اتنے مایوس تو حالات نہیں —– محمد کامران خالد

0

آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا
خوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہوا
(شہریار)

راجندر سنگھ بیدی نے 1918 میں ہندوستان میں طاعون کی وبا پھوٹنے کے پس منظر میں ایک افسانہ “کوارنٹین” (قرنطینہ) کے نام سے لکھا۔ اس افسانے میں بیماری سے زیادہ اس کے نتیجے میں تنہائی کے عالم میں پیدا ہونے والے خوف اور ہر طرف پھیلی ناامیدی کو شدت سے بیان کیا گیا ہے۔ دنیا اور حالات کے خوف میں مبتلا ہونا اورناامیدی انسان کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کردیتی ہیں جوکہ جسمانی عارضے سے زیادہ خطرناک اور مہلک ثابت ہوتی ہے۔ راجندر بیدی اکیلے پن کے خوف کے بارے میں لکھتے ہیں:

“ہمالہ کے پاؤں میں لیٹے ہوئے میدانوں پر پھیل کر ہر ایک چیز کو دھندلا بنا دینے والی کہرے کے مانند پلیگ کے خوف نے چاروں طرف اپنا تسلط جما لیا تھا۔ شہر کا بچہ بچہ اس کا نام سن کر کانپ جاتا تھا۔

کوارنٹین کے متعلق لوگوں کا خوف بجا تھا۔ بحیثیت ایک ڈاکٹر کے میری رائے نہایت مستند ہے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جتنی اموات شہر میں کوارنٹین سے ہوئیں، اتنی پلیگ سے نہ ہوئیں، حالاں کہ کوارنٹین کوئی بیماری نہیں، بلکہ وہ اس وسیع رقبہ کا نام ہے جس میں متعدی وبا کے ایّام میں بیمار لوگوں کو تندرست انسانوں سے ازروئے قانون علاحدہ کر کے لا ڈالتے ہیں تاکہ بیماری بڑھنے نہ پائے۔ “

بیماری سے زیادہ بیماری کا خوف انسان کو نفسیاتی ہیجان میں مبتلا کردیتا ہے۔ جب امید سے دور اور خوف کے سائے میں زندگی کی سانسیں رواں دواں ہوں تو مسیحا، جو زندگی بچانے اور امید کا پیامر ہوتا ہے، بھی اندر ہی اندر ڈر کا شکار ہونے لگتا ہے۔ ۔ ۔ راجندر بیدی کے اس افسانے کا مرکزی کردار جو خود ڈاکٹر ہے، وہ بیماری سے متعلق اپنے خوف کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

“ان دنوں میں کوارنٹین میں بطور ایک ڈاکٹر کے کام کر رہا تھا۔ پلیگ کا خوف میرے دل و دماغ پر بھی مسلّط تھا۔ شام کو گھر آنے پر میں ایک عرصہ تک کار بالک صابن سے ہاتھ دھوتا رہتا اور جراثیم کش مرکب سے غرارے کرتا، یا پیٹ کو جلا دینے والی گرم کافی یا برانڈی پی لیتا۔ اگرچہ اس سے مجھے بے خوابی اور آنکھوں کے چندھے پن کی شکایت پیدا ہو گئی۔ کئی دفعہ بیماری کے خوف سے میں نے قے آور دوائیں کھا کر اپنی طبیعت کو صاف کیا۔ جب نہایت گرم کافی یا برانڈی پینے سے پیٹ میں تخمیر ہوتی اور بخارات اٹھ اٹھ کر دماغ کو جاتے، تو میں اکثر ایک حواس باختہ شخص کے مانندطرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتا۔ گلے میں ذرا بھی خراش محسوس ہوتی تو میں سمجھتا کہ پلیگ (طاعون) کے نشانات نمودار ہونے والےہیں۔ اُف میں بھی اس موذی بیماری کا شکار ہوجاؤں گا۔ ۔ ۔ پلیگ! اور پھر کوارنٹین!”

اک بلا کوکتی ہے گلیوں میں
سب سمٹ کر گھروں میں بیٹھ رہیں
(شہریار)

اس منظر سے محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف آج کے حالات بیان کررہا ہو جس طرح کورونا کی وبا نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے اس میں انسانیت کو بیماری سے زیادہ بیماری کے خوف سے خطرہ ہے۔ اب کسی کو ذرا سی چھینک بھی آتی ہے تو وہ کورونا وائرس کا تاج نما ڈراؤنا جرثومہ آنکھوں کے سامنے رقص کرتے دکھائی دینے لگتا ہے۔ سماجی دوری اور قرنطینہ نے جہاں انسانوں کو تنہائی کے گوشے عطا کیے جہاں اسے بیٹھ کے اپنی زندگی کو نئے زاویے دیکھنے اور سوچنے کا نادر موقع حاصل ہوا ہےاس کے ساتھ یہ ایک طرح سے وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام اور تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ لیکن راجندر بیدی کے بیان کردہ خوف کی طرح تنہائی ایک عذاب کی صورت بھی اختیار کرتی جارہی ہے۔ بقول شاعر

بند کمروں میں کھلی تنہائی
چونکتے، سوچتے، ڈرتے ہوئے دن
(محمود شام)

بے نام سے اک خوف سے دل کیوں ہے پریشاں
جب طے ہے کہ کچھ وقت سے پہلے نہیں ہوگا
(شہریار)

جب کسی معاشرے پر اچانک کوئی افتاد آن پڑتی ہے تو اس سے لوگوں کی توجہ زندگی کی روانی اور رنگینیوں سے دور ہوجاتی ہے اور وہ ایک مبہوت کیفیت کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس شدت کو شیخ سعدی نے اپنے ایک شعر میں بیان کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے اور مصیبت کی انتہا کی نشان دہی کرتا ہے:

چناں قحط سالے شُد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کردند عِشق

یعنی دمشق کے شہر میں ایک بار ایسا قحط پڑا کہ یار لوگ عشق کرنا بھول گئے۔

انتظار حسین اپنے مضمون “کچھ دمشق اور عشق کے بارے میں” میں اس شعر کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“مگر ہم سوچتے تھے کہ شیخ سعدی نے خیالی کھچڑی پکائی ہے۔ یار لوگ عشق سے کہاں باز آتے ہیں۔ دمشق میں ایسا قحط بھلا کب پڑا تھا۔ شیخ نے بس ہمیں ڈرانے کے لیے یہ شعر کہا ہے۔ خبردار کیا ہے کہ شہروں پر ایسے وقت بھی آتے ہیں اور قوموں پر ایسی قیامت بھی کبھی کبھی ٹوٹتی ہے کہ جانوں کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ اس فکر میں آدمی اپنے سارے شغل اشغال بھول جاتا ہے۔ سیر سپاٹے، ہنسی دل لگی، کھیل کود، محبت یاراں، ناچ گانا، شعر و شاعری سارے مشغلے معطل ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہوش اڑتے ہیں کہ عشق و عاشقی کا خیال بھی رفو چکر ہو جاتا ہے۔ “

 لیکن اس خود ساختہ قیدِ تنہائی میں ہمیں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا بلکہ اس موقع کو غنیمت جانیں اور بقول آصف فرخی “ ابتدائی دنوں کے خوف اور افواہوں کے زور، بیماری کے گھیرے سے بچ نکلنے کی تڑپ، اس کے بعد قرنطینہ کا جبر اور قیدِ تنہائی کی سی کیفیت دل و دماغ کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں۔ “

پاکستان اور دنیا بھر میں جاری وبائی صورت حال نے عوام کو جس الم ناکی اورخوف کی کیفیت سے دوچار کیا ہے اس پر ہر اہل دل بھی تشویش اور کرب میں مبتلا ہیں۔ لیکن بقول اقبالپیوستہ رہ شجَر سے، امیدِ بہار رکھ” ہمیں ابتلا کے ان لمحات میں سماجی دوری ضرور اپنائیں لیکن دلوں میں دوری پیدا نہ ہو۔

مصافحے سے گریز ہوگا
بجائے ہاتھوں کے دل ملیں گے
(سعید عباس سعید)

بلکہ ہمیں امیدِ زیست کے پیغام کو دلوں میں زندہ رکھنا ہے اور قیدِ تنہائی سے خوف زدہ ہوکر مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں جاگرنے سے بچانا ہے۔

منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا
حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مرجاؤں گا
(ساقی امروہوی)

جینے کا حوصلہ سلامت ہو تو انسان کو پہاڑ جیسی مصیبت کو بھی روئی کے گالوں کی طرح دکھائی دینے لگتی ہے۔

اے سعید امیدِ زیست کے نغمے سنا سنا کر
ڈھارس بندھا رہی ہے کھڑکی میرے قفس کی
(سعید عباس سعید)

امید ایک دھند کی طرح ہوتی ہے۔ ۔ ۔ کچھ ایسا ہے کہ “صاف چھپتا بھی نہیں سامنے آتا بھی نہیں۔” اسی کے سہارے زندگی کی گاڑی رواں دواں ہے۔ سب کچھ ہاتھ سے چلے جانے کے بعد اگرکچھ بچتا ہے تووہ امید ہی ہے۔ امید کے راستے تلاش نہیں کرنے پڑتے بلکہ یہ تو وہ راستہ جو ہمارے قدم دریافت کرتے ہیں۔ چینی مصنف و دانشور لیو شِن کے بقول:

“اُمید۔ ۔ ۔ گاؤں کی ایک پگڈنڈی کی مانند ہوتی ہے جوپہلے پہل یہ ایک اَن دکھا راستہ ہوتی ہے لیکن جب لوگ ایک طرف چل پڑتے ہیں تو وہ (منزل کا پتا دیتی) ایک شاہراہ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔”

رات جتنی بھی طویل ہو سحر ضرور ہوتی ہے۔ اس لیے ایسا نہ ہو کہ یہ مشکلات، مصائب، الجھنیں، بے چینی اور بے تابیاں ہمارے حوصلے پست کردیں۔ وقت ہے گزر ہی جاتا ہے اور ہر نیا لمحہ امید کی نئی کرن کا پیغام لاتا ہے۔

بقول فیض
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

مایوسی کسی طور بھی زندگی کو روا نہیں ہے۔ آزمائشوں کا دور ہمیں زندگی کا نیا حوصلہ اور نئے زاویوں سے آشنا کرتا ہے۔ ان حالات میں گھبرانا یا مایوسی کی گھاٹیوں میں اتر جانا جمود اور موت علامت ہے۔ جاں نثار اختر کا کیا امید افزا شعر ہے کہ

اتنے مایوس تو حالات نہیں
لوگ کس واسطے گھبرائے ہیں

زندگی چہل پہل، خوش مذاقی، خوش طبعی اور بذلہ سنجی سے عبارت ہے۔ لٹکے ہوئے چہروں، بوجھل آنکھوں، رنجیدہ دل اور نڈھال جسم سےزندگی کا سفر طے نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ حقیقی خوب صورتی کا سرچشمہ قلبِ جاں گزیں ہے اور یہ روشن نہیں تو آنکھوں کا نور بھی بے قیمت رہتا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
(امام بخش ناسخ)

ناامیدی انسان کے باطن کو پراگندہ کردیتی ہے جو اسے فکرونظر سے بھی بے بحرہ کردیتی ہے۔ مردِ مومن کبھی بھی مایوسی کی دلدل میں نہیں پھنستا بلکہ خدائے واحد پر یقینِ کامل اسے ذہنی آسودگی کے ساتھ اطمینان قلب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:

نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
اُمید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“۔ ۔ ۔ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ کی رحمت سے تو صرف منکر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔”
سورہ یوسف::87

اس لیے مومن کو زیبا نہیں دیتا کہ وہ ناامیدی یا مایوسی کو خود پر سوار ہونے دے۔ بقول شاعر

روا نہیں ہے مسلماں کو خوئے نومیدی
کہ سردوگرم زمانہ ہیں امتحاں کے لیے
( جاوید احمد غامدی )

مولا نا وحیدالدین خاں ایک موقع پر لکھتے ہیں کہ امید ہی زندگی ہے، وہ مزید لکھتے ہیں:

