جامعات میں تحقیق: ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد سے گفتگو

0

انٹرویو: سید نصرت بخاری
(ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اردو ادبیات سے بطور استاد وابستہ ہیں۔ انھوں نےتحقیقی و تنقیدی مضامین پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ اس لے علاوہ ان کی اردو اور پنجابی شاعری کے بھی چار مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔)

سوال 1۔ آپ شاعر محقق اور نقاد ہیں۔ آپ کے نزدیک آسانی کس میں ہے؟

جواب: آپ کا سوال جس قدر سادہ نظر آتا ہے ویسا ہے نہیں۔ اس طرح کے آسان سوال کا جواب دینا سہل نہیں ہوتا۔ ادب کے ساتھ میری وابستگی کا زمانہ تیس پینتیس برسوں پر محیط ہے۔ میں نے آغاز شعر گوئی سے کیا۔ باقاعدہ تنقید تو میں نے نہیں لکھی البتہ گاہے گاہے میں نے ایسی تحریریں لکھی ہیں جن میں کہیں کہیں تنقید کا رنگ گھُلا ہوا ہے۔ تنقید کا یہ رنگ میرے ذاتی تاثر سے پیدا ہوا ہے کسی تنقیدی دبستان یا کسی باقاعدہ تنقیدی نظام کا منت گزار نہیں۔ اس لیے میں نے کبھی ناقد ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نہ کبھی باقاعدہ تنقید لکھنے کی خواہش رکھی ہے۔ جہاں تک تحقیق کا تعلق ہے اس میں اپنی استعداد کے مطابق میں نے کچھ حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ بغیر کسی ادعا کے، بنا کسی زعم کے۔ کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ تحقیق بے حد جوکھم کا معاملہ ہے۔ اعلا سطح کی تحقیق کے لیے جن وسائل کی، جس استعداد کی اور جس قدر وقت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہم جیسے زندگی کے بہت سارے مسائل میں الجھے ہوئے لوگوں کو میسر نہیں۔ جس طرح شعر کہنا بظاہر بہت آسان کام دکھائی دیتا ہے اور ہے بھی مگر اچھا شعر کہنا بہت مشکل کام ہے، اسی طرح اچھی تحقیق کے لیے بھی دیدہ و دل کو فرشِ راہ کرنا پڑتا ہے۔ ادب کے مسافر کے پاس اگر ذوق وشوق کا سرمایہ وافر ہے تو کسی بھی صنف میں کسی بھی ہیئت میں اسے اظہار کی دشواری نہیں ہو گی۔ مجھے غزل کہنے اور تحقیقی مضمون لکھنے میں ایک جیسی سہولت ہے، ان سے ایک جیسی طمانیت ہوتی ہے یہ الگ بات کہ غزل اکثر و بیش تر ایک ہی نشست یا ایک ہی موڈ میں مکمل ہو جاتی اور تحقیقی مضمون کئی دن کی دیدہ ریزی کے بعد مکمل ہوتا ہے۔

سوال 2- بہت کم ایسا ہوا کہ محقق ہونے کے ساتھ ساتھ کوئی شخص اچھا شاعر بھی ہے۔ ایک اچھا محقق اچھا شاعر کیوں نہیں ہوتا؟

جواب: اس بات کو ایک قاعدہ یا کلیہ تو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہاں اکثر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے محققین اعلا شعری ذوق رکھنے کے باوجود بہ طور شاعر ابھر کر سامنے نہ آ سکے۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر شعبہ توجہ چاہتا ہے اور انہماک کے بغیر اس میں کچھ بڑا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تحقیق بہت مشکل، ہمت شکن، صبر آزما اور دیدہ ریزی کا کام ہے۔ تحقیق و جستجو کے اس سفر میں شعری فضا خلق نہیں ہو سکتی۔ اس کے باوجود بعض محققین کے ہاں اچھی شاعری دیکھنے کو مل جاتی ہے، جیسے وحید قریشی، مشفق خواجہ، نذر صابری، تحسین فراقی، معین نظامی وغیرہ

سوال 3- آپ یونی ورسٹی میں تحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر سال کتنے ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد یہ لوگ کہاں گم ہو جاتے ہیں کہ کسی رسالے میں ان کے مضامین و مقالات دکھائی نہیں دیتے؟

جواب: جامعاتی تحقیق وقتی ضرورت اور مصلحت کے تابع ہے۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی اور محکمانہ ترقی یا مالی فائدہ کے لیے ریسرچ اسکالروں کی ایک فصل اگ آئی ہے۔ یہ نام نہاد اسکالر یہاں وہاں داخلہ لے لیتے ہیں اور کچے پکے موضوعات پر عاجلانہ مقالات لکھ کر یا لکھوا کر سرخ رو ہو جاتے ہیں اور جس کام کے لیے انھوں نے یہ سب کچھ کیا ہوتا ہے وہ پورا ہو جاتا ہے تو کنارہ گیر ہو جاتے ہیں۔ اس سارے عمل میں جذب و شوق کہیں بنیادی توانائی کی حیثیت میں شریک نہیں ہوتا۔ ہاں ایسے ریسرچ اسکالر جو ذوق و شوق کے ساتھ اس میدان میں اترتے ہیں وہ ڈگری کے حصول کے بعد بھی سرگرم تحقیق رہتے ہیں اور ایسے منصوبوں پر محنت سے کام کرتے ہیں جن کی ضرورت ہے۔ ان کی کتابیں، مقالات اور تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں جن سے بازار تحقیق کی تھوڑی بہت رونق قائم ہے۔

سوال 4- ایچ ای سی کے منتخب رسائل میں زیادہ تر یونی ورسٹیوں سے وابستہ اساتذہ کے مضامین و مقالات ہی چھپتے ہیں۔ کیا ان رسائل کو صرف پی ایچ ڈی اور ایم فل سطح کے طلبہ کے لیے مخصوص نہیں ہونا چاہیے؟

جواب: مکمل طور پر تو ایسا نہیں ہے کہ تحقیقی مجلے میں تمام مضامین محض اساتذہ کے ہوتے ہیں، ہاں یہ درست ہے کہ ریسرچ اسکالرز کا تناسب کہیں کہیں کم ہے۔ اساتذہ کی ترقی، فضیلت اور مالی بہبود میں چوں کہ تحقیقی مقالات کا اہم کردار ہے اس لیے وہ بھی کچے پکے، بے رس اور غیر مفید مقالات لکھ کر ہوس کی دوڑ میں شریک ہو جاتے ہیں۔ بعض تو طلبہ کے مضامین پر اپنا نام لکھ کر شریک مصنف بن جاتے ہیں حالاں کہ اس میں ان کا مطلق کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ ایچ ای سی کے منظور شدہ رسائل میں ریسرچ کے طلبہ اور اساتذہ کے مضامین شائع ہونے چاہییں مگر اس معیار کے نہیں جیسے اب چھپ رہے ہیں۔ ان میں بعض تو محض عاجلانہ تنقیدی تبصرے ہوتے ہیں جو تحقیق کے نام پر پیش کیے جاتے ہیں۔ تحقیق کے مزاج میں کاتا اور لے دوڑی کا رنگ شامل کرنے میں ان رسائل کا قصور نسبتاً زیادہ ہے۔

سوال 5– آپ ایک محقق ہیں، کیا جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے تحقیقی اصولوں میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟

جواب: ٹیکنالوجی کی روز افزوں ترقی نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ تحقیق کے شعبے میں بھی اس کے واضح اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ہمارے اکابر محقق اور مخطوطہ شناس اپنے علم اور تجربے سے مخطوطے کی عمر، کاغذ کی قسم اورعہد اور روشنائی کا زمانہ اور اجزا معلوم کر لیتے تھے مگر عہد موجود میں تو ایسے اصحاب علم و فضل موجود نہیں۔ اب ٹیکنالوجی نے محققین کے لیے سہولت پیدا کر دی ہے۔ ایسی مشینیں اور آلات وجود میں آ گئے ہیں جو کاغذ کی عمر، روشنائی کے اجزا اور مخطوطے کے زمانے کا فوری تعین کر دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ مشینیں ابھی بہت عام نہیں تاہم ترقی یافتہ ممالک میں ان سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اسی طرح متن کی مختلف رسوم میں کمپوزنگ، ناخواندہ مقامات کو مکبر کر کے پڑھنے، اشاریہ بنانے، کتابیات سازی جیسے تھکا دینے والے کاموں میں کمپیوٹر محقق کا معاون و مددگار ہے۔ کتابوں کی دستیابی اور قلمی نسخوں کی سکینگ جیسے کئی معاملات میں ٹیکنالوجی سے فائدہ ہوا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ بعض منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ محققین زیادہ تن آسان ہو گئے ہیں اور سرقے کی فضا زیادہ مستحکم ہوئی ہے۔ دوسروں کے مال کو نقل کرنا اور لے اڑنا عام ہو گیا ہے۔ ابھی تحقیق کے نئے ضوابط مرتب نہیں ہو سکے تاہم ان کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

