پاکستانی سماج اور فیوڈل سماجیات —- قاسم یعقوب

0

جب بھی ہم کسی سماج کا مطالعہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہاں طاقت کی مختلف شکلوں کو پہچاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ طاقت کا سماجی ڈھانچہ بہت پیچیدہ اور گرہ در گرہ نظام پر مشتمل ہوتا ہے، اسے آسانی سے پہچانا نہیں جا سکتا۔ اسی ایک شناخت سے سماج میں عدم مساوات، طبقاتی نظام، سماجی برابری، سماجی اور اقتصادی ترقی، بنیادی حقوق کے حصول کی منصوبہ بندی اور تعلیمی اقدار کی اخلاقیات پروان چڑھتی ہیں۔ پورا سماجی ڈھانچہ طاقت کے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو انفرادی طاقت کا نظام اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ دوسری طاقتیں اس پر انحصار کرنے لگتی ہیں۔

پاکستانی سماج کا سماجی ڈھانچہ فیوڈل سماجیات پر یقین رکھتا ہے۔ یہاں دو لفظ بہت اہم ہیں۔ ایک: ’فیوڈل سماجیات‘ اور دوسرا: ’یقین رکھنا‘۔ ان دونوں لفظوں کی وضاحت ضروری ہے۔ فیوڈل سماجیات سے مراد محض زمین سے وابستہ جاگیر داری نظام نہیں۔ جاگیر داری نظام کا بنیادی عنصر زمین تھی۔ جس کے پاس زمین تھی، وہ طاقت کا مرکز بھی تصور کیا جاتا۔ قدیم فیوڈل کلچر میں پیداواری نظام پیداواری اوازوں اور آلات کے ساتھ منسلک تھا۔ زمین ان اوزاروں کے لیے بنیاد کا کام کرتی۔ زمین سے اناج، لائیو سٹاک، لکڑی، فطرت سے تحفظ اور نظام ِ زندگی کی بہت سی اشیا کو درآمد کیا جاتا۔ یوں حیات کی بقاکی کنجی زمین اور زمین والے کے پاس تصور کی جاتی۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بادشاہی نظام میں بھی جاگیرداروں نے طاقت کے مرکز کو کہیں اور منتقل نہیں ہونے دیا۔ ان سب کے پیچھے وہ سوچ کی تعمیر تھی جس نے حاکم اور محکوم کے تصور کو پیدا کیا، یعنی میں طاقت رکھتا ہوں اور میرے محکوم کے پاس یہ طاقت نہیں، اس لیے حیات کے لیے میں زیادہ اہم ہوں، وہ نہیں۔ یہ طاقت صرف زمین داری کے نظام تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ اثر انسانوں کے نظام میں ہر انسان تک جاتا تھا۔ یوں طاقت وری کے اس احساس سے دوسرے انسانوں کو محکوم بنانے کے تصورات عادی ہو گیا۔

دوسرا طاقت کا تصور عسکری قوتوں کے ساتھ جڑا رہا۔ جس کے پاس عسکری قوت ہوتی، وہ دوسرے انسانوں کو محکوم اور خود کو ناگزیر سمجھنے لگتا۔ جاگیریں چھیننا وہ اپناحق تصور کرتا۔ عسکری قوت کا مالک اپنے معاون کاروں کو زمینوں کی شکل میں امداد دے کے طاقت کے تصور کا ’ذائقہ‘ منتقل کرتا اور بڑی طاقت کے خوف کا احساس پیدا کرتا۔ یاد رہے کہ جب انگریز اس خطے میں آئے تو انھوں نے اپنی ’طاقت‘ کو چھوٹے چھوٹے نوابوں اور جاگیرداروں میں تقسیم کر دیا۔ چوں کہ یہ چھوٹے طاقت ور ’طاقت‘کی قوت کو سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے بڑی طاقتوں کو مضبوط کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

ہمارا خطہ بنیادی طور پر اسی فیوڈل سماجیات میں پلا بڑھاہے۔ فیوڈل سماجیات میں کسی نہ کسی کے پاس طاقت کا حصول رہتا ہے۔ دوسرا اہم لفظ ’یقین رکھنا‘ تھا، یعنی جس کے پاس یہ طاقت نہیں ہوتی، وہ بھی کسی طاقت کے ماتحت رہنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔ اسے یقین کروا دیا جاتا ہے کہ ایک طاقت کا مرکز ہے اور باقی سب اُس پر انحصار کریں گے۔ یوں فیوڈل سماجیات میں چھوٹی چھوٹی طاقتوں اور ان طاقتوں کے ماتحت رہنے کا تصور اتنا مضبوط ہوتا جات ہے کہ اس کے بغیر زندگی مشکل لگنے لگتی ہے۔ اگر کہیں طاقت نہیں ہوتی تو اس کو پیدا کر لیا جاتا ہے اور اس کے تحت زندگی گزارنے کا درس دیا جاتا ہے۔ ہمارے سماج میں صوفیانہ کلچر اس کی مثال ہیں۔ صوفی کی ہرگز یہ تعلیم نہیں ہوتی کہ اس کو سماج کی طاقتوں میں شمار کیا جائے مگر اس کا دربار اور ’درباری‘ صوفی کی شخصیت اور صوفی ’’معاملات‘‘ کو طاقت میں بدل کے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پاکستانی سماج میں جاگیرادارانہ ’فیوڈل ازم‘ کمزور پڑ چکا ہے مگر طاقت کی شکلیں کمزور نہیں پڑیں۔ ان طاقتوں نے نئی نئی شکلوں میں ظہور کر لیا ہے جن کا ہمیں احساس نہیں ہوتا۔ ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ آپ کو ہر جگہ کمزور اور طاقتور کا یہ فرق محسوس ہوگا۔ کمزور کو لگے گا کہ وہ طاقت جیسی کسی ان چھوئی اور غیر مرئی قوت کے زیرِ اثر ہے۔ طاقت ور کی جگہ جب کمزور تبدیل ہوتا ہے تو اُس کا احساس مزید پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ واقعی ایک طاقت کے تصور کے بغیر نامکمل تھا۔ لہٰذا اس کے طاقت ورانہ اوصاف کھل کے سامنے آنے لگتے ہیں۔

