کرونا، ایک چینی سازش۔ نئی سازشی تھیوری —- خرم شہزاد

1

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ہر لکھاری کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے، چند جملے ایسے ہوتے ہیں جو اس کی ہر کتاب اور کہانی میں مل جاتے ہیں۔ ایسے ہی جب یہ لکھاری کسی فلم یا ٹی وی کے لیے لکھتے ہیں تب بھی کاسٹ میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان کے پسندیدہ ہوتے ہیں اور انہیں ہر فلم یا ڈرامے کا حصہ بنانے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں سب سے پسندیدہ کام چونکہ سازشی کہانیاں سوچنا، لکھنا اور ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنا ہی ہوتا ہے اس لیے ہم نے بھی ہر اچھے لکھاری کی طرح کچھ جملے اور کردار مخصوص کر رکھے ہیں۔ ہمارے پسندیدہ جملوں میں ’یہ مغرب کی سازش ہے، یہ یہودیوں کی سازش ہے، یہ اسلام کو مٹانے کی کوشش ہے، یہ مسلمان دشمنی کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ مسٹر سے مولانا تک اور پڑھے لکھے سے ان پڑھ تک سبھی اپنی عالمانہ فاضلانہ رائے اور تجزیہ پیش کرتے ہوئے یہ یا اس سے ملتے جلتے جملے بول جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ہر تجزیے کی ٹانگ مغرب اور یہود پر آ ٹوٹتی ہے۔ اسی طرح بھارت، امریکہ، اسرائیل اور کچھ حد تک برطانیہ کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور اسٹیبلشمنٹ ہمارے وہ مخصوص کردار ہیں جن میں سے کوئی نہ کوئی زیر بحث سازش میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ آپ پولیو سے کرونا تک، عالمی جنگوں سے لے کر ٹی وی ڈراموں میں فنکاروں کے کپڑوں اور کرداروں تک، کوئی بھی بحث سن لیں تو پتہ چلتا ہے کہ بس اس میں کوئی نہ کوئی مخصوص کردار ضرور اپنا آپ دیکھارہا ہے۔ قدرت اس سیارے پر بالکل خاموش ہے بلکہ وہ بھی انہی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔

دماغ کی دہی اس وقت نہیں بنتی جب آپ کوئی نئی سازشی تھیوری سنتے ہیں، بلکہ دماغ کی لسی اس وقت بن جاتی ہے جب بیان کی جانے والی تھیوری میں زمان و مکان کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ سوال و جواب میں چاند جتنے بڑے شگاف ملتے ہیں تو ڈھیٹ پن میں بجائے معذرت کرنے کے، اتنی فضول تاویلیں دی جاتی ہیں کہ نظام تعلیم کے ساتھ بہت سوں کو کوسنے کو دل کرتا ہے۔ بند دماغوں کے ہاں پچھلے دنوں سب سے گرما گرما سازشی تھیوری کرونا وائرس کے بارے میں تھی۔ اس تھیوری کے مطابق امریکہ اور برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر چین کا مقابلہ کرنے بلکہ اس کی معیشت کو ڈبونے کے لیے ایک وائرس بنایا (کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیںکہ یہ وائرس امریکہ نے چالیس پچاس سال پہلے بنا لیا تھا جس کے ثبوت میں صدام حسین کی ایک وڈیو پیش کی جاتی ہے، لیکن جب ابھی اور چالیس سال پہلے والے گروہوں کو ایک دوسرے کے سامنے لایا جائے تو دونوں ہی ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں)۔ یہ وائرس چین میں چھوڑنے کے لیے برطانیہ کی مدد لی گئی اور دونوں ممالک کی فوجی مشقیں ترتیب دی گئی۔ ایک برطانوں فوجی کو وائرس زدہ کیا گیا جس نے وہان میں یہ وائرس پھیلایا (ہر گروہ اپنی سہولت کے مطابق کہانی میں تھوڑی بہت تبدیلی تو کر ہی لیتا ہے لیکن بہرحال اکثریت برطانوی فوج تک متفق ہیں، پھیلانے کے طریقہ کار پر تھوڑا بہت اختلاف ہے جسے برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں)۔ کچھ لوگوں کے مطابق چین کے دنیا میں ایک سو نو ممالک جبکہ کچھ کے مطابق ایک سو باون ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں۔ وائرس پھیلنے کی وجہ سے دنیا بھر میں چین کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور ان ممالک نے چین سے کچھ بھی منگوانے پر پابندی عائد کردی۔ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا اور یوں امریکہ چین کو بہت پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہو گیا۔ جب اٹلی اور دوسرے ممالک میں کرونا وائرس کی ہلاکتوں کے بارے سوال کیا جائے تو بڑے ہی خفیہ انداز میں مزید مصالحہ ڈالتے ہوئے اندر کی خبر دیتے ہیں کہ وہ ممالک جن کے چین کے ساتھ روابط ہیں انہیں بھی سبق سکھانے کے لیے وہاں بھی یہ وائرس پہنچایا گیا۔ ہاں یہ تو ٹھیک ہے لیکن چین میں پچھلے دو ہفتے سے کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں اب یومیہ دو تین سو افراد کی موت کی خبر ہوتی ہے تو اس پر کیا کہیں گے؟ یہ سوال جب پوچھا جاے تو یہود و نصارا کی ہر سازش پر نظر رکھنے والوں کو دنیا کے اور بہت سے کام دھندے یاد آ نے لگ جاتے ہیں۔

بزرگ کہتے ہیں نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی بھی تھیوری کے لیے تھوڑے بہت علم اور حالات کا پتہ ہونا چاہیے۔ چونکہ کرونا کی وجہ سے مارکیٹ میں مختلف طرح کی سازشی تھیوریوں کا بھاو بہت زیادہ ہے تو ہم بھی ایک تھیوری پیش کرتے ہیں کہ کرونا وائرس چین کی اپنی ایک سازش ہے جس سے اس نے دنیا کی معیشت اور ممالک کو اپنے قابو میں کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق چین اور امریکہ میں کڑا مقابلہ چل رہا تھا اور سپر پاور ہونے کی وجہ سے امریکہ کئی جگہ چینی مفادات کو نقصان بھی پہنچا چکا ہے۔ چین براہ راست جنگ کا قائل نہیں اس لیے اس نے ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے دشمنوں کو شکست دینے کا سوچا اور نزلے زکام کے ایک معمولی وائرس کا اپ گریڈ ورژن اپنے ایک صوبے میں لانچ کیا۔ چونکہ یہ چین کا اپنا ہی کام تھا اس لیے راتوں تک ماسک، مخصوص لباس، ٹسٹ کٹس اور سپرے تک دستیاب ہو گیا۔ اربوں کی آبادی والے چین کے معاشی مفادات کے لیے اگر چند سو لوگوں کو اپنی جان دینی پڑے تو یہ کوئی بہت بڑا سودا نہیں بلکہ ایسی قومی جنگ کے لیے بہت سے رضاکار بھی دستیاب ہو جاتے ہیں۔ چین کے پاس بوڑھے افراد کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جن میں سے چند ہزار لوگ اس میں کام آئے۔ موسم بدلنے پر نزلہ زکام ہونا ایک عام بات ہے اور اگر گھر یا دفتر میں ایک شخص کو ہو تو ایک آدھ اور متاثر ضرور ہوتا ہے۔ اسی معمولی نزلہ زکام کو چین نے ہوا بنا کر پیش کیا اور ابتدای دنوں میں درجنوں بلکہ سینکڑوں اموات کی خبریں دے پر عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ ساتھ ہی ہر جگہ پی پی ای سوٹ پہنے سپرے کرتے لوگوں کی تصویریں اور وڈیوز وائرل ہونا شروع ہو گئیں تو میڈیا اور انٹرنیٹ ایج میں رہنے والے لوگوں پر نفسیاتی اثرات پڑنے شروع ہو گئے۔ بہت کڑے انتظامات اور کوششوں کے ساتھ ساتھ مشقوں کی وڈیوز نے انٹرنیٹ پر اجارہ داری قائم کرنی شروع کر دی تو ہر دوسرے ہفتے ایک نیا شوشہ بھی چھوڑا جاتا رہا تاکہ نفسیاتی ماحول کا دباو پوری طرح قائم رہے۔ اسی لیے کبھی گاڑیوں اور سڑکوں پر سپرے کی خبر تو کبھی پورے چین میں کرنسی نوٹوں پر سپرے کی خبریں ٹاپ نیوز رہیں۔ دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ماسک اور سوٹ پہنے گھروں میں بند ہونے کا واویلہ کر رہا تھا جس کے دباو میں عالمی ادارہ صحت نے بھی اسے عالمی وبا قرار دے کر اقدامات کی تجویز دی۔ چین نے اپنے ایک صوبے میں کرونا وائرس کا معمولی حملہ کیا تھا جبکہ شور انتہا کا ڈالا، اسی وجہ سے جب لوگ چین سے نکلنے لگے تو انہیں وائرس سے متاثر کرنے کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا تا کہ یہ لوگ جہاں بھی جائیں وائرس کے پھیلاو کا ذریعہ بنتے جائیں اور پوری دنیا ایک ڈر اور خوف کی صورت حال میں چین کو سچا سمجھے، جبکہ اس وبا سے چین کے کسی دوسرے صوبے کے متاثر ہونے کی کوئی خبر نہیں۔ اسی وجہ سے ائیر پورٹس پر سکرینگ شروع ہو گئی حالانکہ وائرس کا پھیلاو تو وہان سے ہوا تھا تو بیرون ملک سے آنے والوں میں یہ وائرس کیسے ہو سکتا ہے لیکن دہشت کے ماحول میں ایسے اقدامات بجائے سوال کے ستائش میں شمار ہوتے ہیں۔ جو لوگ میڈیا کے اثرات کے قائل نہیں ان کے لیے ایک چھوٹی سی مثال ہی کافی ہے کہ اس وائرس کی سب سے بڑی نشانی متاثرہ شخص کا بیمار ہونا بتایا جاتا ہے۔ اب بخار جانچنے کے لیے چین نے تھرمل گن کا استعمال کیا تو پوری دنیا میں ہر جگہ تھرمل گن کا ہی استعمال کیا جا رہا ہے حالانکہ تھرمل گن جسم کا درست درجہ حرارت نہیں بتاتی بلکہ اس کے استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ تین درجوں کا فرق لازمی ہوتا ہے۔ ایک ہی شخص کا درجہ حرارت تھرما میڑ اور تھرمل گن سے مختلف آئے گا اور اس میں تین سے پانچ درجے کا فرق ہو سکتا ہے لیکن چونکہ ہم نے اتنا زیادہ تصاویر اور وڈیوز میں تھرمل گن کو دیکھا کہ پوری دنیا میں ہر آنے اور جانے کے راستے پر متعین عملہ تھرمل گن پکڑے کھڑا ہے۔ پوری دنیا میں حفاظتی اقدامات کے نام پر کچھ بھی چینی طریقہ کار سے الگ نہیں کیا جا رہا کہ جسے اس ملک کی اپنی کوشش کہا جائے۔ ہر جگہ ہر کام اور بات میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ چین نے کیا کیا تھا ہمیں بھی وہی کچھ کرنا ہے۔ چین نے چونکہ ڈر کا ماحول اتنا زیادہ بنا دیا تھا کہ جس خطے میں بھی کرونا سے متاثرہ لوگوں کا پتہ لگتا، سبھی یہ سوچنے لگ جاتے کہ اب نجانے ان کے ساتھ کیا ہو گا۔ چین کے سنسان بازار اور ویران سڑکیں نظروں کے سامنے آ جاتیں اور لوگ خود بخود ایک خوف کے ماحول میں چلے جاتے۔ جب چین نے دیکھا کہ پوری دنیا میں ماحول سازگار سطح پر جا رہا ہے تو اس نے فورا ہی وائرس پر قابو پانے کا اعلان کر دیا۔ چند ہی دنوں میں بازار اپنی رونقیں دیکھانے لگے اور حکومت کی طرف سے ایمرجنسی کے خاتمے کا بھی اعلان ہو گیا۔ اس کام نے دنیا کو چین کے اور قریب ہونے، اس کی خوشامد کرنے پر مجبور کر دیا۔ ایک عالمی ہجرت ممکن نہ تھی ورنہ کئی لاکھ لوگ چین کو ایک محفوظ جنت قرار دے کر اس کی طرف ہجرت کر جاتے۔ سڑکیں ویران، بازار بند اور لوگوں کے گھروں میں قید ہونے کی وجہ سے دنیا کی تقریبا تمام بڑی سٹاک ایکس چینجز کریش کر گئیں جس کی وجہ سے دنیا کے تمام بڑے ممالک کو گھٹنوں پر آنے پر مجبور ہونا پڑا۔

