ایک اصول حیات THE ONE RULE FOR LIFE — Mark Manson —- ترجمہ و تدوین: وحید مراد

0
image.png

مترجم

ٹھارہویں صدی کا عمانویل کانٹ، مغربی تاریخ فلسفہ کے دور جدید کے اہم ترین فلسفیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ فلسفہ سے ہلکی پھلکی آشنائی رکھنے والے بھی علمیاتی فلسفہ میں اس کی شہرآفاق کتاب “تنقید عقل محض” سے ضرور واقف ہوتے ہیں۔ کانٹ کے اخلاقی فلسفہ پر مارک مینسن کے مضمون “ایک اصول حیات” کا ترجمہ وحید مراد صاحب نے کیا ہے۔ مضمون نگار نے کانٹ کے اخلاقی فلسفہ کی وضاحت کی ہے۔ دانش کے قارئین کے لیے پیش ہے۔

 ایمانوئیل کانٹ Emmanuel Kant ایک بہت ہی بیزار کرنے والا (boring) آدمی تھا یا بیکار کے نوخیز و منفعت بخش لوگوں کا حسین خواب تھا؟ اسکا فیصلہ کرنا ہر شخص کے اپنے نقطہ نظر پر منحصر ہے۔ ہاں مگر یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ وہ چالیس برس تک ہر روز صبح پانچ بجے اٹھتا، تین گھنٹے تک لکھتا، پھر چار گھنٹے تک یونیورسٹی میں لیکچر دیتا، پھر ہر روز ایک ہی ریستوران میں دوپہر کا کھانا کھاتا، پھر سہ پہر میں ہر روز ایک ہی پارک میں چہل قدمی کیلئے ایک ہی مخصوص راستے سے جاتا اور ایک ہی مخصوص راستے سے واپس گھر لوٹتا، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ صبح گھر سے نکلنے اور شام کو گھر لوٹنے کے اوقات بھی ہر روز وہی ہوتے۔ پوری زندگی ایک ہی شہر میں گزار دی، ساحل سمندر ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا لیکن کبھی سیر کیلئے نہیں گیا لیکن کانٹ استعداد کار کا پتلا تھا اور اپنے معمولات میں ایک مشین کی طرح کامل تھا۔ جب ہر روز وہ ایک ہی مخصوص وقت میں گلی سے گزرتا تو اسکے پڑوسی اسکے معمول کو کامل تصور کرتے ہوئے اپنی گھڑیوں کے اوقات کی درستگی اسکے مطابق کرتے اور اسکا مذاق بھی اڑاتے۔ ایسے شخص کو “خوار”کا طعنہ دینا بہت آسان ہے لیکن اسکی طرح بااصول زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔

فلسفے کی موجودہ تاریخ میں کانٹ بہت ہی اہم اور بااثر فلسفی ہے، اس نے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ سے دنیا کو ایسا چلایا جیسے بڑے بڑے بادشاہ اپنی لاکھوں کی افواج اور دیگر سازوسامان کے ساتھ نہیں چلا سکے۔ آج اگر آپ کسی جمہوری سوسائٹی میں مقیم ہیں جہاں انفرادی انسانی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے تو اسکے لئے آپ کو جزوی طور کانٹ کا ضرور شکرگزار ہونا چاہیے۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے عالمی حکومت کے ذریعے عالمی امن کے قیام کا خواب دیکھا۔ اس نے زمان و مکان کا وہ تصور پیش کیا جس کی بنیاد پر آئن سٹائن نے اپنی تھیوری آف ریلیٹیوٹی پیش کی، اس نے جانوروں کے حقوق کا تصور پیش کیا، فلسفہ جمالیات پیش کیا اور چند سو صفحات میں دو سو سالہ فلسفیانہ مباحث کو نمٹایا، اور ارسطو سے لیکر موجودہ دور تک کے اخلاقی تصورات کو کھنگالنے کے بعد ایک ایسا “تصور اخلاق” دیا جو مغربی تہذیب کی بنیاد بنا اور آج بھی دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں سب سے اہم موضوع بحث ہے۔ اور یہی ہمارا بھی موضوع ہے۔ کچھ لوگ سوچیں گے کہ اس میں کیا رکھا ہے؟ یہ کونسا اہم موضوع ہے ہم اتنے خوار نہیں ہیں کہ اس موضوع پر سوچیں یا وقت صرف کریں؟ لیکن اگر آپ غور کریں تو اس قسم کے سوال کہ کیا یہ چیز قابل غور ہے؟ اس قابل ہے کہ اس پر وقت صرف کیا جائے یا توجہ دی جائے؟ اس سے بہتر یہ نہیں کہ کچھ اور کیا یا سوچا جائے؟ یہ سب سوالات بہت اہم ہیں اور کسی بھی چیز کی “قدر Value“ جانچنے کے سوالات ہیں اور یہ سب سوالات “فلسفہ اخلاق Moral Philosophy” کا موضوع ہیں۔ فلسفہ اخلاقی ہی اقدار کا تعین کرتا ہے، کس چیز کی ہمیں پرواہ کرنی چاہیے اور کس چیز کی نہیں اس حوالے سے ہمارے اعمال، تیقن اور کئے گئے فیصلوں کا تعین اقدار ہی کرتی ہیں اس لئے فلسفہ اخلاق ہمارے زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتا ہے۔