سوال 6- جس ملک میں لیبارٹریز انسانی صحت کی پروا نہیں کرتیں اور پیسے لے کر بغیر لیبارٹری ٹیسٹ کے فرضی رپورٹ مریضوں کو دے دیتی ہیں، وہاں قلمی نسخوں کے متعلق رپورٹ پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے؟

جواب: اسی رویے اور اسی چلن نے تو مسلمانوں سے دولت اعتبار چھین لی ہے اور ذلت و نکبت ان کا مقدر بن گیا ہے۔ آج وہ اقوام عالم میں ذلیل و رسوا ہیں ورنہ کیا مسلم ممالک کے پاس وسائل نہیں؟کیا ان ممالک میں مردانِ کار کی کمی ہے؟ کیا ان کے پاس مالک کی عطا کردہ صلاحیتیں نہیں؟ سب کچھ ہے مگر غلامی کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور استعمار کے اشاروں پر ناچ کر اپنے تشخص کی دھجیاں اڑنے کا تماشا کر رہے ہیں۔ جعلی رپورٹیں اصلی کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ مخطوطات کے بارے میں اگر اس طرح جعلی اور فرضی رپورٹیں آئیں گی تو کوئی نہ کوئی ان کے جعل کا پردہ چاک کرنے والا بھی آئے گا۔ دنیا کبھی اہل خیر سے خالی نہیں ہوتی۔ مشینوں کے زمانے سے بہت پہلے بھی جعل سازی ہوتی رہی۔ نسخے غلط ناموں سے منسوب ہوتے رہے، وقتی لالچ یا مفاد کے لیے نسخوں میں تحریف اور تبدیلی ہوتی رہی مگر وہ جعل زیادہ عرصہ چل نہ سکا اور کبھی حافظ محمود شیرانی، کبھی قاضی عبدالودود، کبھی مولانا عرشی، کبھی وحید قریشی، کبھی نذر صابری اور کبھی نجم الاسلام جیسے صاحبان نظر ان کی قلعی کھولتے اور ان کی حقیقت کو سامنے لاتے رہے۔ آئندہ بھی ان کے فیضِ نظر سے ایسے حق شناس آتے رہیں گے

سوال 7- تعلیم کو ڈگریوں سے ماپا جاتا ہے۔ میرا جی اور سعادت حسن منٹو کے پاس چونکہ اعلیٰ سرکاری ڈگری نہیں اس لیے وہ ہمارے عہد میں چپراسی کی سیٹ کے بھی اہل نہیں۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اپنے اپنے میدان میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور ان پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے ان ڈگریوں کی وجہ سے کہاں جا پہنچے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس معیار کے حامل افراد کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے جو پرتال کے بعد انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری اور فوائد جاری کرے؟

جواب: شاہ صاحب بلاشبہ ڈگری علم کا پیمانہ نہیں ہے مگر سماجی ضرورت ہے اور یہ اس کو ملتی ہے یا ملنی چاہیے جو اس کا طالب ہو اور اس کے لیے کوشش کرے۔ ایک سچے تخلیق کار کو کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اپنے نشہ ہنر میں سرمست رہتا ہے۔ اب اگر میرا جی اور منٹو کو ڈگری دے دی تو میر اور غالب ناراض ہوں گے۔ پھر ہر تخلیق کار اپنے آپ کو سب سے عظیم سمجھتا ہے۔ کون سی کمیٹی مقرر کی جائے جو تخلیق کار کے مقام و مرتبے کی تعیین کرے۔ اس کمیٹی میں جس گروہ کے بندے شامل ہوں گے اس گروہ کے لوگوں کو ڈگریاں مل جائیں گی اور دھڑے بندی سے الگ تخلیق کار رہ جائیں گے۔ سو مفت کی ڈگریاں بانٹنے کا ایک نیا ادارہ نہ کھولیں۔ تخلیق کار الگ ڈگری کا طالب ہے تو اقبال کی طرح داخلہ لے مقالہ لکھے اور ڈگری حاصل کرے۔ اب اقبال سے بڑا تو کوئی تخلیق کار نہیں۔ منٹو نے تو رو رو کر میٹرک کیا اور ایف اے میں بھاگ گیا اب ایسے کالجوں سے بھاگنے والوں کو تو ڈگری نہیں دی جا سکتی نا۔ ہاں وہ اچھا کہانی نویس تھا اس لیے اس کے اس پہلو کا اعتراف ہوا اور احترام بھی۔

