صفر نامہ سے سفر نامہ تک —- شاہد شوقؔ

0

اردو نثر میں ظریفانہ عناصر کے ابتدائی نقوش مکاتیب غالب میں ملتے ہیں۔ اس کے بعد اودھ پنج اخبار نے مزاحیہ نثر لکھنے کا رواج عام کیا۔ وقت بدلتا ہے تو رشید احمد صدیقی، مرزا فرحت اللہ بیگ، مشتاق احمد یوسفی اور پطرس بخاری سے یہ سلسلہ منسوب ہو جاتا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے بے مثال مرقع نگاری سے اپنے معاصرین اور متقدمین کو زندہ رکھا۔ تاہم ان کی مزاح پر علی گڑھ کا اثر غالب رہا اور وہ تاوقتِ آخر اس مخصوص ماحول سے نہیں نکل پائے۔ ان کے بعد مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنی مخصوص ٹیکسالی زبان میں اپنے محسنین کے خاکے تحریر کیے۔ وقت گزرا تو پطرس بخاری اور مشتاق احمد یوسفی نے مزاح میں جدت اپنائی اور اردو نثر میں ایک نیا بھر پور اسلوب متعارف کروایا۔ پطرس کے مضامین اگرچہ گنتی کے درجن بھر ہیں مگر ان میں وہ چاشنی ہے کہ رہتی دنیا تک جہاں جہاں اردو بولی، پڑھی اور پڑھائی جاتی رہے گی، ان مضامین کی اہمیت کبھی کم نہ ہو گی۔ مشتاق احمد یوسفی کی مزاحیہ نثر میں وہ تمام خوبیاں شامل ہیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز و ممیز کر سکتی ہے۔

یوں تو سفر کرنے اور سفر نامے لکھنے کا رواج پرانا ہے۔ اردو میں مستنصر حسین تارڑ اور بیگم اختر ریاض الدین نے کئی اچھے سفر نامے تحریر کیے ہیں جن کی ادبی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے اور رہے گی۔ مگر سفر نامے کو مزاحیہ انداز میں لکھنے کی طرح میرے ناقص علم کے مطابق بشیر مراد کے ہاں ملتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر فرہاد احمد فگار کا سفر نامہِ لیپا پڑھنے کو ملا۔ پڑھ چکنے کے بعد نیچے کمنٹ بکس میں قارئین کرام کے کمنٹس پر سرسری نظر دوڑائی تو کہوٹہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر حبیب گوہر کا کمنٹ اچھا لگا۔ لکھتے ہیں ” لیپا کو اس سے پہلے بھی کئی لوگوں نے دیکھا ہو گا مگر دیکھے ہوئے مناظر کو اس خوبصورتی سے شاید ہی کسی نے تحریر کیا ہو “۔ اسی طرح آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے فطری حسن کو اب تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں اور یہ سلسلہ دن بہ دن بڑھتا جائے گا مگر ان دیکھے ہوئے مناظر کو خوبصورت اسلوب میں تحریر کرنا اور اس میں قارئین کی دلچسپی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے مزاح کے پہلو کو اجاگر کرنا کوئی بشیر مراد سے سیکھے۔

بشیر مراد کا صفر نامہ بظاہر سفر نامہ ہے مگر اس میں تاریخ، فلسفہ، تہذیب و ثقافت، مافوق الفطرت عناصر، سیاست، مذہب، معاشرت اور ہر طرح کے سماجی پہلو بیک وقت نظر آتے ہیں۔
اس میں کرداروں کا تعارف بھی بڑے دلچسپ انداز سے کرایا گیا ہے۔ مولانا غیر آبادی کا تخیلاتی کردار پوری آب و تاب سے جلوہ افروز ہے۔ اس کے علاوہ باقی کرداروں کے خاکے بھی اس خوبصورتی سے پیش کیے ہیں کہ ان کی خامیوں کو بھی خوبیوں کے ساتھ ساتھ قبولنا پڑتا ہے۔

مراد صاحب جہاں بھی گئے ہیں قارئین کو ساتھ لے کر گئے ہیں۔ منطر کشی کو اس دلکشی سے بیان کیا ہے کہ قاری خود کو انہی علاقوں میں موجود پاتا ہے۔

صفر نامہ میں مزاح کو خوبصورت اور مہذب الفاظ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں روایتی لطیفوں پر مبنی پھکڑ پن کا شائبہ تک نہیں گزرتا۔ بلکہ جہاں کہیں طنز کے تیر چلائے گئے ہیں وہاں بھی اخلاقیات کے دائرے سےنکلنے کی ہر گز کوشش نہیں کی گئی۔

صفر نامہ کے اسلوب میں شعریت کا عنصر غالب یے۔ بیشتر مقامات پر ہم قافیہ الفاظ سے عبارت میں چاشنی پیدا کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جگہ جگہ موضوع سے مطابقت رکھنے والے اشعار اور بعض جگہوں پر اصل اشعار کی بجائے ان کی تحریف بھی ملتی ہے جو کہ مراد صاحب کے وسعتِ مطالعہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اب ” صفر نامہ ” سے کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

” عرض کیا۔ گرم بئیر اور ٹھنڈی کافی ہر مذہب میں حرام ہے۔ ”

” وہ اتنی بھی سادہ و معصوم نہیں تھی لیکن کالوں کے کالے کرتوتوں کے آگے گوروں کی دانش جواب دے جاتی ہے ”

” ہمیں یہ قلق تھا کہ کہیں ہماری غیر حاضری میں تو مخالفینِ پردہ نے درپردہ اس باپردہ عفیفہ کا پردہ چاک کرنے کی کوئی مغموم حرکت نہ کر دی ہو ”

” لوگ قدیم مذہب پر سختی سے کاربند ہیں یعنی کہ یہاں مسلمانوں کی جماعتِ اسلامی رہائش پذیر ہے۔ ”

” وہ پنجابی میں اردو بول رہے تھے۔ ”

” مرد کی زندہ بچ جانے کے بعد یہ پہلی باقاعدہ ہنسی تھی۔ ”

” یہ وہی کارہائے نمایاں ہیں جن کی بدولت ہم بدنامیوں میں خوب نیک نام ہیں۔ ”

” اس وقت ہماری عمر ہی ایسی تھی کہ جب گانا اور گالی اونچی آواز میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ ”

” اب گریڈ سترہ گریڈ بائیس میں یوں مدغم تھا کہ علیحدگی کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت تھی۔ ”

” کشمیر میں تو خوبصورتی کی شکایت عام ہے۔ ”

” یہ تو ہمیں بھی معلوم تھا کہ برے لوگوں کے بڑے لوگوں سے ناجائز مراسم ہوتے ہیں۔ ”

” عین ممکن ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا خمار ٹی وی کے کسی سیاسی ٹاک شو یا پھر خانگی جھگڑوں سے لبریز کسی ڈرامے کے غبار سے جنم لے۔ ”

” انہیں یقین تھا کہ لوگ کارکردگی کو ووٹ دیں گے لیکن یہ وہ قوم ہے جو ذات اور برادری اور ذاتی مفادات کو ووٹ دیتی ہے۔ ”

” ہمارے ملک کی سڑکیں اور سیاستدان اکثر ناپختہ ہیں جن کی وجہ سے بالترتیب گاڑیاں اور معاشی نظام جھٹکے کھاتے رہتے ہیں۔ ”

” ہمارے اکثر سیاستدانوں کی صحت اچھی، سمجھدانی بری اور زبان دانی نہایت خراب ہوتی ہے۔ انگریزی اردو میں اور اردو پنجابی میں بولتے ہیں۔ ”

” میرپور میں پلاٹ، پونڈ اور مچھر اتنے زیادہ ہیں کہ ان پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ لوگ برطانیہ میں اور مچھر خالی گھروں میں رہتے ہیں۔ ”

” نقاد کا چابک نہ ہو تو قلمکار بے مہار بلکہ بدتمیز ہو جاتا ہے، ہمارے ہاں شاعروں کی زیادتی نقادوں کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ”

” اردو شاعری سے اگر آنکھیں نکال دی جائیں تو ساری شاعری اندھی ہو جاتی ہے۔ ”

” ہمارے دوست غل غپاڑوی جو بدکلامی کے قادرالکلام شاعر مانے جاتے ہیں، اکثر وصیت فرماتے ہیں کہ شاعری، شادی، سیاست اور نوکری وہ بندہ کرے جو اور کچھ بھی نہ کر سکتا ہو۔ ان کے استاد الستاد شاعر، جسمانی لحاظ سے باوزن اور شاعرانہ اعتبار سے بے وزن، ماہر خفیہ و خبیثہ امراض، حکیم جانگلوس المتخلص کارتوس کی رائے تو اس سے بھی چار پانچ ہاتھ آگے کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بندہ ان میں سے کوئی ایک کام بھی پکڑ لے تو جملہ مطلوبہ نتائج بصورت دائمی نا مردی خود بخود ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ ہماری ناقص ترین رائے کے عین مطابق ملازمت وہ شجر ممنوعہ ہے جس کا دانہ اگر اولادِ آدم میں سے کوئی چْگ لے تو آزادی کی جنت سے نکال کے نوکری کے جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جہاں پھر قیامت سے تھوڑی دیر پہلے رہائی ملتی ہے اور توبہ کے وقت کا دروازہ بھی بند ہو چکا ہوتا ہے ”

بشیر مراد آزاد کشمیر کے معروف مزاح نگار، شاعر، اداکار، صداکار اور عالمی اردو کانفرنس 2018 میں یارک شائر ادبی فورم برطانیہ کے”اعتراف کمال “ایوارڈ یافتہ ہیں آپ کی ” صفر نامہ ” کے علاوہ بھی ایک کتاب ” بے ادبیاں” منظر عام پر آ چکی یے۔ اس کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ کالج میرپور سے ان کی نثر نگاری پر ایک طالبہ نے مقالہ لکھ کر بی ایس (اردو ) کی ڈگری حاصل کی ہے۔

 

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20