کانٹ کا فلسفہ اخلاق منفرد، مقابلہ کارگر، جوابی وجدانی (counter intuitive) ہے۔ اسکا یقین ہے کہ “اچھائی” کو عالمگیر اور ہمہ گیر ہونا چاہیے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی چیز ایک صورتحال میں “اچھی” کہلائے اور دوسری صورتحال میں “بری” کہلائے۔ اگر جھوٹ بولنا بری بات ہے تو اسے ہر صورتحال میں اور ہر شخص کیلئے ہمیشہ برا ہونا چاہیے اور اگر یہ اس اصول پر پورا نہیں اترتا تو اسے ایک درست اخلاقی اصول کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ کانٹ اس طرح کے ہمہ گیر اور عالمگیر اخلاقی اصولوں کو “امور /احکام مطلق” Categorical Imperatives کا نام دیتا ہے جو ہر انسان کیلئے، ہر صورتحال میں اور ہر حوالے سے درست اور قابل عمل ہوتے ہیں۔ اور یہ عالمگیراخلاقی اصول ہر انسان کیلئے اخلاقی حکم/وجوب کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ اصول ہر شخص کے زندگی کے ہر گوشے، ہر اخلاقی ادارے، ہر اخلاقی تصور میں مضمر ہیں اور ہمیں ہر صورتحال میں رہنمائی کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں اور کیوں کریں؟ کانٹ کے دریافت کردہ ان اصولوں میں ایک اصول یہ ہے کہ “ہر شخص کو صرف کسی دوسرے مقصد کے حصول کے ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے مگر بذاتہ مقصد کے طور پر سلوک درست ہے Each person must never be treated only as a means to some other end, but must also be treated as an end themselves”۔

کانٹ، “عقلیت، قوت فیصلہ Rationality” پر یقین رکھتا تھا جسکا مطلب یہ ہے کہ اس کرہء ارض پر انسان ہی وہ مخلوق ہے جو قوت فیصلہ رکھتی ہے، ہر رائے تو تولتی ہے، اور اسکے ہر عمل کا ایک اخلاقی وجوب ہے۔ اور یہی صفت انسان کو اس کائنات کی دیگر اشیاء سے ممتاز کرتی ہے کہ یہ حاصل ہونے والی معلومات کو ایک خاص شعوری عمل Process سے گزار کر عمل کا حصہ بناتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس “عقلیت، قوت فیصلہ” کو قدرت کا ایک انمول تحفہ سمجھتے ہوئے بہت سنجیدہ لینا چاہیے اور اسے تمام اخلاقی اصولوں اور اخلاقی مباحث کی بنیاد بنانا چاہیے۔ کانٹ کے نزدیک اس صفت (عقلیت، قوت فیصلہ)کے بغیریہ کائنات بیکار اور بے مقصد ہوتی Without Rationality , the universe would be waste, in vain, and without purpose” اور کانٹ کے مطابق انسان کو اگر یہ شعور، حریت فکر اور قوت فیصلہ عطا نہ ہوتی تو انسان محض ایک مٹی کا تودہ یا کسی چٹان کا ایک ٹکڑا ہونے سے زیادہ حیثیت کا حامل نہ ہوتا۔ اسکے مطابق ہر انسان کی اس مذکورہ بالا صفت کو تحفظ دینا اور نشونما دینا اس لئے ضروری ہے کہ تمام اخلاقی اصول اسی صفت سے اخذ ہوتے ہیں۔

شاید کچھ لوگوں کیلئے “ذریعہ Means” اور “مقصد ends” کی اصطلاحات کا مفہوم واضح نہ ہو تو انکے لئے اس کی وضاحت ایک مثال کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔ فرض کریں آپ ایک “میکڈونلڈ برگر” خریدنا چاہتے ہیں، اسکے لئے آپ اپنی گاڑی نکالتے ہیں، ڈرائیو کرتے ہیں، راستے سے پٹرول بھرواتے ہیں، اوروہاں پہنچ کر انتظار کرتے ہیں، باری آنے پر برگر خریدتے ہیں اور واپس گھر آجاتے ہیں، اس مثال میں برگر کا حصول “مقصد ends”ہے اور اسکے حصول کیلئے کی جانے والی تمام سعی اور استعمال کئے جانے والے ذرائع “ذریعہ means” ہیں، اس سلسلے میں بےشمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن ہم اس وقت صرف اسی ایک مثال پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ تو مذکورہ مثال میں برگر کا حصول اصل مقصد ہے لیکن اسکے حصول کیلئے کام آنے والے باقی تمام اشیاء کا استعمال برگر کے حصول سے مشروط ہے لیکن برگر کا حصول بذاتہ ایک مقصد ہے۔ اور یہ ہمارے عمل اور فیصلے کا اصل محرک ہوتا ہے An end is something that is desired for its own sake, it is the defining motivating factor of our decisions and behaviors”

اب اگر یہ برگر اس لئے حاصل کیا گیا ہے کہ اس سے، خرید کر لانے والی کی محبوب بیوی اسے استعمال کرکے خوش ہوگی تو اس صورتحال میں یہ برگر مقصد نہیں کہلائے گا بلکہ ایک بڑے مقصد کے حصول کا ذریعہ کہلائے گا اور اصل مقصد “محبوب بیوی کی خوشنودی” ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی اور فرد کا مقصد اپنی بیوی کو خو ش کرنا ہےاور وہ اسے خوش کرنے کیلئے شام جلدی گھر آ جاتا ہے، اسکے ساتھ وقت گزارتا ہے، رات کو جلدی بستر پر چلا جاتا ہے، حق زوجیت پورا کرتا ہے تو یہ تمام چیزیں ذریعہ کہلائیں گی اور اصل مقصد “بیوی کی خوشنودی” ہوگا لیکن اگر کسی شخص کے سامنے بیوی کی رائے، اسکی خوشی کی کوئی اہمیت نہ ہو اور وہ بیوی کو صرف اور صرف اپنی خواہش کے حصول کیلئے استعمال کرنے پر مصر ہوتو یہ کانٹ کے مطابق غیر اخلاقی عمل ہے یعنی اسکےمطابق مادی ذرائع کو کسی مقصد کے حصول کیلئے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن کسی انسان کو اپنے مقصد کے حصول کیلئے استعمال کرنا غیر اخلاقی ہے۔ treating any human being as a means to some other end is the basis of all unethical behavior

کانٹ کے خیال میں جھوٹ بولنا بھی اسی لئے غیر اخلاقی عمل ہے کہ جھوٹ کے ذریعے ہم اپنے مقصد کے حصول کیلئے دوسرے شخص کو بیوقوف بنا رہے ہوتے ہیں اور گویا ہم اپنے مقصد endsکے حصول کیلئے اسکو ایک ذریعہ means کے طور پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں جو ایک غیر اخلاقی عمل ہے۔ اسی طرح کانٹ کے نزدیک بددیانتی، چوری، دھاندلی، زبردستی، تشدد اور دیگر جرائم بھی اسی لئے غیر اخلاقی ہیں کہ ان سب میں ایک انسان اپنے مقصد کے حصول کیلئے دیگر افراد کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سلسلے میں کانٹ کے دلائل اس سے کہیں آگے تک کا احاطہ کرتے ہیں جسے عام زبان میں صرف صحیح اور غلط یا اخلاقی اور غیر اخلاقی سے موسوم کیا جاتاہیں۔ کانٹ کے یہ اصول پوری انسانی زندگی کا احاطہ کرتے ہیں۔