سوال 8– ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والوں کو فعال رکھنے کے لیے سال میں ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کی شرط ہونی چاہیے؟

جواب: اس کا میرے خیال میں کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ جو ایک مقالہ نہ لکھ سکے اس کو کیا سزا ملے گی؟ کیا اس کی ڈگری ضبط کر لی جائے گی؟ کیا اس سے کوئی جرمانہ وصول کیا جائے گا اگر ایسا کچھ ہوا تو تن آسان کسی سے لکھوا لیں گے۔ اس سب کا ریکارڈ کون رکھے گا؟ پہلے تحقیق کا شعبہ نہایت برے حالات کا شکار ہے ہرسال برے مقالات و مضامین کا اضافہ کیا اس کے بوجھ کو مزید بڑھا نہیں دے گا؟پھر یہ کہ بعض تحقیقی مضامین و مقالات تو دو تین ماہ کی محنت سے مکمل ہو جاتے ہیں بعض کئی سال کی ریاضت کے بعد بھی مکمل نہیں ہو پاتے۔ اس معاملے کو ذوق و شوق پر ہی رہنے دیں تو اچھا ہے۔ جس میں تحقیق کی سچی لگن ہو وہ بغیر کام کے نہیں رہ سکتا جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ہمارے بعض اکابر پیرانہ سالی میں بھی اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کار تحقیق میں لگے رہتے ہیں۔ ان کے جذب و شوق کی مثالیں عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان محققین کو تحریک ملے۔ میں ایسے چند اکابر کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اور ان کے جذب وشوق کا اظہار ان کے گراں قدر مقالات اور کتابوں سے ہوتا ہے جو بلاشبہ مختلف شعبوں کی ثروت میں اضافہ کرتی ہیں۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر سفیر اختر، ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی، ڈاکٹر عارف نوشاہی، پروفیسر اقبال مجددی جیسے کئی رجال کار ہمارے معاشرے میں موجود ہیں ہمیں ان سے سبق لینا چاہیے۔

سوال 9– ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے طالب علم اساتذہ کے عدم تعاون کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ آپ کا ایم فل پی ایچ ڈی سکالرز سے بہ راہ راست رابطہ ہے۔ تصویر کا دوسرا رُخ کیا ہے؟

جواب: ریسرچ اسکالرز کا یہ شکوہ بڑی حد تک درست ہے کہ اساتذہ ان کے ساتھ پوری طرح تعاون نہیں کرتے اور ان کی مکمل رہنمائی نہیں کرتے، انھیں وقت نہیں دیتے وغیرہ وغیرہ لیکن دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی کے مصداق ریسرچ اسکالرز کا رویہ بھی کسی طرح لائق تحسین نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کا سب سے بڑا سبب مطالعے کی کمی ہے۔ استاد یا نگران چوں کہ خود مطالعے سے گریزاں ہے اس لیے وہ موضوعِ تحقیق پر اسکالر کی کیا رہنمائی کرے؟ وہ طالب علم سے جان چھڑانا چاہتا ہے اور اس کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔ طلبہ بھی اپنے نگران کی روش پر چلتے ہوئے مطالعے سے دُور رہتے ہیں اور بغیر محنت کے ڈگری حاصل کرنے کا خواب آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں۔ جو نگران ذرا سختی کرتے ہیں اور اسکالر کو پڑھنے اور محنت کرنے کی تاکید کرتے ہیں انھیں طلبہ کے حلقے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ طلبہ لاپروائی کرتے ہیں، تلاش وجستجو سے گھبراتے ہیں۔ لوازمے کی فراہمی کے لیے لائبریریوں اور کتب خانوں میں جانے کا انھیں وقت ہی نہیں ملتا یہی وجہ ہے کہ وہ دوسرے درجے کے مآخذ و مصادر سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور چند کتابوں کی مدد سے اپنا تحقیقی کام مکمل کرنے کو ہی تحقیق خیال کرتے ہیں۔ بہت وقت ضائع کر دیتے ہیں اور آخر میں عجلت کے ساتھ کچاپکا مقالہ مکمل کر کے جمع کرانے کی کوشش کرتے ہیں اس موقعے پر اگر انھیں روکا جائے تو پھر انھیں شکایات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ کسی ایک طبقے کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا دونوں برابر کے شریک ہیں۔

