رام محمد سنگھ آزاد: سانحہ جلیانوالہ باغ – خصوصی تحریر —- لالہ صحرائی

0
سانحہ جلیانوالہ باغ کی 101ویں برسی کے موقع پر خصوصی تحریر
اس سانحے کے بارے میں قارئین کو بہت کچھ معلوم ہوگا مگر جو کچھ میں نے یہاں فراہم کیا ہے وہ اتنی تفصیل، ترتیب اور سند کیساتھ آپ کو کہیں اور نہیں ملے گا۔ اس طویل مضمون کا بنیادی مقصد قول و فعل کا وہ تضاد ظاہر کرنا ہے جو ترقی یافتہ قومیں اپنے مفاد کیلئے بے دریغ روا رکھتی ہیں۔ اور ثانوی مقصد ان مقامی عناصر کی پہچان کرانا ہے جو بیرونی طاقتوں کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کی نمایاں علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ پسماندہ معاشرے میں عصری شعور کی علامت بن کے سامنے آتے ہیں اور اپنی قوم کو بیرونی دنیا کے مقاصد کیساتھ ہم آہنگ کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ اب آپ انسانیت کا سبق دینے والی قدیم جمہوریت اور ان کے مقامی بہی خواہوں کی وہ شکلیں دیکھتے جائیں اور ان سے ملتی جلتی شکلیں اپنے معاشرے میں بھی پہچانتے جائیں جو خود کو شرفِ انسانیت قرار دیتے نہیں تھکتے حالانکہ ان کے کرتوت انسانیت کے دعووں کیساتھ بالکل بھی میچ نہیں کرتے۔

لاعلمی کی دنیا، اندازوں کی غلطی، بیانیے کی کم و کاست اور طے شدہ کرم کانڈ یعنی بھلائی کی آڑ میں استحصالی منصوبے ایک کے ہاتھوں دوسرے کو کہاں سے کہاں لیجاتے ہیں یہ بات کسی متاسف کن صورتحال تک پہنچے بنا سمجھ نہیں آتی، ان چیزوں سے انسان ہمیشہ ایسے خطرات میں گِھرا رہتا ہے جو کبھی اچھی اور کبھی بری تقدیر کے در پر لیجاتے ہیں۔

سنگرُور کے گاؤں سونام کا بھولا بھالا اُدھم سنگھ نہیں جانتا تھا کہ وہ کسی کی جان بھی لے سکتا ہے، اور تاریخ کے پنوں پر اس کا نام رام محمد سنگھ آزاد ہوگا، اور یہ نام اختیار کرنے پر اسے تین قوموں کی طرف سے مشترکہ سلامی دی جائے گی۔

اس بیس سالہ نوجوان کو بس اتنا ہی معلوم تھا کہ امرتسر کی فضاؤں میں موسمِ بہار کی رچنا ہو رہی ہے، اور اس رچاؤ میں گردوارہ صاحب کی چوکھٹ پر جبیں سائی کیلئے آنیوالے زائرین کو پانی پلانے کی سیوا انجام دینی ہے۔

وہ اپنے دوست اشرم کیساتھ مسافروں کی سیواداری کیلئے نکلا تھا، مگر تقدیر کے پردے میں چھپی بلائیں جب اپنی حشر سامانیاں لیکر سامنے آتی ہیں تو انسان کو بڑے مشکل فیصلے کرنے پڑ جاتے ہیں، رات کو سینکڑوں زخمیوں اور لاشوں کے درمیان زخمی حالت میں بیٹھا اُدھم سنگھ وہ سارے فیصلے لے چکا تھا جو شام تک اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔

قرب و جوار کے دیہاتیوں کو بیساکھی منانے امرتسر آتے ہوئے زرا بھی شک نہ تھا کہ جن فضاؤں کے دوش پر بادِ بہاری سوار ہے شام کے بعد وہ اپنے جلو میں بارود کی بو اور بیگناہ لاشوں کا نوحہ لیکر رات بھر ان کے گرد منڈلاتی رہے گی۔

سرکاری ہسپتال کی انچارج مس ازابیلا مَیری کو بھی پتا نہیں تھا کہ زخمیوں پر اس کی طنزیہ گفتگو مِس مارسِیلا شِیرووڈ کیلئے کس قدر وبال کا باعث ثابت ہوگی اور مس مارسیلا شیرووڈ بھی حیران تھی کہ ہمیشہ نیازمند رہنے والا امرتسر آج اس کی جان کا دشمن کیوں بن گیا ہے۔

مارسیلا شیرووڈ اس کہانی کا نکتۂ آغاز نہیں بلکہ وہ خطرناک موڑ ہے جس سے سانحہ جلیانوالہ باغ کی نمود ہوتی ہے۔

کہانی کا آغاز اصل میں جنگ عظیم اول کے اختتام پر وطن واپس آنے والے لاکھوں سپاہیوں کے سنہری خواب ٹوٹنے سے ہوتا ہے جو اس خیال سے گوری سرکار کا دست و بازو بنے تھے کہ ان کی قربانیوں سے قوم کو آزادی نہ سہی اقتدار میں زیادہ سے زیادہ اختیار تو بہرحال نصیب ہو ہی جائے گا۔

برطانیہ کے سیکٹری آف اسٹیٹ ایڈوون مونٹیگو نے 1917 میں جنگِ عظیم کے دوران یہ اعلامیہ جاری کیا تھا:

“برٹش ایمپائر اپنے اٹوٹ انگ انڈیا کے تمام انتظامی معاملات میں ایک ذمہ دار حکومت کی طرح مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شراکتداری دیکر مزید سیلف گوورنینس اور ترقی کی طرف لیکر جائے گا”۔

حسن ظن رکھنے والے ہندوستانیوں نے اس بات کو سچ مان لیا جبکہ برطانیہ کو صرف عالمی جنگ میں انڈیا کے دست و بازو پورے جوش و خروش کیساتھ شامل کرنے تھے لہذا جنگ کے بعد 1918 میں مونٹیگو نے وائسرائے لارڈ چیلمسفورڈ کیساتھ مل کے صوبائی اور مرکزی قانون ساز کونسلز میں کچھ معمولی رعایتوں کا اعلان کرکے اپنے اس حسین وعدے سے جان چھڑانا چاہی تو ان خوش گمان ہندوستانیوں کو بہت مایوسی ہوئی جنہوں نے اس جنگ میں اپنا تن من دھن خوب لٹایا تھا۔

کم و بیش ایک ملین بھارتیوں نے برٹش آرمی کیلئے وولینٹئیر کیا تھا جن میں ساڑھے چار لاکھ صرف پنجاب سے تھے اور دس کروڑ پاؤنڈ کے برابر عطیات بھی وار۔فنڈ میں جمع کرائے جس کے مقابلے میں خود برطانوی شہزادوں کے اکیس لاکھ پاؤنڈ اونٹ کے منہ میں زِیرے کے برابر تھے، پھر انفلیشن کی وجہ سے، بارہ کروڑ پاؤنڈ، بجٹ کا خسارہ اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں تیزی کا بھگتان بھی کرنا پڑا لیکن حاصل یہ ہوا کہ برطانوی پارلیمنٹ ان معمولی سی قانون ساز رعائیتوں کو بھی ضرورت سے زائد قرار دے رہی تھی جو ایک مزاق سے کم نہیں تھا۔
(اشتیاق احمد، ششی تھرور، اخوت اخبار کلکتہ)

اس صورتحال سے مایوس ہندوستانیوں نے سول نافرمانی کے تحت حکومت کیلئے جگہ جگہ مسائل کھڑے کرنے شروع کر دیئے تھے، پھر تحریکِ خلافت، بالشویک تحریک اور غدر پارٹی بھی ایک نئے سماج کی طرح ڈالی رہی تھی، جس سے لگ بھگ 1857 کی جنگ آزادی جیسی صورتحال بننے والی تھی، اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے برٹش ماہر قانون جسٹس سڈنی رولٹ کی خدمات حاصل کی گئیں تو اس نے سول رائٹس کو یکسر ختم کرنے کی تجویز تھوپ دی۔

قانون ساز مجلس کے تمام بھارتی ممبران نے اس بل کیخلاف ووٹ دیا، پنڈت مدن موہن مالویہ، بیرسٹر مظہرالحق اور محمد علی جناح صاحب نے اس ناانصافی پر احتجاجاً استعفیٰ بھی دیدیا اس کے باوجود رولٹ ایکٹ پاس کرکے مارچ 1919 میں لاگو کر دیا گیا۔

رولٹ ایکٹ کی رو سے بغیر کسی سرچ وارنٹ اور وجہ بتائے کسی بھی جگہ کی تلاشی لی جا سکتی تھی، کسی بھی بھارتی کو سرکار دشمن، دہشتگرد یا باغی ہونے کے شبے میں گرفتار کرکے دو سال تک بغیر کسی قانونی کاروائی کے قید بھی رکھا جا سکتا تھا۔

لاہور کے ایک اخبار، غالباً زمیندار، نے اس قانون کو ایک لائن میں یوں بیان کیا تھا:
رولٹ ایکٹ کا مطلب ہے نہ دلیل، نہ وکیل، نہ اپیل۔
(جسونت سنگھ، اشتیاق احمد، وِنے لال)

اس قانون سے ہندوستانیوں کی رہی سہی آزادی بھی جاتی رہی تو حکومت کیخلاف پورے ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے، لاہور کے انارکلی بازار میں بھی بیس ہزار لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔

امرتسر کی جامع مسجد خیرالدین نے انسانیت کی مشترکہ پناہ گاہ ہونے کا اعلان کیا تو اس اندھیر نگری میں بھی روشنی کی کرن پیدا ہوگئی، اس مسجد کی ویڈیوز دیکھنے سے آج بھی سکینت کا احساس روئیں روئیں میں داخل ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر سیف الدین کِچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال نے اس مسجد سے اپنے خطابات کا سلسلہ شروع کیا تو گرو رامداس جی کا بسایا ہوا شہر پنجاب میں تحریک آزادی کا سرگرم مرکز بن گیا۔

(راجہ رام کے بقول ستیہ پال مسلمانوں کے مقدس مقامات سے خطاب کیا کرتے تھے، وہ یہی مسجد اور انجمن مسلم تاجران کا آفس تھا)

گاندھی جی کی کال پر ایک ملک گیر ہڑتال ہو چکی تھی، پھر 6۔اپریل کو سیف الدین و ستیہ پال کی کال پر امرتسر میں دوسری بار ہڑتال ہونی تھی، انتظامیہ نے اسے رکوانا چاہا مگر ناکام رہی۔

اس ناکامی کے بعد ڈپٹی کمشنر امرتسر، مائلز اِرونگ، نے گورنر کو ٹیلیگرام دیا کہ سیف الدین اور ستیہ پال کی قیادت میں دونوں قومیں “ہندو۔مسلم کی جے” کا نعرہ لگاتے ہوئے متحد ہو رہی ہیں، اسلئے ان دونوں کو علاقہ بدر کرنا بہت ضروری ہے۔

(راجہ رام کے بقول ہندو مسلمانوں کے ماتھے پہ تلک لگاتے تھے اور مسلمان انہیں اپنے برتن میں پانی پلاتے تھے، ایک جگہ 63000 ہندو۔مسلمز نے اکٹھے پانی پینے کا مظاہرہ بھی کیا تھا)

گورنر کی اجازت ملنے پر 10۔اپریل کی رات کو ان دونوں لیڈروں کو گرفتار کرکے دھرمشالہ ہل اسٹیشن پر منتقل کر دیا گیا تو اگلے دن پورا امرتسر احتجاج پر اتر آیا، ڈی۔سی آفس کا گھیراؤ ہوا، لیکن صورتحال خراب ہونے سے پہلے ستیہ پال اور سیف الدین کے نائب وکلاء گردیال سلیریا اور مقبول محمد نے انتظامیہ کی درخواست پر جلوس کا رخ ٹیلیگراف ہاؤس کی طرف موڑنے پر رضامندی ظاہر کر دی مگر ان کے مڑتے مڑتے کسی نے پولیس پر پتھر پھینک دیا اور پولیس نے فائرنگ کر دی۔

فائرنگ سے بیس لوگ شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تو صورتحال قابو سے باہر ہو گئی، شہریوں نے ٹاؤن ہال، بینک، ڈاکخانے، ٹیلیگراف اور ریلوے جیسی تمام سرکاری املاک کو آگ لگا دی، اس افراتفری میں نیشنل بینک کا مینیجر سٹیوارٹ، اسسٹنٹ مینیجر سکاٹ، الائنس بینک کا مینیجر تھامسن، فوجی الیکٹریشن رالینڈ اور ریلوے گارڈ رابنسن سمیت پانچ انگریز مارے گئے۔
(راجہ رام)

چند زخمی شہریوں کو مرہم پٹی کیلئے جب ہسپتال لایا گیا تو مِس ازابیلا مَیری نے ہنسی اڑاتے ہوئے کہا، تمہارے ساتھ ٹھیک وہی ہوا جس کے تم لوگ حقدار تھے، اس پر زخمیوں کے ساتھی مشتعل ہونے لگے تو اسٹاف نے مس۔مَیری کو لیجا کر کہیں چھپا دیا، اس طرح وہ تو بچ گئی لیکن اس کا سارا غصہ مس مارسیلا پر نکل گیا۔

مِس مارسِیلا شِیرووڈ، پندرہ سال سے امرتسر میں مقیم، چرچ آف انگلینڈ کی راہبہ اور چھ مشنری سکولوں کی سپرنٹنڈنٹ تھی، شہر میں اچانک ہنگامہ شروع ہو گیا تو وہ اپنا سائیکل لیکر اسکولوں کی سیکیوریٹی کا جائزہ لینے کیلئے نکلی تھی۔

جیسے ہی وہ مین روڈ پر پہنچی تو مس ازابیلا پر ادھار کھایا ہوا لگ بھگ سو افراد کا جتھہ “انگریز کو مارو” کہہ کے ان کی طرف لپکا، مارسیلا نے فوراً ایک تنگ گلی میں جانا مناسب سمجھا جہاں کے بیشتر گھرانے اس کے واقف ہی تھے لیکن اس سے قبل کہ وہ کسی گھر میں داخل ہوتی مجمعے نے اسے جا لیا۔

مارسیلا نے مار کھاتے ہوئے تین بار اٹھ کے بھاگنے کی کوشش کی، ایک بار کسی گھر میں گھسنا چاہا مگر عین موقع پر دروازہ بند ہوگیا تو الٹا ماتھے پہ چوٹ لگ گئی، شائد کسی نے بلوائیوں کے ڈر سے دروازہ بند کر لیا تھا، پھر لوگوں نے انہیں مار مار کے لباس بھی تار تار کر دیا اور مردہ سمجھ کے واپس چلے گئے۔

مارسیلا کے ایک شاگرد کا والد جو وہاں کا دکاندار تھا وہ انہیں اٹھا کے اپنے گھر لے گیا، جب لوگوں کو پتا چلا کہ وہ زندہ ہے تو وہ بھی واپس آگئے، مگر ایک جرآتمند خاتون نے گھر سے باہر آکے بحث و مباحثہ کیساتھ قسم اٹھائی کہ وہ ہمارے گھر میں نہیں ہے تو وہ لوگ واپس چلے گئے، پھر رات کے اندھیرے میں انہوں نے ٹھیلے پر چادر سے اچھی طرح ڈھانپ کے گوبندگڑھ قلعے میں پہنچایا تاکہ سیف ماحول میں ان کا علاج ہو سکے۔

10۔اپریل کے حالات سن کے گورنر اوڈوائر نے جنرل ڈائر کو مارشل لاء کا اختیار دیدیا تو وہ بھاری فوجی نفری کیساتھ 11۔اپریل کو جالندھر سے امرتسر پہنچ گیا۔

یہاں ایک فرق ملحوظ خاطر رکھیئے گا کہ سر مائیکل فرانسس اوڈوائر انڈین سول سروس کا بندہ تھا جو ترقی کرتا ہوا پنجاب کا گورنر بنا تھا، اکثر لوگ اسے جنرل اوڈوائیر کہہ دیتے ہیں جو غلط نیریشن ہے۔

اور جنرل ڈائر حقیقت میں کرنل رینک کا فوجی افسر تھا، لیکن مارشل لاء کیلئے اسے بریگیڈئیر جنرل کا عارضی رینک دیا گیا تھا تاکہ ملٹری بریگیڈ کو کمانڈ کر سکے، اس کا پورا نام ریجینالڈ ایڈورڈ ہیری ڈائر تھا، مری کی گھوڑا گلی میں اس کے باپ کی شراب کی فیکٹری تھی، یہ مری میں ہی پیدا ہوا، شملہ میں پڑھا اور سیندھرسٹ اکیڈمی لندن سے ٹریننگ لیکر فوج میں گیا تھا۔

General Reginald Dyre

جنرل ڈائر نے 12۔اپریل کو امرتسر میں فلیگ مارچ کرکے تباہ شدہ املاک اور حالات کا جائزہ لیا پھر شہر میں چار آدمیوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی اور رات آٹھ بجے کے بعد گھر سے نکلنے والے کو گولی مارنے کا آرڈر دیکر مارشل لاء کا نفاذ کر دیا۔

بیساکھی کے موقع پر قرب و جوار سے ہزاروں لوگ گردوارہ شری دربار صاحب میں ماتھا ٹیکنے آیا کرتے تھے، حسب معمول اس سال بھی پندرہ سے بیس ہزار کے قریب زائرین آگئے تھے اور سامنے جلیانوالہ باغ میں احتجاجی جلسہ منعقد ہو رہا تھا، اس میں بھی ہزاروں شہری شریک ہو رہے تھے۔

13۔اپریل۔1919، بروز اتوار، شام چار بجے جلسہ شروع ہوا تو شہریوں کیساتھ زائرین بھی شامل ہونے لگے، کرسیٔ صدارت پر ڈاکٹر سیف الدین کی تصویر تھی اور مقررین اپنے گرفتار شدہ لیڈروں کی رہائی کیلئے پر زور تقاریر کر رہے تھے۔

جنرل ڈائر کو دوپہر کے وقت اطلاع ملی کہ پابندی کے باوجود اس علاقے میں بہت سے لوگ جمع ہیں جو جلسے سے بے قابو ہو کر سنگین مسئلہ بھی بن سکتے ہیں تو اس نے کاروائی سے پہلے فضائی جائزہ لینے کیلئے ایک ہوائی جہاز بھیجا۔

امرتسر شہر کے آٹھ گیٹ ہیں، یہ سارے راستے دربار صاحب کو جاتے ہیں، ان میں سب سے بڑا اور تاریخی رستہ گولڈن ٹیمپل روڈ ہے جس کے اختتام پر بائیں ہاتھ پہ باغ اور سامنے دربار صاحب واقع ہے۔

مین روڈ پر باغ کے فرنٹ پہ ایک عمارت ہے جس کے دائیں کونے سے چار پانچ فٹ چوڑی گلی باغ کے اندر جاتی ہے، باغ کی پچھلی تینوں اطراف میں پکی دیواریں ہیں جن میں چار آہنی گیٹ ہمیشہ تالا بند رہتے تھے، پیچھے تینوں دیواروں سے متصل رہائشی آبادی ہے۔

جلیانوالہ باغ ساڑھے چھ ایکڑ کا سرکاری میدان تھا، جہاں برسات میں کوئی موسمی فصل لگا دی جاتی تھی ورنہ یہ خالی پلاٹ عموما کھیل کود اور سماجی اجتماعات کیلئے ہی استعمال ہوتا تھا، اتنے رقبے پر بیس ہزار لوگ آرام سے اکٹھے ہو سکتے تھے لیکن فضائی جائزہ مشن نے واپس آکے بتایا کہ جلسے میں لگ بھگ چھ ہزار لوگ موجود ہیں۔

Entrance of Jallianwala Bagh

جنرل ڈائر نے دو عدد بکتربند گاڑیاں اور نوے سپاہی ساتھ لئے جن میں 65 گورکھا اور 25 پنجاب رجمنٹ کے پچاس تھے، انہیں تھری۔ناٹ۔تھری کی رائفلز اور 1650 گولیاں ایشو کی گئی تھیں، باقی کے چالیس سپاہی برچھی بردار تھے، یہ سب نیپالی گورکھا تھے جو انگریز کے زیادہ وفادار مانے جاتے تھے۔

ڈائر نے باغ کے واحد گلی نما رستے پر قبضہ کرلیا، پھر اس نے فائرنگ کا حکم دیا تو سپاہیوں نے ہوائی فائر کیا، اسپر ڈائر نے سختی سے کہا، میں تمہیں اس کام کیلئے نہیں لایا، براہ راست مجمع پر فائر کرو اور جس طرف زیادہ بھیڑ ہو اس جگہ پر فائر کرو، اگر یہ لیٹ جائیں تو بھی ان پر فائر کرو۔

firing scene

سوا پانچ بجے فائرنگ شروع ہوئی جو گولیاں ختم ہونے تک دس منٹ جاری رہی، جن لوگوں نے دیوار پھاندنے کی کوشش کی وہ بھی مارے گئے اور جنہوں نے بائیں ہاتھ پر واقع کنویں میں چھلانگ لگائی ان پر بھی کنویں کے اندر فائرنگ کر دی گئی۔

کانگریس کے صدر پنڈت مدن موہن مالویہ، سیوا سماتی فلاحی تنظیم اور کئی مقامی شرکاء کے لواحقین امداد کیلئے پہنچ گئے تھے مگر جب حسب معمول رات کا کرفیو لگ گیا تو امدادی کام بھی رک گیا جس کی وجہ سے زخمی ہونے والے سینکڑوں لوگ پانی اور دوائی کیلئے تڑپتے، سسکتے اور مرتے رہے، مگر امرتسر کا قصاب ٹس سے مس نہ ہوا۔

تاریخ اس بات کا شکرانہ ادا کرتی ہے کہ تنگ گلی کی وجہ سے دونوں بکتر بند گاڑیاں اندر نہ جا سکیں جن کے اوپر مشین گن لگی ہوئی تھیں ورنہ شائد اس دن وہاں کوئی ایک بندہ بھی بچ نہ پاتا۔

اس سانحے کی تحقیقات کیلئے لارڈ ہنٹر کی قیادت میں جو کمیشن قائم ہوا، اس کے رکن سر چمن لال نے پوچھا کہ فرض کرو گلی چوڑی ہوتی اور بکتربند گاڑیاں اندر چلی جاتیں تو تم کیا کرتے، ڈائر نے کہا، مشین گنز سے نقصان بہت زیادہ ہوتا لیکن میں ان کا استعمال ضرور کرتا۔

machine gun vehicle

دوسرا سوال، تم نے مجمع کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کی کوشش یا گولی چلانے سے قبل وارننگ کیوں نہ دی، اسپر ڈائر نے کہا، یہ ایک احمقانہ بات ہوتی، وہ لوگ منتشر نہ ہوتے یا منتشر ہو کے دوبارہ واپس آجاتے اور میرا مزاق بھی اڑاتے، اسلئے میں انہیں گولی کی زبان سے سبق سکھانے کا سوچ کے گیا تھا، آپ کچھ بھی سمجھ لیں مگر باغیوں کا حوصلہ پست کرنے کیلئے انہیں خوفزدہ کرنا ضروری تھا۔
(راجہ رام)

پنجاب یونیورسٹی چندیگڑھ کے شعبہ تاریخ میں ریسرچ فیلو پروفیسر راجہ رام نے اپنی کتاب سرکاری ریکارڈ اور دیگر مستند حوالوں سے مرتب کی ہے، ان کے مطابق یہ پلان 9۔اپریل کو لاہور میں سول اور فوجی قیادت نے مل کے تیار کیا تھا۔

