ہاں میں ’تبلیغی‘ ہوں —- ڈاکٹر امتیا زعبد القادر

0

ہندوستان کے متعلق راقم کا حق الیقین کی حدتک ماننا ہے کہ مجموعی طور پر اس ملک نے اپنی ’تہذیب، شائستگی اور انسانیت ‘بغیر’ نہائے اور کفنائے‘ پستی کے دلدل میں ’دفن‘ کئے ہیں۔ ان کا بے لگام میڈیا اس چیز کا شاہد عادل ہے۔ حد تو اب کردی کہ ’کورونا وائرس‘ کو بھی سریرِسلطنت پر ’آلتی پالتی مار‘ رہے ہوئے حکمران طبقہ اور میڈیاسے وابستہ ان ’مزاحی کرداروں ‘نے ’مسلمان‘ کردیا۔ مسلمان دشمنی کا بڑھتا یہ رجحان بھارت کے لئے ’کورونا وئرس‘ سے بھی زیادہ مہلک ہے۔ حکومتِ ہند اپنی ناکامی چھپانے کے لئے اکثر چانکیائی سیاست کا سہارا لیتی رہتی ہے۔ آج نظام الدین کا تبلیغی مرکزان کی ’فطری‘ جہالت اور آتنگ مزاجی کی پردہ کشائی کر رہا ہے۔ پوری دنیا ناگہانی آفت کی لپیٹ میںہے اورمہذب قومیں اس سے حفاظت کی راہیں ڈھونڈ رہی ہیں ایسے میں ہندوستان کی حکومت اور ان کامیڈیا قعرِمذلت کا ’ہیولا‘ بن چکا ہے۔ جموں کے ویشنو دیوی مندر میں چارسو ہندو عقید تمند میڈیا اور حکومت کو ’پھنسے‘ ہوئے نظرآتے ہیں۔ آنندوہار، دہلی میں حکمرانوں کی بدنظمی کا جیتا جاگتاثبوت کہ ہزاروں اندرون ہندجانے والے مزدور کندھے سے کندھاملا کر جامد و ساکت دیکھے جاسکتے ہیں لیکن ہندوستان کا کور ’چشم‘ میڈیا اسے دیکھ نہیں پاتا البتہ نظام الدین مرکز و دیگر مساجد میں پناہ گزیں لوگ اسی میڈیا کو ’چھپے‘ ہوئے نظرآتے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔ حلف لیاجاتاہے، جشن منایا جاتاہے لیکن حکومت اور میڈیا کو وہاں لاک ڈائون کی خلاف ورزی نظرنہیں آتی۔ نوئیڈا میں ایک ہی کمپنی کے اکتیس(۳۱) ملازم کورونا پازیٹیو پائے جاتے ہیں لیکن اس سے دنیاکی بڑی ’جمہوریت‘ کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ البتہ نظام الدین میں ۲۴ پازیٹیو پائے جاتے ہیں تو پورا ہندوستان جیسے ’ہائڈروجن بم‘ کی زدمیں آگیا ہو۔ مانا کہ شائد نظام الدین میں بے احتیاطی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہو لیکن اس آڑمیں اسلام ومسلم دشمنی کو ہوا دینا، امن پسندتبلیغی بھائیوں کو دہشت گرد اور ’طالبانی‘ نام دے کرطنز کے تیر چلانا انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے۔ ایسی غیرشائستہ حرکت صرف اورصر ف اس ’مہان دیس‘ سے ہی متوقع ہے۔۔!

اسلام کاایک اہم تقاضا یہ ہے کہ جودین کواختیارکرے وہ تواصی بالحق کے جذبے کے تحت دوسروں کو بھی برابر اس کی تلقین و نصیحت کرتے رہیں۔ دین کایہی مطالبہ ہے جس کے لئے ہم دعوت و تبلیغ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کے مطالعے سے اس کاجو قانون واضح ہوتاہے وہ مختلف حیثیت و ںسے بالکل الگ الگ صورتوں میں اس کے ماننے والوں پر عائد ہوتا ہے۔ پیغمبروں کی دعوت کسی وضاحت کی حاجت نہیںرکھتی البتہ رسولوں کی دعوت میں انذار، اتمامِ حجت اور ہجرت و براءت کے مراحل سے گزرکر دین کی شہادت جب قائم ہوتی ہے اور بالکل آخری حدتک رسول علیہ السّلام مدعو قوم پرحجت کااتمام کرتاہے تودنیا وآ خرت میں فیصلہ الٰہی کی بنیاد بن جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی رسولوں کو غلبہ عطا کرتا ہے اوراس دعوت کے منکرین کو اس دنیامیں ہی عبرت کانشان بناتاہے۔

