جدیدیت، سرمایہ داری اور فرد کی انانیت —- زید سرفراز

0

کسی بھی علمی پہلو پر تفکروتدبر کرتے ہوئے انسان اپنی رائے وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے اور یہ چیز فطری بھی ہے. مطالعہ اور سال خوردگی کے نتیجے میں دلائل اور ان دلائل کا بیان تبدیل ہوتا رہتا ہے، لیکن کسی بھی تقدیری سوال کو یا دوسرے لفظوں میں وجودی سوال کو حل کرتے ہوئے انسانی فکر کی مفروضہ جہت جن بنیادوں پر قائم ہوتی ہے اس کو بار بار بدلا نہیں جا سکتا یا اس کے بدلنے کے امکانات انسانی صورتحال میں کم ہوتے ہیں.
ہم مابعد جدیدیت کے عہد میں سانس لے رہے ہیں مگر ہمارے معاشروں کے ریاستی اور سیاسی معاملات جدیدیت کے دریا میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں.
جدیدیت کی فکری بنیادیں ڈھے چکی ہیں. پوسٹ ماڈرن مفکرین نے زندگی اور اس کے متعلقات کے حوالے سے یکسر مختلف پوزیشن اختیار کی ہے جس پر جدید مفکرین کھڑے تھے.
سرمایہ دارانہ نظام کی حد بندیوں میں پنپنے والے مختلف افکار اور رویے جنھوں نے جدید انسان اور اس کی معاشرت کو بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان فکری معاملات کو گہرے انداز سے دیکھا جائے اور ان پر ایک واضح مؤقف قائم کیا جائے. فی الوقت جدیدیت کا وہ پہلو جس سے وہ کسی روایتی متن اور اس متن سے پیدا ہونے والی معاشرت کو اپنے حق میں کن ذرائع سے کرتی ہے مدنظر ہے.
نو آبادیاتی ڈھانچوں میں استعمار نے جس شعور کو پروان چڑھایا، وہ شعور اپنی تاریخ کو اور متون کو کیسے دیکھتا ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں متن کی اس تعبیر تک کیسے پہنچا ہے جس نے سرمایہ داری کی کوکھ سے جنم لینے والی قومی ریاست کو جواز بخشا اور متن پر اپنی عقل کو حاکم بنا دیا ہے. یہ استعمار زائدہ شعور کن مراحل سے گزرا کہاں کہاں پڑاؤ ڈالا اور ان سنگ ہائے میل کی نشاندہی کی جائے جس سے گزر کر یہ منزل تک پہنچا ہے.
انسانی معاشرے اس وقت "تحول عظیم” سے گزر رہے ہیں. تاریخ انسانی میں انسانی معاشرے پہلے بھی دو دفعہ اس تبدیلی سے گزر چکے ہیں. زوال سلطنت روم اور عثمانی سلطنت کی شکست وریخت، کے بعد یہ تیسرا دور ہے جس میں سیاسی معاملات ایک نیا رخ اختیار کر رہے ہیں. معاشی سطح پر بھی یہ انسانی تاریخ کا تیسرا دور ہے. غلام داری سماج اور بعد ازاں پیداواری تعلق کی جاگیر دارنہ شکل اور اب سرمایہ داری.
ٹیکنالوجی کی وجہ سے ذرائع پیداور اور مواصلات نے ایک نئی صورتحال کو جنم دیا ہے. ٹیکنالوجی اور اس کی وجہ سے آلات پیداوار میں تیزی اس کے ساتھ ذرائع ابلاغ نے مل کر تہذیبی امتیازات کو ختم کر دیا ہے یا وہ ختم ہونے جا رہے ہیں. لاطینی امریکہ سے آسٹریلیا تک انسان کے داخلی اور خارجی مسائل ان مسائل کی وجہ سے انسانی درد ایک مشترک اظہار کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے. بیسویں صدی میں کسی بھی خطے کے نمایاں ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات کے سرسری مطالعے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ زیریں سطح پر چلنے والی رو ایک ہی منبع سے پھوٹ رہی ہے اور یہ منبع سرمایہ دارانہ نظام  اور اس کا علمی بیان جدیدیت وغیرہ ہے.
ماقبل نو آبادیاتی مسلم معاشرے، فرد اور اجتماع کی سطح پر اپنے متون کی تعبیر روایتی نقطہ نظر سے کرتے تھے اور پھر اس تعبیر کے فہم کو انسانی صورتحال میں برتنے کی سعی کرتے تھے. تہذیب کو داخلی چیلنجز اور خارجی تحدی سے ہمیشہ واسطہ رہتا ہے. کسی بھی تہذیب کے پنپنے کے امکانات میں اس چیز کا مطالعہ ضروری ہے وہ ان چیلنجز کا سامنا کیسے کرتی ہے اور حالت بحران میں اس کا رد عمل کیا ہوتا ہے. اگر تو وہ ان تحدی کو تخلیقی سطح پر حل کر سکنے کی صلاحیت رکھتی ہو تو وہ بچ جاتی ہے لیکن اگر ریاستی سطح پر اس کا ردعمل قوت نافذہ یا طاقت کے زور پر ہو تو اس کے زندہ رہنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں. جس طرح رومیوں کا عیسائیوں سے واسطہ پڑا ان کا جواب تخلیقی کے بجائے طاقت کا تھا. جس کے نتیجے میں "قسطنطین” عیسائی ہو جاتا ہے اور روم کی طاقت، عیسائیت کے اخلاق کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے. دوسری مثال برصغیر میں ہندو مت اور بدھ مت کی تاریخ اور ان کی کشمکش سے سمجھی جا سکتی ہے
ٹائن بی کے الفاظ مستعار لیے جائیں تو ہر تہذیب اپنے مجلسی علم سے سلطنت عام تک کا سفر کرتی ہے اور آخر کار اپنی پیش رو تہذیب سے، جس کے ساتھ اسے ابنیت کا تعلق ہے اور اپنے سے بعد میں آنے والی تہذیب سے "ابویت” کے تعلق پر منتج ہوتا ہے.
کلاسیکی تصور تاریخ کو چھوڑ بھی دیا جائے تو اس بات کا ہم انکار نہیں کر سکتے کہ تہذیبیں ختم بھی ہو جاتی ہیں اور مرتی ہوئی تہذیبیں زندہ بھی ہو جاتی ہیں، جیسے بدھ مت کے ھندوستان پر غلبے کے بعدکا ردعمل اور پھر ھندومت کی کامیابی اس کی واضح مثال ہے.

اب ہمیں معاملہ مغربی تہذیب سے ہے جس کا جغرافیہ روایتی تہذیبوں کے آفاق کو فتح کرنے کے بعد ان کے انفس پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے. اس تہذیب نے جس قسم کا انسان جسے جدید انسان کہا جاتا ہے. اس انسان کا شعور جس زمین سے نمو پزیر ہوا ہے وہ سرمایہ داری ہے اور بیج جدیدیت ہے. جدیدیت اور جدید ریاست نے مل کر جس قسم کے کرداری ڈھانچے تخلیق کیے ہیں وہ ماالبعدالطبیعاتی حقائق کا مکمل انکار تو نہیں کرتے مگر ان حقائق سے ان کی دلچسپی زندہ حوالہ بھی نہیں ہوتی. مسلم معاشروں میں جدیدیت نے طاقت کے احوال میں اپنی جگہ بنائی، پرانی اشرافیہ کی جگہ استعمار کے قائم کیے گئے تعلیمی اداروں اور قانون نے اس جدید شعور کی بناوٹ میں اہم کردار ادا کیا. 1870 سے 1947 تک ہمارے زیادہ تر لوگ برطانیہ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے جاتے تھے تو اس کی کوئی تو وجہ ہو گی؟
اینگلو سیکسن قانون معاشرے کی بجائے فرد پیدا کرتا ہے. ان افراد کا آپس میں نسبتی تعلق جس معاشی ڈھانچے میں پروان چڑھتا ہے یہ قانون اس کی حفاظت کرتا ہے. جب کے جدید تعلیم ان ملکیتی مظاہر سے پیدا ہونے والی صورتحال کو شعور میں قدری سطح پر جگہ دیتی ہے. اس سارے عمل میں روایتی اقدار کی بجائے کارپوریٹ کلچر کی مصنوعی اقدار جنم لیتی ہیں.
برصغیر میں کمپنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب اقتدار برطانیہ عظمی کو منتقل ہوا تو برطانوی حکومت نے ووٹ دینے کی شرائط کو جس طرح لبرل تصور ملکیت سے جوڑا وہ خود ایک قابل مطالعہ چیز ہے. پھر اس سارے عمل کو تعلیم کے ذریعے سماجی سطح پر قبول عام کے لیے جدوجہد کی گئی اور اس کی داستان علی گڑھ تا آکسفورڈ بکھری پڑی ہے.
مابعد نو آبادیات جب اقتدار مقامی لوگوں کو منتقل ہوا تو ان میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اپنے تصور انسان کے مطابق نئ  ادارتی درجہ بندی کرتے اس کے نتیجے میں سلیم احمد کا "کسری انسان” مزید تقسیم کے عمل سے گزرتا رہا اور سرمایہ داری کو اس کے اہداف حاصل ہوتے رہے.
جدیدیت کا تصور انسان، انسان نہیں بلکہ اس کا سایہ ہوتا ہے اور جدیدیت کی ریاستی درجہ بندی میں وہ وہ اس سایے سے آگے بڑھ کر کاغذ اور فائل کا عکس بن جاتا ہے. یہ جدید انسان تاریخ کے انکار سے اپنے فہم کو اپنے اسلاف کے فہم پر ترجیح دینے لگتا ہے. یہی انانیت فرد میں "میں” کی صورت مجسم ہو جاتی ہے. جس کا مشاہدہ ہمارا روز مرہ بن چکا ہے.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: