اب کوئی بد دعا سے نہیں ڈرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فارینہ الماس

0
 جب سے انسان نے اپنی فکر و تدبر اور عمل کا رخ مو ڑا ہے ، زندگی کا تمام تر منظر نامہ ہی بدل کے رہ گیا ہے ۔ہماری نئی ترجیحات نے ہماری صلاحیتوں اور رحجانات کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔ ہماری سماجی زندگی بے حسی اور لا تعلقی کے عناصر کا امتزاج بنتی جا رہی ہے۔ ہم یہ بھولتے جا رہے ہیں کہ دنیا میں ہمارا سارا منظر اور پس منظر انسانوں سے ہے ۔اور ہماری سبھی وابستگیاں ،ہماری رونقیں ،ہماری آبادیاں اور شادابیاں ،ہمارے احساسات و خیالات اور ہمارے فکر وتدبرکا مرکز انسانی قدر میں ہے ۔اسی طرح ہماری نیکی ،بدی ،خوشی و غم ،ہمارےسکون ،گناہ و ثواب کا تعلق بھی انسان اور انسان ہی کی فلاح سے ہے۔ جب سے حد سے زیادہ مادیت پرستی نے ہماری زندگی میں جگہ بنا لی ہے ، سارا منظر ہی بدل گیا ہے ۔رونقیں بے رونقی سے ،آبادیاں بربادیوں سے، امیدیں مایوسیوں سے اور خواب بے خوابیوں سے بدل گئے ہیں ۔ایک قیمتی کانچ کی شے کے ٹوٹ جانے پر توہمارا دل بہت دکھتا ہے ۔لیکن جب ہمارے ہاتھوں کسی انسان کا دل ٹوٹ جائے تو ہمارا دل نہیں دکھتا ۔۔۔ہم ایسے پتھر دل ہو چکے ہیں کہ ہمیں انسانی آنسو یا انسانی لہو دیکھ کر بھی تکلیف نہیں ہوتی۔۔۔ بلکہ ہمیں تو انسان کو تکلیف دے کر فرحت محسوس ہوتی ہے ۔ہم کسی کو اس کی کم مائیگی کا احساس
دلا کر اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں ۔ہم کسی کو بھی مکمل یا کامیاب بنتا نہیں دیکھ سکتے کیونکہ اس طرح ہمیں ہماری محرومیوں کا ایسا احساس گھیر لے گا جو ہمیں جینے نہیں دے گا ۔
ہماری ایسی ہی بے حسی کا سب سے زیادہ سامنا انسانوں کی اس مخصوص قسم کو ہے جسے ہم ازل سے ادھورا سمجھتے آئے ہیں ۔وہ لوگ جن کی روح تو مکمل ہے لیکن جسم ادھورا۔ وہ لوگ جنہیں نا صرف ہم اپنی بے حسی کا شکار بناتے ہیں بلکہ انتہائی بے مروتی اور بے دردی کے ساتھ ایک تماشہ بھی بناڈالتے ہیں ۔ وہ ہماری روبہ زوال قدروں کا سب سے بڑا نشانہ بن رہے ہیں ۔ان کی ہر ادا ہر چلن ہمارے لئے باعث تحقیر ہے ۔پھر بھی وہ ہماری ہنسی ،ہمارے مذاق کا ،ہمارے منہ پر برابر لطف اٹھاتے ہیں تاکہ ہماری حیوانی جبلت کی تسکین ہو سکے ۔ لیکن تنہائی میں اسی ہنسی کے پھپھولے جب ان کے سینوں میں پھوٹتے ہیں تو درد کی ہزار ٹیسوں کی چبھن لئے آنکھوں سے برستے ہیں ۔ وہ انسانی برادر ی کبھی جس کی بد دعا سے اپنا دامن بچانے کو انسان پناہ ڈھونڈا کرتا تھا کہ اس نے سن رکھا تھا کہ اس کی بد دعا کی تاثیر عرش تک ہلا دیتی ہے لیکن اب کوئی اس کی بد دعا سے نہیں ڈرتا ۔۔۔۔۔کیونکہ اب تو انسان نے خدا سے ہی ڈرنا چھوڑ رکھا ہے تو پھراس کے تئیں یہ بے ضرر سی مخلوق حضرت انسان کا کیا بگاڑ سکتی ہے ۔انسانوں کی اس مخصوص قوم کو ہم بہت سے نام دیتے ہیں جیسے ہیجڑا ،مخنث ،زنانہ یا تیسراوغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
ابھی کچھ دن پہلے ہی کی بات ہے جب سعودی عرب سے ان کے متعلق ایک خبر آئی کہ پاکستان کے مختلف علاقوں مثلاًکراچی ،سرگودھا ،پشاور،چارسدہ،پشاور اور مردان وغیرہ سے تعلق رکھنے والے 35 خواجہ سراؤںکو اس وقت گرفتار کر لیا گیا ، جب کہ وہ ریاض میں ایک میٹنگ کے سلسلے میں اکٹھے ہوئے تھے ۔ یہ تقریب خواجہ سراؤں نے اپنے گرو کے انتخاب کے لئے رکھی تھی ۔چلیں یہ تو سعودیہ کا قانون ٹھہرا کہ وہاں کوئی مخنث زنانہ لباس پہن کر زنانیوں کی طرح ادائیں نہیں دکھا سکتا لیکن اس کے ایک دوسرے حصے نے دل دہلا کے رکھ دیا کہ ان میں سے دو کو بوریوں میں بند کر کے ان کے بدن پر اس قدر ڈنڈے برسائے گئے کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اوردم توڑ گئے ۔چلیں فرض کر لیتے ہیں کہ سعودیہ میں مخنث ہونا ایک جرم سہی لیکن کیا سعودی قانون میں اس جرم کی سزا موت ہے یا ایسا واقعہ سعووی پولیس کی غفلت سے پیش آیا ۔شاید سعودیہ میں کسی سے نفرت کرنا ایک معمول ہے اور اگر کوئی کسی انسان سے نفرت نبھاتے نبھاتے اسے قتل کر دے تو بھی یہ عمل جائز ہے ۔اس نفرت کا اظہار تو ابھی پچھلے سال ان خواجہ سراؤں پر حج و عمرے کی ادائیگی پر پابندی عائد کر کےبھی کیا جا چکا ہے ۔سعودیہ کی طرح ہی یہ خبر پاکستان میں بھی کسی اچنبھے کا باعث نہیں بن سکی اور ان جانوں کے زیاں پر کسی بھی پلیٹ فارم سے آواز نہیں اٹھائی گئی کیونکہ ہم تو خود بھی ایسی خبریں سننے کے اس قدر عادی ہیں کہ اب یہ خبریں ہم پر کوئی اثر نہیں کرتیں ۔ ابھی پچھلے برس ہمارے اپنے ملک میں بھی ان خواجہ سراؤں کو بے دردی سے مار کر انہیں ان کی اوقات یاد دلائی گئی تھی ۔آپ سب کو “دیوانی” نامی ایک خواجہ سرا کی کہانی یاد ہو گی جو ٹی ۔بی اور ایڈز کی مریضہ تھی اورپشاور کی ایک سڑک کے کنارے کچرے کے ڈھیر پر موت کی منتظر دیکھی گئی۔اجل کے ہاتھ کچرے کے ڈھیر سے اس کا مردہ جسم تو لے گئے لیکن اسی کچرے پر آج بھی اس کی کسما پرسی کی ثبت ہوئی داستان انسان کی بے حسی کے کھونٹے سے لٹکی پڑی ہے جو شاید پھرکبھی وہاں سے ہٹ نہ سکے ۔ نومبر کے مہینے میں سیالکوٹ کے خواجہ سراؤں پر ہونے والے بھیانک تشدد کی ویڈیو بھی آپ سب نے دیکھی ہو گی اور خوب شیئر بھی کی ہو گی۔پھر پشاور کی علیشاکا اندوہ ناک قتل کسے بھولا ہو گا ۔ایسی انسانی بے حسی کا تعلق صرف جہالت یا غربت سے ہی نہیںکیونکہ اس کے نظارے ہمیں صرف افریقہ یا ایشیاءکے غیر متمدن معاشروں میں ہی نہیں ملتے ۔بلکہ اس کے نمایاں آثار یورپ کے ترقی یافتہ اور متمدن معاشروں میں بھی صاف دکھائی دیتے ہیں ۔یہ اور بات کہ ہماری غلاظت جلد دنیا کی نظر میں آ جاتی ہے اور ان کی غلاظت کو بڑی صفائی اور مہارت سے چھپا لیا جا تا ہے ۔ کیونکہ خبر یہ بھی ہے کہ دنیا میں ہر تیسرے دن ایک مخنث کا قتل ہو جاتا ہے۔2008ءاور 2015ءکے درمیان تقریباً 2000خواجہ سرا قتل کر دئیے گئے ۔اور ان میں سے 800 کا تعلق برازیل سے تھا۔محض 2016میں ہی برازیل میں 144 مخنث قتل کئے گئے ۔آپ نے اب تک برازیل کے ایک مخنث dandara dos santos سے چھ اوباش و بد قماش لوگوں کے ایک گینگ کے ہاتھوں انتہائی غیر انسانی سلوک کو سوشل میڈیا کی ایک ویڈیو میں دیکھا ہو گا۔اس کا خون آلود وجود اس کا زخم زخم احساس شاید آپ کو تھوڑی دیر کے لئے دکھی بھی کر گیا ہو ۔وہ مخنث جو انتہائی وحشیانہ سلوک کے بعد سر پر بھاری پتھر مار کر قتل کر دی گئی۔2016 ءمیں صرف امریکہ میں ہی 27 مخنث قتل کر دئے گئے۔2017 کے آغاز سے اب تک تقریباً پانچ لوگ قتل کئے جا چکے ہیں ۔یہ تو صورتحال ہے ان ملکوں کی جہاں جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنا لی گئی ہے اور جہاں ہم جنس پرستوں کو قانونی طور پر معاشرتی حقوق دئے گئے ہیں ،یہاں تک کہ انہیں اب باہمی طور پر شادیاں رچانے کی بھی اجازت ہے ۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ دنیا کی نظروں سے چھپایا جاتا ہے جو انتہائی بھیانک ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں کبھی اس صنف کو خاص توجہ اور اپنائیت کا سلوک نصیب ہوا کرتا تھا ۔