سوال 10- یہ بھی شکایت ہے کہ بعض اساتذہ ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے طلبہ کی اسائمنٹس میں استادانہ رد و بدل کر کے اپنے نام سے رسائل وغیرہ میں شایع کروا دیتے ہیں؟

جواب: جی بالکل درست بات ہے صرف استادانہ پر اعتراض ہے۔ استادانہ رد و بدل کرنے میں بھی کچھ صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ جو نام نہاد اساتذہ طلبہ کے مال پر ہاتھ صاف کرتے ہیں وہ کسی بھی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ وہ جا بہ جا بے نقاب ہوتے ہیں مگر غیرت سے عاری ہو جانے کے باعث ان پر مطلق اثر نہیں پڑتا۔ گلی گلی میں یونیورسٹیاں کھل گئی ہیں اور فیکلٹی پوری کرنے کے لیے نام نہاد پی ایچ ڈی اساتذہ بھرتی کر لیے جاتے ہیں۔ ایسے ہی چور دروازوں سے آئے ہوئے ریسرچ اسکالروں کے مال پر نظر رکھتے ہیں۔ ایچ ای سی کے منظور شدہ رسائل میں طلبہ کے مضامین کے اوپر اساتذہ، نگران کار اور صدور شعبہ جات اپنا نام بھی نتھی کر دیتے ہیں۔ اس پر کوئی باز پرس نہیں ہوتی کہ سکالر نے کیا کیا ہے اور اس کے نگران یا استاد نے کیا موتی جڑے ہیں۔ یوں ایک ہی مضمون اسکالر کو بھی فائدہ دیتا ہے اور استاد کو بھی۔ یہ رویہ یہاں وہاں ہر جگہ موجود ہے۔ ہاں اس طرح کے لوگ تعداد میں کم ہیں مگر ان کی موجودگی نے ساری فضا کو گدلا کیا ہوا ہے۔

سوال 11– سننے میں آیا ہے کہ پرائیویٹ یونی ورسٹیاں سخت ممتن کو مقالہ بھیجتے ہوئے ہچکچاتی ہیں؟

جواب: جی یہ بات بڑی حد تک درست ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے مبلغ علم کے باعث نگرانِ کار اپنی منصب سے انصاف نہیں کر سکتا اور اگر اس کی زیرِ نگرانی ہونے والے کام پر تنقید ہو تو اس کو وہ اپنی سبکی خیال کرتا ہے۔ اس لیے وہ ایسے ممتحنین کو بھجوانے کی کوشش کرتا ہے جس سے اس کے مراسم ہوں۔ اگر اس کی مرضی کے خلاف کسی ممتحن کو مقالہ جانچ کے لیے چلا جائے تو سفارش تلاش کر کے ممتحن تک جا پہنچتا ہے اور منت و خوشامد سے یا دوسرے کسی ذریعے سے مثبت رپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اگر ممتحن اصول پرست اور دیانت دار ہو اور اس کو خریدنا آسان نہ ہو تو اس کا پتا کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہاں وہاں اس کی برائی کر کے اس کی شخصیت کو مسخ کرنے کی بھونڈی اور گھٹیا حرکت کی جاتی ہے۔ بہت کم ایسے شعبے ہیں جہاں تنقید کو کشادہ دلی سے قبول کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔

سوال 12– ایم فل اور پی ایچ ڈی محض فضیلت کی ڈگریاں ہیں یا طلبہ کو تحقیق پر اکسانے کی ہمدردانہ کوشش ہے؟