ڈائر کے مطابق باغ میں چھ ہزار لوگ ضرور تھے مگر ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں ہو سکتی کیونکہ میرے پاس صرف 1650 گولیاں تھیں اور بھاگتے پھرتے لوگوں کو صرف چھ میں سے ایک گولی ہی لگی ہوگی، اس حساب سے 275 کے قریب ہلاکتیں ہو سکتی ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔

اگلے دن شہریوں نے ڈائر سے ملاقات کرکے شہداء کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت مانگی لیکن یہ بیچارے بھی اس کہرام میں ریکارڈ پر لانے کیلئے میتیں شمار نہ کرسکے۔

ہنٹر کمیشن چھ ماہ بعد اکتوبر میں قائم ہوا تھا اور اس نے اپنی رپورٹ مزید چھ ماہ میں مرتب کی تھی، جس میں پہچانے جانے کے ڈر سے گواہیاں دینے کیلئے خاطر خواہ لوگ بھی شامل نہ ہوئے کیونکہ اس دوران پنجاب پر بہت ظلم مچایا گیا تھا لہذا کمیشن نے صرف 379 شہادتیں بتائیں، کنویں میں گرنے والے 120 بھی ان میں شامل ہیں اور 1500 کے قریب زخمی بتائے، جبکہ امرتسر کے سول سرجن ڈاکٹر ولیم ڈی۔میڈی کے مطابق 1800 کے قریب شہید ہوئے تھے، ان میں 217 ہندو، 102 سکھ اور 60 مسلمان تھے، ان میں 2 خواتین اور 41 بچے بھی تھے۔

حقیقت میں شہدا اور زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی کیونکہ بھیڑ کی وجہ سے ایک ایک گولی نے تین تین بندوں کو ضرور ہٹ کیا ہوگا اور کنویں میں گرنے والے بھی سینکڑوں تھے لیکن صرف 120 کی لاشیں نکالی جا سکیں، درجنوں زخمی جو باغ سے نکلے تو گلیوں میں گر کے فوت ہوئے اور کچھ اپنے گھروں پہ جا کے اگلے ایک دو دنوں میں دم توڑ گئے۔

ایک خاتون رتن دیوی کا شوہر شہید ہو گیا تھا وہ ساری رات لوگوں کے سسکنے تڑپنے اور کراہنے کی آوازیں سنتی رہی لیکن کر کچھ نہیں سکتی تھی سوائے اس کے کہ فضا میں خون کی بو سونگھ کے آنیوالے کتے بلیوں کو لاشیں نوچنے سے ہٹاتی رہی۔

اس سانحے کے چھ دن بعد 19۔اپریل کو جنرل ڈائر گوبند گڑھ قلعے میں مس مارسیلا کی عیادت کو گیا تو ان کی حالت دیکھ کے دوبارہ بھڑک اٹھا اور واپس آتے ہی اس گلی میں جہاں مس کو پیٹا گیا تھا وہاں فوجی چوکی قائم کرکے کرالنگ آرڈر نافذ کر دیا، جس کی رو سے ہر گزرنے والے کو اس گلی میں منہ کے بل لیٹ کے کہنی اور گھٹنوں کے بل سرکتا ہوا جانا پڑتا تھا، یہ گلی 250 میٹر لمبی تھی جس کے مکینوں کو گھروں سے باہر آتے جاتے وقت کرالنگ کرنی پڑتی تھی۔
(نگل کولیٹ، ونے لال اینڈ ادرز)

crawling order

یہ اس بات کی سزا تھی کہ تم نے مارسیلا کو پناہ کیوں نہ دی، اور اب جان چھڑانی ہے تو ان لوگوں کے نام بتاؤ جنہوں نے مس کو پیٹا تھا، یہ آرڈر ایک ہفتہ تک نافذ رہا پھر عوامی ردعمل کی وجہ سے اٹھا لیا گیا۔

ایک تفتیش کار نے جب اس معاملے کی بابت سوال کیا تو ڈائر نے ایک حیرت انگیز فلسفہ بیان کیا۔

اس کا موقف یہ تھا کہ عورت مقدس ہوتی ہے، خاص طور پہ مارسیلا شیرووڈ چرچ سے منسلک ہے تو وہ ہمارے نزدیک بطور خاص مقدس ہے، اور یہاں کا رواج ہے کہ یہ لوگ اپنے خدا کے آگے اسی طرح سے گھٹنے اور کہنیاں زمین پر لگا کے جھکتے ہیں تو مارسیلا چونکہ خدا کیساتھ منسلک ہے اسلئے اس کا احترام بھی اسی طرح سے کرنا چاہئے جیسے خدا کا کیا جاتا ہے لہذا میں چاہتا تھا کہ ان لوگوں کو عورت کے احترام کا صحیح طریقہ سکھاؤں۔

اس بات پر ہسٹری کے پروفیسر وِنے لال صاحب نے بڑے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین میسیوو سکالرلی آرٹیکلز لکھے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں مگر المیہ یہ کہ انہوں نے تحقیقی اصول کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی اپنے تھیسس کو کسی مستند تاریخی ریفرینس تک نہیں پہنچایا۔

لیکن میں ان کی بات کو اسلئے جگہ دے رہا ہوں کہ وہی بات ایک دوسرے ذرائع سے بھی اپنے ماخذ تک پہنچ جاتی ہے، وہ ماخذ یہ ہے کہ جب ہنٹر کمیشن انصاف کرنے میں ناکام ہوا تو انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے طور پر ایک کمیشن قائم کرکے جلیانوالہ باغ، کرالنگ آرڈر اور دیگر شہروں میں کی گئی سختیوں پر بڑی تفصیلی رپورٹ مرتب کی تھی۔

اس رپورٹ میں درجنوں واقعات ایسے ہیں کہ عورت کی عزت کرانے کے دعویدار انگریزوں نے مقامی عورتوں کی کس کس طرح سے بیحرمتی کی تھی۔

جس گلی میں مارسیلا کیساتھ بدتمیزی ہوئی، اس گلی کی ایک خاتون بتاتی ہے کہ چند فوجی ہمارے گھر پہ آئے، دروازے پر لاتیں ماریں اور نوکر سے کہا کہ خاتون خانہ کو بلاؤ جبکہ مرد سب کام پہ گئے ہوئے تھے۔

پھر جب میں پردے کیساتھ دروازے پہ آئی تو زبردستی میرا پردہ اتروا کے پوچھا گیا کہ ان لوگوں کی شناخت بتاؤ جنہوں نے مارسیلا کیساتھ بدتمیزی کی تھی، اگر نہیں بتاؤ گی تو تجھے ایک فوجی کے حوالے کر دیا جائے گا، میں سخت خوفزدہ تھی مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ جب میں کسی کو جانتی نہیں تو اپنی جان چھڑانے کیلئے بلاوجہ کسی بیگناہ کا نام کیوں لوں؟

اسی طرح میانوالی، گجرانوالہ اور لاہور سے دو درجن واقعات ریکارڈ کئے گئے جہاں انگریز افسروں نے پردہ دار خواتین کا زبردستی پردہ اتروا کے باغیوں کے متعلق تفتیش کی اور انہیں ہراساں کرکے اپنی مرضی کے لوگوں پر یہ الزام لگوانے کی کوشش بھی کی کہ وہ ہمیں بغاوت کا سبق دیتے ہیں اور گورنمنٹ کے خلاف تخریب کاری کے عزائم رکھتے ہیں۔

اس دوران یہ لوگ غلیظ گالیاں بھی دیتے تھے، اپنی چھڑی سے چہرے کا پردہ بھی کھسکاتے، عورتوں کو کان پکڑا کے مرغا بناتے اور بعض اوقات چھڑی سے مارتے بھی تھے، یہاں تک کہتے کہ تم اپنے شوہروں کیساتھ بستر میں ہوتے وقت انہیں سمجھاتی کیوں نہیں کہ باہر جا کے شورش نہ برپا کیا کرو اسلئے اب تمہارے کپڑے پولیس کے سپاہی اتاریں گے، ایسی دھمکیاں بھی دیتے تھے۔

لاہور اور گجرانوالہ میں جب رات کا کرفیو نافذ تھا تو مارشل لاء اتھارٹیز کو درخواست کی گئی کہ بعض خواتین کو زچگی کیلئے کہیں لیجانا پڑتا ہے یا دایہ کو بلوانا پڑتا ہے تو انہیں نقل و حرکت کی اجازت دیدی جائے، ایسی ضرورتمند خواتین کو بھی یہ لوگ پردہ اتروا کے جانچا کرتے تھے۔
(وومن ان دی پنجاب ڈسٹربنس 1919 بائی وِنے لال)

انگریز قیادت کو اپنی فائرنگ سے شہید ہونے والے بیس شہریوں کا غم تھا نہ شہریوں کے ہاتھوں جواباً جلائے جانے والے برٹش بینکس اور سرکاری املاک کے نقصانات کی پرواہ تھی لیکن چار انگریزوں کی ہلاکت اور مارسیلا شیرووڈ کیساتھ بدتمیزی برٹش ایلیٹس کی غیرت پہ تازیانہ بن کے لگی تھی۔

وہ سمجھتے تھے انڈین عوام کو یہ جرآت نہیں ہونی چاہئے کہ ایک برٹش خاتون کو ہاتھ لگائیں جسے وہ مقدس ترین شخصیت سے زرا بھی کم نہیں سمجھتے۔

اسی وجہ سے ڈائر کو بالخصوص سبق سکھانے کیلئے بھیجا گیا تھا اور وہ کچھ خوفناک کرنے کا سوچ کے آیا تھا، یہ بات اس کے اپنے ایک بیان میں شامل ہے کہ شائد میں ڈسمس ہو جاؤں مگر یہ کام کرنا ہے۔

he remarked to his Brigade Major: “I shall be cashiered for this probably, but I’ve got to do it.”
(نگل کولیٹ، وِنے لال)

سانحہ جلیانوالہ کی خبر پورے پنجاب میں پھیل گئی تو جگہ جگہ سے سخت ردعمل آنے لگا، جس کی وجہ سے 15۔اپریل کو لاہور میں، 16 کو گجرانوالہ، 19 کو گجرات اور 24۔اپریل کو لیلپور میں سخت کرفیو نافذ کرنا پڑا، گجرانوالہ میں اس قدر شدید احتجاج ہوا کہ انہیں منتشر کرنے کیلئے فضائی طاقت کا بھی استعمال کیا گیا جس میں چار جنگی جہازوں نے بمباری کرکے خالصہ ہائی سکول کو تباہ کر دیا اور درجنوں لوگ بھی اس میں شہید ہوئے۔

ہر جگہ لوگوں کو مارنا پیٹنا عام تھا، لاہور میں 200 تانگے اور تمام کاریں جو انڈینز کی ملکیت تھیں وہ تاحکم ثانی سرکار نے اپنے قبضے میں رکھ لی تھیں، ایس ڈی کالج کے باہر لگا تنبیہی پوسٹر پھاڑنے کے الزام میں پانچ سو طلبہ کو شاہی قلعے تک دھوپ میں پیدل چلایا گیا اور دو دن تک وہاں بٹھائے رکھا پھر پرنسپل کی انڈرٹیکنگ پر رہا کر دیا گیا۔

دیو کالج، دیال سنگھ اور میڈیکل کالج کے طالبعلموں کو روزانہ سترہ میل دھوپ میں چلایا جاتا تھا، قصور میں جو سلام نہ کرتا اسے زمین پر ناک سے لکیریں نکالنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

مارشل لاء حکام نے تمام شورش زدہ علاقوں میں سلام کا آرڈر بھی پاس کیا تھا، ان کا موقف یہ تھا کہ ہر انڈین دوسرے کو سلام کرتا ہے، یہ لوگ راجوں مہاراجوں اور اپنے افسروں کو بھی سلام کرتے ہیں اسلئے آتے جاتے مارشل لاء انتظامیہ کو بھی اسی طرح سے سلام کرنا چاہئے، جو سلام نہیں کرتا تھا اسے یہ لوگ مارا کرتے تھے۔
(کانگریس کمیشن، وِنے لال)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سانحے کے بارے میں قارئین کو بہت کچھ معلوم ہوگا مگر جو کچھ میں نے یہاں فراہم کیا ہے وہ اتنی تفصیل، ترتیب اور سند کیساتھ آپ کو کہیں اور نہیں ملے گا۔

اس طویل مضمون کا بنیادی مقصد قول و فعل کا وہ تضاد ظاہر کرنا ہے جو ترقی یافتہ قومیں اپنے مفاد کیلئے بے دریغ روا رکھتی ہیں۔

اور ثانوی مقصد ان مقامی عناصر کی پہچان کرانا ہے جو بیرونی طاقتوں کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کی نمایاں علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ پسماندہ معاشرے میں عصری شعور کی علامت بن کے سامنے آتے ہیں اور اپنی قوم کو بیرونی دنیا کے مقاصد کیساتھ ہم آہنگ کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

اب آپ انسانیت کا سبق دینے والی قدیم جمہوریت اور ان کے مقامی بہی خواہوں کی وہ شکلیں دیکھتے جائیں اور ان سے ملتی جلتی شکلیں اپنے معاشرے میں بھی پہچانتے جائیں جو خود کو شرفِ انسانیت قرار دیتے نہیں تھکتے حالانکہ ان کے کرتوت انسانیت کے دعووں کیساتھ بالکل بھی میچ نہیں کرتے۔

اس سانحے پر سب سے پہلا ردعمل پنجاب کے حاکم، لیفٹیننٹ گورنر، فرانسس اوڈوائر کا تھا، اس نے سمپلی یہ کہا؛ ڈائر، یوور ایکشن واز کریکٹ۔
(ڈاکٹر ترلوچن نہال)

ہنٹر کمیشن کے برطانوی ارکان نے اس سانحے کو ظلم کی بجائے محض اختیار سے تجاوز کا نام دینا چاہا کیونکہ جنرل ڈائر کو گورنر نے وائسرائے کی منظوری سے تعینات کیا تھا، اس پر مقامی ارکان نے سخت اختلاف کیا اس طرح یہ کمیشن المیئے پر تو متفق ہوا لیکن ڈائر کیلئے کوئی سزا تجویز کرنے سے قاصر رہا۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے چند دہائیوں بعد بتایا کہ انڈین آرمی ہیڈکوارٹر نے ڈائر کو ہر قیمت پر سیاسی پریشر سے بچانے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر جب اس نے خود یہ بیان دیدیا کہ میں نے یہ کچھ کرنے کا پہلے ہی طے کر رکھا تھا اور اگر بکتربند گاڑیاں اندر جا سکتیں تو مشین گنز کے استعمال سے اور بھی برا حال کرتا تو آرمی کے ٹاپ براس نے کہا؛ اس احمقانہ بیان کے بعد اسے بچانا بہت مشکل ہے۔

کمانڈر انچیف نے امپیچمنٹ کیلئے فیلڈ کورٹ تشکیل دینے کی بجائے محض سول اتھارٹی پر اسے کرنل کے رینک سے ڈسمس کرنے پر اکتفا کیا اور حکومتِ برطانیہ کو تجویز دی کہ افغان جنگ کے ایوارڈ کیلئے اس کی نامزدگی منسوخ کر دے اور دوبارہ ہندوستان میں اسے کوئی ڈیوٹی نہ دی جائے۔

ڈائر چونکہ بدنما داغ بن گیا تھا اسلئے واپس بھیجنا اور فیس سیونگ کیلئے ایک نمائشی سزا دینا ضروری تھی، دوسری طرف ہر طرح سے اس کی عزت بھی کی گئی، خیال بھی رکھا گیا، اور آدھی تنخواہ بھی جاری رکھی گئی تھی۔

ڈائر کے فوجی اشرافیہ سے بہت اچھے تعلقات تھے، اس نے انڈیا کیلئے نامزد نئے آرمی کمانڈر انچیف، لارڈ رالنسن، سے فیور چاہی تو اس نے حکومت سے کہا کہ میں اس وقت تک اپنے عہدے کا چارج نہیں لوں گا جب تک ڈائر کیساتھ انصاف نہیں کیا جاتا، اس پر چرچل نے جوابی دھمکی دی کہ ٹھیک ہے پھر ہم اسے ڈسمس کرا دیتے ہیں تو وہ چیف بھی خاموش ہو گیا۔

ہاؤس آف لارڈز میں ڈائر کو ایک خصوصی کرسی پر بٹھا کے سراہا گیا اور بادشاہ کی طرف سے لیٹر آف ایپریسیئیشن اور اعزازی تلوار پیش کی گئی جس پر “سیور آف پنجاب” کندہ کیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ یہ لیٹر اب بھی ملٹری میوزیم لندن میں موجود ہے۔

لاہور کے مال روڈ پہ میوزیم کے سامنے کھڑی زمزمہ گن پر مشہور زمانہ تصنیف، کمز اور جنگل بک وغیرہ، لکھنے والے معروف ناول نگار رڈیارڈ کپلنگ نے اس موقع پر کہا تھا، اس نے حالات کے مطابق بالکل ٹھیک کیا ہے۔
he did his duty as he saw it.

ڈائر کے واپس پہنچنے پر برطانیہ کی عوام نے اس کا بھرپور استقبال کیا اور مارننگ پوسٹ اخبار نے اس کی مدد کیلئے ایک فنڈ بھی قائم کر دیا، اسلئے کہ مونٹیگو اور چرچل کی بھرپور مخالفت کی وجہ سے ڈائر کو ریٹائرمنٹ کے بینیفٹس نہیں ملنے والے تھے۔

اس فنڈ کے نتیجے میں ایڈیٹر نے 26000 پونڈ سے کچھ زائد رقم جمع کرکے اس بیان کیساتھ پیش کئے کہ آپ کی خدمات کا معاوضہ کسی قیمت پر ادا نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ قوم کی طرف سے ایک نذرانۂ عقیدت ہے۔

اس موقع پر ڈائر نے کہا، میں نے جو کیا وہ میرا فرض تھا کہ اس شورش سے فوجی مفادات، خواتین، بچوں اور عام صورتحال کا تحفظ کروں۔
(ایلکس وان، نگل کولیٹ، ششی تھرور، وِنے لال)

اس رقم میں شامل 2600 پونڈ رڈیارڈ کپلنگ نے جمع کئے تھے جن میں 50 پونڈ اس کے اپنے تھے، یہ کل رقم آج کے حساب سے سوا ملین پونڈ کے قریب بنتی ہے، اس چندے نے ڈائر کو غربت سے بھی بچا لیا اور بقیہ زندگی برسٹل کے جوار میں گزارنے کی سہولت بھی پیدا کر دی تھی۔
(ڈاکٹر ترلوچن نہال)

برطانیہ کی عصری قیادت کا حال یہ ہے کہ ملکہ الزبتھ، پرنس فلپ، پرنس ولیم، کیٹ میڈلٹن، ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے اور مئیر لندن صادق خان جیسے آئیکونز نے جلیانوالہ باغ کا وزٹ کرتے ہوئے اظہار افسوس تو کیا مگر عوامی مطالبے کے باوجود آج تک کسی ایک نے بھی اس سانحے پر حکومت برطانیہ کی طرف سے “سوری” کا لفظ استعمال نہیں کیا۔
(ویرئیس)

Prince of Wells visit Jallianwalla Bagh

چند سال قبل ششی تھرور کی ایماء پر برطانوی پارلیمنٹ میں ہلکی پھلکی بحث شروع ہوئی تھی کہ ہمیں اب “سوری” کر لینا چاہئے مگر ود۔ان۔شارٹ۔ٹائم یہ بات بھی آئی گئی ہو گئی۔

مہاتما گاندھی جو گول۔مول بیان دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، انہوں نے ایک طرف یہ کہہ کے عوام کو خوش کرلیا کہ انگریز نے 1757 میں پلاسی کے میدان میں جو کنٹرول حاصل کیا تھا وہ 1919 میں امرتسر میں کھو دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بیان بھی دیدیا جو ان کے اپنے اخبار ہریجن میں چھپا تھا کہ میں جلیانوالہ باغ کے متاثرین کو شہید نہیں کہہ سکتا کیونکہ انہوں نے پیٹھ میں گولیاں کھائی ہیں سینے پر نہیں کھائیں۔
(ایلکس وان)

Sadiq Khan visit Jallianwalla

اس قتل عام پر پورے پنجاب میں آگ لگی ہوئی تھی اور یہ تکنیکی بنیادوں پر ان بیگناہوں کو شہید ماننے سے گریزاں تھے، پھر جب اُدھم سنگھ نے اوڈوائر کو قتل کیا تو اس قتل کا انہیں بڑا صدمہ لگا۔

شری اکال تخت صاحب کے جتھیدار سردار بہادر اروڑ سنگھ ننگلی نے تیسری شام کو گولڈن ٹیمپل میں جنرل ڈائر کو اعزازی پگڑی پہنائی تھی اور مشرقی پنجاب کے سابقہ حاکم پرکاش سنگھ بادل کے والد سردار سُندر سنگھ مجیٹھیا نے اپنے گھر پر ڈنر پیش کیا۔

ان سب کی خدمات کا صلہ انہیں ملتا رہا، گاندھی جی کو تقسیم کے وقت پاکستان کیساتھ بے انصافیاں کرکے بہت نوازا گیا اور حد یہ ہے کہ یہ سارے مہان کلاکار انگریز کا ایجنٹ قائد اعظم کو قرار دیتے ہیں جس نے رولٹ ایکٹ جیسی بے انصافی کے خلاف استعغےٰ دیدیا تھا۔

جہاں ایسے لوگ تھے وہاں چند وہ بھی تھے جنہوں نے ہر مصلحت کو بالائے طاق رکھ کے اس سانحہ کی بھرپور مذمت کی تھی۔

ان میں مونٹیگو اور سیکریٹری دفاع ونسٹن چرچل پیش پیش تھے، چرچل نے ہاؤس آف دی کامنز میں امپیچمنٹ کی تحریک پیش کر کے کہا تھا کہ ٹرافلگر سکوائر سے بھی چھوٹی سی بند جگہ پر جہاں سے کوئی فرار نہیں ہو سکتا وہاں نہتے لوگوں پر گولیاں چلانا اور اسوقت تک چلاتے رہنا جب تک کہ ایمنیشن نہ ختم ہو جائے، یہ سراسر ایسا ظلم ہے جس کی سزا ملنی چاہئے، ان کی ریزولیوشن اور دلائل پر ہاؤس نے ڈائر کیخلاف 247 ووٹ تو دیئے مگر سزا کوئی نہ دی گئی۔

ڈائر کے بیٹے ریکس ڈائر کا کہنا تھا کہ یہ ایک ظالمانہ اور خوفناک کاروائی تھی دوسرے الفاظ میں احمقانہ بھی تھی۔

سانحے کے چشم دید گواہ سنگھ صاحب محترم اُدھم سنگھ نے اگلی شام کو شری اکال تخت صاحب کے روبرو جا کے اس قتل عام کے ذمہ داروں کو سبق سکھانے کی قسم کھائی تھی۔
(ویرئیس)

محترم رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنا “نائٹ۔ہُڈ” کا برطانوی اعزاز یہ کہہ کے واپس کر دیا تھا کہ ایسی قاتل قوم کسی کو کوئی اعزاز دیتے ہوئے اچھی نہیں لگتی۔
such mass murderers aren’t worthy of giving any title to anyone۔

علامہ اقبال نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ حکومت اب زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی، انگریز کو چاہئے کہ جتنا جلدی ہو سکے اب ہندوستان چھوڑ دے اور جلیانوالہ باغ کی نذر یہ اشعار پیش کئے۔

ہر زائرِ چمن سے کہتی ہے خاکِ پاک
غافل نہ رہ جہاں میں گردوں کی چال سے
سینچا گیا ہے خون شہیداں سے اس کا تخم
تو آنسوؤں کا بخل نہ کر اس نہال سے
(سوانح اقبال بائی خرم شفیق اینڈ باقیات اقبال)

کچھ سیانے کہتے ہیں کہ ٹیگور کی طرح اقبال نے اپنا خطاب کیوں نہ واپس کیا تو ان کیلئے عرض ہے کہ انہیں سر کا خطاب 1922 میں ملا تھا وہ بھی ہزار ترلوں کے بعد قبول کیا گیا، جبکہ گاندھی نے بھی اپنا قیصر ہند کا خطاب واپس نہیں کیا تھا۔
(عامر ریاض دنیا نیوز)

(ویسے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ گاندھی جی نے اپنا خطاب ایک سال بعد واپس کر دیا تھا لیکن مجھے کنفرم نہیں ہے)

سانحے کی برسی سے قبل گورنمنٹ نے جلیانوالہ باغ پر کلاتھ مارکیٹ بنانے کا ارادہ کیا تاکہ اس کا نشان ختم ہو جائے تو ڈاکٹر سشتی چرن مکھرجی جو اس وقت جلسے میں شامل تھے اور ڈائس کے پیچھے چھپ کے جان بچائی تھی، انہوں نے باغ خریدنے کا آئیڈیا پیش کیا، کانگریس نے اس کی منظوری حاصل کرکے چندے کی اپیل کی تو چرن جی نے گھر گھر جا کے چندہ جمع کیا جو نو لاکھ روپے بنا جبکہ باغ کی کل قیمت صرف پانچ لاکھ پینسٹھ ہزار روپے مقرر ہوئی تھی، چرن جی جلیانوالہ باغ ٹرسٹ کے پہلے سیکٹری مقرر ہوئے، پھر ان کا بیٹا اور اب ان کا پوتا اس باغ کا سیکریٹری ہے۔

Jallianwalla Bagh front now

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسان کے اندر بھی احتساب کا ایک ایسا نظام موجود ہے جو جرم کے مطابق سزا دینے سے تو قاصر ہے مگر جرم کی شدت کے برابر مذمت کرنے میں بالکل آزاد ہے، اور جب تک سزا نہیں ملتی یہ تب تک اپنی طرف سے مذمت جاری رکھتا ہے۔

ایک سال بعد برٹش صحافی، ایڈورڈ تھامپسن نے ڈپٹی کمشنر، مائلز اِروِنگ، سے پوچھا کہ سانحے کے بعد ڈائر کا کیا موقف تھا تو ارونگ نے بتایا، وہ بہت پریشان اور ٹوٹا ہوا تھا، اس نے کہا، میں بالکل نہیں جانتا تھا کہ وہاں مظاہرین کیلئے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

اِروِنگ کی یہ فیس سیونگ قابل قبول نہیں، اسلئے کہ ملٹری آپریشن ابرپٹ نہیں ہوتا، انجان جگہ پر بھی آپریشن کرنا ہو تو پہلے اسے جاننے کیلئے مکمل ریکی کی جاتی ہے، یہ تو جانی پہچانی سرکاری جگہ تھی، پھر مزاحمت کے ہم پلہ نفری اور ایمونیشن کا انتخاب کرکے انفلٹریشن، ایگزیکیوشن اور ایگزفل کا پورا پلان بنا کے چلتے ہیں، ڈائر نے بھی اس ضرورت کے تحت پہلے وینیو کا فضائی جائزہ ہی لیا تھا، پھر دو مشین گنیں باہر اسلئے کھڑی کی تھیں کہ فائرنگ کی آواز سن کے دربار صاحب سے بیس ہزار لوگ آجائیں تو انہیں روکا جا سکے۔

سانحے کے چھ ماہ بعد ڈائر نے پنجاب کے فائنانس سیکریٹری مسٹر پی۔جی پکل کو بتایا کہ میں اب تک راتوں کو سو نہیں سکتا، وہ سب کچھ ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے لہراتا رہتا ہے، یہ بات ٹھیک ہو گی اسلئے کہ ضمیر اپنے مجرم کو بے چین ضرور کرتا ہے۔

جنرل ڈائر امرتسر میں ہی یرقان کا شکار ہو گیا تھا جو واپس جا کے سنبھل نہ سکا، اور فیملی کے چھوڑ جانے سے ڈیپریشن کا مریض بھی بن گیا تھا پھر 62 سال کی عمر میں 23 جولائی 1927 کو برین ہیمرج سے اس کی موت واقع ہوگئی تھی اور اس کے کفن بوکس کو یونین جیک میں لپیٹ کر پورے فوجی اعزاز کیساتھ دفنا دیا گیا۔

آخری دنوں میں اس نے اپنی بہو سے کہا تھا، میں اب ٹھیک ہونا نہیں چاہتا، بہت سے لوگ کہتے ہیں میں نے امرتسر میں اچھا کیا اور بہت سے دوسرے اس حرکت کو برا کہتے ہیں، میں اب مرنا چاہتا ہوں تاکہ خدا سے جان سکوں کہ میں نے اچھا کیا تھا یا برا۔

Saying of General Dyre

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُدھم سنگھ نے نظریاتی طور پہ سوشلسٹ غدر پارٹی جوائن کرلی تھی لیکن مزدوری کی خاطر کئی سال افریقہ و امریکہ میں گزارے، پھر وطن واپس آئے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد جرمنی فرانس اور اٹلی سے ہوتے ہوئے برطانیہ چلے گئے جہاں تین سال تک اپنے پروگرام کا جائزہ لیتے رہے۔

برطانوی پولیس کے مطابق وہ کارپینٹر کا کام کرتے تھے اور فارغ وقت میں موٹر سائیکل پر مختلف قابل دید جگہوں کا سفر کیا کرتے تھے۔

پنجاب کے سابق گورنر، فرانسس اوڈوائر، کی زندگی میں اس سال پچھترویں بہار آئی تھی جب 13 مارچ 1940 کو اسے رائل سوسائٹی فار ایشیئن افیئرز کی میٹنگ میں بلوایا گیا جو کیکسٹن ہال لندن میں منعقد ہونیوالی تھی، اس میٹنگ میں ہرسال انڈین کمیونیٹی اور انڈین افئیرز کے برٹش افسران وغیرہ شرکت کیا کرتے تھے۔

اُودھم سنگھ بھی اس میٹنگ میں شریک ہونے میں کامیاب ہوگئے، انہوں نے ایک کتاب کے اندر چاقو سے اوراق کاٹ کے پستول چھپانے کی جگہ بنا رکھی تھی، اوڈوائر نے جب تقریر شروع کی تو انہوں نے عین ڈائس کے سامنے آکر اپنے پستول سے اس پر چھ کے چھ فائر کر دیئے۔

اوڈوائر کو دو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا، باقی گولیوں سے اسٹیج پر موجود لارڈ زیٹ لینڈ، لوئیس ڈین، اور چارلس کوچرین بیلی زخمی ہو گئے۔

سنگھ صاحب کی پسٹل، گولیاں اور سکھی کے ککار پر مشتمل ان کی ذاتی اشیاء آئیرلینڈ کے بلیک میوزم میں رکھے گئے ہیں۔
(سفئیر وکٹر، اُدھم سنگھ بائی ریسرچ اسکالر کالیداس، علیگڑھ یونیورسٹی)

