شمشان گھاٹ کی شام —- لالہ صحرائی

0

کسی اہم شخصیت کا فوت ہو جانا ایک خلاء کا باعث تو بنتا ہی ہے مگر جانے والے کو جب شردانجلی دیئے بغیر یعنی الوداعی عزت و احترام دیئے بغیر رخصت کر دیا جائے تو یہ سماج کیلئے شرمساری کا پہلو بھی رکھتا ہے اور جب اس کی آخری رسومات پر بدتہذیبی کا مظاہرہ بھی کر دیا جائے تو پھر سماجی ترتیب میں موجود غلطی کو دور کرنا چاہئے۔

سکھ پنتھ کے مذہبی گلوکار، بھائی نرمل سنگھ جی خالصہ، 2 اپریل کو کرونا کی وجہ سے چل بسے تھے، حقیقت میں وہ کرونا سے نہیں اس گھٹن سے چلے گئے جو قرنطینہ میں ان کیساتھ برتی گئی۔

سنگھ صاحب پاکستانی گلوکار غلام علی صاحب کے اعزازی شاگرد، بھارت کے پدم شری ایوارڈ یافتہ گائیک، گولڈن ٹیمپل کے سابقہ حضوری راگی، آپریشن بلیوسٹار کے دوران بارود کی برسات میں نو گھنٹے تک مسلسل کیرتن کرنے والے بہادر انسان اور صرف پرائمری تعلیم کیساتھ ان دو کتابوں کے مصنف ہیں جن پر پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ سے چھبیس خواتین و حضرات نے پی۔ایچ۔ڈی کی ہے۔

یہ دونوں کتابیں ان کی پاکستان میں کی گئی ریسرچ پر مبنی ہیں جن میں سکھ ازم کے اندر مذہبی گائیکی کی ابتداء، اس کے اثرات، راگوں کے انداز و اطوار اور اس کے ارتقاء میں اپنا کردار ادا کرنے والے راگی و گائیک خواتین و حضرات کا تذکرہ ہے۔

سنگھ صاحب کی زندگی جہدوجہد سے عبارت ہے، غربت کے باعث پانچ جماعتوں سے آگے نہ پڑھ سکے، نوجوانی میں زمیندارہ چھوڑ کے سنگر بننے کیلئے گھر سے نکلے مگر سنگیت کا کچھ اتا پتا نہیں تھا لیکن جب آڈیشن ہوا تو انہیں مشنری کالج امرتسر کی سنگیت کلاس میں لے لیا گیا، امتیازی حیثیت سے کورس مکمل کیا تو پرنسپل نے انہیں کسی اور کالج میں میوزک ماسٹر کی جگہ دیدی، سات سو روپے ماہوار تنخواہ لگی تو گھر کی غربت کو بہت بڑا سہارا مل گیا اور علاقے میں بھی نام ہوگیا۔

پھر انہیں خیال آیا کہ کیرئیر کے طور پر مذہبی گائیکی کو اپنانا چاہئے تو بڑی محنت اور سخت مقابلہ کرکے گردوارہ دربار صاحب کے کیرتنی جتھے میں شامل ہوئے جہاں سات سو کے مقابلے میں صرف ساڑھے تین سو روپے تنخواہ پر کام کرنا پڑا مگر کیرئیر بنانے کیلئے یہ گھونٹ بھی بھر گئے۔

05۔جون۔84 کو جب دربار صاحب پر ملٹری آپریشن شروع ہوا تو اس وقت یہ ڈیوٹی پر تھے، باہر فائرنگ شروع ہو گئی تو اپنے سازندوں کو دیواروں کی آڑ میں بٹھا کر مسلسل نو گھنٹے تک گربانی شریف کی کیرتن کرتے رہے، میرا خیال ہے یہ کسی گائیک کا مسلسل گانے کا شائد سب سے طویل ریکارڈ ہے۔

بھائی صاحب کی گائیکی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ان کی ایک البم کی نوے لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں، بھارت کے سابقہ وزیراعظم منموہن سنگھ ان کا کیرتن سنے بنا نہیں سوتے، ایکدن اپنی بیگم سے کہا، میں نرمل سنگھ کی سی۔ڈی پتا نہیں کہاں رکھ بیٹھا ہوں اسلئے رات کو سن نہ سکا اور اسی وجہ سے رات بھر نیند بھی نہیں آئی تو بیگم صاحبہ نے کہا، جس بندے سے گربانی شریف سنے بغیر آپ کو نیند نہیں آتی، بطور وزیراعظم اس کیلئے آپ نے کیا خدمت انجام دی ہے؟

اس بات کو جائز مان کے منموہن سنگھ نے انہیں پدم شری ایوارڈ کیلئے ریکمینڈ کر دیا تو سن 2009 میں بھارتی حکومت کی طرف سے انہیں پدم شری ایوارڈ دے دیا گیا۔

تین دہائیاں قبل برطانیہ کے دورے پر انہیں پتا چلا کہ وہاں غلام علی صاحب بھی آئے ہوئے ہیں، سردار جی نے ملاقات کرکے انہیں بتایا کہ میں بچپن سے آپ کو سنتا آیا ہوں اور آپ کی گائیکی سے سیکھنے کی کوشش بھی کرتا رہا ہوں اسلئے مجھے اپنا شاگرد بنا لیں۔

غلام علی صاحب نے کہا، میں دربار صاحب کے کیرتن اکثر سنتا ہوں اس میں آپ کو بھی سن رکھا ہے، آپ بہت اچھا گاتے ہیں اسلئے میری شاگردی اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس کے باوجود سردار جی نے رسمی شاگردی اختیار کی، بعد ازاں ان کا ایسا باہمی تعلق بن گیا کہ غلام علی صاحب بھارت کے دوروں میں اکثر ان کے پاس ٹھہرا کرتے تھے اور اکٹھے جا کے دربار صاحب میں کیرتن بھی سنتے تھے۔

یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ گربانی شریف میں کوئی ایسا کلام نہیں جو شرکیہ ہو یا ہمارے عقائد سے ٹکراتا ہو بلکہ اس میں خالص انسان بننے کی تلقین سمیت حق سچ کی تبلیغ پر مبنی اسلامی تعلیمات سے لیا ہوا بھی بہت کچھ ہے، ایسا کلام سمجھ میں آئے تو سننے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ علم و دانش کے حصول کیلئے ہمیں چین تک جانے کی بھی اجازت ہے۔

سنگھ صاحب کو ای۔این۔ٹی پرابلم کا سامنا ہوا تو سات مارچ کو ہسپتال گئے جہاں معمول کی ادویات دیکر رخصت کر دیا گیا، پھر اکیس مارچ کو اور پھر اکتیس مارچ کو گئے کہ گلے کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا، آخری بار کرونا پازیٹیو نکل آئے تو پہلی اپریل کو انہیں قرنطینہ میں داخل کر دیا گیا اور دو اپریل کو فوت ہو گئے۔

آخری رات میں انہوں نے اپنے گھر والوں سے فون پر جو باتیں کی ہیں اس کی ریکارڈنگ بھارت میں بہت وائرل ہوئی ہے، اس میں یہ ہے کہ جب قرنطینہ میں کوئی دوائی نہیں، کوئی علاج نہیں تو مجھے گھر جانے دیں، مجھے ایسے بند ماحول میں رہنے کی عادت نہیں اسلئے گھٹن محسوس ہو رہی ہے لیکن یہاں کا عملہ سختی کر رہا ہے، یہ گھر جانے نہیں دے رہا، پھر ایسا لگا جیسے کسی نے ان سے فون چھین کر کال منقطع کر دی ہو۔

اس کے بعد کیا ہوا کچھ پتا نہیں، البتہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے زبردستی گھر جانے کی کوشش کی ہوگئی اور عملے نے زبردستی روکا ہوگا، اسی کھینچا تانی کے دوران انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ چل بسے کیونکہ کرونا کی وجہ سے ان کی حالت قریب المرگ ہرگز نہیں تھی، وہاں ضرور کوئی ٹراما پیدا ہوا جو ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوا۔

