شہید مسیحا: ڈاکٹر عبد القادر سومرو‎ —- ناعمہ قاضی

0

اے کرونا کی وبا تو نے مسیحاؤں کے لشکر کا۔ ۔

بڑا قیمتی شہسوار گرادیا۔ ۔

شہید ڈاکٹر عبد القادر سومرو 1956 کو سندھ میں پیدا ہوے۔ ۔

ڈاکٹر صاحب نے لاڑکانہ کے شہر چانڈکا میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کی اور وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ۔ ۔ ۔

1974 میں چانڈکا میڈیکل کالج میں جمیعت الیکشن میں حصہ لیا اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم بنے جو بظاہر سیدھے سادھے خاموش طبع انسان تھے۔ لیکن خوش اخلاقی اور مخالفین سے دوستیاں کرنے کیلے مشہور تھے۔ ۔ ۔

ڈاکٹر صاحب کے مزاج میں نرمی شائستگی اور محبت انکے نانا سے ملی۔ ۔

ڈاکٹر صاحب کے نانا کا نام عندک فقیر تھا جو شکار پور کے مشہور صقفی بزرگ تھے۔ ۔

والد صاحب کا نام حیدر بن محمد سومرو تھا جو جماعت اسلامی کے رکن اور پر جوش مبلغ اسلام تھے۔ ۔

جوش جذبہ اور اسلام کے غلبہ کی دھن اور صلاحیتیں ڈاکٹر صاحب کو اپنے والد کے ورثہ سے ملیں

ڈاکٹر عبد القادر سومرو اسلامی جمعیت طلبہ سندھ کے صوبائی ناظم رہے اور جلدی امراض میں پوسٹ گریجویشن کی پاکستان اسٹیل مل ہینڈریڈ بیڈ ہاسپٹل میں ملازمت کی اور وہاں میڈیکل سپرئڈنٹ کہ عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ڈاکٹر عبد القادر سومرو کا اپنا ہسپتال گلشنِ حدید فیز ون بن قاسم ٹاون کراچی میں بھی ہے ڈاکٹر صاحب ایک بہترین اسکن اسپیشلسٹ تھے۔ ۔ ۔

شہید ڈاکٹر عبد القادر سومرو سابق ناظم جمیعت سندھ جماعت اسلامی کے رکن اور سابق صدر p.i.m.a سندھ سابق m.s اسٹیل ملز والخدمت فریدہ یعقوب ہسپتال اور موجود الخدمت فریدہ یعقوب ہسپتال تھرپارکر کراچی کے m.s رہے۔

الخدمت فریدہ یعقوب ہسپتال کا کڑورہا کا پلات انہی کی کوششوں سے ملا۔ ۔

شہید ڈاکٹر عبد القادر سومرو کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے دوران فرض خود کرونا وائرس کا شکار ہوکر مرتبہ شہادت پر فائز ہوگے۔ ۔ ۔

ڈاکٹر عبد القادر سومرو اپنا نامہ اعمال لیے نفس مطمئنہ کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگے۔ ۔

اہ!!!!!

وہ گیا تو ساتھ ہی لے گیا سبھی رنگ اُتار کے شہر کا

کوئی شخص تھا میرے شہر میں کسی دور پار کے شہر کا۔

ڈاکٹر عبد القادر سومرو آپ کو تو شہادت کا رطبہ مل گیا۔ ۔

مگر۔ ۔

آپ نہیں جانتے آج نجانے کتنے لوگ یتیم ہوگے کتنے لوگوں کا اللہ کے بعد آپ سہارا تھے کتنے بچوں کے باپ تھے کتنے لوگوں کہ بڑے بھائی تھے۔

کتنے بچے ایسے تھے جو بھوک اور پیاس سے ترپتے تھے اور آپ سر پر ہاتھ رکھ کر انکے اخراجات پورے کیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب آپ تو چلے گے ہمارا حدید ویران ہوگیا ہمارا حدید یتیم ہوگیا۔ ۔

ہمارے حدید کے مسیحا چلے گے سائبان چلا گیا۔ ۔

ڈاکٹر صاحب آپکے جانے سے نجانے آج کتنے لوگ یتیم ہوگے نجانے کتنے لوگوں کی امیدیں آپ سے وابستہ تھیں نجانے کتنے لوگ آپکا انتظار کررہے ہونگے۔ ۔

وہ بچے جن کیلے آپ بابا تھے وہ بیٹیاں جنکے لیے آپ شفقت سے سر پر ہاتھ رکھنے والا ایک سایہ دار شجر تھے۔ ۔ ۔

وہ عورتیں جن کی آپ مدد کیا کرتے تھے اور کسی دوسرے کو پتا بھی نہیں لگنے دیتے تھے وہ سب آج پریشان ہوں گی رو رہی ہونگی انکی نظریں دروازے پر ہونگی ابھی ہمارا مسیحا اے گا اورامکق کیا پتا انکا یہ انتظار نا ختم ہونے والا ہوگا۔ ۔ ۔

ڈاکٹر صاحب آپ اس قوم کے مسیحا تھے آپ نے حلف اٹھایا تھا ڈاکٹر بنتے وقت آپ دوران فرض خود کرونا وائرس کا شکار ہوگے آپ نےاپنا فرض پورا کیا

آپ علاج کرتے کرتے اس کرونا کی زد میں آگے اور دار فانی سے کوچ کر گے۔

ڈاکٹر صاحب آپ کے بارے میں لکھنا شروع کروں تو الفاظ کم پڑ جائیں آپ سراپا محبت تھے آپ ایک رحم دل اور شفقت سے پیش آنے والے ایک عظیم انسان تھے آپ چلے گے آپکی یادیں آپکی باتیں آپکی نیکیاں آپکی نصیحتیں باقی رہ گئیں۔ ۔ ۔

ڈاکٹر صاحب اللہ پاک آپکی شہادت قبول فرمائیں اور حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بروز قیامت آپکو اٹھایا جاے۔

آمین

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں میں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

الوداع اے جنت کے راہی الوداع

1956 سے شروع ہونے والا سفر 2020 پر اختتام ہوگیا۔ ۔ ۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کے رت ہی بدل گی۔ ۔

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔ ۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20