نزلہ زکام کے بارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی دوا کھائیں گے تو سات دن میں ٹھیک ہو جائیں گے نہیں تو ہفتے بھر میں یہ ٹھیک ہو ہی جاتا ہے۔ چین نے اس مدت کو دوگنا کر کے بتایا اور پوری دنیا کو ماننا پڑا کیونکہ چین اس وبا پر قابو پا چکا ہے تو اس کا کہا سب کچھ سچ ہے۔ اب چین کے ڈاکٹر پوری دنیا میں اپنے امدادی سامان کے ساتھ جا رہے ہیں۔ ہر ملک چاہے وہ امریکہ ہو یا برطانیہ، چین کی طرف دیکھ رہا ہے اور اس سے ڈاکٹرز اور امدادی سامان مانگ رہا ہے۔ آپ یقینا کہیں گے کہ کیا دنیا کے سبھی ڈاکٹر بھی اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ اس بیماری کا پتہ نہیں چلا سکے اور اپنی حکومتوں کو اصل صورت حال نہیں بتا رہے۔ بات یہ ہے کہ کسی عقل مند کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن کسی بیوقوف کو اس بات پر قائل نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ بیوقوف ہے یاں اسے بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ایک ڈرے ہوئے شخص کے سامنے جب ایک لاش پڑی ہو اور ہزاروں لاشوں کی خبریں اس نے سن رکھی ہوں تو آپ کی پی ایچ ڈیز اور حوصلہ افزائی بیکار جاتی ہے۔ ڈر اور خوف میں گئے شخص کو اتنی آسانی سے بھی معمول پر نہیں لایا جا سکتا۔ اس کی ایک اور مثال امریکہ اور یورپ میں کرونا ٹسٹ کٹس کی کمی کی خبریں ہیں۔ لوگوں میں ڈر اتنا ہے کہ ذرا کسی کو چھینک آئی تو کرونا ٹسٹ کٹ نکال لی جاتی ہے۔ اس طرح تو خواتین پریگنینسی اسٹکس استعمال نہیں کرتیں جس طرح یورپ اور امریکہ میں کرونا کٹس کا استعمال ہوا کیونکہ ہر شخص موت کے ڈر میں مبتلا ہو گیا ہے۔ ہر روز سینکڑوں اموات کی خبروں نے ہر شخص کے ڈر کو بڑھاوا دیا اور انہیں بے انتہا کرونا ٹسٹ کٹس استعمال کرنے پر مجبور کر دیا جس کی وجہ سے آج وہاں ان کٹس کی کمی ہو گئی ہے جو جلد ہی چین ہی پوری کرئے گا۔