آخری رسول حضرت محمدﷺ کے بعد امت پراس کی ذمہ داری آن پڑی کہ وہ بے کم وکاست اس دعوت حق کو اپنی بساط، صلاحیت اورحدود میں رہ کر’معروف‘ سے لوگوں کو آگاہ کریں اور ’منکرات‘ کے برے نتائج سے انہیںڈرائے۔ لیکن اس جدوجہد میں دعوت دین کے ساتھ ایک بڑاحادثہ یہ ہواکی ہم نے وہ حدودوقیود ملحوظ نہ رکھے جو دین کاداعی یا دوسرے لفظوں میں دین کا’ترجمان‘بن کرہمیںہرقیمت پرملحوظ رکھنے تھے۔ بلاشبہ اسلام کی تمام تعلیمات اپنی اصل حالت میں موجود ہیں مگراس کی تعبیر اور تشریح میں گذشتہ ڈیڑھ ہزارسال میں زمانہ کے اعتبارسے تبدیلی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ ہم اکیسویں صدی عیسوی میں داخل ہوگئے ہیں۔ مفکرین نے امتدادِ زمانہ کے مطابق دین کی تعبیرپیش کی تاکہ عوام کو دین پرچلنا آسان ہو۔ یوں مرورِزمانہ کے ساتھ ساتھ دین کی تعبیر و تشریح میں جدّت آتی گئی۔ مفکرین نے دین کے اصول و فرع کو سمجھ کراپنے اپنے ادوارمیں اس کی تفہیم کی اور اپنی اُس ذاتی فہم کو دنیاکے سامنے لاکے رکھا۔ عوام کی معتدبہ تعداد نے اُس ’تفہیم‘ کوحق بجانب سمجھ کرقبول کیا اور جو کچھ انہوں نے سمجھا، قول وفعل سے اُس تعبیرِدین کی تشہیر و تبلیغ کرتے گئے۔

نبوّت آںحضورﷺپرختم ہوگئی۔ دوسرے لفظوں میں وحی کا سلسلہ اب اختتام کوپہنچا۔ جبرائیل علیہ السلام کی ’رسالت‘ کا کام اب ختم ہو ا۔ ’حق ‘ و ’باطل‘ کی جنگ کا اب وہ معیارنہ رہا۔ جنت وجہنم بانٹنے کی ذمہ داری صاحبینِ منبر و محراب کی نہیںرہی۔ ضال ومضل کی ’اسناد‘ تقسیم کرنا داعیوں کا کام نہیں۔ یہ فیصلے وحی کی آمدورفت کے محتاج ہیں جس کا سلسلہ اب کائنات کی ’موت‘ تک بندہو چکا ہے۔ اس وجہ سے یہ حق اب اِس زمین پرکسی شخص کو نہیں رہاکہ وہ اپنی رائے یا کسی کے نقطئہ نظرکوحق کی حتمی حجت اور اپنے کسی قول وفعل کو حق و باطل کا ’معیار‘ قراردے کر عوام سے اُس کی پیروی کا مطالبہ کرے۔ یہ صرف انبیاء و رُسل کاحق ہے اور یہ صرف اُنہی کامقام ہے کہ خوداللہ تعالٰی یہ اعلان کرے کہ ’’تیرے پروردگارکی قسم! یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے اختلافات میں تم ہی کوحکم نہ مانیں اور جو فیصلہ تم کردو، اپنے دلوں میں تنگی محسوس کئے بغیر اُس کے آگے اپنے سرنہ جھکادیں۔ ‘‘(سورۃ النّساء۔ ۶۵)

