قرنطینہ —- لبابہ نجمی کا افسانہ

0

ملک میں پھیلی اس وبا کو عرصہ دوماہ ہوچکے تھے۔ لوگوں میں خوف کے سائے منڈلارہے تھے۔ کچھ خاندان ایسے بھی تھے جوان دنوں میں بھی آسودہ حال تھے قرنطینہ سینٹر سے لاشوں کے ڈھیر روز اٹھائے جاتے تھے اور اب تو حکومت نے ان کے لیے شہر سے دور اراضی پر قبرستان آباد کیے جانے کا بھی اعلان کردیا تھا اور اس جگہ کے باہربڑا سا بورڈ”شہرِ خموشاں “برائے اموات کورونا وائرس بھی لگادیا گیا تھا لوگ اس سڑک سے گزر تے ہوئے بھی اس جگہ سے دور ہٹ کر چلتے کہ کہیں مبادا وائرس منوں مٹی تلے سوئے ان لوگوں سے ان میں منتقل نہ ہوجائے بڑی بے حسی چھائی تھی۔ اپنے اپنوں سے بیگانے تھے۔ حکومت کے اعلانات کے مطابق گھروں سے باہر نکلنا قابل جرم تھااس لیے شہر دن میں تو کسی قدر سناٹے کا منظر پیش کرتے ہی تھے مگر شام ڈھلے اندھیرا اور خاموشی ایساہولناک منظر پیش کرتی جیسے اسپتال کے ڈیتھ وارڈ میں موت کے سائے۔

ایسے میں شہر میں موجود بازارِ حسن کی رونقیں بھی مانند پڑگئی تھیں۔ یہاں کے شوقین بھی ا ن کے گھروں کے باہر چکر کاٹ کراور نظروں سے سلام دے اور لے کر روانہ ہوجاتے اس سے آگے بڑھنے کی خواہش ہونے پر بھی لوٹ جاتے۔ عجب وبا تھی یہ بھی، جائز اور غیر جائز سب ہی کام بندتھے!۔

اس بازار میں موجود کئی گھر فاقوںتک پہنچ چکے تھے۔ وہ اس علاقے میں سب سے زیادہ مشہو رتھی۔ صورت شکل تو واجبی سی تھی اور تین بچوں کی ماں بھی مگر اپنی بے باکی میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ اس کےبچے کئی روز سے بھوکے تھے لیکن کیا کیا جائے خواہش وہوس پر جان کو فوقیت دینا بھی ضروری ہے۔ کوئی اس ارادے کا خواہش مند نہ تھا کہ ان کے پاس آکر خواہش کی بھوک مٹا کر وبا کا شکار ہواور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہاں آنے والے شوقین امراء و غرباء سب ہی کو اس وبا نے آکٹوپس کی طرح خوف میں جکڑا ہوا تھا۔ مخیر افراد کی طرف سے آنے والی امداد بھی نہ جانے کن لوگوں میں تقسیم ہورہی تھی۔ یہ بھی کئی روز اس تقسیم کے لیےلمبی قطار میں لگی تھی لیکن اس کی باری آنے تک راشن ہی ختم ہوجاتا تھا۔ اس کے پاس اب اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے غریب گاہکوں سے چند روپوں کے عوض رابطہ کرلے۔ روز کئی غلیظ حلیے میں، ماسک لگائے گاہک اس کی سیڑھیاں چڑھتے اور گھنٹوں بعد اترتے کیوں کہ وہ مجبور تھی!

ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ اب اس گھروں میں بچوں کے فاقوں میں کمی آگئی تھی لیکن اب اسے شدید نقاہت محسوس ہونے لگی تھی۔ ساتھ تیز بخار نے بھی اسے آلیا تھا۔ قرنطینہ سینٹر جانے سے ڈرتی تھی۔ بچوں کو بچانے کی خاطر اس نے اپنی چارپائی کو ہی قرنطینہ بنا ڈالا تھا۔ اس نے سنا تھا کہ ایک ہی کمرے میں اس طرح بچوں کے درمیان رہ کر وہ اپنے بچوں کو بھی اس مرض میں مبتلا کردے گی۔

اس نے چا ہا کہ شہر کے قرنطینہ سینٹر چلی جائے مگر وہاں تو زندوں کی حالت بھی مردوں سے بد تر تھی۔ یک دم اس کے

دل میں نہ جانے یہ خیال کہاں سے آیا، رات گہری اور سناٹے میں غرق ہوچکی تھی وہ بڑی دشواری سے اٹھی اور شہر خموشاں کی جانب چل پڑی جو حکومت نے اس بازار سے قریب ہی یہ سوچ کر بنایا تھا کہ یہ بازار اپنی طبعی موت مر جائے۔

رات کے اندھیرے میں چاروں طرف ڈھکی اور کھلی قبریں تھیں کیوں کہ حکومت نے اس مرض میں مبتلا مریضوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے قبرٰیں پہلے ہی سے کھدوا ڈالی تھیں قبریں کیا تھیں کئی گڑھے تھے جو دور دور تک دکھائی دیتے تھے۔ وہ آگے بڑھی اور جب کہ اس کی نبض ہلکی رفتار سے چل رہی تھی۔ زندگی کی رمق باقی تھی مگر امید مر چکی تھی۔ اس نے گڑھے میں قدم رکھا جو اس کا قرنطینہ تھااور لیٹ کر وہ ڈھیروں مٹی اپنے مردہ جسم پر ڈال لی جو اب تک نیم مردہ تھا۔

قرنطینہ سینٹر میں اب بھی وائرس زدہ افراد لائے جار ہے تھے۔ ابلاغ پر خبر نشر کی جارہی تھی کہْْ مریضوں کی تعداد اب گھنٹوں کے گزرنے کی رفتارکے ساتھ سے بڑھتی جارہی ہے۔ حکومت کی عوام سے گزارش ہے کہ قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے گھروں میں محصور رہیں۔ حکومت کی جانب سے دہاڑی پر کام کرنے والے تمام افراد کو مفت راشن تقسیم کیا جارہا ہے لہذا اب عوام بھوک کے ہاتھوں پریشان نہ ہوٌٗٗ۔ مگر اب بھی اس دہاڑی پہ کام کرنے والی عورتوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا جو ان وبا کے دنوں میں لاک ڈاؤن کے باوجود دہاڑی پر کام کرنے پر مجبو ر تھیں جہاں کئی گھنٹوں کا کام کر کے بھی ان عورتوں کو ایک گھنٹے کی دہاڑی اور جسمانی و روحانی مرض کا وائرس ملتا تھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20