تیسری دنیا: جمہوریت اور اسٹیبلشمنٹ کا تعلق —- کاشف منظور

0

غالب تہذیب کا غلبہ ہمہ جہت ہوتا ہے اور اس کے غلبے کی بنیادی وجہ بھی لیکن مغربی تہذیب میں غلبے کی خواہش اور طریقہ کار بے نظیر ہے۔ موضوع کے مناسبت سے یہاں مغرب کی جانب سے اپنی نو ابادیوں میں اور بہت سے ‘ازمز’ کے علاوہ خصوصا جمہوریت کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ مغربی فکر و فلسفے کی کوکھ سے جنم لینے والی جمہوریت یقینا تیسری دنیا کی روایتی تہذیبوں کے لیے ایک اجنبی چیز ہے۔ اپنے نوآبادیاتی نظآم کو “نیو کالونیول ازم” کی صورت جاری رکھنے کے لیے جمہوریت کی برامد مغرب کے لیے دو جمع دو چار کی طرح واضح تھی۔ دوسری جنگ عظیم سے پیدا شدہ کمزوری کے بعد جب یورپ کی بیمار ریاستوں کے لیے براہ راست قبضہ برقرات رکھنا مشکل ہو گیا تو تیسری دنیا کو “آزادیوں” سے ہمکنار کیا گیا۔

مغربی جمہوریت سے ماقبل کی ریاستوں میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی تقسیم اس لیے ناپید تھی کہ اسٹیبلشمنٹ براہ راست حکومت کرتی تھی۔ ۔ ! لیکن اب استعمار کے براہ راست موجودگی ختم ہو جانے کے بعد مقامی اسٹیلشمنٹ کے لیے (استعمار کی بے پناہ اور ہم جہت محنت کے باوجود) جمہوریت جیسے غیر فطری اور مقامی تہذیب کے لیے اجنبی نظام کی موجودگی میں نظام کو چلانے کی ایک ہی راستہ تھا اور وہ یہ کہ مقامی حالات کے تحت رستے پیدا کیے جائیں تاکہ جمہوری بندر سے ریاست کو محفوظ رکھا جا سکے۔ (اس ضمن اسٹیبلمشنٹ کی خامیوں اور کمزوریوں کی وجوہات خود یہ اجنبی جمہوریت ہے جو کہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔) لہذا اصولی طور پر جمہوریت کو توڑ مروڑ کر ریاست کو مقامی حالات کے مطابق چلانے میں کوئی قباحت نہیں ہونا چاہیے۔ اب ظاہر ہے جمہوریت پر ایمان رکھنے والوں کو تو یہ بات ہضم ہونے سے رہی کہ “عقیدے” کا معاملہ ہے۔

امریکی ریاست مغربی تہذیب کے غلبے کی جنگ میں دوسری جنگ عظیم سے سپہ سالار کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ لیکن سوویت یونین کے زوال کے بعد سے مغرب کو جو چیلنجز درپیش ہیں وہ اس طرح سے انوکھے ہیں کہ نظریاتی معرکہ (اس گئی گزری حالت میں بھی) اسے اسلام سے درپیش ہے اور باقی محاز مثلا معاشی، عسکری، ٹیکنالوجی وغیرہ میں چین اس کے مد مقابل ہے۔ ویسے تو امریکہ کا اضافی زوال خاصے عرصے سے واضح ہے لیکن حالیہ صورتحال کے بعد شاید اس کی رفتار میں قابل ذکر اضافہ ہو جائے۔

اس اضافی زوال کا برارہ راست اثر تیسری دنیا کی نظام ہائے حکومت پر پڑنے والا ہے۔ کیونکہ سپر پاور کی معاشی، عسکری اور ٹیکنالوجیکل کمزوری اس کی دنیا پر اثر انداز ہونے کی ضلاحیت پر اثر انداز ہو گی۔ عین اسی وقت میں چین اس خلا کو پورا کرے گا اور براہ راست چین کے زیر اثر ممالک (جن کی تعداد میں اب بتدریج اضافہ ہو گا)میں تبدیلیوں کی رفتار اندازوں سے تیز تر ہو جائیں گیں۔ حیرت انگیز معاشی ترقی، بحرانوں سے نمنٹنے کی ثابت شدہ صلاحیت کے مظاہروں کے ساتھ ساتھ ون بیلٹ ون روڈ کی صورت میں بے نظیر مقدار میں چینی سرمایہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی اثرات بھی دکھائے گا۔ چائنہ اسپیڈ کا ساتھ دینے کے لیے چینی سرمایہ ریاستی نظام تبدیلیوں کے لیے جو پریشر ڈالے گا اسے اب عوام کی حمایت بھی حاصل ہو گی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ ارتقا بہت سہولت پیدا کرے گا۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا کہ عالمی اسٹیلشمنٹ اس سارے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لیے اپنے گھوڑے بہت دیر سے میدان میں اتار چکی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20