ان یسویں او ربیسویں صدی سے ہی دین کی خدمت کے لئے اور لوگوں کی اصلاح، تذکیہ علم و عمل اور تطہیرِ جماعت ِ مسلمین کے لئے چند قد آور شخصیات اٹھیں جنہوںنے اپنے فہم کوشرح وبسط کے ساتھ مخاطبین کے سامنے رکھا۔ ہند و پاک کی جماعتِ اسلامی ہو یا تبلیغی جماعت، مصر اور عالمِ عرب کی اخوان المسلمون ہو یافلسطین کی تحریکِ حمّاس وغیرہ، اس سب کامقصد اسلام کو سماج میں کسی حد تک جاری و ساری کرنے کا ہے اور مقصدکی آبیاری کے لئے ابھی بھی ہمہ تن تگ و تازمیں مصروف ہیں۔ طریقے اورمنہج میں اختلاف ہوسکتاہے مگرسب خلوصِ نیت سے دعوتِ دین کی جد و جہدکرتے رہے ہیں۔ معتدبہ تعداد اُن لوگوں کی فکرسے متاثر ہوئے اوراُس قافلہ کے راہی بنے۔ اکثریت نے اختلاف کیا اور کچھ لوگوں نے شدت سے اختلاف کیا۔ توازن ہردوطرف سے مفقود تھا۔ کوئی انسانی کاوش، فکر اور نظریہ غلطیوں سے مبرّا نہیں۔ اسلام نے فردکو مناسب حدود میں اختلاف کاحق دیا ہے۔ لیکن زمانہ جوں جوں گزرتا گیا، اختلافات میں تعصّب کی شدت آگئی، یہاں تک کہ آگے چل کراس نے ایسی ناگوارصورت اختیارکرلی کہ امت کا اتحادپارہ پارہ ہوگیا۔ بیسویں صدی میں عالمِ اسلام میں برپا ہونے والی تحریکوں کا وسیع کینواس تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو قرآنی پیغام کہ’ دین میں پورے کے پورے داخل ہوجائو‘ کی طرف بلایا۔ مکمل اسلام کے نفاذکی انہوںنے جد و جہد کی۔ مغرب کے فکری، تہذیبی اورعسکری حملوں کے خلاف زبردست علمی مورچہ بندی کی۔

بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہندوستان کے دیہاتوں میں آریوں کی کوششوں سے ارتداد کی و بابڑے زوروں پرتھی۔ اس آگ کوبجھانے کے لئے ہندوستان کے یمین ویسار سے مسلمان انجمنیں سرگرم عمل ہوئیں۔ انہی حالات میں مولانا محمد الیاس نےؒخاموشی کے ساتھ اس وباسے مسلم اذہان کومحفوظ رکھنے کے لئے مبنی برخلوص جدوجہدشروع کی۔ مولانا الیاس مرحوم نے اپنا مرکز ’میوات‘ کو بنایا اور ایک دہائی کے اندر اندر وہاں کی کایاہی پلٹ دی۔ ’میو‘ قوم دہلی کے گرد ونواح اور قرب وجوار میں آبادتھے۔ میوات کے مسلمانوںکی مذہبی حالت کے بارے میں انیسویں صدی کے ایک انگریزآفیسر و مئورخ میجر پائولٹ لکھتاہے: ’’میوات تمام ترمسلمان ہیں لیکن برائے نام۔ ان کے گائوں کے دیوتا وہی ہیں جو ہندو زمینداروں کے ہیں۔ وہ ہندوئوں کے کئی ایک تہوار مناتے ہیں۔ ہولی میواتیوں میں مذاق اورکھیل کھیلنے کازمانہ ہے اور اتناہی اہم اور ضروری تہوار سمجھا جاتا ہے جتنامحرم، عید اورشب برات۔ اسی طرح وہ جنم اشٹمی، دسہرہ اور دیوالی مناتے ہیں۔ ۔ ۔ ’میو‘ اپنے دین سے بہت ناواقف ہیں۔ خال خال کوئی کلمہ جانتاہے اور پابندی سے نماز پڑھنے والے اس سے بھی کم ہیں۔ ۔ ۔ میو اپنی عادات میں آدھے ہندو ہیں۔ ان کے گائوں میں شاذ و ناد ر ہی مسجدیں ہیں۔ ‘‘(مولاناا لیاس اوران کی دعوت۔ ص ۶۸)

