حیران کن کرپشن —- عطا محمد تبسم

0

صبح کے یہ لمحات کس قدر حسین اور مسرت انگیز اور دلفریب ہیں، فضا نکھری ہوئی ہے، ہوا میں پھیلی ہوئی خوشبو اور نرماہٹ نے دل کی کلیوں کو بھی مسرت اور شادمانی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے، ابھی ابھی ایک بھونرا جھومتا ہوا میرے قریب سے گذرا ہے، ہم میں سے کتنے ہیں جو اس چھوٹے سے خوبصورت گنگناتے اور اور جھومتے گاتے کلیوں سے رس چوستے، پھولوں کے آس پاس منڈلاتے، بھونرے سے واقف ہیں۔ اس کی تمکنت اور اپنی ذات پر اصرار آپ کو قدرت کی کتنی مخلوقات کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ ہم نے قدرت کے شاہکاروں، اس کے عجائب، اس کی فیاضی، اس کی صناعی، سے اغماز برت رکھا ہے۔ ہم تو موبائیل فون، کمپوئیٹر، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ کی مصنوعی اور چکاچوند روشنی سے خیرہ آنکھوں سے کچھ دیکھ ہی نہیں پا رہے۔ احتیاط اور توازن اور اعتدال ہماری زندگیوں سے خارج ہوگیا ہے۔

خود کو قید کرنا، اپنی خواہشات پر قابو پانا، دوسروں کے لیے سوچنا، گھر میں رہنا، گھر والوں سے باتیں کرنا، بچوں کی شرارتوں سے لطف اندوز ہونا، ان کی معصوم حرکتوں پر توجہ دینا، اور ان کے ساتھ کھیلنا، اب سے پہلے فرصت کے یہ لمحات کب میسر آئے تھے۔ کتابوں کو ہاتھ لگانا، ان کی گرد جھاڑنا، انھیں نئے سے پڑھنا، اس سے پہلے اس کی فرصت کب ملی تھی۔ کل میں نے ان مضامین کی جانب توجہ کی، جو میری توجہ کے محتاج تھے، جن پر نظر ثانی کی ضرورت تھی، یا انھیں نئے سرے سے لکھنا تھا، بہت سی کہانیاں جو میں لکھنا چاہتا ہوں، بہت سے مسودات اور کئی کتابیں جو زیر ترتیب ہیں۔ ہر ایک ، اک نیا جہاں ہے۔ جس کو کھول کر بیٹھ رہیں، تو پھر دنیا و مافیا سے بے خبر ہوجائیں۔

خود ساختہ جلا وطنی کے طرز پر خود ساختہ تنہائی اب ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔ خود ساختہ جلاوطنی میں لوگ، مختلف وجوہات کی بنا پر ملک سے دور، کسی اور ملک میں جابیٹھتے تھے۔ اب لوگ خود ساختہ علیحدگی میں گھروں تک محدود ہیں۔ 20 دن کا عرصہ پلک چھپکتے میں گذر گیا، اب صبح و شام کیسے گذر جاتی ہے، اس کا احساس نہیں ہوتا، اب رہائی ملے گی، تو شائد اس تنہائی کے عادی ہوجائیں، صیاد نے قید نہیں کیا ہے، ہاں خوف اور واہمہ ہے۔ جس سے لوگ باہر آرہے ہیں۔ خوف کی شدت میں کمی آرہی ہے۔ لوگوں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ ان حالات میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ بہترین انداز سے، اس سے پہلے یگانگت، بھائی چارے، محبت، خلوص اور ایک دوسرے کی مدد کے ایسے مظاہر بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ ہر شخص ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ لیے ہوئے ہے۔ لیکن ساتھ ہی خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ حیران کن کرپشن نے ہر ایک کو مبہوت اور ششدر کردیا ہے۔ اربوں روپے کی کرپشن، اس بہتی گنگا میں سب کے ہاتھ ہی نہیں جسم بھی ڈوبے ہوئے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام، بلیک منی، لوٹ مار، کرپشن نے مل کر حکومت کا چہرہ داغدار کردیا ہے۔ تبدیلی اور ریاست مدینہ اب ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے۔ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا، ہر روز میڈیا پر آنا اور تقریر اور مستقبل کے سہانے خواب، عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتے، نہ ہی ان کے سروں پر چھت کا سایہ فراہم کرسکتے ہیں۔ قوم اپنے لیڈر پر بھروسہ کرتی ہیں، مصیبت کے وقت میں انھیں احساس ہوتا ہے کہ ان کا لیڈر ان کے ساتھ کھڑا ہے، اس کے لیے حضور پاک کی مثال بہترین ہے، چاہیئے شعیب ابی طالب کی گھاٹی ہو، یا جنگ خندق کے موقع پر ، خندق کی کھدائی بھوک سے پریشان صحابہ رض کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے، تو آقائے نامدار، تاجدار مدینہ کے شکم مبارک پر دوپتھر بندھے ہوئے تھے۔ بے روزگاری کی لہر شدید ہوگی، ساری دنیا میں معیشت الٹ پلٹ ہوگئی ہے۔ بڑے بڑے ادارے کساد بازاری، اور ڈائون سائزننگ کا شکار ہورہے ہیں، ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے، لوگوں کو امداد کے سہارے پر کب تک زندہ رکھا جاسکتا ہے، ہم نے ملک میں بانٹنے، امداد دینے، کا ایک ایسا کلچر پیدا کردیا ہے کہ اب بانٹنے والا ایک ہاتھ ہوتا ہے تو لینے والے سینکڑوں ہاتھ سامنے پھیلے ہوتے ہیں، جن میں صبر وتحمل، نام کو بھی نہیں رہا، اب لوٹ مار کے واقعات ہورہے ہیں۔ ان کی روک تھام ضروری ہے، امدادی اشیاء کے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں۔ پارٹی کارکنوں اور لیڈروں کی شکایات اور سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھی جاسکتی ہیں، جن میں حقداروں کا حق مارا جارہا ہے، امدادی رقوم ضرورت مندوں کو نہیں پہنچ پار رہی ہیں۔ کرپشن اور اس لوٹ مار پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ

وہ کچھ ایسے بھی تو لوگوں کو سزا دیتا ہے
ان کی اوقات سے خواہش کو بڑھا دیتا ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20