ہمارا انصاف کا نظام تین طرح کے شعبہ جات پر مشتمل ہے۔ جن میں عدالتی نظام، پولیس اور وکلا کی خدمات شامل ہے۔ تینوں جگہ سماج کے دیگر نظام ہائے زندگی خود کو ان طاقتوں کے زیرِ اثر پاتے ہیں۔ عدالتوں میں منصف یہ باور کرواتے ہیں کہ ان سے زیادہ طاقت کسی کے پاس نہیں۔ پولیس کا عام سا ملازم بھی شخصی محرومیوں کو اپنی طاقت کے اظہار میں دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ بڑا پولیس آفیسر تو پورے معاشرتی نظام کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش بھی کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح سیاست دان اپنے علاقوں میں اسی طاقت کے حصول کے لیے تگ و دو کرتے ہیں۔ ان سیاست دانوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے طاقت ور لوگ مل کر بڑی طاقت کے زیرِ نگیں ہونے کا احساس پاتے ہیں اور محکوم اور کمزور لوگوں کو احساس دلاتے ہیں کہ ہم طاقت کے ساتھ مل کر خود طاقت بن چکے ہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ظاہری طاقت ور لوگ (بڑے سرکاری عہدے دار، سیاست دان، حاکم، جاگیردار، مل مالکان وغیرہ) ہی مقتدرہ کہلاتے ہیں؟ بالکل نہیں۔ پاکستانی سماج میں ڈاکٹر، استاد، سرکاری دفتری ملازم، پرائیوٹ بزنس مین، دوکان دار حتیٰ کہ سبزی فروش، ٹیکسی ڈرائیور اور رکشے والا بھی طاقت کے اس مرکز کا احساس رکھتا ہے۔ مرد بطور خاوند، بطور باپ خاندان کا سربراہ، محلے کی مسجد کا امام وغیرہ کے ہاں بھی یہی احساس ملتا ہے۔ آپ جونہی اُن شعبوں کے محتاج ہوں گے، یہ ذرا دیر نہیں لگائیں گے کہ آپ کو احساس دلائیں کہ طاقت اب ہمارے پاس ہے۔ دفتروں میں باس کی طاقت، کلاس روم اور تعلیمی ادارے کی حدود میں استاد کی طاقت، ہسپتالوں کی حدود میں ڈاکٹروں کی طاقت مارکیٹوں میں دوکان داروں کی طاقت؛ جگہ جگہ طاقت کے احساس ملتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم فیوڈل سماج کا حصہ ہیں اور اسی میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ غنڈہ گردی، چوروں، ڈاکوئوں کا گروہی تصور، حملہ آور جتھوں کی طاقت وغیرہ کا مشاہدہ ہمارے سماج میں باآسانی کیا جا سکتا ہے۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ اس میں برائی کیا ہے کہ اگر نظام کسی ایک طاقت کے تصور کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہے تو اسے رہنے دیں، کام تو ہو رہا ہے نا۔ تو جناب اس میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس طرح جمہوری رویے کبھی پروان نہیں چڑھتے۔ انفرادی صلاحتیں معاشرے میں ترقی کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں اور معاشرے کو بھی اجتماعی نظم کے لیے ان صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قوم کی دیگر اقوام میں انفرادی شناخت قائم ہو سکے، مگر یہ صلاحیتیں اپنے اوپر حاکم قوتوںکے ساتھ لڑ جھگڑ کے ان کے زیرِ نگیں اجتماعی کلچر سازی میں شمولیت نہیں اختیار کر پاتیں یا انھیں اجازت نہیں ہوتی کہ وہ الگ سے اپنی راہ اپنا سکیں۔ اصل میںسماج میں سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کررہے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے کام نہیں کر رہے ہوتے۔ working with اور working for کا فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ طاقت ور یہ سمجھتا ہے کہ ماتحت یا محکوم میرے لیے کام کر رہا ہے۔ کسی بھی سماج میں انسانی اقدار، نظریات اور معاشرتی پیداواری ادارے، سماج کی مجموعی ترقی کے لیے کام کرتے ہیں مگر طاقت ور اس جمہوری ترقی کے شدید مخالف ہوتے ہیں۔ سماج کے انصاف پسند ادارے افراد سے حساب لینے کی بجائے طاقت ورکو اپنے محکوم سے حساب لینے کا اختیار دے دیتے ہیں۔ لہٰذان کا حساب صرف یہ ہوتا ہے کہ کیا ماتحت یا محکوم نے تابعداری کا حق ادا کیا؟ کیا اس نے طاقت ور کو مطمئن رکھا ہے یا خود طاقت ور بننے کی کوشش کی ہے؟لہٰذا یہ طاقتیں کسی بھی سماج کی اخلاقی، روحانی، ذہنی اور معاشی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں۔ چوں کہ ان کے پاس مادی وسائل اور اقتدار کا وسیع نظام موجود ہوتا ہے جو گرہ در گرہ ایک دوسرے سے منسلک ہوتا ہے، اس لیے یہ کسی کو بھی جمہوری اقدار کی پرورش کا حق نہیں دینے دیتیں۔

یاد رہے کہ ان طاقتوں سے نجات حاصل کر کے ہی کوئی سماج ترقی کر سکتا ہے۔ مغربی سماج نے سب سے پہلے ان طاقتوں سے نجات پائی۔ جمہوری روایات کو لازمی جزو سمجھا۔ انفرادی جمہوری سوچ کو خود مختار بنایا۔ ہم چوں کہ غلام در غلام سماج کی باقیات سے گزر کے آ رہے ہیں، ابھی تک اس سے نجات حاصل نہیں کر پائے۔ اسی لیے برداشت کا عنصر ہمارے سماجوں میں ایک دیوانہ کے خواب سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہمیں چاہیے کہ جتنی جلدی ہو سکے، اس غلامی سے نجات پائیں ورنہ جمہوری سماجوں میں ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20