میری پہلی محبت۔ آصف محمود

0

کیا آپ جانتے ہیں یہ شخص کون ہے؟ آپ شاید اسے نہ جانتے ہوں ، یہ میری پہلی محبت تھا۔ پہلی محبت کب بھولتی ہے ؟ کیلینڈر پر ہر سال جب 23 مارچ کی تاریخ آتی ہے لڑکپن کی پہلی محبت کا گداز اس کے ہمراہ ہوتا ہے۔

مارگلہ ٹاؤن کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا چھ بچے آسمان کی وسعتوں میں نگاہیں گاڑے کھڑے تھے ۔ ان کا انہماک دیکھ کرمیں نے تجسس سے مجبور ہوکر گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور ان کے ساتھ دیکھنے لگ گیا کہ آسمانوں میں ایسا کیا ہو رہا ہے جس نے ننھے وجود اپنی طرف متوجہ کر رکھے ہیں ۔ دیکھا تو معلوم ہوایہ پیرا ٹروپرز تھے جو بادلوں سے نیچے اترتے محسوس ہو رہے تھے ۔ 23 مارچ کی ریہرسل ہو رہی تھی ۔ گردش ایام گویا پیچھے کی طرف لوٹ گئی ۔اب وہاں چھ نہیں سات بچے کھڑے تھے ۔

خوب یاد ہے 23 مارچ کو ہم سب اہتمام سے ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے۔ سب کچھ ہی اچھا لگتا لیکن ٹی ایم کے جمپ کی بات ہی کچھ اور تھی۔ پیراٹروپرز ایک ایک کر کے اترتے ، کچھ لڑکھڑا بھی جاتے، ایک دفعہ ایک پیراٹروپر توازن قائم نہ رکھ سکا اور اس کے گھٹنے زمین کو چھو گئے ۔ لیکن مجھے یاد ہے جب ٹی ایم اترنے کے قریب آتے میری شرطیں لگ جاتیں۔ یہ ٹی ایم ہے، گرنا تو بہت دور کی بات ہے، لڑکھڑانے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ دھرتی پر جیسے بارش اترتی ہے اس رسان سے نہ اترے تو کہنا۔ اور ٹی ایم نے کبھی شرط نہ ہارنے دی۔ اس کے قدم زمین پر یوں اترتے دھرتی پہ جیسے شبنم اترے۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا پرچم ہوتا تھا زمین پر لگنے سے پہلے ہی جانباز جسے تھام لیتے تھے ۔

اب اگلا مرحلہ شوق ہوتا تھا اور ہم جیسے عشاق ۔ کمانڈوز اس پرچم کو لپیٹ کر اپنے سالار کے حوالے کرتے۔ یہ سالار دونوں ہاتھوں پر اس مقدس پرچم کو رکھ کر سلامی کے چبوترے کی طرف بڑھتا ۔ وہ نہ دوڑ رہا ہوتا تھا نہ چل رہا ہوتا تھا ۔ ہم اسے کمانڈو چال کہتے تھے۔ اس کی جیکٹ ہمیشہ سیاہ رنگ کی ہوتی تھی اور اس پر بڑا سا ’’ اللہ ‘‘ لکھا ہوتا تھا۔ اللہ ہو کی ایک آواز بھی بلند ہوتی تھی جو اس بات کا اعلان ہوتی تھی کہ یہاں سیکولرزم جیسی کسی واردات کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یہاں صرف ’’ اللہ ہو ‘‘ کی صدائیں بلند ہوں گی ۔ سلامی کے چبوترے کے سامنے پہنچ کر ایس ایس جی کے سالار نے یہ قومی پرچم صدر مملکت کے حوالے کرنا ہوتا تھا ۔ پرچم صدر مملکت کو دینے سے پہلے ٹی ایم اس پرچم کو چوم لیتے تھے ۔ اس بوسے میں جو وارفتگی اور عقیدت ہوتی تھی اس کی حدت میں آج بھی محسوس کر سکتا ہوں ۔

وقت جیسے تھم سا گیا تھا ۔ کتنی ہی دیر میں کھڑا رہا ۔یادوں کا ایک ہجوم تھا اور میں ۔ ایک ہارن بجا تو گویا میں واپس لوٹ آیا ۔ بچے جا چکے تھے۔ ٹی ایم بھی جا چکا تھا ۔لیکن ٹی ایم کی ایس ایس جی اپنے مقام پر ہے ۔ درختوں پر بہار اتر چکی ہے اور پھولوں کے اس پار پریڈ گراؤنڈ کی جانب ٹی ایم کاپرچم لہرا رہا ہے۔ انشاء اللہ یہ پرچم لہراتا رہے گا۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پرچم ہے .

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: