آئیسولیشن —- ڈاکٹر عزیزہ انجم کی نطم

0

کوئی دستک کوئی آہٹ کوئ آواز
نہیں کوئی نہیں
کوئی چہرہ کوئی مہتاب صفت
کوئی دل داری کا انداز
نہیں کچھ بھی نہیں
ایک تنہائ کی دیوار
کہ اس پار
کوئی دم ساز
نہیں کوئی نہیں
سرد پیشانی پہ چمکے نہ ستارہ نہ کرن
نہ کسی نرم ہتھیلی کا لکھا حرف دعا
نہ کوئی دست حنا
کوئی آنچل کہ گھنی دھوپ میں سایہ سا بنے
کوئی قلقاری بھرے
میرے کاندھوں پہ چڑھے
خوب ہنسے
چائے کی آدھی پیالی پہ ہزاروں باتیں
شیلف میں رکھی پرانی یادیں
چشم نم ناک میں آ بیٹھے ہیں کتنے منظر
حالت وقت نزاع
درد کی تیز لہر
سانس کی نالی کی تنگی سے نکلتا دھواں
اور اکیلا کمرہ
دوسرا کوئی نہیں
دم عیسی بھی نہیں
دست مسیحا بھی نہیں
قربتیں خواب ہوئیں
لمس اشارہ ٹھہرا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20