کسی بھی ملک میں کاروبار کو ایک دن کے لیے بند کر دینے سے ہی ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے بجائے کہ دو سے چار ہفتے تک ملک کا بند رہنا۔ آج چین کے ڈاکٹر پوری دنیا میں جارہے تو لوگ اپنے ڈاکٹروں کے بجائے ان پر اعتماد کر رہے ہیں۔ چین کی ادویات پر بھروسہ کیا جا رہے اور چین سے تجارتی حجم بڑھ رہا ہے کیونکہ اپنے کارخانے اور کاروبار تو بند پڑے ہیں۔ آج چین قرضوں کی صورت ہر چھوٹے بڑے ملک کو اپنے ساتھ باندھ رہا ہے کیونکہ ہر کوئی ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو چکا ہے۔ یہ سب ان تصاویر اور وڈیوز کا اثر ہے جو چین کے کنٹرول میڈیا سے جاری ہوئیں۔

جو لوگ یہ کہتے تھے کہ کرونا وائرس چین کی معیشت کو ختم کرنے کے لیے امریکہ برطانیہ نے بنایا ہے وہی لوگ آج دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ برطانیہ سمیت درجنوں ممالک چین کی معیشت، کاروبار، ڈاکٹروں، دواوں اور امداد پر ہی چل رہے ہیں۔ یہ تو ہم کہتے ہیں کہ کرونا وائرس ایک چینی سازش ہے دنیا کی معیشت پر قبضہ کرنے کی، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں کیا یہ سچ ہے؟ اگر سچ ہے تو بتائیے کہ آپ اتنے دن سے کیوں چائینہ کے مال جیسی تھیوریز بیچ رہے تھے؟ اور اگر یہ جھوٹ ہے تو امریکہ کا اپنے دو ٹاورز گرا کر دو تیل والے ممالک پر قبضہ کرنے والے ڈرامے کے بارے ہی کچھ ارشاد کر دیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. معذرت کے ساتھ پروین شاکر کی غزل کا کرونیاتی مطالعہ شازش کے ایام میں
    ؛ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی) یہ کو با کو پھیل تو جائے گی ۔کیونکہ اگر کو با سے ” ک” اتار دیں تو ” وبا” رہ جاتی ہے۔ خیر اس کرونا کوجس نے بھی پہنچایااور یہ جدھر بھی گیا مگر؛ وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا/ بس اک یہی بات اچھی ہے میرے (کرونا) ہرجائی (یعنی اب یہ ہر جگہ پہ) کی/اور آخر پہ / اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا(یارکھنا ہے) روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی ۔

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20