سعود عثمانی: خشکی کے سمندر اور پانی کے جزیروں کا باسی —- عزیز ابن الحسن

0

برادرم سعود عثمانی میرے ان یارانِ دیرینہ و شاعرانِ گوہر و نگینہ میں سے ہیں جن کی شاعری کا میں انارکلی، لاہور کی دہلیز پر واقع ادارۂ اسلامیات پر کلامِ شاعر بزبانِ شاعر سننے کے زمانے سے قتیل ہوں۔ ان کی پہلی کتاب “قوس” کے آنے کے دن سے ہی میری رائے ہے، اور اس کا میں نے ان کے سامنے بھی اظہار کیا ہے، کہ ان کے اندر غزلِ مسلسل کہنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے۔

یہ نہیں کہ یہ نظم نہیں کہتے، مطلب یہ ہے ان کے ہاں غزل کے اشعار میں بھی ربطِ معنی اور تلازمِِ خیالی کا بعض اوقات ایسا اہتمام ملتا ہے جو ایک طرف ان کی قدرت کلام اور طبیعت کے وفور پر دال ہے اور دوسری طرف ان کی صلاحیتِ مضمون آفرینی کا شاہد ہے۔ ان کا یہ جوہرِ خاص دو موقعوں پر خصوصاً ظہور میں آتا ہے ایک حمد و نعت کہتے ہوئے اور دوسرے اس وقت جب یہ کسی خاص تاریخی مظہر کو موضوع بناتے ہیں۔ ان دونوں موقعوں پر نت نئے مضامین اور بات کے نئے نئے پہلو نکالنا ان کے شعری جوہر کا خاص مشغلہ ہوتا ہے۔ بات اگر محض اتنی ہوتی تو یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جو انہیں بطور شاعر بھی کوئی مقام دلاتی۔ ان کے اس ہنر کا قابلِ رشک پہلو یہ ہے کہ ان کی اس طرح کی غزلیں “موضوع مرکز” ہوتے ہوئے بھی بلحاظِ شعریت کسی طرح بھی ان کے مخصوص صناعتی معیار سے کم نہیں ہوتیں۔

سعود کے شعری ہنر کا یہ ایسا کمال ہے جو ان کے تمام معاصرین میں انہیں ممتاز تر بناتا ہے۔

حمدیہ و نعتیہ شاعری، یعنی عقیدتمندان شاعری، کو یہ خطرہ ہمیشہ لاحق رہتا ہے کہ یہاں شاعر اپنے جذبے کے خلوص و عقیدت مندی کو ہی شعری اظہار کا کافی جواز سمجھ لیتا ہے۔ شاعر جب بھی اس تحریص کا شکار ہوتا ہے اسکی شاعری فنی و جمالیاتی لحاظ سے خام رہ جاتی ہے۔ حمدونعت کہنے کے شائق ہر شاعر کو یہ بات پلے سے باندھ لینی چاہیے کہ محض محبت، محض عقیدت اور محض جذبہ، اپنی جگہ بہت اہمیت کے حامل سہی، مگر کبھی کسی نعت منقبت اور مدح کو اچھی، پائدار اور بلند پایہ شاعری نہیں بنا سکتے۔ خلوص اور جذبے سے آدمی بارگاہِ محبوب میں مقبول درجات تو پا سکتا ہے لیکن فن کی دیوی کو راضی کیے بغیر لطف سخن حاصل نہیں کر سکتا۔ شاعری کو اچھی شاعری بنانے کا معیار اول و آخر فنی اور جمالیاتی ہوتا ہے۔ سچا شاعر اور اچھا شاعر ان اصولوں سے خلقی اور طبعی طور پر واقف ہوتا ہے اور سعود ایک ایسے ہی فطری اور طبعی شاعر ہیں جو اپنی نعت اور، موضوع مرکز، اشعار کو محض جذبہ اور عقیدت کے زور پر زندہ رہ جانے والی شاعری میں منقلب نہیں کرتے بلکہ اس صنعت گری اور ہنرمندی سے شاعری تخلیق کرتے ہیں کہ جس کے لیے کسی “نقاد شاعر”( مراد فنِ شعر کے نکتہ رس پارکھ) نے کہا ہے کہ

خوبی ہمیں کرشمہ و ناز و خرام نیست
بسیار شیوہ ہاست بتاں را کہ نام نیست

ظاہر کی یہ شعر کسی محبوب کے لیے کہا گیا ہے مگر اس کا اطلاق فنِ شعرسازی پر بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی جس طرح کسی حسین کے حسن کا مدار صرف گنتی کے کچھ مخصوص غمزہ و ناز اور رفتار و انداز کے بجائے دیگر بے شمار خوبیوں پر ہوتا ہے اسی طرح اچھی شاعری(جو حسن آفرینی ہی کا دوسرا نام ہے) کی تخلیق بھی کچھ لگے بندھے قاعدوں کے بجائے دیگر بہت سے انہی وسائل و آلات کو بکار لانے سے ممکن ہوتی ہے جنہیں استادانِ فن نے بنایا سنوارا اور چمکایا ہوتا ہے۔ یہ بات فنِ شاعری کا ہر ایک مشاق اچھی طرح جانتا ہے۔

سعود عثمانی بھی ایک ایسے ہی مشاط شاعر ہیں۔ غزل کے مضامین اور معانی کی زلفیں سنوارنے کیلیے جس فنِ مشاطگی کی ضرورت ہوتی ہے اس پر انہیں پوری طرح مہارت ہے۔ ان کے ہنرِ غزل(مسلسل) پر مزید بات کرنے سے بہتر ہے کہ ان کی دو کتابوں ـٓـ “قوس” اور “بارش” ٓــ سے ایک ایک نعت اور ایک ایک غزل پیش کی جائے۔2 - Saud Usmani سعود عثمانی | Facebook

کوئی فکر لو نہیں دے رہی’ کوئی شعرِ تر نہیں ہورہا
رہ ِ نعت میں کوئی آشنا ‘ مرا ہم.سفر نہیں ہورہا

میں دیار ِ حرف میں مضمحل’ میں شکستہ پا میں شکستہ دل
مجھے ناز اپنے سخن پہ تھا سو وہ کارگر نہیں ہورہا

مرے شعر اس کے گواہ ہیں ‘ کہ حروف میری سپاہ ہیں
مگر اب جو معرکہ دل کا ہے’ وہی مجھ سے سر نہیں ہو رہا

نہ تو علم میری اساس تھا’ نہ میں رمز ِ عشق شناس تھا
فقط اک ہنر مرے پاس تھا ‘ یہ جو بار ور نہیں ہورہا

کسی زخمہ ور کی تلاش میں مرے تار ِجاں ہیں کھنچے ہوئے
مرے شہر ِ دل کے سکوت میں کوئی نغمہ گر نہیں ہورہا

مرے چارسمت یہاں وہاں ‘مرے ہر خیال کی دھجیاں
کہ حریم حرمت حرف میں کوئی معتبر نہیں ہورہا

یہ جو راہ میری طویل ہے ‘ مری گمرہی کی دلیل ہے
مری منزلیں ہیں وہیں کہیں ‘ مرا رخ جدھر نہیں ہورہا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بلند ہاتھ میں کاسہ ہے دستِ خالی کا
حرم کی سمت سفر ہے یہ مجھ سوالی کا

کبھی کبھی مری آنکھوں میں آکے دیکھتی ہے
یہ اشتیاق عجب ہے لہو کی لالی کا

یہ واقعہ ہے کہ سارے جہاں میں شہرہ ہے
حضورؐ آپ کے صحرا کی خوش جمالی کا

خیال بس میں نہیں، لفظ دسترس میں نہیں
قصیدہ کیسے کہوں پیکرِ ؐ مثالی کا

مجال کیاکہ سمندر کومیں سمیٹ سکوں
کہ میرا ظرف ہے ٹوٹی ہوئی پیالی کا

ملالِ بے ہنری کیا چھپاؤں آپ سے میں
کہ مجھ کورنج ہے خود اپنی بے کمالی کا

میں اپنے کرب کوسب سے زیادہ جانتا ہوں
سوترجمان ہوں اپنی ہی خستہ حالی کا

کسے بتاؤں کہ برگ وثمر کے ہوتے ہوئے
مری زمین پہ موسم ہے خشک سالی کا

حضورؐ وہ بھی تواک چوبِ خشک تھی جس کو
ملاتھا آپ سے رتبہ مقامِ عالی کا

حضور ؐمیں بھی توسوکھے شجر کی صورت ہوں
مجھے بھی خوف ہے لوگوں سے پائمالی کا

حضورؐ آپ نے تو گردنیں چھڑا دی تھیں
مجھے بھی حکم ہو پھر سے مری بحالی کا

حضورؐ میں نے سنا ہے کہ آپ کے در سے
سوال رد نہیں ہوتا کسی سوالی کا

یہ دونوں نعتیں سعود کے پہلے دو مجموعوں سے ہیں۔ تارِ جاں کی طرح کسے ہوئے ان اشعار میں سے اگر کوئی چاہے بھی تو کسی شعر کو چھوڑ نہیں سکتا۔ ایک سے بڑھ کر ایک انتخاب شعر ہے ان میں۔

انھی دو مجموعوں میں ان کی دو ایسی چیزیں بھی شامل ہیں کہ ان کی پہلی سماعت و قرات سے لے کر آج بیس پچیس برس بعد تک بھی میں انکے کیف اور سحر سے نہیں نکل سکا۔ یہ دونوں ہیئت کے اعتبار سے غزل ہیں مگر انکی وحدتِ خیال انہیں نظم کے قریب کرتی ہے۔ اور کمال یہ ہے کہ ہر اگلا شعر پچھلے اشعار سے مالا کے موتیوں کی طرح جڑا ہوا تو ہے، مگر بنیادی خوبی یہ ہے، کہ ہر شعر مرکزی موضوع کے تلازمۂ مضمون کے نئے ترشے نگینے کی نظر آتا ہے۔

پہلی نظم ملاحظہ ہو

حجرے شکستہ دل در و دیوار دم بخود
آرام گاہ ِ شاہ کے آثار دم بخود

جکڑا ہوا زمیں نے ستونوں کا اک جلوس
اک پَل پہ آکے وقت کی رفتار دم بخود

اندر کی سمت گرتی ہوئی دل گرفتہ سِل
باہر کے رخ جھکے ہوئے مینار دم بخود

یہ سنگِ ماہ رنگ کہ مر مر کہیں جسے
یہ روشنی سی برف کے اُس پار دم بخود

اک دوسرے کو تکتے ہوئے عکس و آئنہ
اظہار منجمد، لب ِ گفتار دم بخود

سکتے میں چار سمت زرہ پوش جالیاں
محراب کی کھنچی ہوئی تلوار دم بخود

صدیوں سے بادشاہ یہاں محو خواب ہے
صدیوں سے ہے لگا ہوا دربار دم بخود

کُو کُو کی گونج پھیلی ہوئی چار سُو مگر
اس داستاں کا مرکزی کردار دم بخود

یہ نظم مقبرہ جہانگیر، لاہور کے تناظر میں کہی گئی ہے مگر اس پر کسی عنوان کی عدم موجودگی اسے صرف جہانگیر کے مقبرے سے مخصوص نہیں کرتی۔ اس کی پرہول فضا گزرے وقتوں کے تمام آثارِ صنادید، تاریخی عمارات، شاہی محلات اجڑے شبستانوں، سنسان حویلیوں اور ویران مکان و سرا کی عبرت نشان سناہٹوں کو اپنے سمیٹے ہوئے ہے۔

ہیں مکان و سرا و جا خالی
یار سب کوچ کر گئے شاید

اچھے ادب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ مقامی و موقتی ہوتے ہوئے بھی مقامیت و وقتیت کے شائبوں سے ورا ہو جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی ویرانی و عبرت نشانی کو تصویر کرتی ہوئی یہ نظم ہر اس محل سرا و گنبد و مینار کا نوحہ بن گئی ہے جن پر کبھی وقت کے طرم خانوں کی سلطانی تھی مگر اب ان پر بوم و عنکبوت کی عمل داری ہے۔

صدیوں سے بادشاہ یہاں محو خواب ہے
صدیوں سے ہے لگا ہوا دربار دم بخود

اللہ اللہ، دم بخود! یہ ردیف کیا ہے ایک شکنجا ہے جس نے نہ صرف نظم کے ہر شعر کو کسا ہوا ہے بلکہ جہاں پناہ کے جبروت کو مجسم کرکے درودیوار کو بھی دہشت سے باندھ رکھا ہے۔

اسی طرح کے ایک اور تاریخی مظہر، مگر اس بار ایک مجسمۂ جمال، کو موضوع بناتی نظم “تاج” کے عنوان سے ہے۔ اب شاعر کا سفر جہانگیر کے مقبرۂ تنہائی و بےچاگی سے اس کے بیٹے شاہ جہاں کی محبت کی نشانی “تاج محل” کی طرف ہے جسمیں کسی پرولتارئیے نے شہنشاہ کو دولت کے سہارے غریبوں کی محبت کا مذاق اڑاتے دیکھا تو دوسرے نے اس سنگ مر مر کے اندر سموئے ہوئے خوابوں کو بیدار ہوتے دیکھا اور اسے الفت کے صنم خانے کی شمع قرار دیا تھا۔

تاج محل پر بیسیوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور سینکڑوں نظمیں بھی۔ تاج محل پر کی جانے والی شاعری کو افتخار الزماں نے “اردو شاعری میں تاج محل” عنوان کی ایک کتاب میں جمع بھی کر دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعود عثمانی کی تاج محل پر لکھی گئی نظم دیگر شاعری میں اسی طرح ممتاز ہے جس طرح ممتازمحل شاہجہان کی دوسری بیگمات میں ممتاز تھی۔ اس نظم کو مقبرہ جہانگیر پر کہی گئی سعود کی مذکورہ بالا نظم کے تناظر میں پڑھا جائے تو کچھ مماثلتیں بھی ہیں اور کچھ اختلاف بھی۔ نظموں کے معروض میں مماثلت کا پہلو تو یہ ہے دونوں مغلیہ فن تعمیر کے شاہکار ہیں۔ ایک کی تعمیر کا آغاز اگرچہ نورجہاں نے کیا تھا مگر دونوں عمارتوں کی تکمیل شاہجہاں کے حسن ذوق سے ہوئی۔ اور اختلاف کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ ایک عمارت باپ کا مزار ہے اور دوسری محبوبہ کے عشق کا مجسمہ۔ مزار جتنا بھی پرجلال ہو، اس کی قسمت میں حسرت و یاس کی تصویر بننا ہی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تاج محل کو ممتاز کی کششِ حسن اور شاہجہاں کی قوت عشق نے صلابت جلال ترفع اور نزاکت و حزن کا ایسا نمونہ بنا دیا ہے جس کے اندر ہر صاحب عشق کا دل دھڑکتا اور ہر ملکۂ حسن کا پیکر جھلکتا نظر آتا ہے۔ ان چیزوں نے مل کر تاج محل کو جلال و جمال بھی عطا کیا ہے اور مغمومیت و اداسی کا مجسمہ بھی بنا ہے جس کا مجموعی تاثر ملال آمیز تبسم اور اجیالے نور کی کرنوں میں گندھے بہجت افزا انبساط کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبرہ جہانگیر کے بارے میں سعود عثمانی کی نظم جہاں حسرت و وحشت کی فضا بناتی ہے وہاں تاج محل پر ان کے اشعار روشنی اور ابتہاج کے قمقموں سے پھوٹتی کرنوں کا تاثر پیدا کر رہے ہیں۔

پتھر ہے مگر پھول کے پیکر سے بنا ہے
کیا خواب ہے جو سنگِ منور سے بنا ہے

اس خواب نے تو مجھ میں پلک تک نہیں جھپکی
یہ خواب تو آنکھوں کے مقدر سے بنا ہے

اس حسن کو تو ہاتھ بنا ہی نہیں سکتے
یہ حسن تو معمار کے اندر سے بنا ہے

یہ صبح ازل رنگ کہ چاندی سے سجی ہے
یہ ماہِ ابد گیر کہ مرمر سے بنا ہے

شمشیر کے مانند یہ مڑتی ہوئی جمنا
یہ آب کہ جو پگھلے ہوئے زر سے بنا ہے

یہ آئنہ خانے کے شکستہ در و دیوار
یہ عکس جو ٹوٹے ہوئے منظر سے بنا ہے

یہ حجرہء ویران میں آباد کبوتر
یہ گھر جو اِسی اجڑے ہوئے گھر سے بنا ہے

سینے سے گزرتا ہوا یہ لمحہء موجود
ایسا ہے کہ جیسے کسی خنجر سے بنا ہے

دل حسن کے اس حزن پہ شق کیوں نہیں ہوتا
معلوم نہیں کون سے پتھر سے بنا ہے

پھول کا پیکر، سنگ منور، پگھلا ہوا زر، ماہِ ابد گیر کا مرمر اور حجرہ ویران کے کبوتر۔ ۔ ۔ ان حسی پیکروں سے بنا معنوی و باطنی تلازمہ کاری کا یہ ہنر بھی ملاحظہ کیجیے کہ مقبرہ جو ہجر فراق اور ویرانی کا استعارہ ہوتا ہے وہاں سعود عثمانی کی نظم کی لے بھی سکوت و انجماد کے ایک نامختتم سناٹے کی طرح کھلتی ہے مگر تاج محل والی نظم اپنے اظہار میں شبِ وصال کے لمحۂ مختصر کی طرح ہیجان، سرشاری و سرعت کا وفور رکھتی ہے۔

اس نظمیہ رنگ کلام کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سعود کے ہاں اچھی غزل اور عمدہ اشعار نہیں ہے۔ ان کی ہر غزل میں اچھے اشعار کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ ہے اور مضبوط فنی گرفت والے ہیں جو کسی بھی اچھے شاعر کی غزلوں میں ہوسکتے ہیں۔

کچھ غزلیں اور اشعار ملاحظہ کیجئے

وہ مُدّتوں کے بعد، سرِ راہ مِل گیا
ایسا لگا کہ جیسے کوئی زخم چِھل گیا

اس کے تو جیسے پاؤں زمیں نے پکڑ لیے
اور میں کسی شجر کی طرح جڑ سے ہِل گیا

اس کے بھی لفظ جیسے مُقفّل سے ہو گئے
میرے بھی لب پہ جیسے کوئی حرف سِل گیا

اس کے بھی دل کے رنگ نگاہوں تک آ گئے
مجھ میں بھی قافلہ سا چلا، تا بہ دِل گیا

لمحے، کہ جیسے وقت میں گرہیں سی پڑ گئیں
منظر کہ جیسے آنکھ کے پردے پہ سِل گیا

وہ جس پہ اِندمال کی مُدّت گزر چکی
اندر کہیں وہ زخم رگِ جاں سے مِل گیا

پُھولوں نے جیسے جھانک لیا تھا مِرا وجود
دل کا ہر ایک رنگ درختوں پہ کِھل گیا

۔ ۔ ۔ ۔

رت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

سات سروں کی لہروں پہ ہلکورے لیتے پھول سے ہیں
اک مدہوش فضا سنتی ہے اک چڑیا کے گانے کو

بولتی ہو تو یوں ہے جیسے پھول پہ تتلی ڈولتی ہو
تم نے کیسا سبز کیا ہے اور کیسے ویرانے کو

لیکن ان سے اور طرح کی روشنیاں سی پھوٹ پڑیں
آنسو تو مل کر نکلے تھے آنکھ کے رنگ چھپانے کو

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی
اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

ہم بھی ویسے نہ رہے دشت بھی ویسا نہ رہا
عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی

وہ جو برباد ہوئے تھے ترے ہاتھوں وہی لوگ
دم بخود دیکھ رہے ہیں تری حیرانی بھی

یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی

جیسے کوئی جسم کے اندر دیواریں سی توڑتا ہے
دیکھو اس پاگل وحشی کو روکو اس دیوانے کو

