سوشل میڈیا اور ہمارے رویے: اسرار احمد

0

آپ شہر میں چکرلگانا شروع کریں آپ کے سامنے ہر طرح کے لوگ آئیں گے؛
کہیں کوئی معذور بھیک مانگ رہا ہو گا، کوئی نیا جوڑا اپنے آپ میں مگن ہو گا
کوئی محنت کش پیٹ کی آگ کے لیے خون پسینہ ایک کر رہا ہو گا، کہیں مسافر کہیں بیمار، کوی مسافر، کوی خوش کوی ناراض، غرض ہر طرح کا جزبہ نظر اے گا.
ہم کبھی کسی کے لیے روکے؟
معذور سے ہمدردی، محنت کش کو شاباش، نیے جوڑے اور بیمار کے لیے دعا مسافر کے لیے خیر ناراض شخص کی شکایت سننے کے لیے ہم روکے ہیں؟
سوشل میڈیا نے آ کر ہماری یہ مشکل آسان کر دی، اب ہم جہاں مرضی اور جیسا مرضی ردعمل دکھا سکتے ہیں،
اس مرضی اور من پسند کی عادت نے ہمارے رویے سماجی ذرائع ابلاغ کی حد تک بگاڑ دیے.
جب ہمیں پتہ ہو کہ ہمارے کسی بھی ردعمل کہ بعد سامنے والے کے پاس محدود آپشن ہیں تو ہم زیادہ جارحانہ ہو جاتے ہیں.
اگر عام زندگی میں دیکھا جاے تو ہم بہت سی باتیں اپنی سماجی اور معاشی مجبوریوں. کی وجہ سے سنتے برداشت اور درگزر کرتے ہیں. جبکہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے تعلق صرف لاگ ان ٹائم تک ہی محدود ہوتا ہے.
سماجی حوالے سے دیکھیں تو ہم بہت سے ان دیکھے رشتوں میں بندھے ہیں اور ہمارا رویہ ان رشتوں کے لحاظ سے ہی ہوتا ہے. ایک ہی مسجد میں نماز پڑھنے والے بے شک سلام دعا نہ کریں لیکن آنکھوں میں شناسائی کی چمک ضرور رکھتے ہیں
عام زندگی میں ہمارے رویے ویسے نہیں جیسے سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں،
ٹرین کے سفر میں ہم سفروں سے گپ شپ اور فون نمبر کا تبادلہ ایک مثال ہے ہمارے رویے کی.
بڑی سے بڑی ناراضگی صرف اس بات پر معاف کر دی جاتی ہے کہ اگلا گھر چل کے آ گیا.
محفل پسند لوگ ہیں ہم شادی بیاہ ہو یا کوی عید تہوار مل بیٹھنے کا بہانا ہی ہوتا ہے پھر سیاست سے لے کر کفن چوری کی وارداتوں تک سب کچھ زیر بحث آتا ہے لیکن مجال ہے اختلاف راے پر کسی نے انتہائی قدم اٹھایا ہو.
اصل چیز میل ملاقات ہے آپ لوگوں سے ملتے جلتے ہیں بات چیت کرتے ہیں تو سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے، جب آپ سوشل میڈیا کی سکرین سے باتیں کریں گے تو وہ آپ کو آپ کی مرضی اور پسند کی باتیں ہی بتائے اور سیکھاے گی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: