احساس پروگرام اور غریبوں کی عزت نفس —- راحیلہ سلطان کا کھلا خط

2

میرے قابل احترام وزیراعظم!
آپ اس ریاست کے والی ہیں۔ اس ملک میں ہرغریب اپنی ضروریات کے لیے ﷲ کے بعد آپ ہی کی طرف دیکھتا ہے۔ کیونکہ ریاست کے لیے آپ کا اٹھایا ہوا ہر عملی قدم بلواسطہ و بلاواسطہ طور پر عوام کو متاثر کرتا ہے۔ آپ اس نبی کی امت میں سے ہیں جو ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو کی تلقین کرتا ہے۔ آپ کے آبا اللہ کے ایسے جلیل القدر بہادر صحابہ ہیں جو دریائے عرفات کے کنارے ایک کتے کے بھوکے سونے پر آخرت میں سوال پوچھنے کے خوف سے زاروقطار روتے تھےآپ کے خلفا سخی اور عادل و منصف کے نام سے تاریخ میں رقم ہیں۔

ﷲ نے اس ملک کی باگ دوڑ آپ کو دی۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ دیانتدار ہیں اس ملک سے آپ کو پیار ہے۔ غریب عوام کی پریشانی و تکلیف آپ کو چین نہیں لینے دیتی۔ آپ کی حساس طبیعت ان کے ہر دکھ میں تڑپ اٹھتی ہے۔ آپ کو غربت کی لکیر سے نیچے 25 % عوام کی بھوک ، فکر میں مبتلا کرتی ہے۔ آپ ان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں آپ کی نیت پر کوئ شک نہیں۔

اس حقیقت سے انکارنہیں کہ پوری دنیا میں کرونا کی وبا عفریت کے روپ میں پنجے گاڑ چکی ہے اور پاکستان جیسا غریب اور بیشتر بنیادی سہولیات سے محروم ملک بھی اس وبا کے زیر اثر آچکا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اس وبا کے اثرات سے ملک وعوام کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے اپنے دن رات ایک کردیے ہیں۔ اس وبا سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات نے نہ صرف ملک کی معیشت پر کاری ضرب لگائ ہے بلکہ دیہاڑی دار طبقے کی بھی کمر توڑ دی ہے۔ وہ دیہاڑی دار طبقہ جو مانگ کر کھانے کی جگہ محنت و مشقت کی کمائ کو ترجیح دیتا تھا۔ وہ طبقہ جو سرجھکانے کی جگہ سر اٹھا کر جینے کا قائل تھا۔ جو کسی NGO کسی خیراتی ادارے یا آپ کے بیت المال پر بوجھ نہیں تھا وہ ہی عزت دار طبقہ آج منہ چھپائے مختلف این جی اوز سے راشن لے رہا ہے گھر پر بھوک دیکھ کر مخیر حضرات کے ہاتھ دیکھنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ وہ اپنی امداد کے لیے آپ کے “احساس” کا منتظر تھا۔
اور آپ نے مایوس نہیں کیا۔

میرے وزیر اعظم !!
پاکستان اس بائیس کڑوڑ عوام کی ملکیت ہے آپ ایک جمہوری ملک کے الیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔ آپ نے اس ملک کی ترقی، کامیابی اور عوام کی فلاح وبہبود کا بیڑا اٹھایا ہے آپ کا ہر قدم اس ملک کی بہتری کا متقاضی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ آپ اس کے لیے کوشاں بھی ہیں آج کے اس مشکل وقت میں اگر یہ خوددار محنتی عوام آپ کی طرف امداد کے لیے دیکھتی ہے تو یہ اس کا حق ہےاور اگر آپ ان کا احساس کرکے امداد کرتے ہیں تو یہ آپ کا فرض ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے کیا کیا اور کیا نہیں اس کے
جواب دہ نہ آپ دنیا میں ہوں گے اور نہ اللہ کے دربار میں لیکن ایک حاکم کی صورت میں آپ اپنے ہر عمل کے جواب دہ ضرور ہوں گے۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کے احساس پروگرام کے تحت ملنے والی بارہ ہزار کی امدادی رقم کی مثال اس سے پہلے ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن اس فرض و حق میں سیاسی اسکورنگ آپ کو زیب نہیں دیتی۔

احساس پروگرام کی ہر لمحے کی میڈیا کوریج اور بار بار اس محنت کش طبقے کی احسان مندی آپ کے وقار پر سوالیہ نشان بن رہی ہے۔ کیمرے کے سامنے منہ ڈھانپے مجبور و بے کس خواتین نہ جانے کس احساس شرمندگی سے دوچار ہوکر آپ کا بار بار شکریہ ادا کر رہی ہیں۔ جھکی جھکی آنکھیں اور شرمندہ چہرے بار بار آپ کی احسان مندی کے گن گا رہے ہیں۔ پیٹ کی بھوک نے عزت نفس کو داؤ پر لگادیا ہے دن میں سینکڑوں بار چلنے والے احساس پروگرام کے اشتہار اور مجبور و غریب عوم کے شکرگزار و ممنون انداز نے حق و فرض کے اس رشتے کو احسان میں تبدیل کردیا ہے۔
آپ یقین مانیں کہ کیمرے کے سامنے ہی نہیں بلکہ گھر کی حدود میں بھی جب بھوکے پیٹ میں روٹی اترتی ہے تو دل سے دینے والے کے لیے دعا ہی نکلتی ہے۔

کسی کی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر اگر آپ یہ فرض گھر کے دروازوں پر یا بینک کی حدود میں بنا کسی میڈیا کوریج کے ادا کرتے تو بھی لوگوں کی جھولی بھر دعائیں ہی پاتے۔ کسی کی عزت کو تماشہ بننے سے محروم رکھ کر بھی آپ کے فرض کو احسان سمجھ کر ہی وصول کیا جاتا کہ یہ ہماری عوام کی کم آگہی یا فطرت ہے۔

شکر گزار اور ممنون لہجوں اور چہروں کو اگر پوشیدہ رہنے دیتے تب بھی اللہ کی ذات سے آپ کے اعمال چھپ نہ پاتے۔
آپ کے سیاسی مشیر و وزیر اگر اس احساس کو دن رات فخر اور احسان کی صورت میں مسلسل میڈیا پر بیان نہ کرتے تب بھی اس کی وقعت کم نہ ہوتی۔

آپ کی وزیر اطلاعات اگر دن میں چار بار احساس پروگرام سے ملنے والی رقوم کا مستحقین کی زندگی میں افادیت کا راگ نہ الاپتیں تب بھی یہ پروگرام عملی طور پر نہایت کارآمد ہی رہتا۔ اگر احساس پروگرام کے اشتہارات اور میڈیا کوریج کی مد میں دی جانے والی رقوم سے مزید غریب عوام کی کفالت ہوتی تب بھی اس کی شہرت کم نہ ہوتی۔ لوگوں کی شکرگزاری و ممنونیت میں رتی برابر فرق نہ پڑتا۔ ہر مدد کو اشتہار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کچھ نیکیاں سیاست سے بالاتر ہوکر حقیقی سیاسی عظمت کی وجہ بن کر سیاسی قد میں اضافے کا سبب ہی بنتی ہیں۔

آپ کے احساس پر کسی کو شک نہیں مگر میرے وزیر اعظم اس احساس پروگرام میں غریب کی عزت نفس کا بھی احساس کیجیے۔ ۔
فقط
ایک عام شہری
راحیلہ سلطان

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. میرے پیارے بہن راحیلہ سلطان آنٹی کی تحریر ایک سچائی پر مبنی ہے لیکن اس وقت نہ پاکستان کی ضرورتمند لوگ کا پتہ چلتا ہے کہ غریب لوگ کا پتہ چلتا ہے ہر پروگرام چور مور خاک میں تبدیل ہوتا ہے یہاں پتہ نہیں ہے کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان کو اس پروگرام کا مشورہ کس کتے بچے دیا ہے
    ملک چلنے کےلیے سب سے پہلے اسبملی ممبران سے سب کو چھینا کی ضرورت ہے جاگیرداروں کو کمزور کرنے کے ضرورت ہے
    دس بڑی حق والا لیڈر کو ساتھ ملنے کی ضرورت ہے جیسے پارٹیوں کے سربراہان ہے جس وجہ سے پاکستان کو لوٹنے سے رو ک سکتا ہے

    50 علماء کرام کی کمیٹی بنائی جائے
    50 علماء کرام کو جو پاکستان کا نامور شخصیات ہے انکو ہاتھوں سے قانون بنایا جائے اور ہر تھانہ میں ایک فوجی جرنیل کو دفتر بنا دیا
    خوراکی مواد کے قیمت عدالت سے پاس کرے ذکات کی مستحق افراد کے لئے خواتین کی کمیٹی بنائی پولیوں والے خواتین کی ساتھ مل ایسا گھروں کی پتہ لگایا جا سکتا ہے

    خواتین قانون کا زیادہ احترام کرتا ہے اور کرپشن بھی نہیں کرتا ہے

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20