح کیا کہ تن بدن میں آگ لگ جائے :
آمنہ بھابھی شیر بھائی کے منہ پر کان سا ٹیپ لگایا ہے ؟

آمنہ چونکہ گئی:
اللہ نہ کرے جو میں ان کے منہ پر ٹیپ لگاوں اور تم نے کون سا ان کے منہ پر ٹیپ لگا دیکھ لیا۔

نسرین نے دونوں کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا :
اللہ نہ کرے جو میں نے کبھی انہیں ٹیپ لگا دیکھا ہو۔ ہاں البتہ ایک ٹیپ ریکارڈر ہے محلے میں۔ وہ اپنے شوہر سے کہہ رہی

تھیں اور پھر اپنے طور پر رضیہ کی نقل اتارتے ہوئے بتایا :
غضب خدا کا وہ جو تمھارے شیر بھائی ہیں ناں۔ ہمارے ہاں آکر تو ان کی زبان خوب چلتی ہے گھر میں بھیگی بلی بنے رہتے ہیں۔

آمنہ یہ سنتے ہی آپے سے باہر ہوگئی :
اچھا۔ ۔ ۔ یہ زضیہ ہوگی اور وہ جو ان کے گیگلے میاں ہیں ۔ شیر بتا رہے تھے بیوی کے آگے تو آگے پیچھے بھی دم نہیں مارتے۔ ۔ ۔ ۔ اور خود جو صبح شام چار پھولوں میں تلتی ہیں۔ ہم کے پانی تو پیٹی نہیں ہیں۔ ایک ماسی کیا رکھ لی ہے۔ دماغ ہی نہیں ملتے۔

نسرین تیر چلا چکی تھی۔ اب رضیہ کے ہاں پہنچی۔ رضیہ نسرین کو دیکھ کر چل جاتی تھی لیکن اخلاقی بیگم بن کر پوچھ لیا :
نسرین کہاں ہو؟ اب ایسا بھی کیا کرفیو کہ پڑوس میں نہ آسکو

نسرین نے جواب میں کام ہی کی بات کی :
بھابھی یہ محلہ رہنے جیسا نہیں رہا ہے۔ نہ جانے پر ہزاروں باتیں بنتی ہیں۔ آپ کو تو پتہ ہے میری ادھر سے ادھر کرنے کی عادت تو ہے نہیں

رضیہ دل ہی دل میں کہتی کہ تو اور ادھر سے ادھر نہ کرے۔ محلے کی سب سے بڑی آگ لگاوا تو تو ہی ہے، نسرین کو خوش کرنے کے لیے بولیں:
ہاں یہ تو تم سولہ آنے صحیح کہہ رہی ہو۔ تم جیسا رازدار تو پورے محلے میں نہیں

نسرین یہ جملہ سن کر بالکل بھی خوش نہ ہوئی بلکہ بات کو آگے بڑھایا :
بھابھی ایک بات بتا دوں کوئی آپ کی برائی کرے تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ مجھ سے نہیں ہوتا برداشت، ہاں نہیں تو!

رضیہ نہ چاھتے ہوئے بھی اس کی سننے کو تیار ہو گئی مگر اس طرح کے کوئی خاص دلچسپی نہ ہو:
ارے نسرین۔ دنیا کا کیا ہے۔ اسے چین کہاں ہے۔ چھوڑ میرے تو گناہ ہی دھل رہے ہیں۔ ۔ جو جس کے جی میں آئے کہے۔

نسرین اور چکنے چپڑے انداز میں کہا :
بھابھی آپ کا دل تو بہت بڑا ہے۔ پورا محلہ یہی کہتا ہے۔ بس یہ آمنہ باجی کو آپ سے خدا واسطے کا بیر ہے، کہہ رہی تھیں یہ رضیہ خود تو صبح شام چار پھولوں میں تلتی ہے اور میاں کو لگا رکھا ہے گھر کے کاموں میں۔ ماسی الگ آتی ہے

نسرین کا بیر ترکش سے نکل کر آمنہ کے سینے میں اتر گیا:
اچھا۔ ۔ ۔ ۔ یہ تم سے کہا آمنہ نے؟ اور یہ کس نے کہا کہ میں ان سے گھر کے کام کراتی ہوں

