دہلی کے وفادار – صرف چند لوگوں نے حق ہمارا چھینا ہے —- مہتاب منیر

1

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مفاد و موقعہ پرست افراد کے ہاتھوں سیاست گندی ہو چکی ہے۔ ان کے قول و فعل سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ان کا ذہن امن پسندی نہیں بلکہ لوگوں کے دکھوں اور مظالم کا مداوا کرنے کے بجائے اضافہ کرنا ہے۔ اگرچہ یہ سلسلہ پچھلے ستر سالوں سے چلتا ہے لیکن پچھلے بارہ سال سے جو حالات و واقعات راقم الحروف نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے ان کا وہ خود گواہ ہے کہ کس طرح ہمارے ساتھ کھیل کھیلا جارہا ہے، ان حالات کا مطالعہ کرنے پر ہر درددل رکھنے والے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ آخر اس ظلم کا جواب کون دے گا۔ لیکن ہمیں یہ بات بالکل نہیں بھول جانی چاہیے کہ حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر لوگ ظالم کے ظلم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعلیٰ ان سب پر اپنا عذاب نازل فرما دیں۔ ظالم کو ظلم سے روکنا اور اس کے خلاف آواز اٹھانا معاشرے کے ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ گزشتہ سال اگست کے مہینے سے کشمیر میں کیا حالات ہیں کس کس طرح کشمیریوں پر ظلم ڈھائے گئے۔ پہلے تو انسانوں کو ہی قید کرتے تھے لیکن پھر مواصلاتی نظام پر بھی قدغن لگائی گئی، اگرچہ اب جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے لیکن سوچنا دراصل یہ ہے کہ کشمیریوں کو کس طرح بنیادی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان بنیادی حقوق سے ہمیں محروم کون کرتا ہے؟ کیا ہم خود اپنے آپ سے ظلم تو نہیں کرتے، یا ہم نے مظلوم بن کے زندگی گزارنے کا وعدہ کیا ہے! یا وہ لوگ ظلم ڈھانے میں پیش پیش ہیں جو اول سے دہلی کے وفادار، کشمیر کی آزادی کے دشمن، نام کے لیڈر کام کے چور، جو کبھی جواہر اور لعل، کبھی پٹیل اور اندرا، کبھی اٹل اور کبھی موہن اور پھر نریندر کے ہاتھوں و باتوں سے بے عزت ہوئے اور ہورہے ہیں۔ اور اس کا بدلہ کشمیری عوام سے لیا جاتا ہے اور ہمیں اپنے حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ لیکن ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ حق اور انصاف وہ چیز ہے جو کسی ظالم کے ظلم اور اقدار والے کے اقدار کے سامنے نہیں جھکتی۔ ظالم کو ظلم سے روکنے کے لئے ہمیں اٹھ کھڑا ہونا چاہیے تھا لیکن یہاں تو دہلی کے وفادار اپنے آپ کو باشعور سمجھنے والے بھی اپنا حق بھکاریوں کی طرح مانگتے ہیں، 4G کی بحالی کی مانگ زندہ مثال ہے اور وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ بار بار، حیران ہونے والی بات یہ ہے کہ بھیک مانگنے میں بھی یہ وفادار ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ جو سب سے پہلے اپنی پوٹلی لے کر دہلی کے دروازے پر دستک دے اس کا نام دوسرے روز اخبار میں سرخی کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ لیکن یہ غیر معمولی بھکاری ہیں کیونکہ عام بھکاریوں کی طرح ان کی کٹوری میں کچھ رکھ کر انہیں رخصت نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے لیے باضابطہ طور پر ایک مٹینگ کا انعقاد کرکے بڑے اجتماع میں یہ فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ آج ایک بار پھر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دہلی کے وفاداروں کو ان کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرسکتے اسلئے بے عزت کی مالا پہنا کر رخصت کر تے ہوئے آئندہ کی تاریخ پر پھر کٹورا ساتھ لیے حاضر ہوجانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اور یہ بے ضمیر باہر آکر دہلی سے آئی میٹھی چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے پریس کانفرنس بلا کر فیصلے کا خیر مقدم بھی کرتے ہیں، اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ یہ زندگی سے بے گانے ہیں کیونکہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ اپنا حق مانگنے پر ترسایا جائے۔ اب حق مانگنا توہین ہے، اب حق چھین لیا جائے۔

آج لوگوں کے درمیان اس بات کا شعور ہے کہ ظلم ایک قبیح عمل ہے، ظلم کو دوام حاصل نہیں مگر وہ اس بات سے یکسر غافل ہیں کہ ظلم سہنا، ستم پر خامش رہنا ظالم کی مذمت میں آواز بلند نہ کرنا بڑا ہی ناپسندیدہ عمل ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ستم قبول کرنا ستم سے ذیادہ جرم نہیں تو کم بھی ہرگز نہیں۔ ستم پزیری ستم گری کو دعوت دیتی ہے اور ظالموں کو مستحکم بناتی ہے۔

اس بات سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ یہاں ایک طرف ایسے لیڈروں کی لمبی فہرست ہے جنہوں نے قید و بند میں زندگی گزاری لیکن کبھی سیاح کو سفید کہہ کر اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ لیکن دوسری طرف ان صاحبان کی بھی تعداد کم نہیں جو چاپلوسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں اور معمولی وزارتوں کے لیے دن رات دہلی کی رضا جوئی اور نام کا تخت و تاج حاصل کرنے کی غرض سے دہلی کے مداحی اور ظالم کے اندرونی حمایتی بھی ہیں۔ انہیں ہم سے کوئی بھی ہمدردی نہیں ہے اگر ہمدردی ہوتی تو یہ اپنی آنکھوں سے بیٹے کو باپ، بیوى کو شوہر، ماں کو بیٹی سے اور بھائی کو بہن سے کیسے جدا ہوتے ہوئے دیکھ سکتے، یہ تو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کس طرح نوجوانوں کے خون سے مظلوم وادی کو رنگا جائے گا یا ان کو جیل خانوں کی زینت بنایا جائے گا۔ یہ حق بات کہنے والے کو مجرم کہتے ہیں، جینے کے بجائے مرنا سکھاتے ہیں لیکن نئی نسل اس صبح کے انتظار میں ہے جس میں سکون ہو، ماں کی گود ہو، باپ کی نظر ہو، غریب کی عزت ہو، ظلم کا خاتمہ ہو، تشدد ہو نہ خوف و ڈر، بس یہ مظلوم نسل اور سرزمین جس میں صدیوں سے جوانوں کا خون شامل ہے کی اذان ہے کہ اپنے ضمیر کا سودا مت کرو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20