معیشت، حکومتی اقدام اور لاک ڈاؤن —-  وقاص مرزا

0

وزیرِ اعظم صاحب ! اگر لاک ڈاؤن فوری طور پر نافذنہ ہواتو کرونا وائرس کی جکڑ سے عوام کو چھڑانا مشکل ہوجائے گا۔

ایک ٹاک شو کے اینکر پرسن چیخ وپکار کے ساتھ موجودہ وزیرِ اعظم کو تلقین کررہے تھےاور بہ حثیت ایک عام پاکستانی کے میں اس بات غور فکر کررہا تھاکہ آخرکار جس وائرس سے پوری دنیا عذاب میں مبتلا ہےاور روزانہ دنیا بھر سے سینکڑوںاموات کی خبر سنائی جارہی ہو تو پھر حکومت کے کانوں پر جوں کیوں نہیں رینگ رہی!اسی لیےفیصلہ کیا کہ جو صورتِ حال جوجزوی لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیداہوئی ہےبہ حیثیت معاشیات کے طالب کے اس پر روشنی ڈالی جائے اور ساتھ ساتھ عام آدمی پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے

آئیے میں اور آپ پاکستان کی موجوہ حالا ت کا جائزہ بینک دولت پاکستان کے دئیےگئےاعداد وشمارسے لگاتے ہیں

پاکستان کے گردشی قرضےاس وقت بیس کھرب کےتک جا پہنچے ہیں جس کا مطلب یہ کہ بجلی تقسیم کار کمپنیاںسال بہ سال پیسہ اکھٹا کرنےمیں ناکامی کا سامناکررہی ہیں۔ بجلی گھرپہلے ہی پی ایس او  کوواجبات نہیں دے پا رہے چوں کہان کےپاس خود پیسہ نہیں آرہااور پی ایس اوجو ایکسٹرنل سپلائیرز، سے تیل خرید کر آگے پہنچاتا ہےوہ ان سپلائیرز کے واجبات ادا نہیں کرپارہا۔

حکومت قرضے اس وقت2100ارب تک جا پہنچے ہیں ہیں یعنی اس ملک کے سفید ہاتھی مثلاَََاسٹیل ملز، پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن اور دیگر ادارےہمارےکچھ اداروں اور اثاثوں کوآئی ایم ایف کے پاس گروی رکھواچکی ہے۔

بینک دولت پاکستان نے موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئےشرح سودایک اعشارئیہ پانچ فیصدکٹوتی کے ساتھ 11فیصدمقرر کیا ہے۔

جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی عام فرد یا کاروباری اشخاص نجی بینکوںسے قرضہ طلب کرتے ہیں تو انہیں11فیصدسے زائد شرح سوددینا ہوگا اس سے لی گئی قرضے کی رقم پر معاشی ماہرین پہلےہی 6فیصدتک شرح سودکا مطالبہ کرچکےہیں۔ موجودہ اکاؤنٹ کے اعدادو شمار بھی کچھ اچھے نہیں۔ اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ کاخسارہ 8فیصدتک جا پہنچا ہےیعنی ہمارے واجبات آمدن سے زیادہ ہیں یاد رہے اب بات کرتے ہیں رواں سال کے پہلے کچھ ماہ اس کی موجودہ معاشی حالات میں حکومتی فیصلوںپر۔ فی الحال حکومت نے1200ارب کا ریلیف پیکج دینے کا اعلان کیاہےجس سے روزانہ کی دیہاڑی لگانےوالا مزدوراور سفید پوش لوگ اپنے گھر کے چولہےجلاسکتے ہیں۔ اس حوالےسے نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومتیں بھی مختلف اقدامات اٹھارہی ہیں پریہ بھی سچ ہے کہ حکومتی وسائل بھی اتنے نہیں جتنےدرکار ہیں اوریہ پیکج اونٹ کے منھ میں زیرہ کےبرابرہے۔ سوچیئے!جہاں آپ کا روپیہ15فیصد گر چکا ہو اورڈالر165روپے تک جاپہنچاہو ان صورت ِ حال کے پیشِ نظر حکومت آہستہ آہستہ اقدامات لے رہی ہے

یقیناً مخیر حضرات اوراین جی اوز بھی اپنی اپنی جگہ جہاں تک ممکن ہورہا ہےلوگوںکو راشنتقسیم کررہی ہیں چوں کہ حکومت کے لیے ہر جگہ ہر گھرپہنچناممکن نہیں۔ اس وقت پاکستانی معیشت300بلین کے خسارےکا منھ تک رہی ہے۔ اورکوشش میں ہے کہ لاک ڈاؤن پوری طرح سے نافذنہ ہوورنہ لاکھوں لوگ بے روز گار ہوجائیں گےاورفاقہ کشی سےتنگ آکر خودکشی کی راہ پر چل پڑیں گےیا پھر معاشرہ مزید سنگین جرائم کو جنم دے گا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوںمیں کمی ہونےکی وجہ سے غریب آدمی کو تیل کی قیمتوںمیں کمی ہونے کی وجہ میں ریلیف اورچھوٹےکاروباری طبقوں کےلیے ٹیکس میں کمی کرنےپر کام جاری وساری ہے۔

اس وقت میں تذبذب کا شکار عوام کا فائدہ کچھ کالی بھیڑیں اٹھارہی ہیں۔ اس افراتفری کے عالم میں عوام اپنے گھروںپر سامان ذخیرہ کر رہے ہیں اورمہنگےداموں خریدینے پر مجبورہیں۔ عوام کے لیےچنداشیاءکی طلبااور رسدبیان کردیتا ہوںتاکہ وہ ان کالی بھیڑوں کے چنگل سے باہر نکلے۔ پاکستان میں سالانہ پیداوار(رسد)2اشعاریہ5ٹن گندم پاکستان کو دنیا کاآٹھواں بڑاملک ہونے کا اعزازحاصل ہےپاکستان چھٹا بڑا ملک ہے۔ شکر کی پیدوارکے حوالے سے۔ شکر کی سالانہ پیداوار54  لاکھ ٹن جب کہ طلب55لاکھ ٹن ہے۔ دودھ کی پیداوارکے حوالے سےچوتھا بڑا ملک پاکستان26ارب دودھ پیدا کرتاہے طلب بھی کم وبیش اتنی ہی ہے۔ چاول کی پیداوارسالانہ75 لاکھ ٹن مگر 30لاکھ ٹن ہے۔ یہاں میں حکومت کی توجہ اس طرف دلوانا چاہتا ہوں کہ آنے والےتین سے چار ماہ انتہائی اہمیت کےحامل ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق25 لاکھافراد بے روز گاری کے دہانے پر کھڑے ہوسکتےہیں۔ یہ بھی ممکن ہےکہ نجی بینک بد ترین بحران کا شکارہوجائیں۔ بجلی گھربھی شائدطلب کےمطابق بجلی پیداکرپائے۔ میری عوام سے درخواست ہےکہ اس وائرس کا حکومتی نااہلی سے کوئی تعلق نہیں خداراہ اس جہالت کے وائرس سے باہر نکلیں۔ یہ وقت حکومت کوبرا بھلا کہنے کا نہیں بلکہ ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کا ہےاس وقت عوام کو حکومت کا بازو بننا ہے اوراس وائرس کو شکست دینا ہےآئیے ہم سب مل کر اس بات کا عزم کریں کہ ایک دوسرے کی مدداور حکومتی اقدامات پر عمل پیرا ہوکراس وائرس کو شکست سے دوچار کریں گے۔

آمین

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20