۶+۷ =۱۳؍دن —- ابابیل اورنگ زیب

0

پہلے چھے دن تو خود غرضی میں کٹ گئے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں حرج بھی نہیں ہے کہ ہم سب اندر سے تھوڑے بہت خود غرض ہوتے ہیں۔ ہم کسی دوسرے کی تکلیف کو اس کی طرح سے محسوس نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم خود اس تکلیف کا شکار نہ ہو جائیں۔ یہ چھے دن فیس بک پر دھول اُڑاتے، ٹی۔ وی دیکھتے اور رسمی افسوس کرتے گزرے۔ اس کے پاس پورا اور مکمل وقت تھا۔ وہ مارکیز، بورس پیسترناک، اورحان پاموک اور بین اوکری کے ساتھ تاریخ کے مختلف ادوار سے گزرا، مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کو بہت قریب سے دیکھا اور اور تھک گیا تو The Silver Brumby اور The Patience Stone جیسی فلموں سے دل بہلا کر سو گیا۔ جبریہ تنہائی سے مسرت کشید کرنے کا یہ تجربہ اس کے لیے عجیب بھی تھا اور لذت آمیز بھی۔

اس سے پہلے کہ آپ آگے بڑھیں یا کہانی کے اختتام کے بارے میں قیاسات لگانا شروع کریں؛ میں بہ طور راوی کہانی میں مداخلت کو اپنا استحقاق سمجھتے ہوئے کہانی کے اختتام کے بارے آپ کو خود ہی بتا دیتی ہوں، ہماری اس کہانی کا اختتام مرکزی کردار کی موت پر ہو گا۔ اب یہ آپ کا حق ہے کہ بہ طور قاری آپ مرکزی کردار کا حق کسے تفویض کرتے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ ابھی اس کی موت میں سات دن، آٹھ گھنٹے اور کچھ منٹ باقی ہیں اور یہ دورانیہ آپ آج سے شمار کریں گے یعنی جب کہانی کا آغاز ہوئے چھے دن بیت چکے ہیں۔

ان چھے دنوں میں بیرونی دنیا سے اس کا رابطہ نہ ہونے کے برابر رہا۔ تین فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو کر بیوی سے چند منٹ گفتگو کے علاوہ اس نے سارا وقت بالائی منزل پر اپنی مطالعہ گاہ میں گزارا؛ جو اس وقت مطالعہ گاہ کے ساتھ ساتھ اس کا بیڈ روم، ڈائننگ روم بھی تھا۔ آس پاس کا شور جس سے اسے چڑ تھی اب معدوم ہو گیا تھا۔ محلے کی مسجد سے پانچ بار اٹھنے والی اذان کی صدا، گلی سے گزرنے والے ہانپتے، کانپتے، گلا کھنگارتے بوڑھے نمازیوں کی آوازوں اور دن میں ایک بار سبزی والے کی کان پھاڑ پکار کا انتظار اب اس کا معمول بنتا جا رہا تھا۔ بس یہی چند ایک زندہ آوازیں تھیں جو گزشتہ چھے روز میں اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھیں۔ (میری طرح آپ کا دھیان بھی یقیناََ اس کے سیل فون کی طرف جا رہا ہو گا۔ سیل فون اس کے پاس تھا یا نہیں تھا؟ تھا تو اس نے کیوں بند کر رکھا تھا؟ اس کے بارے میں مکمل لا علم ہوں۔) البتہ ان چھے دنوں میں وہ کچھ نئے دوست بنانے میں کامیاب ہوا تھا۔ کچھ چڑیاں تھیں، خوش باش چڑیاں، جو دن بھر کھڑکی سے باہر گل سہرا کی تازہ اگنے والی شاخوں اور پتوں میں ادھر اُدھر پھدکتی پھرتی تھیں۔ اس کے اور چڑیوں کے درمیان کوئی گز بھر کا فاصلہ تھا لیکن چڑیاں آزاد اور بے خوف تھیں اس لیے جلد دوستی ہو گئی۔ وہ کھڑکی کھول کر ایک کٹورے میں پانی اور دوسرے میں باجرہ ڈالنے لگتا تو چڑیاں اس کے ہاتھ پرہلکے سے چونچ مار کر اٹکھیلیاں کرتیں ؛وہ ہاتھ کھینچ لیتا تو چڑیاں ہنستے ہوئے گل سہرا کی بیل میں چھپ جاتیں۔ اور چڑیوں جیسے خوش باش دو بچے تھے۔ ۔ ۔ اس کے نئے دوست۔ ۔ ۔ گلی کے پار سامنے والے مکان کے اوپر والے پورشن کی کھڑکی اس کی کھڑکی کے عین سامنے تھی۔ وہ صبح سویرے ناشتے کے بعد چڑیوں کو دانہ، پانی ڈالنے کے لیے کھڑکی کھولتا تو یہ بچے بھی اس کے منتظر ہوتے۔ یہ دونوں لڑکے تھے۔ بڑے لڑکے کی عمر سات برس کی ہو گی اور دوسرا اس سے چھوٹا یہی کوئی پانچ کے قریب لگتا تھا۔ وہ ایک پیار بھری مسکراہٹ ان بچوں کی طرف پھینکتا اور جواب میں محبت آمیز مسکراہٹ وصول کر کے مطالعے میں محو ہو جاتا۔ اس کھڑکی میں کبھی ان بچوں کے والدین نظر نہیں آئے تھے۔ وہ شاید پیچھے کے کمرے میں ٹی۔ وی دیکھ رہے ہوتے یا عبادت میں مشغول ہوتے یا کچن میں یا عین ممکن ہے تیسرے بچے کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے میں۔

