کہانی —- عتیق احمد

5

میں: کہانی کیسے لکھی جائے

وہ: کہانی لکھنا کیا مشکل ہے ؟

میں: کہانی میں کردار ہوتے ہیں

وہ: تو کردار بنا لو

میں: کردار بنائے نہیں جاتے – کرداروں کے ساتھ جینا پڑتا ہے انکے ہمراہ دور تک جانا پڑتا ہے ان کے دکھ انکی خوشیاں محسوس کرنا پڑتی ہیں

وہ: کیا کردار ہمیشہ دکھی رہتے ہیں ؟

میں: نہیں دکھ اور خوشی کی عمر ہوتی ہے

وہ: وہ کیسے ؟

میں: بڑے سے بڑے دکھ کو بھی چھوٹی سی خوشی کھا جاتی ہے – اسی طرح خوشی بھی خود بخود تھک جاتی ہے

وہ: اچھا – مجھے خوشی ملے گی تو میں اسے تھکنے نہیں دوں گی

میں: مسکراتے ہوۓ خوشی ڈھونڈھتے ڈھوندھتے ہم خود تھک جاتے ہیں

وہ: تو تم مجھے تھکنے نہ دینا

میں: میں بھلا تمہیں کیسے تھکنے سے روک سکتا ہوں

وہ: تم کہانیاں جو لکھتے ہو – میری کہانی میں بھی خوشی ڈال دو

میں: خوشی کچے برتن کی طرح ہوتی ہے – اسکو اندر کی ٹھوکر سے بچانا ہوتا ہے

خوشی کو چرخے کی اٹی پر چڑھا کر سوت کی طرح کاتنا پڑتا ہے

لمحہ لمحہ

انچ انچ

اسکا دھیان رکھنا پڑتا ہے

وہ: خوشی کا دھیان کیسا رکھا جاتا ہے ؟

میں: بہت آسان ہے جیسے چولہے پر ہنڈیا چڑھا کر ماں، بچوں اور ہنڈیا دونوں کا دھیان رکھتی ہے نا ویسے ہی خوشی کا دھیان رکھا جاتا ہے

وہ: مجھے خوشی چاہئے تم میری خوشی کی کہانی لکھو

میں: میری کہانی رستے میں کھو گئی ہے – میں بہت شرمندہ ہوں اپنے کرداروں سے

وہ: کیوں؟

میں: انکی خوشیاں میری کہانی پر قرض ہیں اور میں نے انکی خوشیوں کو کہانی کے ساتھ ہی کھو دیا

وہ: تم کہانی ڈھونڈھنے نہیں گئے ؟

میں: نہیں – کہانی کے سفر میں، میں اکیلا تھک گیا ہوں – مجھ سے اب کہانی کا بوجھ نہیں سہا جاتا کہانی کی کھوج میں ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے

وہ: کہانی بوجھ کیسے ہو گئی؟

میں: عام طور پر کہانی بوجھ نہیں ہوتی- وہ تو ایک لمحہؑ سرور ہوتی ہے کہانی کا سرور آپ کے اندر وجد پیدا کر دیتا ہے – کہانی ایک خواب کی طرح ہوتی ہے جس میں ہم اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، صبح شام جھومتے رہتے ہیں- تکمیل پا جانے والی ہر کہانی ایک کامیابی ہوتی ہے- قدرت کا انعام ہوتی ہے

وہ: مگر تمہاری کہانیاں تو ادھوری ہوتی ہیں

میں: اسی لئے میری کہانی راستے میں کھو گئی ہے

وہ: مجھے ساتھ لے چلو میں تمہاری کہانی ڈھونڈوں گی

میں: یہ کڑی مسافت ہے مہینوں، سالوں تپتے صحرا میں ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہے اور پھر بھی کہانی مکمل نہیں ہوتی

وہ: میں بھی سفر میں ہی رہنا چاہتی ہوں

میں: چلو پھر سے نکلتے ہیں کھوجنے

مگر تم مت کھو جانا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

5 تبصرے

  1. ایک تحریر میں ربط ہونا بہت ضروری ہے جو کہ اِس تحریر میں بخوبی دیکھنے کو مل رہا ہے.

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20