ہسپتال کے ذمہ داروں، امرتسر کی انتظامیہ اور پنجاب کے وزیر صحت نے ایسی کسی بدتمیزی اور غیر ذمہ دارانہ حرکت سے انکار کیا ہے لیکن بھائی صاحب کے چاہنے والے لاکھوں لوگ مطمئن نہیں ہیں۔

پھر جب ہسپتال کی گاڑی میت لیکر ان کے آبائی گاؤں پہنچی تو گاؤں والوں نے آخری رسومات ادا کرنے سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ احتراقِ میت سے کرونا کا وائرس اس علاقے میں بھی پھیل جائے گا۔

ہسپتال کا عملہ واپس چلا تو رستے میں آنے والے دو تین شمشان گھاٹ پر رکا مگر کہیں تالا تھا کہیں ضروری لوازمات نہیں تھے اور کہیں لوگوں نے منع کر دیا۔

یہ ٹیم امرتسر کے قریبی گاؤں ویرکہ کے شمشان گھاٹ پر رکی تو اس گاؤں کے سینکڑوں لوگ بھی مزاحمت پر اتر آئے، یہاں تک کہ پولیس اور عوام کے درمیان باقائدہ جھڑپیں بھی ہوئیں پھر بھی لوگوں نے ویریکہ کے شمشان گھاٹ کا تالا نہیں کھولنے دیا۔

بلآخر ضلعی انتظامیہ نے اس گاؤں کے باہر ایک خالی قطع زمین پر بھائی صاحب کا انتم سسکار انجام دیا، کسی نے اس کھیت کے مالک کو فون کیا تاکہ اپنی زمین بچا لے کیونکہ جہاں اتنی بڑی شخصیت کا انتم سسکار ہوگا وہاں کل کو گردوارہ بنانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کھیت کے مالک نے مرحوم کا نام سن کے احتراماً خاموشی اختیار کرلی۔

ان کا صرف ایک بیٹا ساتھ تھا جو اس غریب الدیاری میں باپ کی میت کو اگنی لگا کر دور کھڑا رو رہا تھا، جبکہ ان کے خاندان اور میوزک ٹیم کے سترہ افراد کو انتظامیہ نے کرونا ٹیسٹ کا رزلٹ آنے تک نقل و حرکت سے منع کر رکھا تھا، پھر ان میں سے دو عزیز اور ایک سازندہ کرونا پازیٹیو نکل آئے تھے۔

دنیا بھر کے سکھ اس واقعے پر سخت رنجیدہ ہیں اور ڈسٹرکٹ ہسپتال امرتسر، ضلعی انتظامیہ، بھائی صاحب کے گاؤں والوں اور ویرکہ کے لوگوں پر سیخ پا بھی ہیں جبکہ تمام مذہبی حضرات نے ان لوگوں کیساتھ مذہبی و سماجی معاملات میں بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

اس بائیکاٹ کے بعد جو محاذ آرائی کی صورتحال بنی ہے اس میں مذہبی جتھے پر بڑے سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ تیرہ ارب کا بجٹ رکھنے والی مرکزی کمیٹی نے کوئی جدید ہسپتال بنایا ہوتا تو ان کے ساتھی کیساتھ ایسی صورتحال پیش نہ آتی۔

پھر یہ کمیٹی اسوقت کہاں تھی جب ان کی آخری رسومات کیلئے ہسپتال کا عملہ گاؤں گاؤں گھوم رہا تھا، اسوقت انہوں نے دربار صاحب میں بلوا کر سسکار کیوں نہ کیا۔

