عورتوں کے نام اور عورتوں کے غم کے نام —- احسن قریشی

0

ساری شرارت کرونا کی تھی۔ لیکن چلتے چلتے آج بروز اتوار ایک صاحب کی ویڈیو دیکھی جو جسم کے بھاری تھے اور قمیص کے بغیر (پاجامہ پہن رکھا تھا اور ہم اس سلسلے میں ان کے تہہ دل سے مشکور بھی ہیں) پتھر سے ٹینس کی بال باندھ کر ٹینس کھیل رہے تھے۔ (ویڈیو تحریر کے آخر میں موجود ہے)

بال دور جانے کی جگہ واپس آجاتی تھی۔
ایک والی ہی چلتی رہے گی خدا جانے کب تک۔ نہ پوائنٹ نہ کچھ۔
بھئی ہو نہ ہو موٹو کو اس کی بے غم نے مرنے ہی کے لئے باہر نکالا ہوگا۔ کفن بھی باہر سے خرید۔ دفع ہو پراں مر۔
صبح سے اینڈے جارہا تھا کہتا تھا سنڈے ہے یار۔ 😂

یہاں تک پہنچا ہی تھا کہ ایک اور بات یاد آگئی۔

ایک بندی نے تو نعرہ لگا دیا کہ جب تک کرونا کی وبا ہے میرے میاں کو دوسری شادی کی اجازت ہے۔
سمارٹ موو۔
دونوں یعنی میاں بیوی میرے ذاتی دوست ہیں

کرونا اور میاں جو پہلے ختم ہو جائے۔ یہ پھبتی تھی ایک اور دوست کی۔ ایک دوسرے موقع پر انھیں کام کے دوگنا ہونے کی شکایت بھی تھی۔
میں نے ان سے عرض کیا:
جو بندہ 24 میں سے صرف پانچ گھنٹے گھر ٹکتا ہو وہ 24 گھنٹے سر پر سوار رہے تو 24 کے 48 گھنٹے بن جاتے ہیں۔ ہور گل کوئی نئیں
فورا متفق ہو گئیں:
اور کچھ نہیں بس ایک جیسی شکلیں دیکھ کر بندہ تنگ آجاتا ہے
عرض کی:
جی مجھے پتہ ہے۔ بندی اس امید پر کچن تک جا کر واپس آتی ہے وہ بھی ایک گھنٹے کے بعد کہ شاید اب حضور کا منہ یا انداز نشست یا کم کم از کم کپڑے ہی بدلے لئے ہوں لیکن کہاں۔ ۔ ۔ ۔
بندے لپ سٹک بھی تو نہیں لگاتے کہ نیا رنگ ہی دیکھ کر کوئی کوپلیمنٹ ہی دیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ہک ہا۔

ارے میاں بیوی وہ دشمن فوجیں ہیں جو سارا دن لڑ کر ایک ہی مورچے میں آرام فرماتے ہیں۔ اور صبح تازہ دم ہو کر زیرو سے سٹارٹ کرتے ہیں۔ رہے نام اللہ کا۔
ہنستی رہیں، اللہ ہنساتا رکھے۔ میری بہن کہتی ہیں کہ سچ تو ہے۔ بڑی سی ٹوپی۔ ۔ ۔ فضول سے کپڑے۔ ۔ ۔ ۔ کوئی ٹام کروز ہوتا کوئی براڈ پٹ ہوتا۔

ہم کہتے ہیں کہ
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے میاں جی نری بلا پے
کوئی ٹام و براڈ ہوتا تب بھی نری بلا ہی ہوتا۔
چھڈو جی۔ یہ ٹام کروز بھی دور سے ہی اچھے ہیں۔
اس کا اور براڈ پٹ کا بھی بریک اپ ہی ہوا۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ۔ ۔ ۔ ۔ آہو۔
جواب ملا انگور کھٹے ہیں والی بات نہ کرو۔ خدا نخواستہ وہ لوگ کیوں میاں ہوتے ہم خود کترینہ سے بہتر نہ ہوتیں۔
خواتین کو سب سے زیادہ شکوہ گونگی بدمعاشی کا ہے۔ جی ہاں گونگی بدمعاشی 😂

گونگی بدمعاشی کو سمجھنے کے لئے ایک کلپ “پیارے افضل” کا بھی گردش میں ہے جس کو سمجھنا ہو دیکھ لے۔ گونگی بدمعاشی کا لازمی انجام یہ ہے کہ پھر مرد ساری دنیا کے سامنے مظلوم بننے کی کامیاب ایکٹنگ کرتے ہیں، بندیاں بیلن لے کر نہ پھریں تو پھر کیا کریں۔

اور میں تو خواتین کی اس بات میں ان کے ساتھ ہوں۔ یہ مرد ہوتے ہی ایسے صورت حرام ہیں۔

چلیں جی اب میاں کے حق میں بھی شعر:

کہیں کس سے ہم کہ کیا ہے، بیگم سب کا نری بلا ہے۔
جو بیلن کا ڈر نہ ہوتا تو کہیں دو چار ہوتا۔

اس پر طعنہ ملا کہ کیا پٹھان شعر ہے۔

لیں پھر مسلمان شعر بھی پیش خدمت ہے :

یہ مسائل تزوج یہ تیرا بیانِ غالب۔
تجھے ہم نڈر سمجھتے جو نہ شادی خوار ہوتا۔

سارا قصہ ایک بلی کا تھا۔

دلہا نے بلی مارنی تھی۔ کافی دفعہ کوشش کی نہیں ہوسکا۔
اتنے میں دلہن نے اپنے لہنگے سے پسٹل نکال کر سیدھا سر میں گولی ماری۔ بلی تو لیٹی سو لیٹی۔ دلہا پکا ہی لیٹ گیا۔
رہے نام دلہنوں کا۔

اس کے بعد اس نے یہ شعر کہا:

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔
( شعر دلہن نے کہا تھا اور دلہا سے کہلوایا تھا کسی نے سازش کے تحت اقبال کے سر منڈھ دیا۔)

کاش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کتنی ہی خواتین کے دل سے کاش نکلا ہوگا۔ ۔ ۔
اصل میں جن کے ” کاش” پھنسے ہوئے تھے انھوں نے ہی فائرنگ کی ٹریننگ دلوا کر یہ دلہن میدان میں اتاری تھی۔ 😊
شنید ہے کہ اس کے بعد سے بلیوں کی جان بخشی کردی گئی ہے۔
واقعی اب کوئی بھی تو بلی کے بارے میں نہیں سوچتا۔ میں تو کہتا ہوں سوچ سکتا ہی نہیں۔

لیکن اکثر بیویوں کے خاوندوں کی بلی اس واقعے کے بعد سے پھنسی ہوئی ہے بلکل ویسے ہی جیسے عورتوں کی “کاش” پھنسی ہوئی تھی۔ چنانچہ وہ بلیوں کو بلا وجہ مارنے یا ڈرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پھر خود ہی کہتے ہیں کہ ہون او گلاں نئیں ریاں نہ او زمانے۔

دوبارہ تصور کریں ایک شاندار خوبصورت لڑکی دلہن بنی بیٹھی ہے اور لہنگے سے پسٹل نکال کر گولی ٹکا دی۔
میاں کو بندوق کا مطلب اس دن سمجھ آیا ہوگا۔ بلکہ غالب گمان ہے کہ ب بندوق والا محاورہ اسی میاں کی ایجاد ہوگا۔

بھئ میں تو اون سلائی کا خصوصاً شکر گزار ہوں اپنے گھر کے امن و امان کے سلسلے میں۔ جب کہ یہ کرونائی دور ہے۔
بہت بڑا سائینسدان تھا جس نے یہ دو اشیاء ایجاد کیں۔
اون سلائی امن کے سلسلے میں اقوام متحدہ سے زیادہ موثر چیز ہے۔
کوئی بعید نہیں کہ اون سلائی حضرت آدم علیہ السلام ہی کی ایجاد ہو۔
آپ یہ سوچیں کہ کیا حالات ہوں گے کہ اون سلائی بنا کر آدم علیہ السلام نے حوا کو تھما دی ہو گی۔
اور خود شکار کھیلنے یا کھیتی باڑی پر نکل لئے ہوں گے۔
اللہ اللہ خیر سلا۔

یا متبادل حوا کی تلاش میں؟
جی نہیں یہ ممکن نہیں تھا۔
وہ ان کو پتہ تھا کہ ایک ہی تھی۔ اس لئے وہ جنت کے تصور میں ہی خوش رہے ہوں گے۔
اور سیب وہ کسی صورت میں گھر میں برداشت نہیں کرتے ہوں گے۔

رہا حوروں کا وعدہ فردا؟
بھئ حوا پراپر جٹی تھیں۔ حوروں کا مسئلہ طےکروائے بغیر جنت سے نہ نکلی ہوں گی۔
یا دوسرے لفظوں میں حوروں کا مکو ٹھپائے بغیر یا مکو ٹھپے بغیر نہ نکلی ہو گی۔ قرین قیاس دوسری والی بات ہی ہے۔ یعنی اس معاملے کو محض خدا پر چھوڑ کر توکل نہ کیا ہوگا۔

کچھ لچ یقینا تل آئی ہوں گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20