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایک کتاب سرہانے رکھ دی ایک چراغ ستارا کیا
مالک اس تنہائی میں تو نے کتنا خیال ہمارا کیا

یہ تو بس اک کوشش سی تھی پہلے پیار میں رہنے کی
سچ پوچھو تو ہم لوگوں میں کس نے عشق دوبارہ کیا

چند ادھورے کاموں نے کچھ وقت گرفتہ لوگوں نے
دن پرزے پرزے کر ڈالا رات کو پارہ پارہ کیا

دل کو اک صورت بھائی تھی اس انبوہ میں پر ہم نے
جانے اس افرا تفری میں کس کی سمت اشارہ کیا

سر پر تاج کی صورت دھر دی اس نے ایندھن کی گٹھری
عشق نے کیسے خوش قسمت کو شاہ سے لکڑہارا کیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا
تیرا تو کچھ نہیں گیا مارا تو میں گیا

جب تک میں تیرے پاس تھا بس تیرے پاس تھا
تو نے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا

یہ طاق یہ چراغ مرے کام کے نہیں
آیا نہیں نظر وہ دوبارہ تو میں گیا

شل انگلیوں سے تھام رکھا ہے چٹان کو
چھوٹا جو ہاتھ سے یہ کنارا تو میں گیا

تیری شکست اصل میں میری شکست ہے
تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ خوش نظری خوش نظر آنے کے لئے ہے
اندر کی اداسی کو چھپانے کے لئے ہے

میں ساتھ کسی کے بھی سہی، پاس ہوں تیرے
سب دربدری ایک ٹھکانے کے لئے ہے

ٹوٹے ہوئے خوابوں سے اٹھائی ہوئی دیوار
اِک آخری سپنے کو بچانے کے لئے ہے

اس راہ پہ اک عمر گزر آئے تو دیکھا
یہ راہ فقط لوٹ کے جانے کے لئے ہے

تجھ کو نہیں معلوم کہ میں جان چکا ہوں
تو ساتھ فقط ساتھ نبھانے کے لئے ہے

تو نسلِ ہوا سے ہے بھلا تجھ کو خبر کیا
وہ دکھ جو چراغوں کے گھرانے کے لئے ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اب بھی وہ ہمیں ملا کہاں ہے
دیوار ِ وصال درمیاں ہے

یہ شہر بلندیوں سے دیکھو
دریائے رواروی رواں ہے

اک عمر تری تلاش کے بعد
میں ہوں ‘ مری عمر ِ رائیگاں ہے

ہر سو تجھے ڈھونڈتی ہیں آنکھیں
تُو ہے تو کہیں ‘ مگر کہاں ہے

دل سے تری یاد اتر رہی ہے
سیلاب کےبعد کا سماں ہے

جب آگ پہ راکھ جم چلی ہو
وہ وقت سخن کا امتحاں ہے

۔ ۔ ۔ ۔

چشمِ بے خواب پہ خوابوں کا اثر لگتا ہے
کیسا پت جھڑ ہے کہ شاخوں پہ ثمر لگتا ہے

اب جو چاہیں بھی تو اس طرح نہیں مل سکتے
پیڑ اکھڑے تو کہاں بار ِ دگر لگتا ہے

ذہن کی جھیل سے یادوں کی دھنک پھوٹتی ہے
ایک میلہ ہے جو ہر شام اِدھر لگتا ہے

کوئی شوریدہ نفس جسم کے اندر یے سعود
دل دھڑکتا ہے کہ دیوار سے سر لگتا ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مزاج درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے
کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا

پھر اس کے اشک بھی اس کو ادا نہ کر پائے
وہ دکھ جو اس کے تبسم نے آشکارا کیا

مزاج غم نے بہرطور مشغلے ڈھونڈے
کہ دل دکھا تو کوئی کام وام میں نے کیا

چلی جو سیل رواں پہ وہ کاغذی کشتی
تو اس سفر کو محبت کے نام میں نے کیا

اشکوں نے بنا ڈالے ہیں اک بات پہ دھیرے سے خشکی کے سمندر میں پانی کے جزیرے سے

خدا گواہ کی خوشیاں بہت ملیں لیکن
میں کیا کروں جو اداسی ہی دل کے اندر ہو

ٹھہر ٹھہر کے زمین سایہ دار کرتے ہوئے
شجر کھڑے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے

کوئی تو اہل محبت کے غم اٹھایا کرے
اک ابر ہو جو درختوں کے سر پہ سایہ کرے

قدیم پیڑ ہوں اور منجمد چٹان میں ہوں
عجیب دور سے گزرا ہوں سنگ ہوتا ہوا

یہاں میں ادھر ادھر سے سرسری سے کئے ہوئے غزلوں اور چند اشعار کے انتخاب کو روک رہا ہوں تو اس لئے نہیں کہ ان کے ہاں اور اعلی پائے کے اشعار نہیں ہیں بلکہ جس طرح بٹ حضرات کھانے سے رج کے نہیں بلکہ تھک کے اٹھا کرتے ہیں اسی طرح میں بھی سعود عثمانی کی غزلوں کے انتخاب کو تھک کر چھوڑ رہا ہوں۔

انفرادی طور پر ان غزلوں اور اشعار پر الگ الگ گفتگو کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ مجھے یہ ہنر نہیں آتا۔ بس اتنا کہہ کر بات ختم کرتا ہوں کہ سعود کی شاعری کا بنیادی جوہر ایک تازگی، عطربیزی، اجلاپن اور نظافت ہے جن سے ان کے شعری باطن کی پاکیزگی کا پتا دیتا ہے۔ پڑھنے والا اس شاعری میں پست خیالی کا کہیں شائبہ تک نہیں پاتا۔ میں سمجھتا ہوں یہ ان کے گھرانے کی دین ہے۔ انکی حمدونعت پر بات کرتے ہوئے میں نے جذبے کے مقابلے میں ان کی فنی جمالیات پر جو زیادہ بات کی ہے تو صرف ان کی شاعری ہنرمندی پر زور دینے کے لیے ورنہ جذب و مستی، ذوق و شوق، عقیدت و بے چارگی اور محبوبِ دو جہاں کے حضور نثار ہو ہو جانے اور آنحضرت (ص) سے مناجات و درددل کہنے میں جو الحاح و زاری و فروری و تزرع ہے اس پر تو بات ہی نہیں کی جاسکتی۔ ان نعتوں کے اشعار پڑھنے والا تو ان ساتھ بس بچشمِ نم بہے چلا جاتا ہے۔

سعود کی شاعری میں جھٹپٹے کے مناظر تو ہیں مگر گھور اندھیرا کہیں نہیں۔ وصل و ہجر ہر شاعر کا مقدر ہوتا ہے۔ اچھی شاعری لمحۂ نشاط کی دین نہیں بلکہ گلخنِ فراق کی تپش میں پک کر نکلتی ہے۔ اچھے شاعر کا وصف یہ بھی ہوتا ہے کہ ہجریہ تجربے کو پہلے اپنے باطن میں اتارے اور پھر اسے نشاطیہ رنگ دیکر خوش دلی میں مبدل کرنے کی کوشش کرے۔ سعود عثمانی اس نکتے سے خوب آگاہ معلوم ہوتے ہیں۔

یوں ختم کیا فسانا ہم نے
لہجے میں ملال تک نہ آیا

وہ اس قماش کے شاعر ہرگز نہیں ہیں کہ

اب یار کی گلی میں یہ شغل رہ گیا ہے
آتے بسور تے ہیں جاتے بسورتے ہیں

ان کی پلکیں زیادہ بھیگتی نہیں ہیں بس صرف یہ کہ جب ضبط زیاد ازحد ہوجائے تو چپکے سے خشکی کے سمندر بلوتی اور پانی کے جزیرے آباد کر دیتی ہیں۔ بطور شاعر سعود کا یہ کمال کیا کم ہے کہ انکی ہاں اگر کھلی کھلی کھلکھلاہٹیں نہیں تو ان کی پوری شعری کائنات میں ایک بھی منھ بسور شعر موجود نہیں ہے! ⁦☺️⁩

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20