ان حالات میں مولانا الیاسؒ نے دعوت کا آغازکیا اور اپنی محنت اورجانفشانی سے وہاں کے باشندوں میں دین کے تئیں رغبت پیدا کی۔ مسجدیں تعمیر اور آباد ہو گئیں۔ صدہا مدارس قائم ہوئے۔ اکتوبر۱۹۳۹ء کو مولانا سید ابو الاعلٰی مودودی ؒ’میوات‘ گئے۔ دوران سفرجو مشاہدہ انہوں نے کیا، اس کا خاکہ انہوں نے اپنے قلم سے یوں کھینچا: ’’مولانا محترم (مولانا الیاس مرحوم) نے خود اسی قوم کے مبلغوں سے اس کی اصلاح کاکام لیا اور ان کی پیہم کوششوں کانتیجہ، جومیں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ آیاہوں یہ ہے کہ بعض علاقوں میں گائوں کے گائوں ایسے ہیں جہاں ایک بچہ بھی آپ کوبے نمازی نہ ملے گا۔ دیہات کی وہ مسجدیں جہاں یہ لوگ کبھی اپنے مویشی باندھتے تھے، آج وہاں پانچوں وقت کی اذان اورجماعت ہوتی ہے۔ آپ کسی راہ چلتے دیہاتی کو روک کر اس کاامتحان لیں تو وہ آپ کوصحیح تلفظ کے ساتھ ’کلمہ‘ سنائے گا۔ ۔ ۔ ان کے عادات وخصائل اوران کے اخلاق میں بھی اس مذہبی تعلیم وتبلیغ کی وجہ سے نمایاں فرق ہوگیاہے۔ اب وہ متمدن اور مہذب طرز زندگی کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ جرائم میں حیرت انگیز کمی ہوگئی ہے۔ ‘‘(ماہنامہ ترجمان القرآن، جلد۱۵)

مولانا محمد الیاس ؒنے ذاتی تجربے سے محسوس کیاکہ ضروری ہے کہ اصلاحِ احوال کے لئے ایک دینی ماحول پیدا کیاجائے جوگھربیٹھے ممکن نہیں۔ عوام کو وقت فارغ کرکے علماء وصلحاء کی صحبت میں کچھ وقت بتاناچاہئے۔ جماعتوں کو تشکیل دیاجائے اورقریہ قریہ، گاوئوں گاوئوں اپنی اورابنائے قوم کی اصلاح کے لئے ہردرپرجاناچاہئے۔ مولانامحمدزکریامرحوم کوایک خط میںلکھتے ہیں: ـ’’عرصہ سے میراخیال ہے کہ جب تک علمی طبقہ کے حضرات اشاعت دین کے لئے خودجاکرعوام کے دروازوں کو نہ کھٹکھٹائیں اور عوام کی طرح یہ بھی گاوئوں گاوئوں او رشہر شہر اس کام کے لئے گشت نہ کریں، اس وقت تک یہ کام وجہ تکمیل کونہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ عوام پرجواثراہل علم کے علم وحرکت سے ہوگاوہ ان کی دھواں دھار تقریروں سے نہیں ہو سکتا۔ اپنے اسلاف کی زندگی سے بھی یہی نمایاں ہے کہ جو آپ حضرات اہل علم پربخوبی روشن ہے۔ ‘‘ (مولاناالیاسؒ اوران کی دعوت۔ ص۱۱۴)

دعت اورتبلیغ کے لئے مولانا الیاسؒ نے گشت اورسفرکاطریقہ اختیارکیا۔ مصروف زندگی میں عارضی ترکِ وطن یا ’غربت ‘اختیار کرنے پر لوگوں کو آمادہ کیاجائے تاکہ یکسو ہو کر وہ دین کی بنیادی باتیں، کلمہ، نمازوغیرہ کاعلم حاصل کریں۔ مولانامرحلہ وارمسلمانانِ ہندکی اصلاح کرناچاہتے تھے۔ ابتداکلمہ ونمازکی درستگی اور انہیں باور کرانا کہ ہم کس عظیم دین کے وارث ہیں۔ اس کے شانہ بشانہ وہ دین کواجتماعی زندگی میں بھی عملانے کے خواہاں تھے، وہ لکھتے ہیں: ’’جس قوم کی پستی کلمہ لااِلہ الّا اللہ کے لفظوں سے بھی گرچکی ہو، وہ ابتداسے درستی کئے بغیر انتہاکی درستگی کے کب قابل ہوسکتی ہے۔ انتہا ابتداکے درست ہوئے بغیرنہیں ہو سکتی، اس لئے میںنے درمیانی اورانتہائی خیالات بالکل نکال دئے۔ ابتدادرست ہوکرراستہ پرپڑجائیں گے توانتہاپرخودبھی پہنچ جائیں گے اورابتدا کے بگڑے ہوئے، انتہاکی درستگی کا خیال ہوس اور بوالہوسی کے سواکچھ نہیں۔ ‘‘(احیائے دین اورہندوستانی علماء۔ ص۲۴۱)