اب آخر میں میرا سوال یہ ہے کہ:
دربار صاحب کے راگی کیساتھ ہاتھ ملانا دربار صاحب بنانے والے سکھوں کے چوتھے گرو، گرو رامداس جی سے ہاتھ ملانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے، پھر ایسا کیا بدلاؤ آگیا کہ ان کے سفر آخرت پر ایسی بدتمیزی کی گئی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ:
سکھ ازم میں بھی بیرونی عناصر کی ایماء پر لبرل پرچارکوں کا ایک بڑا جتھہ پیدا ہوگیا ہے جو لگ بھگ پچھلے پانچ سال سے مذہب کی شفا بخش روحانیت، مشکل کشائی کے وظیفے سُکھمنی صاحب کے پاٹھ، سروور صاحب کے شفا بخش پانی، دسم گرنتھ، بعض تاریخی واقعات، مختلف مذہبی عقائد اور رسومات پر بڑے کڑے سوالات اٹھاتے آرہے ہیں۔

یہ انہی لوگوں کا پیدا کیا ہوا بدلاؤ ہے جس کی وجہ سے یہ ساری بدتمیزی ہوئی، گویا انسانیت کے علمبردار بھی انسانیت سے بہت دور کھڑے ہیں، انہیں کم از کم اتنا حیا تو ضرور ہونا چاہئے جو ایک میت کے احترام کیلئے درکار ایمپیتھی برقرار رکھ سکے۔

دوسری طرف مذہبی دنیا کو بھی اپنے مدار میں موجود غیرضروری چیزوں کے بوجھ کا طوق اتار پھینکنا چاہئے تاکہ عصری تقاضوں کیساتھ ہم آہنگ ہو کے رہیں ورنہ مذہبی سختیوں سے بیزار آنے والی نسلیں لبرلزم کے چکر میں مزید دور نکل جائیں گی۔

شمشان گھاٹ یا قبرستان میں پہنچ کر ایک زندگی کا سفر تو ختم ہو جاتا ہے مگر دیکھنے والے اپنا قبلہ درست کر لیں تو ان کا معنویت پر مبنی ایک نیا سفر شروع ہو سکتا ہے ورنہ وہی کچھ ہوتا رہے گا جو ہو رہا ہے۔

غلام علی صاحب نے اپنے دوست کے بچھڑنے پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں مرحوم کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے، ہماری طرف سے بھی ان کے خاندان اور چاہنے والوں کو تعزیت پیش ہے۔


گرونانک صاحب کا حمدیہ کلام نرمل سنگھ کی آواز میں اور اس کا ترجمہ:

(1)۔ بلہاری، قدرت وسیا تیرا انت نہ جائی لکھیا قربان میں تیری قدرت کے جو ہر جگہ چھائی ہوئی ہے، تیری کوئی حد نہیں، اے لاکھوں خوبیوں والے۔

(2)۔ دکھ دارُو، سُکھ روگ پئیا جاں سُکھ، تام نا ہوئی ہمارے حساب سے دُکھ شفا کے برابر ہے اور سُکھ روگ کے برابر ہے، کیونکہ جہاں سُکھ ہوگا وہاں تیری یاد نہ ہوگی اور جہاں تیری یاد نہ ہوگی وہاں خیر نہ ہوگی۔

(3)۔ تو کرتا کرن، میں ناہیں جاں ہوں کری، ناں ہوئی تو خالق ہے، سب کچھ کرنے پر قادر ہے، میں کچھ نہیں، میں کچھ کرنا چاہوں تو ہوتا بھی نہیں۔

(4)۔ جات میں جوت، جوت میں جاتا اکال کآلا بھرپور رہیا تیرا نور ہر چیز میں ہے، اور ہر چیز تیرے نور کی روشنی میں ہے، تو اکیلا ہر چیز پر حاوی ہے۔

(5)۔ تو سچا صاحب، صفت سیالئیے جن کیتی، سو پار پیا تو سچا مالک ہے جس کی صفتیں کرنی بنتی ہیں، جنہوں نے تیری تعریف کی وہ پار لگ جائیں گے۔

(6)۔ کہو نانک، کرتے کیئاں باتاں جو کچھ کرنا، سو کر رہئیا کرو نانک اس قدرت والے کی باتیں، وہ جو کچھ کرنا چاہے تو کر کے رہتا ہے۔


گرونانک صاحب کا حمدیہ کلام نرمل سنگھ کی زبانی۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20