اس کے پاس سگریٹوں کا وافر سٹاک موجود تھا۔ اگرچہ اسے سختی سے منع کیا گیا تھا پھر بھی خود کو قرنطینہ کرنے سے پہلے گھر کے دیگر سامان اور سبزی، گوشت کے ساتھ اس نے بڑی مقدار میں سگریٹ بھی منگوا لیے تھے۔ رات ہونے تک اس کا ایش ٹرے راکھ اور مسلے ہوئے فلٹرز سے بھر جاتا تھا۔ کثرت تمباکو نوشی سے اس کا گلا سوکھ جاتا یا گلے میں خراش محسوس ہوتی تو اس کے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ جاتی۔ چھے روز پہلے کچھ اسی طرح کی علامات کی وجہ سے ڈاکٹر نے اسے ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا تھا جس کی رپورٹ آنے میں ابھی کچھ دن مزید باقی تھے۔

خود ساختہ قرنطینہ میں ساتویں روز کا آغاز اچھا نہیں ہوا۔ (یاد رہے کہ مرکزی کردار کی موت میں ابھی چھے دن اور کچھ گھنٹے باقی ہیں۔) اس نے کٹورے میں پانی ڈال کر کچھ لمحے انتظار کیا لیکن چڑیاں نہیں آئیں۔ کھڑکی کے اندر سے دائیں بائیں جہاں تک نظر جا سکتی تھی، ا س نے دیکھنے کی کوشش کی لیکن اسے چڑیاں کہیں نظر نہیں تھیں۔ معاََ اس کا خیال بچوں کی طرف گیا اور اسے کچھ اطمینان ہوا کہ بچے اپنی کھڑکی موجود تھے۔ اس نے بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے آہستہ سے سیٹی بجائی۔ بچوں نے اس کی طرف دیکھا اور منہ دوسری طرف پھیر لیا جیسے ناراض ہوں۔ اسے کچھ حیرت ضرور ہوئی مگر اس خیال سے کہ شاید والدین نے کسی بات پر ڈانٹا ہو، مطمئن ہو کر وہ دوبارہ اپنی میز پر آگیا۔ اس نے بک مارک کی مدد سے کتاب کھولی اور اس مقام سے پڑھنا شروع کیا جہاں رات کو سونے سے پہلے اس نے کتاب بند کی تھی۔ چند صفحات پلٹنے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ اس کا ذہن مطالعے پر مرکوز نہیں ہے۔ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا کہ ان چند صفحات میں اس نے کیا پڑھا ہے۔ اس نے کرسی سے ٹیک لگا کر ایک سگریٹ سلگائی اور آنکھیں بند کر لیں۔ چند لمحوں کے بعد وہ پھر کتاب کی طرف متوجہ ہوا۔ اب کی بار بھی وہ کتاب پر توجہ دینے میں ناکام رہا۔ وہ کتاب پڑھتے ہوئے ہمیشہ کچی پنسل ساتھ رکھتا تھا اور کتاب کے آخری خالی صفحے پر اپنے تاثرات نوٹ کرتا جاتا تھا۔ گزشتہ کچھ روز سے اس کا ذہنی ارتکاز اتنا بڑھ گیا تھا کہ اب وہ کتاب ختم کرنے کے بعد اپنے ضروری نوٹس لکھنے لگا تھا لیکن اس وقت اس کے لیے چند صفحات پڑھنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکالی اور وہ نظم لکھنے لگا جو کل رات اس پر مکمل اتری تھی۔ اس نے چار مصرعے لکھے اور باقی نظم یاد کرنے لگا جو اب اس کے ذہن سے محو ہو چکی تھی۔ اس نے چار مصرعوں پر غور کیا یہ چار مصرعے وہ نہیں تھے جو اس پر اترے تھے۔ اس نے ان مصرعوں کو کاٹ دیا۔ دوبارہ لکھا، پھر کاٹ دیا، سہ بارہ لکھا، پھر کاٹ دیا۔ اب وہ خالی صفحے پر مسلسل اپنے دستخظ کرنے لگا۔ ہر نیا دستخظ پہلے سے مختلف تھا۔ اداسی کی ایک لہر اس پر غلبہ پانے لگی تھی۔ اس کیفیت سے خود کو نکالنے کی غرض سے وہ ایک بار پھر کھڑکی پر آیا اور بچوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ بچے اس وقت کھڑکی سے اپنا سر باہر نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کھڑکی کی سلاخیں اس قدر تنگ تھیں کہ بچوں کا ان سے باہر نکلنا ممکن نہیں تھا۔ اسی دوران میں بڑے بچے نے دو سلاخوں کو مضبوطی سے پکڑا اور پورا زور لگایا جیسے وہ سلاخوں کو توڑ کر ان سے باہر نکلنے کی جگہ بنا رہا ہو۔ ممکن ہے یہ منظر اس نے کسی ایسی فلم میں دیکھا ہو جس میں ایک طاقت ور ہیرو قید خانے کی سلاخیں کھول کر فرار ہو جاتا ہے۔ اسے بچے کی اس معصوم کوشش پر ہنسی آ گئی تو اس کا ذہنی دباؤ بھی کسی حد تک کم ہو گیا۔ وہ دوبارہ اپنی میز پر آ گیا اور خود کو کتاب پڑھنے پر آمادہ کرنے لگا۔ اب کی بار اس نے دوسری کتاب اٹھائی۔ یہ بورس پیسترناک کا ناول ڈاکٹر ژواگو تھا۔ یہ ناول اس نے دو روز پہلے ختم کیا تھا اور کافی دیر اس کے سحر میں رہا تھا۔ اس نے کتاب درمیان سے کھولی اور صفحے پلٹتے ہوئے ایک صفحے پر رک گیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ناول کی ہیروئن لارا، یوری آندرے وچ کو اپنے پہلے محبوب اور شوہر پاشا کے متعلق بتاتی ہے جو اسے چھوڑ کر اب انقلابی بن چکا ہے۔ یوری آندرے وچ پوچھتا ہے کہ کیا اسے اب بھی پاشا سے محبت ہے؟لارا جواب دیتی ہے: ’’اگر دنیا کے دوسرے کنارے سے اس کے مکان تک مجھے گھٹنوں کے بل چل کر بھی جانا پڑے تو میں اس کی خاطر خوشی سے چلی جاؤں۔‘‘

یہاں ہماری کہانی کا یہ کردار کتاب بند کر دیتا ہے۔ اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ ابھی نیچے جائے اور اپنی محبوب بیوی کے گھٹنوں پر سر رکھ کر جی بھر کر روئے۔ لیکن کس بات پر؟ رونے کی کئی وجہیں ہو سکتی ہیں۔ بغیر کسی وجہ کے بھی رویا جا سکتا ہے لیکن آپ اپنے آنسوؤں میں کسی دوسرے کو شریک کرنا چاہتے ہیں تو کوئی وجہ ہونا ضروری ہے اور اس وقت اس کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی۔ اس نے راکنگ چیئر پر خود کو نیم دراز کر لیا۔ اب اس کی پشت کھڑکی طرف تھی، بچے کھڑکی میں موجود نہیں تھے۔ اس نے سوچا کیا ان بچوں کو معلوم ہے کہ ان کے والدین نے انھیں گھر میں کیوں بند کر رکھا ہے؟ وہ پچھلے دو ہفتوں سے سے سکول کیوں نہیں گئے؟ اور ان کے دوست، گلی کے دوسرے بچے کھیلنے کے لیے کیوں نہیں آئے؟ اس نے محسوس کیا جیسے وہ خود بھی ایک بچہ ہے جو ابھی اپنی ماں کی اندھیری کوکھ میں ہے اور یہاں سے باہر آکر ایک نئی دنیا میں ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے والا ہے۔ اس نے سوچا یہ نئی دنیا کیسی ہو گی؟کیا اس مصیبت کے گزر جانے کے بعد پرانی دنیا یکسر تبدیل ہو جائے گی یا کچھ عرصے کے بعد دوبارہ اپنی پرانی ڈگر پر واپس آجائے گی؟کامل تنہائی کے ان لمحات میں اس نے اور بھی بہت کچھ سوچا۔ اس نے سیاست، معیشت، جمہوریت، سرمایہ داری نظام، اور لبرل ازم کے بارے میں بہت سے سوال اٹھائے بالخصوص مذاہب اور عقائد کے بارے میں؛جو اس نئی صورتحال کی پیداوار تھے۔ یہ سوالات مجھے اس کی کتابوں پر لکھے ہوئے ملے۔ میں ان باتوں کو کہانی کا حصہ بنانے سے گریز کر رہی ہوں کہ مبادا یہ کسی نزاعی بحث کو جنم دیں۔

کسی انہونی نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا۔ کمرے میں کچھ دھندلاہٹ تھی جیسے کھڑکی کے راستے کوئی بادل یا دھند کمرے میں گھس آئی ہو۔ اپریل کے مہینے میں دھند کیسی؟ دھندنہیں تھی۔ اس کا دل ڈولنے لگا اسے یوں لگا جیسے کتابوں کی الماری دھند سے بھر گئی ہو۔ اس نے الماری کے پٹ کھول دیے اور دھند کے ہٹنے کا انتظار کرنے لگا۔ دھند ہٹ گئی تو الماری کے اندر ایک پیلی آکاس بیل اُگ آئی تھی۔ اب آکاس بیل چھت کی طرف بڑھنے لگی تھی حتیٰ کہ دوسری الماری کے بند شیشوں سے سر نکال لائی تھی۔

باقی دن اس پر بہت گراں گزرے۔ آکاس بیل مسلسل بڑھتی گئی۔ اب ا س نے گھوڑے کی پینٹنگ اور قدیم طرز کے لیمپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ پھول چنتی لڑکی کا مجسمہ آکا س بیل کی پیلی تاروں میں چھپ گیا تھا۔ اس کے آس پاس سے آوازیں ناپید ہو تی جا رہی تھیں۔ چڑیاں واپس نہیں آئی تھیں۔ مؤذن کی آواز تھک گئی اور بوڑھے نمازیوں کی آمدو رفت کم ہو گئی۔ شاید حکومت نے لاک ڈاؤں میں مزید سختی کر دی تھی لیکن اس کے لیے زیادہ تکلیف دہ ان بچوں کی خاموشی تھی جو دن بھر کھڑکی میں موجود تو رہتے لیکن اسے دیکھتے ہی نیچے بیٹھ جاتے۔ اس نے یہ خاموشی توڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس نے بچوں کی طرف بسکٹ پھینکے، چھوٹے بچے نے اپنے چھوٹے چھوٹے بازو باہر نکال کر بسکٹ پکڑنے کی کوشش کی لیکن اس کے ہاتھ تک پہنچنے سے پہلے بسکٹ گلی میں گر گئے۔ ایک بار اس نے کاغذ کا جہاز بنا کر بچوں کی طرف اڑایا لیکن یہ بھی ایک موڑ کاٹ کر واپس آ گیا۔

اب آخری روز شروع ہوتا ہے۔ مرکزی کردار کی موت میں (اور یہ آپ کی اپنی صوابدید ہے کہ کردار کی مرکزیت کے بارے میں آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں) ابھی ایک گھنٹا اور سترہ منٹ باقی ہیں۔ گھڑیال صبح کے نو بج کر دو منٹ کا وقت دکھا رہا ہے۔ ہماری کہانی کا ہیرو سگریٹ سلگاتا ہے اور ایک کتاب پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کتاب شاید اسے پسند نہیں آئی۔ وہ کتابوں کی الماریوں کے پاس آتا ہے۔ آکاس بیل ابھی وہاں موجود ہے لیکن وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا، وہ الماری سے جو کتاب نکالتا ہے، اس کے کچھ صفحے پلٹتا ہے اور کتاب کو اس کی جگہ پر واپس رکھنے کے بجائے فرش پر پھینک دیتا ہے اب تک وہ سیکڑوں کتابیں کے ساتھ یہ سلوک کر چکا ہے۔ فرش پر کتابوں کا ڈھیر لگ چکا ہے۔ جس وقت اس نے آخری کتاب الماری سے نکالی اور اسے فرش پر پھینکا، اس وقت یہ عمل کرتے ہوئے اسے پورا ایک گھنٹا گزر چکا ہے۔ یعنی ابھی موت کے آنے میں پورے پندرہ منٹ باقی ہیں۔ اگلے تین منٹ اس نے ٹہلنے میں گزارے۔ پانچ منٹ آخری سگریٹ کے بھی اضافہ کر لیں۔ سگریٹ ختم کرنے کے بعد وہ کھڑکی پر آیا؛ یہ دیکھنے کے لیے کہ بچے اس وقت کیا کر رہے ہیں؟اسے دیکھ کر بچے نیچے بیٹھ گئے، دوبارہ اُٹھے تو اس کی طرف کچھ ناراضی اور غصے سے دیکھا۔ اسے کچھ عجیب لگا۔ وہ پیچھے ہٹ گیا۔ تقریباََ دو منٹ بعد اس نے پردے کو ذرا سا سرکا کر دیکھا تا کہ بچوں کی نظر اس پر نہ پڑے۔ اب کی بار اس نے جو منظر دیکھا وہ اس کے لیے انتہائی حیران کن تھا۔ بڑے بچے کے ہاتھ میں سریا کاٹنے والا بلیڈ تھا اور وہ اسے مسلسل لوہے کی سلاخ پر چلا رہا تھا۔ اسے بچے کی معصومیت، کوشش اور ناممکن کو ممکن بنانے کی خواہش پر ہنسی آ گئی۔ اس نے پردہ گرا دیا اور کرسی پر نیم دراز ہو گیا۔ گھڑیال کی سوئی دس بج کر سترہ منٹ پورے کرنے ہی والی تھی کہ اہل محلہ نے ایک دلدوز چیخ سنی۔ ارد گرد کی چھتوں پر کچھ سر نمودار ہوئے۔ دروازے کھلے تو چند بچے دوڑتے ہوئے باہر نکلے اور ان کے پیچھے ننگے پاؤں ننگے سر ان کی مائیں جو روتے ہوئے بچوں کو اٹھا کر واپس اپنے گھروں میں گھس گئیں۔ بچہ لوہے کی سلاخ کاٹنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ شاید یہ کام وہ پچھلے چھے روز سے کر رہا تھا۔ سلاخ کاٹنے کے بعد اس نے ہیرو کی طرح سلاخ کو پیچھے دھکیل لیا تھا وہ اپنا سر کھڑکی سے باہر نکالنے میں کامیاب تو ہو گیا مگر لوہے کی تازہ کٹی ہوئی سلاخ دو انچ تک اس کی نرم گردن میں اتر گئی تھی۔ اس کے دو نوں بازو کھڑکی سے باہر لٹک رہے تھے اور خون کی ایک دھار دیوار سے ہوتی ہوئی گلی تک آپہنچی تھی۔

اگلے روز قرنطینہ ہوئے ہمارے اس دوست کی بیوی نے لیبارٹری کی ویب سائیٹ پر دیکھنے کے بعد اسے بتا دیا تھا کہ اس کی رپورٹ نیگٹو تھی، وہ محفوظ تھا۔ ہماری اس سے آخری ملاقات لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد ہوئی۔ اس کے بعد وہ میاں بیوی کسی دوسرے شہر چلے گئے اور آج تک ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20