اس جماعت کے چھ بنیادی اصول ہیں۔ یہ جماعت ان اصولوں کے اردگردگھومتی ہے۔ تصحیح کلمہ، تصحیح نماز، تصحیح علم و ذکر، تفریغ اوقات، اکرامِ مسلم اورتصحیح نیت۔ جماعت پورے عزم کے ساتھ ان اصولوں پرکاربندہے اوراستقامت کے ساتھ جماعت کے کاموں میں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کئی پہلوئوں سے مفید اور کارآمدخدمات انجام دے رہی ہے۔ مسلمانوں کے اُن طبقات تک انہوں نے دین پہنچانے کی کوشش کی ہے جن تک عام حالات میں کسی اورکے ذریعے سے دین پہنچانا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ اپنی مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے جس کی قدردانی ہمارا اخلاقی فریضہ ہے۔ تبلیغی جماعت اپنی نمایاں خصوصیات اور منفرد اوصاف کی وجہ سے پوری دنیامیں امتیازی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔ دنیاکے ۲۱۰سے زائدممالک میں یہ کام انجام پارہاہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۳۰ملین سے زیادہ افراد اس جماعت سے وابستہ ہے۔ اس طرح یہ دنیا کی سب سے بڑی مسلمانوں کی مذہبی جماعت ہے۔ جماعت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ فنڈنگ اورچندہ کا کوئی نظام نہیں۔ نشرواشاعت کا کوئی محکمہ نہیں۔ ان کی زندگی کامحور ’کلمہ‘ کاصحت الفاظ کے ساتھ یادکرنا اور اس کے معنی ومفہوم کو سمجھنا اورذہن نشین کرکے اپنی پوری زندگی کواس کے موافق بنانے کی فکر کرنا ہے۔ نمازکی پابندی اس کے آداب وشرائط کالحاظ رکھتے ہوئے خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنا۔ شب و روز کے اکثر اوقات ذکر و فکر اور یادِالٰہی میں گزارناہے۔ البتہ قرآن کے ساتھ وابستگی ودلبستگی کے جو طریقے مولانااحتشام الحسینؒ کاندھلوی نے بانی جماعت مولانا محمد الیاسؒ کے ارشادکے مطابق مرتب فرمایاتھا اور تبلیغی جماعت کی مشہور کتاب ’فضائلِ اعمال‘ کا ایک جزء بھی ہے، اُس پر ہنوز عمل پیرا ہونا باقی ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’قرآن کریم کے ساتھ وابستگی و دلبستگی پیداکرناجس کے دوطریقے ہیں: (الف) کچھ وقت روزانہ ادب واحترام کے ساتھ معنی ومفہوم کادھیان رکھتے ہوئے تلاوت کرنا۔ (ب) اپنے بچوں اور اپنے محلّہ اورگاوئوں کے لڑکوں اور لڑکیوں کو قرآن مجید اور مذہبی تعلیم کی فکر کرنا اور ہر کام پر اس کومقدم رکھنا۔ ‘‘(فضائلِ اعمال’پستی کاواحدعلاج‘۔ ص۶۴۶)

تبلیغی جماعت اصل میں ایک پُرامن اصلاحی جماعت ہے۔ محبت واخوت کے اسیرہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر مسلمانوں کی بستیوں کو اپنی دعوت کادائرہ کاربنایا۔ اس جماعت کی بے پایاں خدمات ہیں لیکن کوئی انسانی کاوش تسامح اور کمزوریوں سے مبرّا نہیں۔ تبلیغی جماعت بھی ان چیزوںسے پاک نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جانتے بوجھتے وہ کسی انسان توکجا، جانوروں کوبھی تکلیف میں مبتلاہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ تبلیغی جماعت ہندوستانی ’قوم‘ کو نقصان پہنچانے کاسوچ بھی نہیں سکتے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20