با وجود اس کے کہ وہ معاشرہ ذات پات اور اونچ نیچ جیسے فرسودہ نظام میں جکڑا ہوا تھا ،خواجہ سراؤں کو معاشرے میں ایک تسلیم شدہ معاشرتی مقام نصیب تھا ۔ہندو راجوں مہاراجوں کے دور میں انہیں خواتین کی حفاظت کے لئے رکھا جاتا ،یا ا ن کو موسیقی کی تعلیم دینے پر معمور ہوتے ۔انہیں ایک سنیاسی کا رتبہ بھی دیا جاتا ۔مسلمانوں کی آمد کے بعد انہیں سرکاری امور میں بھی شریک کیا گیا ۔اس دور میں اس صنف سے تعلق رکھنے والے لوگ نا صرف شاعر ،ماہرین تعمیرات اور شاہی مشیر ہوا کرتے تھے بلکہ جاسوسی کے نظام سے بھی وابستہ تھے اور انہیں فوج کے نظام میں بھی عہدے دئے جاتے تھے ۔ان کا رتبہ یہاں تک بلند تھا کہ خواجہ سرا کی جنگ کا کمان دار ہونے کی مثالیں بھی موجود ہیں ۔خواجہ سراؤں کی حیثیت میںآنے والی ایسی منفی تبدیلی کا تعلق انگریزوں کے دور سے ہی ہے۔کیونکہ ان کے ایک مخصوص انداز معاشرت اور اقدار و ثقافت کی جڑیں مذہب میں گندھی ہوئی تھیں ۔اور جو لوگ ان کے اس نظام پر پورا نہیں اترتے وہ ان کے لئے قابل نفرت بن جاتے تھے۔اور ایسے لوگوں میں خواجہ سراؤں کی کمیونٹی بھی شامل تھی ۔ برصغیر میں انگریزوں کو اپنی آمد کے بعد ان کی جاسوسی سے خطرات درپیش رہے یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف ایک خاص پروپیگنڈہ کیا گیا ۔1871 کے ایکٹ کے تحت انہیں پیدائشی مجرم قرار دے دیا گیا۔انہیں جائیدادوں سے محروم کیا گیا انہیں ان کے درباری کردارسے یکسر علیحدہ کر دیا گیا ۔پاکستان بننے کے بعد بھی اس قوم کو قابل نفرت ہی سمجھا گیا ۔ان سے برتے جانے والے امتیازی سلوک نے انہیں بھیک مانگنے اور جسم فروشی پر مجبور کر دیا ۔

پاکستان میں تقریباً کم و بیش نو لاکھ افراد خواجہ سرا کی صنف میں آتے ہیں ۔یہ وہ مجبور اور بے بس لوگ ہیں جنہیں انسان سمجھنا انسانیت کی توہین سمجھا جاتا ہے ۔جس طرح دنیا،بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ مہذب دنیا نے اس صنف کو بڑی بے دردی سے جسم فروشی کی باقاعدہ ایک انڈسٹری میں جھونک دیا ہے اسی طرح پاکستان میں بھی یہ جسم فروشی پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے لئے کوئی باعزت روزگار حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے ۔ان کے لئے تعلیم اور روزگار کے ذرائع اور مواقع ناپید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے ابتر اور کم حیثیت مقام کی وجہ سے یہ ہمیشہ سے معاشرے کا قابل نفرت طبقہ سمجھے گئے ہیں ۔اب تو ان کے قتل کے واقعات بھی ایسے ہی تواتر سے ہونے لگے ہیں جیسے غیرت کے نام پر لڑکیوں کے قتل ہوتے ہیں ۔محض صوبہ خیبر پختونخواہ میں پچھلے دو سالوں میں 45 خواجہ سرا بے دردی سے قتل کر دئے گئے۔شاید انہیں مارنے والوں کے عقیدے کے مطابق، ایک بے غیرت لڑکی کو مارنے کا جتنا ثواب ملتا ہے اتنا ہی ثواب ایک مخنث کو مارنے پر بھی ملتا ہو ۔ اگر یہ افضل و برتر سعودی مسلمانوں کے ہاتھوں اس طور قتل ہو سکتی ہیں کہ یہ ایک معمولی خبر گردانی جائے،یہ اگر خود یورپ میں بے دردی سے قتل ہو جائیں تو کوئی احتجاج کرنے کی زحمت بھی گوارا نا کرتا ہو تو پاکستان کی کیا اوقات۔۔۔۔۔؟اور پھر اب تو ہم نے بد دعاؤں سے خوف زدہ ہونا بھی چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
فارینہ الماس نے سیاسیات  کے مضمون میں تعلیم  میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں  “جیون مایا ” اور “اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے
کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: