مڈل کلاس اور “لوگ کیا کہیں گے” کا مسئلہ —- بدر تنویر

0

یہ تحریر لکھنے کا خیال دراصل سورہ کہف پر ایک ڈسکشن کے دوران پیدا ہوا جس میں سورہ کہف کے دوسرے حصے میں دو افراد کا قصہ بیان ہوا ہے۔ جب دو افراد کو اللہ نے باغات سے نوازا اور پھر ان میں بہترین فصل بھی عطا کی مگر ایک شخص نے تکبر کرتے ہوئے اس پر اللہ کا شکر ادا نہیں کیا جبکہ دوسرے شخص نے کم پیداوار کے ہوتے ہوئے بھی قناعت سے کام لیا اور اللہ کا شکر بجا لایا۔ پھر جیسا کہ سب کو معلوم ہے اللہ کو ایک خامی انتہائی ناپسند ہے اور وہ ہے “غرور”۔ جس وجہ سے قدرت حرکت میں آئی اور کبر اختیار کرنے والے شخص کا باغ آندھی اور طوفان کا شکار ہوکر مکمل تباہ ہوگیا جبکہ دوسرے شخص کا باغ بالمقابل میں ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر محفوظ رہا۔ اب باغ کی ویرانی پر وہ شخص حسرتیں اور آہیں بھرتا رہ گیا۔

تحریر کے آغاز میں ممکن ہے چند لوگوں کو یہ تحریر بے معنی محسوس ہو مگر اس پوری تحریر کا انحصار اسی واقعے پر ہے۔

ہمارے معاشرے میں دینی اور دنیاوی دونوں شعبوں میں مڈل کلاس کا یہی عالم ہے۔ یہ نہ ہی مکمل اللہ والے ہوتے ہیں، نہ ہی مکمل دنیا والے۔ ان کی پوری زندگی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر قربانیاں دیتے گزر جاتی ہے۔ ان کی اکثریت کی عبادات میں اعتدال نہیں ہوتا مگر خواہش یہی ہوتی ہے کہ سب سے اچھے نمازی اور پرہیز گار یہی کہلائیں۔ مگر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ یہ کبھی کسی صورت میں کوئی پرہیز گاری اختیار کر ہی بیٹھیں تو ان کا دل للچا رہوتا ہے، پیٹ میں چوہے دوڑنے لگتے ہیں اور حالت تب تک نہیں سنبھلتی جب تک یہ لوگوں کو اپنی عظیم دانشمندانہ طرز میں پرہیز گاری سے آگاہ نہ کردیں۔

ان کے بتانے کا انداز بھی نرالہ ہوتا ہے۔

ایک مرتبہ ایک صاحب غلطی سے تہجد پڑھ بیٹھے تو دوبارہ جلدی محض اس وجہ سے سوگئے تاکہ صبح تک انہیں انتظار نہ کرنا پڑے اور وہ جلد ازجلد کسی کو آگاہ کرسکیں۔ صبح ہوتے ہی دوست سے کہنے لگے کہ یار رات آسمان بہت پیارا لگ رہا تھا۔ دوست پوچھتا ہے کہ آپ رات اتنی دیر تک جاگتے ہیں؟ تو پرہیز گار اور صاحب تہجد انتہائی عاجزانہ اور انکسارانہ لہجہ بنا کر کہتے ہیں کہ یار بس وہ رات کو تہجد پڑھتا ہوں نہ تو تب۔

یہ لوگوں کو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے واسطے اور لوگوں کو اپنی امیری دکھانے کیلئے ساری زندگی پیسے جمع کرکےقسطوں پر اور کمیٹیاں نکلنے پر چھوٹی موٹی چیزیں خریدتے رہتے ہیں اور جیسے ہی کوئی فرج، موٹر سائیکل یا کوئی اور چیز لیتے ہیں تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے لوگوں کو ایک نئی بریکنگ نیوز سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ لوگ نیا صوفہ سیٹ، نئی فریج، نئےموبائل سے لے کر بیڈ کے فوم تک لینے پر مبارک باد کا خصوصی اہتما کرتے ہیں۔

دین و دنیا کے تمام شعبوں میں ترقی اور انقلاب کا سب سے بڑا داعی بھی یہی طقہ ہے جبکہ دوسری جانب اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی مڈل کلاس طبقہ بنتا ہے۔ گڈ گورننس کے حوالے سے ہماری مڈل کلاس کے مطالبات ذاتی مفادات سے آگے نہیں بڑھ پاتے اور یہ طبقہ اصلاح اور تبدیلی کے لیے کسی باقاعدہ سیاسی لائحہ عمل کے بجائے روایتی سرپرستانہ سیاست پر قناعت کیے رہتا ہے۔ در حقیقت ان کی نظریں آسمان پر اور پاوں دلدل میں دھنسے ہوتے ہیں یعنی نہ ہی یہ دلدل چھوڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں اور نہ ہی آسمان کو چھوپاتے ہیں۔

اردو کے ادیب اور طنزومزاح تحریر کرنے والے ابن انشا نے لکھا تھا کہ ایک بار میں نے ایک “معزز مڈل کلاس” شخص کو مسجد میں ایک غریب آدمی سے بات چیت کرتے دیکھا۔ اس شخص نے غریب آدمی سے پوچھا کہ وہ کیا دعائیں مانگ رہا تھا۔ غریب شخص نے جواب دیا کہ وہ کھانے، چھت اور نوکری کے حصول کی دعا مانگ رہا تھا۔ یہ سن کر مڈل کلاس شخص بولا کہ تم ان مادی چیزوں کیلئے دعا کیوں کر رہے تھے۔ غریب آدمی نے جواب میں ایک سوال پوچھا “آپ کیا دعا مانگ رہے تھے صاحب؟” مڈل کلاس شخص نے جواب دیا میں اپنے ایمان کی مضبوطی کیلئے دعا مانگ رہا تھا۔ غریب شخص بولا بہت اچھا کیا۔ ہمیشہ اس چیز کیلئے ہی دعا مانگی جاتی ہے جو اپنے پاس نہ ہو۔

یہ زندگی میں رسک لینے سے قطعی کتراتے ہیں اور جو رسک لے لیتے ہیں وہ ترقی کی منازل طے کرکے اس دلدل سے نکل جاتے ہیں۔ یہ بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ کوئی ان کے پاس بیٹھے تو خود کو بونا محسوس کرنے لگ پڑتا ہے کیونکہ ان کی ذہانت اور ان جتنی صلاحیتیں تو اس میں بلکل نہیں ہوتیں۔ ۔ مگر یہی ذہین فطین لوگ کاروبار کرنے سے گھبراتے ہیں اور اگر کوئی غلطی سے کاروبار کرہی بیٹھے تو وہ بڑے فیصلے کرنے سے گھبراتا ہے۔ یہاں آکر ان کی ساری ذہانت اور فطانت جھاگ ہوجاتی ہے۔ جبکہ دنیاوی مثالوں سے واضح ہے کہ رسک میں ہی رزق ہے۔

یہ اپنے بچوں کی شادیاں وقت پر اور اسلامی تہذیب کے مطابق سادگی سے کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان کے بقول ایک ہی بیٹا بیٹی ہے یا پہلا بیٹا بیٹی ہے تو ہم دھوم دھام سے اسکی شادی نہیں کرینگے تو لوگ کیا کہیں گے؟ یہ “لوگ کیا کہیں گے” جملے کا ورد اپنی زندگیوں میں اللہ اکبر سے زیادہ کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ اگر یہ خدا کا خوف کھاتے ہوئے وقت پر اور سادگی سے اللہ کی رضا کو مطلوب بناتے ہوئے نیک فیصلے جلد کریں تو نہ صرف بہت سی برائیوں سے بھی اولاد کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے بلکہ وہ ساری رقم جو جاہلانہ رسم و رواج اور دکھاوے میں خرچ ہوتی ہے وہ بھی محفوظ کی جاسکتی ہے۔

یہ طبقہ اپنی نوجوان نسل پر اعتماد کرنے کو گناہ خیال کرتا ہے اور ان کو کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بڑے فیصلے نہ کریں اور ان کی ڈگر پر چلتے ہوئے کوئی ایسی نوکری کریں کہ جس سے ساری زندگیاں کمیٹیاں ڈال ڈال کر گزارا ممکن ہوتا رہے۔ یہ طبقہ در حقیقت اپنی نئی نسل کے عزائم اور خوابوں کا دشمن ہے۔

یہی حالت ان کی آخرت کی ہوتی ہے۔ مسلمان ہوتے ہوئے بھی ان کا اللہ پر ایمان برائے نام کا ہوتا ہے۔ یہ معاشرت میں وہی رسمی جاہلانہ طور طریقوں کو اپنائے ہوتے ہیں مگر یہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ اس میں انہیں دنیاوی فائدہ نظر نہیں آتا۔ !

غریب کے پاس تو صرف ایک ہی چیز ہوتی ہے اور وہ “عزت” ہے بس۔ وہ ساری زندگی کوشش کرتا ہے کہ اس کی عزت اور رشتہ داریاں محفوظ رہیں جبکہ امیر کے پاس صرف اور صرف ایک چیز “دولت” ہوتی ہے۔ امیر کی زندگی کا سارا انحصار دولت پر ہوتا ہے جس کے بل بوتے پر وہ نہ صرف خوشیاں بلکہ رشتہ داریاں بھی خرید لیتا ہے۔

مگر مڈل کلاسیے ساری زندگی “لوگ کیا کہیں گے” کے پیچھے اپنی دنیا اور آخرت دونوں قربان کر بیٹھتے ہیں جبکہ اللہ کیا کہے گا ؟؟ کا خیال انہیں تب آتا ہے جب یہ آدھے پاؤں قبر میں لٹکائے ہوتےہیں مگر اب وقت گزر چکا ہوتا ہے اور یہ محض حسرتیں دلوں میں بسائے دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20