کانٹ کے دریافت کردہ اصول “ہر شخص کو صرف کسی دوسرے مقصد کے حصول کے ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے مگر بذاتہ مقصد کے طور پر سلوک درست ہے Each person must never be treated only as a means to some other end, but must also be treated as an end themselves”۔ کے مضمرات انسانی زندگی کے ہر گوشے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً سہل پسندی کو لیجئے، ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی حد تک سہل پسندی کا شکار ہوتا ہے مگر کتنے لوگ ہیں جو اس سلسلے میں اپنے آپ کو قصور وار ٹھہراتے ہونگے مگر ایسے لوگوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہے جو اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ صرف وقتی طور پر سہل پسندی کا مزہ تو لیا جا سکتا ہے لیکن طویل دورانئے میں اس کے اثرات مفید نہیں ہوتے لیکن یہ جاننے کے باوجود وقتی مزے کی چاشنی، ہماری توجہ کو طویل مدتی نقصان پر مرکوز ہونے نہیں دیتی۔ لیکن کانٹ جب سہل پسندی کو برا کہتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا بلکہ اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سہل پسندی کے بارے میں ہماری سوچ کا طرز عمل ناپختہ، ناکافی اور خام ہے۔ جب ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ ہمیں ہر حوالے سے، قدرت کی طرف سے عطا کردہ ہر صلاحیت کو، ہر وقت انتہائی طور پر استعمال میں لانا چاہیے تو پھر ہم ایسا کیوں نہیں کر پاتے؟لیکن اس حوالے سے کانٹ کے دلائل یہ نہیں کہ ہر صلاحیت کو انتہائی طور پر استعمال کرکے ذاتی وسائل میں اضافہ، ذاتی نمود و نمائش میں اضافہ، یا خدمت خلق وغیرہ کے کاموں میں اضافہ کیوں نہیں کیا جاتا بلکہ اسکی دلیل بالکل ہی مختلف ہے اسکا کہنا یہ ہے کہ ہمیں قدرت کی طرف سے دی گئی ہر صلاحیت کو اسکی انتہائی سطح تک استعمال میں لانا چاہیے کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو کسی مقصد ends کے حصول کیلئے بطور ذریعہ means استعمال کر رہے ہیں اور یہ بات بالکل غیر اخلاقی کہلائے گی۔ جب ہم زندگی کے ہر روز کا اکثر وقت کسی صوفے یا بستر پر نیم دراز ہو کر ٹی وی دیکھنے، فیس بک، ٹوئیٹر، یوٹیوب وغیرہ پر مصروف رہنےیا کسی ایسی سرگرمی میں گزار دیں گے تو ہم یقیناً اپنے دماغ اور توجہ کو مزے لینے کے آلات بنا دیں گے اور ہمارے شعور میں چھپی ہوئی وہ صلاحتیں جو ہمیں قدرت نے عطا کی ہیں وہ کبھی اپنی اعلیٰ شکل میں جلوہ گر ہو ہی نہیں پائیں گی اور جب ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہونگے تو یہ بات صرف بری ہی نہیں کہلائے گی بلکہ غیر اخلاقی بھی ہوگی۔

کانٹ کو کبھی اپنی پارسائی کا دعویٰ نہیں رہا، وہ سگریٹ بھی پیتا تھا اور کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ جام بھی چھلکا لیتا تھا لیکن چالیس سال کی عمر کے بعد وہ کبھی ان چیزوں کا رسیا نہیں رہا۔ وہ تمام نشہ آور اشیاء کے خلاف صرف اس لئے نہیں تھا کہ ان سے صحت کو نقصان ہوتا ہے بلکہ وہ اس لئے خلاف تھا کہ اس کے نزدیک نشہ کرنے کے دوران آپ اپنی اعلیٰ تر صلاحیت یعنی دماغ، شعور، خرد، شائستگی، حریت فکر کو مزہ لینے کے مقصد ends کے حصول کیلئے ایک ذریعہmeans کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ ایک غیر اخلاقی عمل ہے۔ سکرات کے استعمال سے یقیناً صحت کے حوالے سے نقصانات ہوتے ہیں، کئی دیگر نقصانات بھی ہو سکتے ہیں اور عام لو گ اس عادت کو اس لئے برا سمجھتے ہیں کہ اس سے اس شخص کو خود بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے، لیکن کانٹ کے نزدیک تو یہ صرف اضافی امر واقعہ، ملحقہ نقصان (Collateral Damage) ہے، کانٹ کے نزدیک اصل نقصان یہ ہے کہ اس عمل کے دوران ایک انسان اپنے آپ کے ساتھ دھوکہ دہی کر رہا ہوتا اور اپنی قیمتی جان کے ساتھ دغا بازی کر رہا ہوتا ہے اور اپنے ساتھ دغا بازی بھی اتنا ہی غیر اخلاقی عمل ہے جتنا دوسروں کے ساتھ دغا بازی غیر اخلاقی عمل ہے۔

اسی طرح اپنے مقاصد کے حصول کیلئے دوسروں کی چاپلوسی اور خوشامد کرنے کو عام طور پر برا سمجھا جاتا ہے لیکن دوسروں کو خو ش رکھنے کی خاطر ملائم گفتگو کرنا یا ان کے مزاج کو ناگوار گزرنے والی گفتگو سے پرہیز کرنے کو نہ صرف یہ کہ غیر اخلاقی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسکے برعکس یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ ایک اخلاقی عمل ہے لیکن اس سلسلے میں کانٹ کی دلیل بالکل مختلف ہے وہ یہ کہتا ہے کہ جب آ پ دوسروں کو خوش رکھنے کی خاطر اپنے طرز عمل میں پے در پے تبدیلی کر رہے ہوتے ہیں، اپنی رائے کو تبدیل کر رہے ہوتے ہیں یا اپنے مافی ضمیر کو چھپا کر نہایت ملائم انداز میں دوسروں کو خوش کرنے والی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں تو آپ دراصل ایک غیر اخلاقی عمل کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ آپ اپنے ضمیر، شعور، حریت فکر کو کسی مقصد ends کے حصول کیلئے ایک ذریعہ means کے طور پر استعمال کررہے ہوتے ہیں اور جب دوسرے لوگ آپکے اس عمل سے خوش ہوکر آپ کی اس ملمع کاری کو آپکا اصل عمل سمجھ رہے ہوتے ہیں تو آپ ان کے شعور، ضمیر اور فکر کو بھی کسی مقصد ends کے حصول کیلئے ایک ذریعہ means کے طور پر استعمال کررہے ہوتے ہیں کیونکہ آپ کے جوڑ توڑ، ساز باز، سلیقہ مندی، دستکاری اور کاریگری سے دوسروں کا آپ کے بارے میں احساس، ادراک اور خیال وہ نہیں ہوتا جو آپکا اصل ما فی ضمیر سامنے آنے پر ہونا چاہے تھا تو اس طرح آپ اپنے خلاف اور دوسروں کے خلاف بیک وقت ایک دہرے غیر اخلاقی عمل کا ارتکا ب کرتے ہیں۔