“جس طرح ہماری زمین مسلسل گردش کر رہی ہے، اسی طرح انسان کے حالات بھی برابر بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ کسی بھی حال میں مایوس نہ ہو، وہ ہمیشہ ناامیدی پر امید کے پہلو کو غالب رکھے۔ حال کی بنیاد پر وہ کبھی مستقبل کے بارے میں اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ رات کے آنے کو اگر ”آج“ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ اندھیرے کا آنا معلوم ہو گا۔ مگر ”کل“ کے لحاظ سے دیکھئے تو وہ روشن صبح کے آنے کی تمہید بن جاتا ہے۔ خزاں کا موسم بظاہرپت جھڑکا موسم دکھائی دیتا ہے مگر مستقبل کی نظر سے دیکھئے تو وہ بہار کے سر سبزوشاداب موسم کی خبر دینے لگے گا۔ ۔ ۔ ۔ جب یہاں ہر تاریکی آخر کار روشنی بننے والی ہے تو وقتی حالات سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ آدمی اگر یہاں کسی مشکل میں پھنس جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ صبر اور حکمت کے ساتھ اس سے نکلنے کی جدوجہد کرے، اگر بالفرض اس کے پاس جدوجہد کرنے کی طاقت نہ ہو تب بھی اس کو چاہئے کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے آنے والے کل کا انتظار کرے۔ اس دنیا میں جس طرح محنت ایک عمل ہے، اسی طرح انتظار بھی ایک عمل ہے۔ جو شخص عمل کا ثبوت نہ دے سکے، اس کو چاہئے کہ وہ انتظار کا ثبوت دے۔ اگر اس نے سچا انتظار کیا تو عین ممکن ہے کہ وہ انتظار کے ذریعہ بھی اسی چیز کو پالے جس کو دوسرے لوگ محنت کے راستے سے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ قدرت کا نظام خود اپنے آخری فیصلہ کو ظہور میں لانے کے لئے سرگرم ہے، بشرطیکہ آدمی مقرر ہ وقت تک اس کا انتظار کر سکے۔”

قرآن میں بعض انسانی پریشانیوں اور مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کی ناموافق حالات کا سامنا ہو تو صبر اور توکل کا انداز اختیار کرو۔ اللہ تمہارا نگہبان ہے، وہ تمہارے لئے مشکل کے بعد آسانی پیدا کر دے گا (سورۃ الطلاق :7)

 امید کی کرن ایک خوشی، راحت اور دلی اطمینان کا نام ہے جس کے بغیر انسان خود کو ایک کھائی میں گرتا دیکھ رہا ہوتا ہے۔ پاولو کوئیلو الکمسٹ میں لکھتے ہیں کہ

“جب ہم عشق کی راہ کے مسافر بنتے ہیں تو ہمیشہ بہتر بننے کی تگ و دو میں خود کو کھپا دیتے ہیں۔ جب ہم بہتر بننے کے لیے جدوجہد کررہے ہوتے ہیں تو ہمیں اطراف میں بھی بہتری نظر آنے لگتی ہے۔”

دنیا مجرد یا اکیلے نہیں گزاری جاسکتی جب ہم انفرادی سطح پر بھلائی اور بہبود کے لیے متوجہ ہوتے ہیں تو خوشبو کی طرح چہارجانب اس کے اثرات ہویدا ہوتے ہیں۔ پاولو کوئیلو نے اس حقیقت کو آشکار کیا ہے کہ امید، خوشی اور محبت ایک فرد تک محدود نہیں رہتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ اس مشکل کی گھڑی میں سماجی دوری کو دلوں کی دوری مت بنائیے، بیماروں کو حوصلہ دیجیے کہ رنجیدہ دل نہ ہو، کوئی غم نہ کرو، اس مرض سے جلد صحت یابی نصیب ہوگی بلکہ خداوند کریم اس مرض سے تمھارے گناہوں اور عیبوں سے بھی خلاصی عطا کرے گا۔

شاعر نے کیا خوب کہا کہ

جو مجبور ہیں غم کے مارے ہوئے ہیں
جو تنگ آچکے ہیں جو ہارے ہوئے ہیں
وہ پھر صحت پائیں وہ پھر مسکرائیں
وہ پھر زندگی کی طرف لوٹ آئیں
(بشارت تنشیط)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20