نسرین گڑبڑا جاتی ہے لیکن پھر اس کا آگ لگاوا ذہن کام کرتا ہے:
ارے بھابھی کہنا کس نے ہے۔ ریاض بھائی نے خود گلی کے مردوں کو بتایا ہے۔

نسرین تو چلی اپنا فرض انجام دے کر چلی گئی مگر اب ریاض صاحب کو صبر کی ریاضت کرنی تھی۔ ریاض صاحب گلی سے گھر میں داخل ہوئے تو رضیہ بڑے جلے بھنے انداز میں پولیں:

اور آج کیا بتا آئے محلے والوں کو ؟

ریاض صاحب نے آنے والے حالات سے بے خبر ہو کر بڑی معصومیت سے پوچھا:
میں نے کیا بتانا ہے محلے والوں کو؟

رضیہ زیادہ سوال جواب کے موڈ میں نہیں تھی:
یہی کہ آج کیا پکایا؟ کتنے کپڑے دھوئے؟

ریاض صاحب غیر متوقع سوال پر حیرانگی سے سینے پر ہاتھ رکھ کر نولے:
میں؟ کھانا اور کپڑے ؟ کوئی اور کام نہیں رہ گیا

رضیہ کا دوسرا سوال پہلے سے بالکل مختلف تھا:
اچھا یہ تو بتائیں روزانہ صبح شام آپ میرے لئے پھول کہاں سے لے کر آتے ہیں تولنے کے لیے؟

ریاض صاحب پھر صفر ہو گئے:
مجھے کیا کسی کتے نے کاٹا ہے کہ صبح شام آپ کے لئے چار پھول لے کر آوں تولنے کے لئے ۔ ۔ ۔ ہاں البتہ ڈالنے کے لئے لا سکتا ہوں۔ آگے جو میرا پروردگار چاھے۔

رضیہ بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی:
وہ تو خیر اوپر والا ہی جانتا ہے کہ کس پر پہلے پڑیں گے لیکن پھول ڈالنے سے پہلے بتائے دے رہی ہوں جو گھر سے باہر قدم نکالا تو پھر مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔

ریاض صاحب ہکا بکا رہ گئے :
کیوں بھئی میں نے ایسا ویسا کیا کردیا؟

رضیہ ٹکا سا جواب دیتی:
یہ جو تم محلے کے مردوں سے اپنا رونا روتے ہو وہ پھر نمک مرچ لگا کر اپنی بیویوں کو سناتے ہیں اور پھر وہ خبروں کی امپورٹر آور ایکسپورٹر یہاں اوپر سے چار لگا کر سناتی ہے۔

ریاض صاحب نے قسم تک کھانا چاھی :
جس کی چاھے قسم لے لو۔ میں نے ایک لفظ جو کہا ہو اور ویسے بھی کتنے دنوں کے بعد سرفراز نے اپنی بیوی نسرین سے اجازت لی ہے۔ ابھی تھوڑی دیر بعد ہمارا وہاں تاش کھیلنے کا پروگرام ہے

رضیہ کا حکم آ گیا :
کوئی نہیں۔ ۔ ۔ اب تمھارا گھر سے نکلنا بھی بند۔ کرفیو میں چاھے وقفہ بھی ہو تم گھر سے نہیں نکلو گئے۔

اور یقین جانیں جب تک کرفیو رہا۔ ریاض صاحب گھر کی جالیوں سے جھانک کر سب دیکھتے رہے۔ کوئی پوچھتا تو کہتے :
وہ ذرا پیر میں موچ آگئی ہے ڈاکٹر نے گھر میں آرام کا کہا ہے

شیر بھائی بلا کے پھکڑ تھے۔ ریاض صاحب کا نام موچی شوہر رکھ دیا۔ ریاض صاحب کو کرفیو ہٹنے کے بعد کچھ روز تک موچ ثابت کرنے کے لئے لنگڑا کر چلنا پڑا۔ سیدھے آدمی تھے کبھی سیدھی ٹانگ سے تو کبھی الٹی ٹانگ سے لنگڑاتے۔ کبھی کوئی اس طرف دھیان دلاتا تو کہتے:
آپ بیچ میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ ۔ ۔ میری ٹانگیں،  میری مرضی!

دعا یہی ہے کہ سب کورونا سے محفوظ رہیں اور جو شادی شدہ ہیں ان کے نام بھی کورونا کی وبا ختم ہونے کے بعد کسی اضافت کا شکار نہ ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20