جواب: اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کی بات ہے۔ کوئی علم کے ان مراحل کو طے کرتے ہوئے سنجیدگی سے وابستہ تحقیق ہو جاتا ہے اور کوئی محض ان مراحل کو عبور کرنا ہی حاصل خیال کرتا ہے۔ ایسے کئی تحقیق کار ہیں جو ڈگری کے حصول کے بعد زیادہ محنت، لگن، شوق اور دیدہ ریزی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور کوئی ڈگری حاصل کر کے بھی معدوم ہو جاتے ہیں۔ جس طرح بارش کا کام برسنا ہے جس زمیں میں نمو کی خواہش انگڑائیاں لیتی ہے اس پر بارش کا اثر فوری ہوتا ہے اور وہ سرسبز وشاداب ہو جاتی ہے مگر وہی بارش بنجر اور شوریلی زمین میں برگ و ثمر لانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ قصور بارش کا نہیں زمین کا ہے۔ تحقیقی ماحول اس پر اثر انداز ہوتا ہے جس باطن میں تحقیق کا شعلہ روشن ہوتا ہے۔

سوال 13– اکثر طلبہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سند لینے کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ طلبہ کی غلطی ہے یا اساتذہ کا قصور کہ طالب علم تحقیق کی لذت سے آشنا نہ ہو سکا؟

جواب: ابھی میں نے گزارش کی زمین میں خواہش نمو کا ہونا شرط اول ہے۔ وسائل، ماحول اور تحریک بعد کے ذرائع ہیں۔ ذوق خداداد ہوتا ہے۔ استاد یا رہنما تو اس کو پالش کرتا اور نکھارتا ہے وہ کسی کے اندر ذوق پیدا کرنے پر قادر نہیں۔

سوال14– تحقیق میں متن کی مکمل تفہیم کے لیے رموز اوقاف اور مستعمل علامات میں بعض اوقات اضافے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ آپ اتفاق کرتے ہیں؟

جواب: جی بالکل درست ہے۔ بنے بنائے سانچے اور قواعد و اصول بسا اوقات کم پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم جنھیں ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں وہ خود ہی کوئی علامت یا اصطلاح وضع کر کے کام چلا لیتا ہے۔ ویسے جملہ رموزِ اوقاف کا درست استعمال کرنے والے ہیں کتنے لوگ؟عام لکھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف اچھے خاصے تحقیق کے شعبے سے وابستہ افراد بھی سکتے، وقفے اور رابطے تک کے درست استعمال پر قادر نہیں۔ ایک رجحان یہ بھی اس طبقے میں عام طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ رموزِ اوقاف کی اہمیت اور ضرورت کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔

سوال 15– بزرگ محققین اقتباس کے ساتھ ہی حوالہ درج کر دیتے تھے۔ بعد میں حوالہ باب کے آخر میں لکھا جانے لگا۔ موجودہ دور میں کمپیوٹر کی وجہ سے قطع برید اور ترمیم و اضافے کا چلن بڑھ گیا ہے۔ کیا یہ مناسب نہیں کہ حوالہ اقتباس کے ساتھ ہی درج کر دیا جائے؟

جواب۔ اس میں بہ ظاہر تو کوئی قباحت نہیں تاہم اگر ایک باب یا ایک فصل کے سب حوالوں کو ایک نظر دیکھنا تو صفحہ صفحہ اور ہر ایک اقتباس دیکھنا پڑے گا۔ پھر اقتباس کے بعد درج کیا گیا حوالہ متن کی روانی کو متاثر کرتا ہے۔ اگر انگریزوں کی طرح حوالۂ مختصر کا اتباع کیا جائے تو وہ زیادہ جگہ بھی نہیں گھیرے گا اور متن میں الجھاؤ پیدا کرنے کا محرک بھی نہیں بنے گا۔ ہمارے ہاں توحوالے کے طریقِ کار میں ایک انتشار دکھائی دیتا ہے۔ جتنے مقالے لکھے جاتے ہیں، غالباً اتنے ہی حوالہ دینے کے انداز اختیار کیے جاتے ہیں۔ در اصل یہ ایچ ای سی کے کرنے کا کام ہے کہ وہ سب یونی ورسٹیوں میں رسمیات تحقیق میں یکسانی پیدا کرنے کے لیے فعال ہو مگر افسوس کہ ہمارے دوسرے قومی اداروں کی طرح ایچ ای سی بھی غیر فعال ہے۔ کوئی قاعدہ بن جائے چاہے آخر میں یا متن کے اندر یا پاورق میں۔

سوال 16– آج کل پچاس پچپن سال کے ادیبوں پر بھی تحقیقی مقالے لکھے جا رہے ہیں۔ آج سے دس سال پہلے تو یہ چلن نہیں تھا۔ کیا اس حوالے سے قوانین تبدیل ہو گئے؟آپ کے نزدیک کیا پچاس پچپن سال کی شخصیت پر مقالہ لکھنا جائز ہے؟

جواب: پچاس پچپن سالہ عمر تو دُور کی بات اب تو نومولود ادیبوں پر بھی مقالے لکھے جا رہے ہیں اور کسی معمولی شہرت رکھنے والے ادیب یا شاعر پر اگر کہیں کام نہیں ہوا تو اس کی تلملاہٹ دیدنی ہوتی ہے۔ وہ اپنے واقف کار یونی ورسٹی اساتذہ سے باقاعدہ الجھتے ہیں کہ دیکھیں فلاں شاعر مجھ سے کم عمر ہے اور فلاں نے میرے بعد میدانِ سخن میں قدم رکھا ہے ؛ اس پر فلاں شعبے سے کام ہو گیا ہے اور فلاں یونی ورسٹی میں ہو رہا ہے اور میں مسلسل نظر انداز ہو رہا ہوں۔ میں اس چلن کے حق میں نہیں ویسے بھی معاصر لکھنے والوں پر کام معروضی نہیں ہو سکتا۔ پھر شخصیات پر تو بالکل غلط انداز کا کام ہوتا ہے۔ اگر معاصر ادب یا اس کے کسی رجحان پر کام ہو اور مختلف لکھنے والوں کا ذکر اس میں آ جائے تو بُرا نہیں، اس سے معاصر ادب کے مزاج کو سمجھنے اور اس کی تفہیم کا در وا ہوتا ہے مگر شخصیات پر کام تعصب پر مبنی ہوتا ہے اور صحیح معنوں میں مدلل مداحی پر مشتمل ہوتا ہے مگر اس تن آسانی کا کیا کیا جائے جو آج کے اسکالر اور اساتذہ دونوں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ ایچ ای سی کے ارباب بست وکشاد اور یونیورسٹی کے ذمہ داران کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔

سوال17– اگر کسی پر مقالہ لکھا بھی جائے تو اس ادیب کے مقام اور مرتبہ میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟

جواب۔ اس کا مقالہ اگر معیاری ہے تو یقیناً کسی ادیب کے کام اور مقام کوسمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اردو میں کئی شخصیات پر بہت معیاری مقالات لکھے گئے ہیں۔ ڈاکٹر اسلم فرخی کا آزادؔ پر ڈاکٹر افتخار صدیقی کا مولوی نذیر احمد پر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی کا حافظ محمود شیرانی پر ناہید قاسمی کا ناصر کاظمی پر ڈاکٹر نوازش علی کا فراقؔ پر وغیرہ وغیرہ۔ بری مثالوں کی تعداد تو بوریوں کے حساب سے ہے۔ بعض مقالات تو کسی ادیب یا شاعر کے مقام و مرتبے کو گھٹانے کا سبب بھی ہیں۔ تحقیق کا زوال اور تربیت کی کمی اس کا محرک اوّل ہے۔ اب اگر کوئی ریسرچ اسکالر اپنے موصوف کی توصیف و تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتا ہے تو اس سے ممدوح کا مقام و مرتبہ کیا متعین ہو گا، اُلٹا وہ دوسروں سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ در اصل کسی تخلیق کار یا ادیب کے مقام و مرتبے کا تعین کرنا کسی ریسرچ اسکالر کا منصب ہی نہیں۔

سوال 18- آج کل ’’شخصیت اور فن‘‘ اور ’’احوال و آثار‘‘ قسم کی تحقیق کا چلن ہے جس پر اہلِ علم اعتراض بھی کرتے رہتے ہیں۔ کیا اُردو ادب میں تحقیق کے لیے سائنسی موضوعات نہیں ہیں؟ اگر تحقیق کا رخ سائنسی موضوعات کی طرف کیا جائے تو کس قسم موضوعات ہو سکتے ہیں؟

جواب: فن اور شخصیت یا احوال و آثار جیسے عنوانات نسبتاً آسان ہوتے ہیں، اس لیے یونی ورسٹیوں میں ان کا چلن زیادہ ہے۔ نگران بھی خوش ممدوح بھی اور طالب علم بھی۔ یقیناً اس نوع کے اکثر و بیش تر مقالات کمزور ہوتے ہیں اور اس طرح کے کلیشے سے یونی ورسٹیوں کو باہر نکلنا چاہیے اور دوسرے موضوعات پر کام کرانا چاہیے۔ جہاں تک سائنسی موضوعات کی بات ہے یہ بھی گمراہ کن ہے۔ سائنس اور ادب دو الگ شعبے ہیں، دونوں کے موضوعات ایک سے کیوں کر ہو سکتے ہیں۔ اگر سائنس والوں کے بیس تیس مقالات کو بھی بہ نظر غائر دیکھا جائے تو ان میں بھی ایسی ہی خرابیاں دکھائی دینے لگیں گی۔ چوں طلبہ اور اساتذہ میں تحقیق کا شوق اور ذوق باقی نہیں اس لیے یہ صورت احوال ہے۔ ادب کو سائنس کے زیرِ بار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا اپنا مزاج ہے۔ آج کے مسائل جن سے زبان اور ادب متاثر ہو رہے ہیں ان پر مقالات لکھے جائیں دوسرے علوم و فنون کو ادب کے قریب کیا جائے تو عنوانات کی کمی نہیں۔

سوال 19– بعض اوقات کسی شخصیت کی وفات کے بعد منفی اثرات کے حامل مضمون مقالے یکے بعد دیگرے اخبارات و رسائل میں شائع ہونے لگتے ہیں ؛اس رویے پر گفتگو فرمائیں؟

جواب: یہ رویہ انتہائی گھٹیا، نامناسب اور غیر اخلاقی ہے کہ مرنے والے کی برائی کی جائے اور اس کی خامیوں کو اخبارات و رسائل میں اچھالا جائے۔ میرا خیال ہے کہ ایسا اکثر وہی لوگ کرتے ہیں جو دوں ہمت اور پست ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔ منافقت اور ریاکاری ان کے خمیر میں گندھی ہوتی ہے اور جرات کی کمی کے باعث وہ برسرِمحفل اپنے اندر کی خباثت کو ظاہر نہیں کر سکتے اور اپنی اس ناکامی کو وہ منفی ہتھکنڈوں کے استعمال سے کامیابی میں بدلنے کی سعی کرتے ہیں۔ میں جب اس طرح کی کوئی تحریر دیکھتا ہوں تو لکھنے والے کے بارے میں میرا تاثر بدل جاتا ہے۔ اس روّیے کی روک تھام شاید کسی کے بس کی بات نہیں، ایسے لوگوں کے ضمیر مردہ اور دل حسد سے جلے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی آگ میں جل جل کر مر جاتے ہیں۔

سوال 20- بعض نگران مقالہ طلبہ کو اپنے مطلب کا مثبت یا منفی مواد شامل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس رجحان کا سد باب کیسے ممکن ہے؟

جواب: یقیناً یہ منفی رجحان ہے اور ہماری جامعات میں اس رجحان کو بڑھاوا دینے والے نام نہاد اساتذہ بھی موجود ہیں۔ در اصل یہ کج نہاد لوگ اپنی علمی کم مائے گی اور کوتاہ دامنی کے باعث خود کچھ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ریسرچ اسکالر کے کندھے کو استعمال کر کے اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سے سوائے بغض و عناد کے اضافے کے کچھ برآمد نہیں ہوتا اور ایسے مقالے شعبوں کی لائبریریوں میں دھرے گل سڑ جاتے ہیں۔ معاصر ادبی منظر نامے پر بہت کم ان کے اثرات پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے بر بنائے بغض جو اعتراض کسی کے فن پر کیا جاتا ہے وہ سوائے معترض کی ذہنی پستی کو ظاہر کرنے کے کوئی دیرپا اثر مرتب نہیں کرتا۔ تحقیقی کام کا اوّل تقاضا بے تعصبی ہے۔ ریسرچ اسکالر اگر متعصب اور جانب دار ہے یا کسی کے بہکانے یا بھڑکانے سے غلط نتائج پیش کرتا ہے تو اس سے اس کی اپنی حیثیت مشکوک اور مسخ ہوتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20