چاپلوسی، خوشامد، ملمع کاری، ساز باز وغیرہ جیسےسب غیر اخلاقی اعمال، جھوٹ یا غلط بیانی کے زمرے میں آتے ہیں لیکن کچھ اعمال ایسے بھی ہیں جو جھوٹ اور غلط بیانی کے زمرے میں نہیں آتے لیکن ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیونکہ ان میں جھوٹ اور غلط بیانی کا عنصر شامل نہیں ہے لہذا یہ غیر اخلاقی نہیں ہوسکتے، وہ بھی جھوٹ اور غلط بیانی کی طرح ہی غیر اخلاقی ہیں۔ جیسے کسی شخص کی مرضی کے خلاف اس سے کسی بات کا منوانا، یا کسی کو اپنے مافی الضمیر بیان کرنے کا موقع نہ دینا، دھونس، زور، زبردستی، جبر، دبائو، لالچ اور تشدد سے کسی شخص کو اسکی رائے چھپانے یا اس کا اظہار نہ کرنے پر مجبور کرنا یا اسکی رائے تبدیل کرانا بھی کانٹ کے مذکورہ اصول کے تحت اتنا ہی غیر اخلاقی ہے جتنا جھوٹ اور غلط بیانی کرنا غیر اخلاقی ہے۔ دھونس، زبردستی، دبائو، لالچ اور تشدد کا استعمال صرف سیاست اورمعیشت کے میدان میں ہی نہیں ہوتا بلکہ سماجی اورمعاشرتی رشتوں اور تعلقات میں بھی ہوتا ہے۔ اور آج کے دور میں ازدواجی تعلقات میں دوسرے فریق کی رائے کااحترام کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ سب سے اہم ایشو بن چکا ہے۔ کیونکہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ازدواجی تعلقات قائم ہوجانے کے بعد دوسرے فریق کی رائے معلوم کرنا اتنا ضروری نہیں، اس لئے دنیا بھر میں دوسرے فریق کی رائے معلوم کئے بغیر ایسے بےشمار اقدام اٹھائے جاتے ہیں جن کا دوسرے فریق کی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے لیکن دوسرا فریق اکثر اوقات تعلقات منقطع ہوجانے کے خوف سے اپنی آزادانہ رائے کا اظہار نہیں کر پاتا۔ کانٹ کے مذکورہ اصول کے مطابق ہر معاملے میں خواہ وہ سیاسی، معاشی، سماجی، معاشرتی یا ازدواجی معاملہ ہو تمام فریقین کے رائے سننا، اسکا احترام کرنا ضروری ہے، کیونکہ تمام انسانوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ انکی رائے کا احترام ہر وقت اور ہر حال میں کیا جائے اور انسانوں کے اس حق کا احترام نہ کرنا انسان کی تکریم کے خلاف ہے۔ کانٹ کا اس اصول کا اطلاق زندگی کے ہر شعبے میں ہوتا ہے، شوبز، میڈیا، مارکیٹنگ، فیشن انڈسٹری وغیرہ میں بھی گاہکوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے متاثر کرکے غیر ضروری، غیر مفید اور غیر معیاری اشیاء کی خریداری کیلئے لبھانا بھی اسی ضمرے میں آتا ہے۔ کانٹ کے دور میں سرمایہ دارانہ نظام ابھی اپنے عروج پر نہیں پہنچا تھا اور کمیونزم، سوشلزم کا چرچا بھی اسکے بہت بعد ہوا اس لئے کانٹ نے سرمایہ دارانہ نظام کے برائے میں بطور نظام تو کچھ نہیں کہا لیکن اس نے اپنے مذکورہ اصول کے دلائل میں دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مختلف طبقات کے درمیان معاشی تفاوت اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو اسی کھاتے میں شمار کرتے ہوئے غیر اخلاقی ہی تصور کیا ہے۔ کیونکہ اس کے بقول ان سب معاملات میں طاقتور طبقات، محکوم طبقات کو اپنے مقصد کے حصول کیلئے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو سراسر غیر اخلاقی ہے۔