Murder of Governor O’Dwyer

لاعلمی کی دنیا، اندازوں کی غلطی، بیانیے کی کم و کاست اور طے شدہ کرم کانڈ یعنی بھلائی کی آڑ میں استحصالی منصوبے ایک کے ہاتھوں دوسرے کو کہاں سے کہاں لیجاتے ہیں یہ بات کسی متاسف کن صورتحال تک پہنچے بنا سمجھ نہیں آتی، ان چیزوں سے انسان ہمیشہ ایسے خطرات میں گِھرا رہتا ہے جو کبھی اچھی اور کبھی بری تقدیر کے در پر لیجاتے ہیں۔

ٹھیک اکیس سال قبل کی بہار میں شروع ہونے والی المناک کہانی کا یہ آخری چیپٹر تھا جو ایکبار پھر موسم بہار کی شروعات میں لکھا گیا۔

فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے باب میں ایک دہشت زدہ نوجوان اپنوں کی لاشوں کے درمیان گھرا بیٹھا تھا جسے کوئی نہیں جانتا تھا مگر اب اس کے سامنے ان بیگناہوں کے مجرم کی لاش پڑی ہوئی تھی اور ساری دنیا اس گمنام کو رام محمد سنگھ کے آزاد کے نام سے جاننے لگی تھی۔

Arrest of Udham Singh

سنگھ صاحب کا پیدائشی نام شیر سنگھ کمبوج تھا، جموں میں پیدا ہوئے، دو سال کے تھے جب والدہ فوت ہوگئی، والد صاحب سنگرور کے قریبی ریلوے پھاٹک پر چوکیدار تھے، پانچ سال بعد وہ بھی اس دنیا سے چلے گئے، پھر کسی نے دونوں بھائیوں کو خالصہ یتیمخانہ سکول امرتسر میں داخل کرا دیا جہاں ان کا نام اُدھم سنگھ لکھا گیا، لیکن برطانیہ کے پاسپورٹ پر آزاد سنگھ لکھا ہوا تھا۔

سنگھ صاحب نے فائرنگ کے بعد گن پھینک کے سکون سے گرفتاری دیدی اور عدالت کو اپنا نام رام محمد سنگھ آزاد بتایا جو ان تین قوموں کی نمائندگی کرتا تھا جنہیں ڈائر نے اوڈوائر کی پالیسی کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔

سنگھ صاحب نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ میرے دل میں اس کیلئے سنگین نفرت تھی، اور یہ انسانیت کا مجرم اسی بات کا حقدار تھا، یہ لوگوں کی عقیدت کو کچلنا چاہتا تھا اسلئے میں نے اسے کچل دیا، میں کامل اکیس سال اسے سزا دینے کی سوچتا رہا ہوں، آج میں خوش ہوں کہ میرا کام مکمل ہوگیا، میں موت سے خوفزدہ نہیں کیونکہ میں اپنے وطن کیلئے مر رہا ہوں، میں نے اپنے لوگوں کا استحصال دیکھا ہوا ہے جو برٹش انتظامیہ کرتی ہے، میں نے اس کیخلاف احتجاج کیا ہے، یہ میری ڈیوٹی تھی، میرے لئے اس سے بڑھ کے عزت کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے وطن کیلئے مرنا اب میرا مقدر بن چکا ہے۔

گاندھی جی کو یہ اقدام اچھا نہیں لگا، پھر ایک ہفتہ بعد اپنے 15۔مارچ کے بیان کی وضاحت 23۔مارچ کے ہریجن میں دی کہ ہمیں اوڈوائر سے اختلاف تھا لیکن یہ اختلاف ہمیں اس کے قتل پر سوگوار ہونے سے نہیں روکتا، لارڈ زیٹ لینڈ سے ہمیں شکوہ ہے، ہمیں اس کی پالیسیوں سے اختلاف کرنا ہے لیکن ہماری مزاحمت میں نقصان پہنچانے کی خواہش نہیں ہونی چاہئے، اس قتل کا مجرم اصل میں بہادری دکھانے کے خیالات کے نشے میں دھت تھا۔

سنگھ صاحب اسیری کے دوران اپنے دوستوں کو بڑے اچھے موڈ میں خط لکھا کرتے تھے، مطمئن اتنے تھے کہ جلیانوالہ باغ میں بے رحمی دکھانے والوں سے رحم کی اپیل کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا، جب قانونی کاروائی مکمل ہو گئی تو 31۔جولائی۔1940 کو انہیں شہید کر کے پینٹنوِل جیل لندن کے احاطے میں دفنا دیا گیا، شیر سنگھ، اُدھم سنگھ، آزاد سنگھ اور رام محمد سنگھ آزاد کی شہادت دراصل ایک نئے آدمی کا جنم تھا جس کا نام ہندوستانیوں نے شہیدِ اعظم رکھا تھا۔

کئی سال تک ان کا جسد خاکی وطن واپس لانے کی تحریک چلتی رہی، بلآخر کامیابی ہوئی اور جولائی 1975 میں شہادت کے ٹھیک 35 سال بعد ان کا جسد خاکی جلیانوالہ باغ میں لایا گیا، جیسے اس باغ میں مرنیوالوں سے صرف یہ کہنے کیلئے آئے ہوں کہ تمہارا بدلہ لیکر آگیا ہوں، پھر وہاں سے سونام گاؤں لیجایا گیا۔

شہید اعظم کی آخری رسومات تینوں قوموں پر ایک فرض تھا جو ایک پنڈت، ایک مولوی اور ایک گرنتھی سنگھ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ گیانی ذیل سنگھ کی قیادت میں مل کے ادا کر دیا۔

Bullets marks on walls

انسانیت کے نام نہاد پیروکاروں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کرم کانڈ جیسے malicious deeds کو خوشنما نعروں کے پردوں میں ہرگز نہیں چھپایا جا سکتا، یہ چھپا ہوا زہر جب ہلاکت انگیزی کی ابتداء کرتا ہے تو بَھل کے اس کے اپنے اوپر بھی خزاں ضرور آتی ہے چاہے اس کے اطراف میں بہار کا موسم ہی کیوں نہ چھایا ہوا ہو۔

یہ صرف ایک کہانی کا اختتام ہے، زندگی ابھی جاری ہے اسلئے لاعلمی کی دنیا، اندازوں کی غلطی، بیانیے کی کم و کاست اور استحصالی منصوبے بھی ہنوز جاری ہیں، کیونکہ جو دنیا اُسوقت ایک بزنس کمپنی تھی وہ دنیا آج بھی ایک کارپوریٹ مائینڈ سیٹ کے ساتھ ہی چل رہی ہے اور ایک رام محمد سنگھ آزاد بھی ہر استحصالی سین کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔

Bullets marks on walls

Statue of Udham Singh at Bagh

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مضمون کے ماخذات:
۔ دی جلیانوالہ باغ میسیکر، اے پری میڈیٹیٹڈ پلان،
رِٹن بائی راجہ رام، پنجاب یونیورسٹی، چندی گڑھ۔

۔ دی بچڑ آف امرتسر بائی نگل کولیٹ
۔ انگلورئیس ایمپائر بائی ششی تھرور
۔ انڈین سمر، سیکرٹ ہسٹری بائی ایلکس وان تنزیلمان
۔ میسیکر دیٹ روکڈ دی ایمپائر، جسونت سنگھ
۔ ہنڈرڈ یئیرز آف جلیانوالہ باغ سلاٹر، اشتیاق احمد
۔ دی انسیڈنٹ آف کرالنگ لین بائی وِینے لال
۔ اوینجر آف دی جلیانوالہ باغ میسیکر بائی وِینے لال
۔ وومن ان دی پنجاب ڈسٹربنس آف 1919، وِینے لال
۔ منتھلی ماڈرن ریویو کلکتہ، جولائی 1919
۔ سیلیکٹڈ لیٹرز آف ٹیگور بائی کرشنا دت
۔ عامر ریاض کا کالم، دنیا نیوز، 13۔اپریل۔2014
۔ سفئیر وکٹر اُدھم سنگھ بائی کالیداس، علیگڑھ یونی
۔ غدر موومنٹ بائی ڈاکٹر ترلوچن سنگھ نہال

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20