روشن خیالی Enlightenment کے دور میں تعصب، ہٹ دھرمی، کٹر پن اور نسل پرستی کے حوالے سے سب مفکرین کے خیالات یکساں نہیں تھے کچھ ان برائیوں کے کسی حد تک خلاف بھی تھے لیکن بہت سے دانشور اور مفکرین ان کو برائی تصور نہیں کرتے تھے، کانٹ بھی ابتدائی دور میں ملے جلے خیالات کا حامی تھا لیکن بعد ازاں کانٹ نے نسل پرستی کے حوالے سے واضح موقف اپنایا کہ کسی نسل کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی دوسرے نسل کو اپنا محکوم، مطیع یا تابعدار بنائے، کانٹ نے نو آبادیاتی نظام Colonialism کے خلاف دلائل دئے اور اس بات کو مسترد کیا کہ کسی یورپین نسل کو دوسری اقوام پر کسی بھی قسم کی برتری حاصل ہے۔ کانٹ نے کسی بھی نسل اور قوم کے امتیاز کو مسترد کیا اور کہا کہ جبر، تشدد، زبردستی اور دھونس خواہ کسی کی طرف سے، کسی بھی مقصد کیلئے ہو وہ انسانیت کے خلاف ہے اور قابل مذمت ہے۔ جبر اور تشدد کو اور بھی بہت لوگوں نے مسترد کیا لیکن کانٹ کی دلیل سب سے مختلف ہے اسکے خیال میں جبر، تشدد، زبردستی اور دھونس نہ کسی فرد کی طرف سےدوسرے فرد پر ہونے چاہیے اور نہ ہی کسی ادارے کی طرف سے افراد کے خلاف ہونی چاہیے اور یہی تشدد اور دھونس ہی جنگوں کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ کانٹ نے انہی دلائل کے دوران بین الاقوامی حکومت کا تصور بھی پیش کیا اور اسکے خیال میں یہ ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جو پوری دنیا کے امن کی ضمانت دے۔ بعد ازاں لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ جیسے ادارے کانٹ کے وژن کے نتیجے کے طور پر ہی سامنے آئے۔

روشن خیالی Enlightenment کے دور کے زیادہ تر فلاسفہ اور مفکرین کا یہ خیال تھا کہ بہترین زندگی وہ ہو سکتی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ راحتیں اور آسانیاںمیسر آ سکیں اور کم از کم تکالیف اور کلفتیں ہوں۔ فلسفے میں اس طرز فکر کو “افادیت پسندی” سے موسو م کیا جاتا ہے۔ آجکل بھی اس طرز فکر کو غلبہ حاصل ہے لیکن کانٹ، زندگی میں بہتری، سدھار اور اصلاح کے حوالے سے بالکل مختلف سوچ رکھتا تھا۔ اسکا ماننا تھا کہ کسی شخص کے کسی عمل کے بارے میں عام طور پر یہ یہ بات جاننا بہت مشکل ہوتا ہے کہ اس نے جو عمل کیا ہے اس سے اسکو راحت پہنچی ہے یا تکلیف۔ کیونکہ راحت یا تکلیف کا تعلق اسکی اس نیت سے ہوتا ہے جو وہ عمل کرنے سے پہلے اپنے وجود میں رکھتا ہے۔ اسی طرح چونکہ آپ دوسروں کی امیدوں، جذبات، احساسات، اور اقدار وغیرہ سے کبھی بھی پوری طرح آگاہ نہیں ہو سکتے اس لئے آپ کیلئے یہ جاننا بھی بہت مشکل ہوتا ہے کہ آپ کے کس عمل سے دوسرے کو واقعی راحت میسر آسکتی ہے اور کس عمل سے نہیں۔ جیسے فرض کریں آج آپ نے ازدواجی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے آپ کو دوسرے فریق دونوں کو بہت دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصے بعد آپ، دوسرا فریق یا آپ دونوں یہ محسوس کریں کہ اس فیصلے سے آپ کی زندگی پہلے سے زیادہ پر سکون ہو گئی ہے اور اگر آپ یہ فیصلہ نہ کرتے تو اس سے زیادہ دکھ اٹھانے پڑتے۔ اس طرح کے معاملات میں کئی طرح کے امکانات ہو سکتے ہیں اس لئے یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کس فیصلے سے واقعی راحت پہچنے گی اور کس سے تکلیف۔ اس لئے اس سلسلے میں کانٹ کی دلیل بالکل مختلف ہے اسکے خیال میں زندگی کی اصلاح، سدھار اور بہتری کیلئے ہم صرف اپنے رویے اور عمل میں بہتری لا کر ہی کر سکتے ہیں۔ اور وہ “اصلاح ذات، تزکیہ نفس” کو ایک ایسا فرض سمجھتا ہے جس میں شک اور سوال کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اور اسکے خیال میں اس فرض کی ادائیگی اورعدم ادائیگی کی جزا اور سزا صرف جنت اور دوزخ میں ہی نہیں ملے گی بلکہ اس دنیا میں بھی اس فرض کی ادائیگی کے معاملے میں ایک شخص کی استقامت کا نتیجہ اسکی اپنی زندگی پر بھی مثبت نکلتا ہے اور اسکے ارد گرد کے لوگوں پر بھی مثبت نتیجہ نکلتا ہے اور عدم ادائیگی کا منفی اثر اسکی اپنی زندگی پر بھی پڑتا اور اسکے ارد گرد پر بھی پڑتا ہے۔ جب آپ اپنی ذات کے ساتھ دیانتدار اور ایماندار ہوتے ہیں تو لازمی طور پر آپ دوسروں کے ساتھ بھی دیانتدار ہوتے ہیں، آپ کی اس دیانتداری اور ایمانداری کا اثر دوسروں کی زندگی پر مثبت انداز سے پڑتا ہے اور ان کی زندگی میں بھی یہی مثبت تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے اوراس طرح پوری دنیا پر Snow ball effect پڑتا ہے اور وہ مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں جو کسی ریاستی پالیسی ساز ادارے سے بھی حاصل نہیں ہو سکتے۔

کانٹ نے اپنے وجدان سے یہ بات سمجھ لی کہ ہماری اپنی ذات کے بارے میں ہماری مثبت سوچ، تکریم اور طرز عمل کا دنیا کے بارے میں ہماری مثبت سوچ، تکریم اور طرز عمل سے بہت گہرا تعلق ہے۔ کیونکہ ہماری اپنی ذات کے بارےمیں ہمارا طرز عمل ہماری نفسیات کے اندرایک ایسا سانچہ اور پیمانہ تخلیق کرتا ہے جو دوسروں سے ہمارے معاملات کے دوران اسی سانچے اور پیمانے کا ہی عکس پیش کرتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اہم بات جاننا بہت ضروری ہے کہ آجکل کے معاشرے میں جو خود توقیری Self esteem اور خود پسندی Self-Respect کی جو تحریک چلی ہوئی ہے کانٹ کے دلائل اس سے کوسوں دور ہیں اور اگر آج وہ زندہ ہوتا تو یقیناًاس سے کھلے عام نفرت کا اظہار کرتا۔ کانٹ جب اپنی ذات کی تکریم کا کہتا ہے تو اس سے اسکی مراد محض خود توقیری، خود پسندی، یا خود داری نہیں ہوتی بلکہ اس کی مراد یہ ہے کہ ہر شعوری وجود (انسان)قابل تکریم ہے، تمام انسان خواہ وہ کسی خطے، زبان، نسل، رنگ سے تعلق رکھتے ہوں انکے حقوق ایک ہی ہیں اور وہ یکساں طور پر قابل تکریم ہیں۔ جب ہم دوسروں کے یہ حقوق تسلیم نہیں کرتے تو گویا ہمیں ہماری اپنی ذات کی تکریم اور دیگر اقدار کا شعور بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے اسکی اپنی ذات بھی اسکی دھوکہ بازی سے محفوظ نہیں ہوتی اور وہ اسکا شعور تک نہیں رکھتا، اس لئے اپنی ذات کی تکریم اور دوسرے تمام انسانوں کی تکریم کوئی ایسی قدر نہیں ہے جسے چلتے پھرتے، ہنستے کھیلتے ہجوم کو دیکھ کر سیکھ لیا جائے بلکہ یہ ایک شعوری کوشش ہے۔ اور تزکیہ نفس کی یہ اخلاقی قدر طویل شعوری کاوش کے بعد طرز عمل کا حصہ بنتی ہے۔ کانٹ اسکو ترقی پذیر کردار Developing Character کا نام دیتا ہے اور اسکے خیال میں یہ شعور کے اندر چھپی مخفی صلاحیتوں کو بدرجہ اتم استعمال میں لانے کے بعد حاصل ہوتا ہے اور اسکے خیال میں اوائل عمری میں اسکا حصول ممکن نہیں ہوتا کیونکہ اس دور میں شعور، افراط جذبات کی قید میں ہوتا ہے مگر اسکے خیال میں ہم سب کا فرض اولیں ہے کہ ہم اس کردار کو حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20